Site icon Prime Urdu Novels

Maa teri azmat ko salam article by Kiran Ahmad

articles

تحریر: کرن احمد (اٹک)
عنوان: ماں تیری عظمت کو سلام

[8:00 pm, 26/05/2022] Imran: کچھ روز قبل ہونے والے ایک واقعے نے میرے دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑا ۔چند دن پہلے مجھے ایک قریبی رشتےدار کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔یہ نومبر کے اختتامی دن تھے ۔دوپہر دو بجے کے قریب ہم گھر سے روانہ ہوئے ۔رفتا رفتا ہم اپنی منزل کے قریب پہنچتے گئے۔دن سے شام ہونا شروع ہو گئی۔اچانک ہی خوفناک بادلوں نے آسمان کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ۔اور رات ہونے سے پہلے رات کا منظر دیکھائی دینے لگا ۔دیکھتے ہی دیکھتے بارش کر ننھے ننھے قطروں نےزمین پر برسنا شروع کر دیا ۔چونکہ یہ ابر رحمت کافی عرصے کے بعد نصیب ہوئی تھی ۔ہر طرف خوشی کا سماں دیکھائی دینے لگا ۔اس کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ماحول کو ٹھنڈک بخشی۔بس کی کھلی کھڑکی سے میں نے ہر منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا شروع کر دیا ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کے پار گرتی چند بوندوں کو اپنی ہتھیلی میں سمو لیا۔بارش کی ٹھنڈی بوندوں نے مجھے جھر جھری لینے پر مجبور کر دیا ۔اور میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹھنڈ کی وجہ سے کھڑکی بند کر دی۔شفاف شیشے کے پار ہر منظر بالکل ویسا ہی تھا ۔چند مسافروں کو اتارنے کی غرض سے بس کچھ وقت کے لئے رکی ۔اچانک شیشے کے پار میری نظر روڈ کر اس پار کھڑی ایک عورت پر پڑی ۔بارش سے بھیگتی اس عورت کے ایک ہاتھ میں پانچ سالہ بچی کا ہاتھ تھا ۔اور دوسرے بازو پر اس نے تقریباً ایک سال کا بچہ اٹھا رکھا تھا۔بارش سے بچانے کے لئے اس نے اپنی کمزور چادر آدھی بچی اور آدھی بچے پر ڈال رکھی تھی ۔جس سے بوندیں ان تک براہ راست پہنچنے سے قاصر تھیں ۔اور خود اس کا جسم ٹھنڈ سے نیلا پڑ رہا تھا ۔لیکن اسے ان سب باتوں سے کوئی غرض نہ تھی ۔اسے تو بس یہ روڈ پار کرکے اپنے بچوں کو محفوظ پناہ گاہ تک پہنچانا تھا۔میں نے اس بچی کے چہرے پر ایک عجیب سکون محسوس کیا ۔جیسے وہ دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ میں ہو ۔درحقیقت وہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے بعد دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ میں تھی ۔کچھ دیر بعد بس پھر سے اپنے سفر پر روانہ ہو گئی ۔اور منظر بدل گیا ۔

.

*************

Exit mobile version