Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz download pdf
Free download read online
Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz
Realistic, Social and Fiction based novel
Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz
********************
Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz Summary
اس افسانے کو لکھنے کا مقصد ہر اس شخص کو ہیل کرنا ہے جو تعلیمی پریشر کا شکار ہے۔
نہ جانے کتنے چراغ بجھ گئے ہوا کے ٹکراؤ سے۔۔
ہر اس پھول کے نام جس نے اپنی زندگی جن نمبروں یا سیٹ کے پیچھے گنوا دی۔
میں شرمندہ ہوں کہ کاش پہلے اس موضوع پہ قلم اٹھا لیتی تو شاید کچھ افادہ ہوتا۔
جذبات بہکا دیتے ہیں آپ کی زندگی کسی کا خواب ہو سکتی ہے۔ زندگی کو رائیگاں نہیں کرتے یہ امانت ہے۔
اپنے سسٹم کے خلاف لڑیں اور زندگی جئیں۔
چلو نا زندگی جی لیتے ہیں
رمشاء ریاض کا افسانہ “زندگی جی لیتے ہیں” ایک نہایت طاقتور سماجی اور نفسیاتی بیانیہ ہے جو دورِ حاضر کے تعلیمی نظام، والدین کی توقعات کے بوجھ اور ذہنی صحت (Mental Health) جیسے حساس موضوعات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس افسانے کا تفصیلی جائزہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. کہانی کا پس منظر اور مرکزی خیال
کہانی دو نوجوانوں، معاویہ اور حمدان کے گرد گھومتی ہے جو ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں کامیابی کا معیار صرف “ڈاکٹر بننا” یا “گولڈ میڈل” حاصل کرنا ہے۔ افسانہ نگار نے نہایت مہارت سے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح یہ نمبروں کی دوڑ طالب علموں کو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک لے جاتی ہے۔
2. کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ
حمدان: حمدان کا کردار اس المیے کی عکاسی کرتا ہے جو “ٹاپر” ہونے کے دباؤ میں آکر ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات (سنگر بننا) کو خاندان کی خاطر قربان کر دیتا ہے اور جب سسٹم کی ناانصافی کا شکار ہوتا ہے، تو خودکشی کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عمر بھر کے لیے وہیل چیئر پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار “Guilt Self Blamer Syndrome” کی علامت ہے۔
معاویہ: معاویہ ایک رکشہ ڈرائیور کا بیٹا ہے جو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس کا کردار کہانی میں امید کی کرن ہے۔ وہ بھی ایک مرحلے پر ہار کر زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن اپنے خاندان کی محبت اور حمدان کی حالت کو دیکھ کر واپس مڑ آتا ہے۔ اس کا ایک پروفیسر بننا یہ ثابت کرتا ہے کہ “راستے بدلنے سے منزلیں ختم نہیں ہوتیں”۔
3. سماجی و تعلیمی نظام پر ضرب
افسانہ نگار نے تعلیمی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے:
گریڈز کی تذلیل: ٹیچرز کا کم نمبر لینے والے بچوں کو سب کے سامنے بے عزت کرنا ان میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے۔
سیٹوں کی خرید و فروخت: ایلیٹ کلاس کا پیسے کے زور پر میرٹ کو پامال کرنا محنتی طالب علموں کو ذہنی مریض بنا دیتا ہے۔
4. اہم اسباق اور ہیلنگ
والدین کی غیر مشروط محبت: معاویہ کا اپنی ماں اور بہن کی خاطر زندہ رہنے کا فیصلہ یہ بتاتا ہے کہ انسان کی زندگی صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ اس سے جڑے کئی رشتوں کی امانت ہے۔
نمبروں سے بالاتر زندگی: کہانی کا اختتام نہایت خوبصورت ہے، جہاں معاویہ ایک ایسا استاد بنتا ہے جو بچوں کو نمبروں کے بجائے ہمت اور دوبارہ کوشش (Another chance) کا سبق دیتا ہے۔
************
About The Writer, Rimsha Riaz
رمشہ ریاض ایک باصلاحیت مصنفہ ہیں جو اپنے منفرد اور بامقصد اندازِ تحریر کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کی کہانیاں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک پیغام اور ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہوتی ہیں۔ وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور اپنے قارئین کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
ان کے نمایاں ناول اور کہانیاں درج ذیل ہیں:
- اور تم آئے
- دوسری محبت
- القمر المخضوب
- پیار اک شرط پہ
- حسد
- ہدایت
- گل آشیانہ
- ابابیل
- سناٹے گونجتے ہیں
- آئینہ کے اس طرف
- مدربِ زیست
ان کے حالیہ ناول “کانٹوں کا سفر” میں بھی ایک گہرا پیغام موجود ہے، جو اسلام کی سچائی اور زندگی کے بدلتے رنگوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسی تحریریں لکھنے کی کوشش کرتی ہیں جو قاری کو سوچنے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے پر مجبور کر دیں۔
اگر آپ ان کی فنانشل مدد کرنا چاہتے ہیں تو ان کی کتب خرید کر ان کے ادبی سفر میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
********
Short Scene of novel
آپ کام چھوڑ دیں اب۔۔ خوش بخت ان کے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔
وہ بروقت مسکرائے۔
بیٹیاں پرائے گھر کی ہوتی ہیں بخت۔۔ ساری زندگی بیٹی کی کمائی نہیں کھا سکتا۔ تمھیں اپنے گھر کا سوچنا چاہیے اب۔ وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھنے لگے۔ خوش بخت نے انھیں دیکھا۔
پرایا تو نہ کریں آپ کی بیٹی ہوں، اتنا گھس گھس کے آپ کا گھر چمکاتی ہوں اور آپ مجھے پرایا کہہ رہے ہیں، وہ ناک سکوڑ کر معصومیت سے بولیں۔ خالد صاحب ہنس دئیے۔
بھئی تمھارا گھر ہی ہے پر۔۔۔۔۔
معاویہ انتظار کر سکتا ہے ابا۔۔۔ اس نے مجھے پابند نہیں کیا نا ہی بے جا ناجائز حکم کی بیڑیوں میں جکڑا ہے۔ وہ پڑھا لکھا مرد ہے اور سمجھدار بھی اور سمجھدار مرد عورت پہ بوجھ نہیں ڈالتے۔۔۔ جملے کاٹتی خوش بخت نے مسکرا کر باپ کا ہاتھ تھاما۔ باپ کے کھردرے ہاتھ نہ نجانے کیوں بیٹیوں کو ریشم لگتے ہیں۔ وہ ان ہاتھوں پہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔
اسلام آباد کب جانا ہے؟ باپ نے اس کے مرجھائے کو انگلی سے اٹھا کر پوچھا۔
اس ہفتے! وہ ٹھنڈی سانس لیکر بولی۔
ہر میدان فتح کر کے آؤ۔۔ انھوں نے اس کے سر پہ دست شفقت پھیرا۔
آپ کی دعا ساتھ ہوئی تو ضرور۔۔ وہ مسکرائی پھر باپ کے کندھے پہ سر رکھا ۔ پھر اٹھی اور پلٹی مجھے تیاری بھی کرنی ہے کہہ کر اس نے کمرے کی سمت دیکھا۔ حمدان کے کمرے کے وسط میں اس کی وہیل چئیر تھی وہ باپ بیٹی کو حسرت سے تکے جا رہا تھا۔ خوش بخت کی مسکان سمٹی۔۔ بھائی۔
وہ اس کی طرف بڑھی تو غیر ارادی طور پہ حمدان نے چئیر پیچھے کو دھکیل کر دروازہ بند کیا اور خوش بخت دم بھر کر رہ گئی
آپ کا خواب کیا ہےحمدان بھائی؟ چنار کے اسی درخت تلے بیٹھا معاویہ حمدان سے پوچھ رہا تھا۔ ہنسو گے تو نہیں؟ وہ کتاب بند کر کے سیدھا ہوا۔
کچھ کہہ نہیں سکتے۔ وہ گردن کو گول گھماکر آگے ہوا۔
حمدان نے منہ بسورا۔۔
یار خواب دیکھنا ۔۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ معاویہ کی ہنسی چھوٹی۔
تب ہی نہیں بتا رہا تھا ۔ وہ منہ بگاڑ گیا۔
اچھا سوری! معاویہ ایک دم سنجیدہ ہوا۔
حقیقت سے بس ہو گئی ہے میری۔
نہ جانے ہم کب تک لوگوں کی زندگی جئیں گے؟اپنی نہیں۔
مجھے سنگر بننا ہے اور دیکھو میں گھر والوں کے لئیے ڈاکٹری کر رہا ہوں….
ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے کہنے پہ جی رہے ہیں۔۔۔
مطلب ہم نے اپنی خواہشات کہیں نظر بند کر دی ہیں۔ معاویہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔
مرنا نہیں چاہتا میں یار، بس نارمل زندگی جینا چاہتا ہوں جو صرف میری ہو۔
میری طرز پہ چلنے والی، میرے مطابق، جس میں میرا گائیڈ بھی ہوں، فیصلے بھی میرے۔
حمدان مسکرایا تھا۔
معاویہ مسکرا نہ سکا۔
سچ تھا، ہم نے کبھی اپنی زندگی تو جی ہی نہیں، کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی کمانڈ وہ خود ہوتے ہیں، کوئی دوسرا نہیں۔۔
حمدان نے پیڑ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اور گنگانے لگا۔ آواز میں ٹھہراؤ تھا، شاید شکایت بھی۔۔
****************
Download Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
************
اگر آپ رمشا ریاض کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Rimsha Riaz All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Wafa mamnooh thehri by Mala Shah Complete novel
Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel
Mere angan mein utra chand by Ayesha Falak Sher Complete novel
******************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download Zindagi jee lety hain afsana by Rimsha Riaz
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 648 Views











