Eid ke baad khana jangi ka khadsha article by Fear Of Civil War

articles

عید کے بعد خانہ جنگی کا خدشہ؟؟!؟ 😯✋
ءFear Of Civil Warء

اب یہ واقعی نہایت سنجیدہ اور خوفناک صورتحال ہے۔ توہینِ رسالت کا پرچہ کٹایا گیا ہے۔ یہ ایک سانحہ ہے جو ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل دے گا۔ خانہ جنگی سمجھتے ہیں؟ خدا نہ کرے کہ کبھی آپ کو پتا چلے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جو پاکستان کے لیے خطرناک ترین ہے۔ یاد کیجیے کہ عام لوگ جب توہینِ رسالت کیس میں پھنستے ہیں تو اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے!! اور اب یہ کیس عمران خان کے متھے لگایا جا رہا ہے جو کہہ چکے ہیں اُن کا یا تحریکِ انصاف کا اِس سانحہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عید کے بعد اُنہیں پھنسایا جائے گا۔ کسی بھی عدالت میں اُن کی ایک بھی نہ چلنے دی جائے گی۔ نہ جی، اُنہیں نہیں، پورے پاکستان کو سزا ملنے والی ہے۔ یوتھ پٹوار سب مشکل میں آنے والے ہیں۔

کوئی محمد نعیم ہے، اُس نے تحریکِ انصاف کی قیادت، خصوصاً عمران خان کے خلاف توہینِ رسالت کی ایف-آئی-آر درج کرائی ہے۔ اس پرچے میں مریم نواز کا تو ہرگز ذکر نہیں ہوا، وہ جو عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے موقع پر اِسی طرح نعرے بازی ہوئی تھی۔ اس لیے محترمہ بچ گئیں.. یا بچا لی گئیں۔ مگر آنے والے حالات میں سب کے کیس کھلنے والے ہیں۔ ممکنہ طور پر ماورائے عدالت۔ ماورائے عدالت کا مفہوم جانتے ہیں؟

ابھی ہم نے آپ کو سانحہ کی تفصیل نہیں بتائی۔ توجہ سے سنیے۔ مذکورہ ایف-آئی-آر آناً فاناً لکھوا کر جمع کرائی گئی.. اور ہو بھی گئی۔

آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ایف-آئی-آر جمع کرانا نارمل کام ہے!! نہ جی۔ 17 جون 2014ء کو نون لیگ حکومت نے لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری کے مرکز میں کارکنان پر فائر کھول دیا تھا۔ بہت سی شہادتیں ہوئی تھیں۔ ایک حاملہ خاتون کے منہ کے اندر بندوق ڈال کر گولی ماری گئی۔ جب طاہر القادری نے اس جرم کی ایف-آئی-آر کٹوانا چاہی تو تھانے نے انکار کر دیا۔ تب اگست میں طاہر القادری نے اسلام آباد میں طویل دھرنا کا آغاز کیا جو پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین دھرنا تھا، مقصد محض یہ تھا کہ کم از کم ایف-آئی-آر تو کٹے۔ سمجھ رہے ہیں ناں کہ نون لیگ حکومت میں آپ اُن کی مرضی کے خلاف آسانی سے ایف-آئی-آر بھی درج نہیں کرا سکتے۔ اُسی دھرنے کے شانہ بشانہ تحریکِ انصاف کا دھرنا بھی چل رہا تھا۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اُن کی حکومت آ گئی تو قاتلوں کو ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ خیر، اُن کی حکومت آئی اور چلی گئی، مگر ایف-آئی-آر پر مزید کارروائی نہ ہو سکی۔ کہنے کا مقصد یہ کہ طاہر القادری نے کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد ایف-آئی-آر کٹوانے میں کامیابی حاصل کی۔

