Rad e qadianiyat article by Shaneela Jabeen Zahidi

articles

” رد قادیانیت

شنیلہ جبین زاہدی

مذہبی سکالرہ

بارسلونا اسپین

قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی نے واضح اعلان فرما دیاکہ ۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب، 33 : 40)
ترجمہ: محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
اس اعلان سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اب قیامت تک کے لئے حضور نبی اکرمﷺ ہی آخری پیغمبر ہیں۔ اگر کوئی نبی آنا ہوتا تو اسکا ذکر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت موجود ہوتا ۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے اور تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہیں کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی قسم کو کوئی نبی ہوگا اور نہ کسی قسم کا کوئی رسول۔ اس پر بھی اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل یا تخصیص نہیں، پس اس کا منکر یقینا اجماع امّت کا منکر ہے۔جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں
آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا: ’’تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسی (علیہما لسلام) سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
دوسری جگہ یہ ارشاد ملتا ہے
حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ) ہوتے۔‘‘
یعنی فیصلہ ہوگیا کہ جنکے اندر کوئی صلاحیتیں تھیں انکے بارے ارشاد فرما دیا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ فلاں ہوتا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشان دہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب اس نقطہ کی طرف توجہ مبذول کروانا نہایت ضروری ہے جسکے لئے اس ضعیف قلم نے اٹھنے کی جسارت کی ۔
قادیانیت کی تردید اہم ترین فریضہ ہے ۔
قادیانیت کا اکثر اور بنیادی لٹریچر اردو میں ہے ۔ ہم دلائل کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں۔اگر نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم زندہ رہتے ۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (بخاری شریف )
یہ بات واجب التسلیم ہے کہ خاتم النبیین کا معنی ہے”” نبیوں میں سب سے آخری نبی”” اجتہاد کا قیامت تک جاری ہو جانا بھی ختم نبوت کی واضح دلیل ہے جب حضور نبی رحمتﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں تو کسی جہاں ، علاقے ، قوم کے لیے نئے نبی کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔
آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
“انا خاتم النبیین لا نبی بعدی “
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے موجودہ زمانے میں قادیانیت کے نام پہ یہ کونسا اسلام نازل ہوا ہے جسکا نبی خود کو احمد کہلواتا اور اسکے پیروکار احمدی کہلواتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے یہ کونسا انوکھا دین ہے جسکی توجیہہ کی ہمیں سمجھ نہیں ۔ ذرا اس پہ نظر ثانی فرمائیں! تو کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں حضور نبی رحمت ﷺ کو بھی مانتے ہیں بس آخری نبی نہیں مانتے ۔ ہم اک اور نبی کو مانتے ہیں جو ذیلی و بروضی نبی ہے ، یعنی وہ نعوذبااللہ حضور ﷺ کا سایہ بن کے آیا ہے ۔ نعوذبااللہ جس نبی کا سایہ بنانا میرے رب کو گوارہ نہیں تھا کہ کہیں بے ادبی کا کوئی پہلو ظاہر نہ ہو کسی اور کا سایہ بھی نہ پڑے مصطفی ﷺ کے سایہ پہ ۔ اس خدا نے تجھ جیسے انسان کو اپنے محبوب کا سایہ بنا کے کیسے بھیج دیا ۔ جسکی زبان نازیبا الفاظ کا مجموعہ ہو ، جسکی ذات کسمپرسی کی آماجگاہ ہو ، جسکی خود کی ذات نامکمل ہو ۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کذاب ایک آنکھ کا کانا تھا ۔ اسکو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں تھی ۔ کھانے کی تلاش میں جو در بدر بھٹکا ہو ، جسے فرنگی کمیونٹیز کی خیرات ملی ہو ، جسکی زندگی جھوٹ کا اک پلندہ ہو ، جسکے اردگرد غلاظت کا انبار ہو ۔وہ کیا کسی جماعت کی قیادت سنبھالے گا۔ اسکو ماننے والوں کو ایک بات کہنا چاہوں گی کہ صاحب آپ ہوش کے ناخن لیں ۔ جو اپنی خفاظت تک خود نہ کرسکتا ہو ۔ جسکو انگریز حکومت کی پشت پناہی لینی پڑے ۔ وہ تمہاری کیا حاجت روائی کریگا ، تم اپنے مرزا قادیانی کی ذات کا اندازہ تو لگاو ۔ حقیقت روز روشن کی طرح تمہارے سامنے واضح ہوجائے گی ۔ لیکن جسکے سامنے حق اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عیاں ہے وہ پھر بھی اسکو جھٹلانے پہ مسر ہو تو انکی عاقبت نااندیشی کے کیا کہنے۔
اقبال نے کہا تھا نہ کہ
دل بینا بھی خدا سے کر طلب
کہ دل کا نور آنکھ کا نور نہیں

دور حاضر میں ایک فتنہ ابھی کم نہیں ہوتا کہ دوسرا اپنا سر اٹھا لیتا ہے ایک ایسے اژدھے کی طرح کہ جو اسلام کے پیروکاروں کو آن کی آن دبوچ لے اور اپنے زہر کو ان کے اندر آخری حد تک ایسے پھیلا دے کہ ان کی جان اس صورت لےلے کہ ان کے اندر سے دین محمدی کی روح نکال دے ۔ وہ بہت حد تک اس میں کامیاب ہو بھی گیا ہے وہ آئے روز ایک نئ چال کے ساتھ ایک نئی طرز کے ساتھ نمودار ہو رہا ہے ۔
اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی فکر کریں کہ آیا وہ کن سکولز اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں ان کا لٹریچر کیا ہے ۔کیونکہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ہماری نسلوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے انکی ذہن سازی کی جارہی ہے ۔ کہ ہمیں کسی کے مسلک سے کیا لینا دینا ۔۔۔۔۔
بھئی کیوں لینا دینا نہیں جب ہمارا قرآن کہہ رہا کہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو کیوں اس بات سے لینا دینا نہیں۔
اپنی اولادوں کو اسلام کے متعلق گھروں کی دہلیز پار کرنے سے پہلے بتائیں کہ اسلام دین مکمل ہے اور نبی آخر الزماں ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ خدارا اپنی عاقبت نااندیشی کے باعث نہ اپنا نقصان کریں نہ اپنی آنے والی نسلوں کا ۔ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اردگرد کا جائزہ لیں۔ کیونکہ کئی گھروں کی بیٹیاں اس لا علمی میں ماری گئیں اور جاکے قادیانیوں سے شادیاں کرلیں ۔ یہ امت کے ہر اس ذی ہوش پہ فرض ہے جس کو اس کے بارے میں علم ہے۔

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے __سر عام رکھ دیا

.

*************

2 thoughts on “Rad e qadianiyat article by Shaneela Jabeen Zahidi

  1. جب تک نہ کٹ مریں ہم شاہ بطحا صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کہ کامل ہمارا ایماں ہو نہیں سکتا!MashAllah ❤️❤️❤️
    اللّٰلہ پاک علم و آگہی کے اس بحر میں اضافہ فرمائے!!!
    آمین ۔۔۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *