Site icon Prime Urdu Novels

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan Complete Novelette download pdf

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around Social issues and love story. It is very famous, social, romantic Urdu novel that is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.

Binnat-e-Rizwan is an emerging new writer and it’s her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Binnat-e-Rizwan All Novels Link

Short Glimps

 “یہ افسانہ اور سلامت کیا کر رہے ہیں؟”. خوابیدہ غصے سے بولی.

“آواز افسانہ اور سلامت کی تو نہیں لگتی اور یہ تو یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی رو رہا ہے”. عِنایا نے کہا.

“چلو دیکھیں!”. دونوں اندر بڑھیں. لاؤنج کا منظر عجیب سا تھا. افسانہ اور سلامت ہونق سے دیوار سے لگے کھڑے تھے. سلیقہ پانی کا گلاس پکڑے صوفے کے ساتھ کھڑی تھی. صوفے پہ دادی بیٹھی تھیں اور ان کے سینے سے حِفظہ پھپھو لگی رو رہی تھیں. اس قدر بری طرح روتے ہوئے عِنایا نے اپنی زندگی میں کسی کو نہیں دیکھا تھا. وہ ہچکیوں اور سسکیوں سے رو رہی تھیں. مومنہ نے حِفظہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا.

 “برباد ہو گئے اماں! میں اور میرا بیٹا یہاں دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور وہ دھوکے باز انسان ہماری لاکھوں کی کمائی کھاتا رہا. خوفِ خدا نہیں ہے لوگوں کو. ارے یتیم کا حصہ کھاتے دل نہیں کانپا. میں کبھی معاف نہیں کروں گی. ہم گھر بدر تھے. ہمارے پاس کھانے کو نہ تھا اور وہ ہمیں چونی چونی کر کے پیسے دیتا تھا”.

 “خاموش ہو جاؤ! حوصلہ کرو. شکر کرو ابھی بھی اس کی اصلیت کا پتا چل گیا. روپے پیسے کا کیا ہے؟ آنی جانی چیز ہے. آزمائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے. ساری زندگی دربدر ہو کر گزاری ہے تو صلہ بھی تو دیکھو. اسلام آباد میں تمہارے بیٹے کا اپنا بزنس ہے، اپنا گھر ہے. اللہ کا دیا سب کچھ ہے. اللہ نے بڑھا کر لوٹایا ہے. ارے دنیا کے نقاب اترنے پہ رونا کیسا؟ یہ تو شکر کا مقام ہے کہ اصلیت پتا چل گئی. اب کم از کم ایک کے دھوکے سے تو بچ گئے “. دادی نے اچھی طرح تسلی دی.

یہ دونوں ابھی دروازے ہی میں کھڑی تھیں. اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ جرمنی میں جو کوئی ابا اور پھپھا کا دوست تھا اس نے دھوکا دیا تھا. عِنایا اور مومنہ کو تو اس نے عرصہ پہلے ہی پیسے بھیجنا بند کر دئیے تھے. وارث نے کوئی اعتراض نہ کیا تو معاملہ دب گیا.

پھپھو نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو پھر رو پڑیں

“ہائے میرا بچہ! ہائے ہم برباد ہو گئے”.

عِنایا کی نظریں اٹھیں. کرسی پہ وہ بیٹھا تھا، چہرے کے تاثرات چھپائے ہوئے. اس کا دل ہمدردی سے بھر گیا. وہ فوراً چونکی کہیں دوبارہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں ہو گئی؟ فوراً دل میں جھانکا مگر اب دل مضبوط تھا. انسان ہونے کےناطے ہمدردی ہوئی تھی کہ ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو. وہ گناہ کے بوجھ سے آزاد ہی تھی.

 “چپ کر جاؤ حِفظہ، یہ ہائے وائے اور اونچی آواز میں رونا ماتم میں شمار ہوتا ہے اور ماتم گناہ ہے. اسلام میں اس نام کی کوئی چیز نہیں”. عالیہ بیگم نے جھڑکا.

 وہ دونوں سلام کرتیں اوپر چلدیں.

خوابیدہ اپنا بیگ اپنے کمرے میں رکھ کر عِنایا کے کمرے میں آ گئی، بیڈ پہ بیٹھی اور کہا

” یہ کیا ہوا پھپھو کے ساتھ؟ “. آواز میں دکھ تھا. عِنایا نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ اونگھ رہی تھی اور عِنایا کے فریش ہونے تک وہ سو گئی. عِنایا نے بڑی چادر اوڑھی اور کچن میں تائی سلیقہ کی ہیلپ کروانے لگی. غازان تو اسی رات واپس اسلام آباد چلا گیا مگر پھپھو دو دن کے لیے رک گئیں. وہ سب ان کے لیے دلی دکھ محسوس کر رہے تھے.

………………………

آج اس کی یونیورسٹی میں کانووکیشن سیریمنی تھی. عِنایا گولڈ میڈل جیتی تھی. وہ تمتماتے چہرے کے ساتھ  جب گھر میں داخل ہوئی تو پھپھو کی آمد کی اطلاع ملی. پھپھو بہت خوشی سے ملیں.

 “اس قدر مٹھائی لانے کی کیا ضرورت تھی آپا؟” مومنہ نے کہا.

 “ارے دو دو خوشیاں ہیں. شام کو آتے ہوئے غازان اور بھی چیزیں لے کر آئے گا. آج ہی فنکشن کریں گے”.

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

  1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
  2. You will see an advertisement and a popup notification of allow or block.
  3. Click on block and wait for 5 second. A count down will appear on top from 5 to 0. Meanwhile ignore any kind of advertisement or warning you will see on your screen.
  4. After 5 second you will see skip add and click on this skip add button.
  5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
  6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Click the link below to download this novel in pdf.

Download Link 1

Download Link 2

Download Link 3

Qalab e mutmaina by Binnat-e-Rizwan Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Exit mobile version