اب آئیے اِس حالیہ ایف-آئی-آر پر۔ تھانے نے کافی چُستی دکھا کر ایف-آئی-آر درج کر دی ہے.. حالانکہ اِس معاملہ میں نہایت تدبر سے کام لینا چاہیے تھا۔ عوام تو جذبات میں ہے، وہ نہیں سمجھیں گے۔ اور یہ جذباتی پن اب ملک کو خانہ جنگی کی جانب لے کر جائے گا۔ 295اے توہین رسالت مقدمہ — ایک مشہور شخصیت پر جس کے کروڑوں فالوورز ہوں حالانکہ اُس نے مذمت کی تھی — پھر ایک اور مشہور شخصیت جس نے باقاعدہ نعروں کو ہوا دی، مگر اُس پر یہی کیس نہ ہوا، نہ ہونے دیا جائے گا — یہ ہے تباہی اور تصادم کا فارمولا ایف وَن۔

شک یقین میں بدلتا جا رہا ہے کہ مسجدِ نبوی میں نعرے کسی طاقت ور ملک کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں نے شروع کروائے ہوں گے۔ ان معاملات میں صرف بٹن دبانے کی بات ہوتی ہے، پھر ہجوم چارج ہو جاتا ہے۔ اُنہیں اپنے غم یاد آ جاتے ہیں۔ دنیا کی قریب و بعید کی تاریخ میں دشمن ممالک کی ایجنسیوں نے کئی بار ایسے کام کیے ہیں اور ابھی تک کر رہے ہیں۔ پڑوسی ملک کی ایجنسی شاید اتنی قابل نہ ہو مگر دوسرے ممالک کی ایجنسیوں کو لائٹ مت لیں۔

تھانے کی جلد بازی، ایف-آئی-آر کی نوعیت، نون لیگ کی حکومت، عمران خان کی برطرفی، اور اداروں کی غیر فطرتی دخل اندازی روزِ روشن کی طرح عیاں کر رہی ہیں کہ بیرونی سازش یا مداخلت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کام ابھی باقی ہے۔ اور اِس خانہ جنگی میں نہ صرف عمران خان بلکہ یوتھی پٹواری جیالے یا نیوٹرل، سب رگڑے جائیں گے۔ اور کون رگڑے گا؟ ہم سب ایک دوسرے کو۔ محسوس ہوتا ہے کہ وطن خدانخواستہ عراق شام افغانستان ویت-نام اور اِسی قسم کے مظلوم ممالک کے حالات کی جانب بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان نے جو اپنی آزادی جتانے کی کوشش کی، اب خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ صرف سیاستدانوں کو ہی نہیں، عوام کو بھی، حکومت کو بھی، اداروں کو بھی۔ بھٹو نے بھی عمران خان والی حب الوطنی دکھانے کی کوشش کی تھی۔ بھٹو کے آخری بیانات میں یہی درج ہے کہ پاکستان کو آزاد کہنے کی سزا مل رہی ہے۔

اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو سمجھیں کہ سب مل جُل کر وڑ گئے بری طرح۔ فی الحال جو اختلافات چل رہے ہیں وہ زمامہء امن کی وجہ سے ہیں۔ خانہ جنگی میں کسی کو اپنی ہوش بھی نہیں رہے گی۔ ویسے یوٹیوب پر سول وار لکھ کر ویڈیوز ضرور دیکھیے گا، آپ کیبورڈ وار بھول جائیں گے۔ روکیے اِن غداروں کو۔ روکیے اِن یوتھیوں کو۔ سارے باز آ جاؤ۔

ہم یوتھیوں اور پٹواریوں سب کو مشورہ دیتے ہیں کہ خدارا پاکستانی بن کر پاکستان کو بچا لو۔ اس خانہ جنگی میں، خانہ جنگی کو شروع کرنے والے خواتین و حضرات بھی پِسے جائیں گے۔ جیتے گا کوئی نہیں.. سب کی قسمت میں ایسی ہار لکھی ہو گی جو توشہ خانہ والے ہار کو بھی بُھلا دے گی۔

 وہ حاملہ خاتون جس کے منہ کے اندر گولی ماری گئی تھی، اُسے ابھی تک انصاف نہیں ملا، تحریکِ انصاف سے بھی نہیں....... سوچا کہ بتا دوں، ممکن ہے یہ سب اُسی کا عذاب ہو۔

خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اِس نئے امپورٹڈ فتنہ سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ آمین۔

وما علینا الا البلاغ…

.

*************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *