Site icon Prime Urdu Novels

Ek nazar idher bhi article by Shaneela Jabeen Zahidi

articles

“ایک نظر ادھر بھی “

شنیلہ جبین زاہدی
بارسلونا سپین
مذہبی سکالرہ

غربت اک بلا کا نام ہے جو ہر شے کو نگل جاتی ہے اور اسے فرق تک نہیں پڑتا ۔ آئے روز مخلوق خدا غربت کے ہاتھوں تنگ اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے مار کے خود حرام کی موت گلے لگا لیتے ہیں ۔ دور حاضر میں لاتعداد ایسے واقعات گزر چکے ہیں کہ شمار کرنا ناممکن ۔ انسانیت تو ان نام نہاد مسلمانوں کے اندر سے مرتی جارہی ہے جو آئے روز اس ملک و قوم کی ترقی کے نام پہ لاکھوں کا ٹیکس وصول کر رہی ہے اور غریب بیچارا مزید دھنستا چلا جارہا ہے ۔ صبح اس ٹھٹرتی سردی میں سڑکوں پہ اپنے اوزار لئے بیٹھے یہ غریب مزدور جب سارا دن مزدوری ناملنے پہ جب خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہونگے تو کیا یہ بین الاقوامی سطح پر مائیک پہ لمبی لمبی تقریریں کرنے والوں اور انسانیت کا درس دینے والوں کو دعائیں دیتے ہونگے ؟؟؟ صاحب وقت!! نظر ثانی کی ضرورت ہے آپکو اپنے قول و قرار پہ۔ یا تو غریب کو غریب کا حق دیں یا یہ اسلامی اخوت و بھائی چارے کی ڈھینگیں مارنا چھوڑ دیں ۔
کیونکہ اسلام کو پھیلانے والے پیغمبر اسلام ﷺ نے جو درس دیا اس پہ عمل بھی کیا ۔ کاشانہ نبوت میں تین تین دن تک آگ نہیں جلتی تھی ۔ ایک دن ہزاروں ، لاکھوں درہم بھی آئے تو تب تک گھر تشریف نہیں لے کر گئے جب تک اسے غرباء میں تقسیم نہیں کر دیا ۔
مین پوچھتی ہوں کہ کیونکر ؟؟

غیر مذہب کو ہم پہ فوقیت حاصل ہوگئی ! کوئی تو وجہ رہی ہوگی ! کوئی تو لائحہ عمل تیار کیاگیا ہوگا کہ ان کے ہی نہیں بلکہ میرے لوگ سر زمین پاکستان سے دوسرے ممالک سے فائدہ اٹھانے کے لئے نکلتے ہیں کئی تو راستے میں ہی لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والے مزید زمین کے اندر دھنس جاتے ہیں ۔
تو جناب والا عرض کرتی چلوں!
غیر مذہب اقوام نے محمدی طرز زندگانی کو نقل کر لیا ۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو حکومتی اداروں سے وظیفہ دیا گیا ۔ساٹھ سال کی عمر کے بوڑھے لوگوں کو پنشن کے نام پہ خرچ دیا گیا ۔ انکا عوام سے وصول کیا گیا ٹیکس عوام پہ ہی خرچ کیا گیا ۔ ہر طرف رنگا رنگ بہاریں ہر طرف ملک کو نکھارنے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے ۔ قوانین کو لاگو کیا گیا اور میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ہر فرد ان قوانین کو مانتا دکھائی دیتا ہے ۔ سیر و تفریح کے مقامات دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ رات کے وقت ہر طرف برقی قمقموں کی رعنائیاں آنکھوں کو حیرہ کر دیتی ہیں ۔ تعلیمی ادارے اور آئے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات ان اداروں کا دورہ کرتی اور حوصلہ افزائی کرتی دکھائی دیتیں ہیں ۔

یہ سب رقم کرنے کا مقصد ان سے مانوسیت نہیں بلکہ اپنے ملک پاکستان کے ایوانوں تک آواز پہچانا ہے جن کے ہاتھوں آج ملک کی باگ دوڑ ہے ۔ان سے پوچھنا ہے کہ وہ ملکی سالمیت کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں ؟
یاد رکھئے اگر اس عظیم انسان سے سوال کیا جاسکتا ہے ۔جسکو تاریخ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے *

“”جنکے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا “
وہ گلیاں آج بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یاد کرتی ہیں جو راتوں کو جاگ کر مخلوق خدا کی خدمت کیا کرتا تھا جو مخلوق کے احوال جاننے کےلئے بھیس بدلا کرتا تھا ۔ وہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے اس لئے ڈرتا تھا کہ اسکی حکومت میں اگر کوئی بکری کا بچہ بھی مر گیا تو اللہ قیامت کے دن اسکا بھی سوال کریگا ۔

آج ایوانوں کی زینت بنے یہ حکومتی عہدے داران کیا اسی طریق کو اپنائے ہوئے ہیں ؟
ایوان کے ہر فرد سے سوال ہوگا ۔یہاں بھی اور وہاں بھی جہاں جاہ اقتدار کسی کام نہیں آئیگا ۔
ہر اس فرد سے بھی سوال ہوگا جس کے اپنے گھر میں تو سب پیٹ بھر کے سو گئے اور اسکا پڑوسی بھوک کی وجہ سے سو نہ سکا ۔ ہر اس فرد سے سوال ہوگا جس کے قرب و جوار میں کسی نے حرام موت کو صرف روٹی کی وجہ سے گلے لگایا ۔

اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ضروری یہ نہیں کہ تم اپنی راتیں قیام میں اور دن صوم میں گزارو بلکہ دیکھو خلائق میں کس کی کتنی مدد کی ۔
مجھے اس بزرگ کی بات یاد آگئی کہ جس نے اپنی زندگی کے کئی ایام اس امید سے کمائی کرتا رہا کہ ایک دن حرم کعبہ کی زیارت کرونگا لیکن جب ایک دن اس معاشرے کی مجبور اور سفید پوش عورت کو دیکھا جو اپنی عزت کی وجہ سے کسی کے سامنے کشکول نہیں پھیلاتی تھی ۔ پائی پائی جوڑ کے جمع کی گئی رقم سے اس گھر کا چراغ روشن کر دیا کہ یہ بیٹیاں کس کے آگے دامن پھیلائیں گی ۔ اس گھر میں تو رزق دے آیا لیکن خود دل میں یہ کسک لئے لوٹا کہ خدا کے گھر زیارت سے اس دفع بھی محروم رہ گیا ۔
لیکن خدا جانے وہ کن گھڑیوں کی مقبول دعائیں تھیں کہ جو بھی قافلے سے لوٹا وہی حج و عمرے کی مبارکبادیں دے رہا تھا ۔ اس آدمی نے پوچھا کہ صاحب یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو کبھی وہاں گیا ہی نہیں۔
اللہ کے نام پہ خرچ کرنے والے کو رب دنیا میں بھی لازوال نعمتوں سے نوازا چلا جاتا ہے تو سوچیں آخرت میں اس نے کیا انعامات رکھے ہونگے ۔

اپنے اردگرد دیکھیں کہ کوئی مجبور بھوک پیاس سے نہ مر جائے ۔ ورنہ جب سوال ہوگا تو جواب کا کوئی آپشن نہیں بچے گا ۔

.

*************

Exit mobile version