The serpent queen by Kainat Tahir Complete novel

The serpent queen by Kainat Tahir Download pdf

About The Novel The serpent queen by Kainat Tahir

The serpent queen by Kainat Tahir Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

The serpent queen by Kainat Tahir is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

***************

Novel Summary in Urdu

یہ کہانی صرف محبت کی داستان نہیں، بلکہ اُن حقیقتوں کا آئینہ ہے جن سے آج کی بہت سی لڑکیاں گزر رہی ہیں۔ ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا اور ہر محبت کا دعویٰ سچا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی جنہیں ہم اپنی دنیا سمجھ بیٹھتے ہیں، وہی ہماری دنیا اجاڑنے کا سبب بن جاتے ہیں۔

The Serpent Queen اُن لڑکیوں کے لیے ہے جو محبت پر یقین کرتی ہیں، مگر انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہر شخص اپنے لفظوں جتنا سچا نہیں ہوتا۔ آج کے دور میں کسی کے وعدوں، میٹھی باتوں اور جھوٹی محبت پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے کے بجائے انسان کو اپنے وقار، اپنی عقل اور اپنی ذات پر بھروسا کرنا چاہیے۔

یہ ناول ہر اُس لڑکی کو ضرور پڑھنا چاہیے جو محبت کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ سمجھتی ہے، کیونکہ محبت خوبصورت ضرور ہے، مگر غلط انسان پر کیا گیا یقین زندگی کا سب سے تلخ سبق بن سکتا ہے۔

اس سفر میں کچھ کردار آپ کے دل کو توڑیں گے، کچھ آپ کے دل کے بہت قریب آ جائیں گے، اور کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آپ چاہ کر بھی بھلا نہیں پائیں گے۔ ہر کردار اپنے ساتھ ایک الگ کہانی، ایک الگ راز اور ایک الگ احساس لیے اس داستان میں داخل ہوگا۔

یہ کہانی دھوکے، محبت، درد، راز اور بدلے کے گرد گھومتی ہے، مگر سب سے بڑھ کر یہ ایک ایسی لڑکی کا سفر ہے جو ٹوٹ کر بھی بکھرتی نہیں، بلکہ اپنے زخموں کو اپنی طاقت بنا لیتی ہے۔

کیونکہ ہر لڑکی کو یہ سیکھنا چاہیے کہ کسی کے چھوڑ جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی… کبھی کبھی وہیں سے ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے۔

****************

About The Writer, Kainat Tahir

کائنات طاہر اردو ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پبلشنگ کی دنیا میں خاندانی رشتوں کے تقدس اور نوجوان نسل کی نفسیات کو جاندار انداز میں پیش کرنے والی ایک بہترین لکھاری ہیں۔ ان کے طرزِ تحریر کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے جاندار اور جیتے جاگتے مکالمے ہیں، جو قارئین کو بوجھل محسوس نہیں ہونے دیتے۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

“زمل، تم نے خود پولیس کو فون کیا تھا۔ تم نے کہا تھا کہ تم نے چھ قتل کیے ہیں۔”

زمل نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔

“جی۔”

افسر نے پوچھا،

“ہم تمہارا باقاعدہ بیان ریکارڈ کر رہے ہیں۔ جو کچھ کہنا ہے، سچ سچ بتاؤ۔”

زمل نے چند لمحے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔

پھر دھیرے سے بولی،

“میں آج جھوٹ نہیں بولوں گی۔”

افسر نے ریکارڈر آن کر دیا۔

“بیان شروع کریں۔”

زمل نے گہری سانس لی۔

“میرا نام زمل سفیان ہے…”

اس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا۔

“اور میں نے چھ قتل کیے ہیں۔”

افسر نے قلم اٹھا لیا۔

“قتل کی وجہ؟”

زمل کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر اس کی آنکھوں میں تین سال پرانے مناظر اترنے لگے۔

“دھوکا۔”

افسر نے چونک کر اسے دیکھا۔

“کس نے دھوکا دیا؟”

زمل کی پلکیں جھک گئیں۔

“جس پر میں نے سب سے زیادہ یقین کیا تھا۔”

اس کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔

“شایان۔”

کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

زمل نے کہنا شروع کیا۔

“میں کبھی ایسی نہیں تھی۔ مجھے بدلہ لینا نہیں آتا تھا۔ میں تو کسی کے اونچی آواز میں بات کرنے سے بھی ڈر جاتی تھی۔ میں لوگوں پر جلدی یقین کر لیتی تھی۔ رشتوں کو سچا سمجھتی تھی۔ محبت کو مقدس سمجھتی تھی۔”

اس کی آواز بھرا گئی۔

“پھر میری زندگی میں ایک ایسا شخص آیا جسے میں نے اپنی دنیا سمجھ لیا۔”

زمل نے آنکھیں بند کر لیں۔

“میں نے اس پر یقین کیا۔ اپنی خوشیاں اس کے ساتھ جوڑ دیں۔ مجھے لگا تھا کہ یہ شخص مجھے کبھی نہیں توڑے گا۔”

ایک آنسو اس کے گال پر بہہ گیا۔

“مگر اس نے توڑ دیا۔”

افسر خاموشی سے سنتا رہا۔

زمل نے اپنی انگلیاں بھینچ لیں۔

“صرف میرا دل نہیں توڑا گیا تھا۔ میری عزت، میرا اعتماد، میری خود اعتمادی… سب کچھ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔”

وہ چند لمحوں کے لیے رک گئی۔

“میں نے بہت کوشش کی کہ سب بھول جاؤں۔”

“میں نے خود کو سمجھایا کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

“لیکن کچھ زخم وقت کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتے۔”

زمل نے نظریں اٹھائیں۔

“وہ اندر ہی اندر انسان کو کھاتے رہتے ہیں۔”

افسر نے پوچھا،

“پھر کیا ہوا؟”

زمل نے دھیرے سے جواب دیا،

“پھر میں بدلنے لگی۔”

“پہلے میں روئی۔”

“پھر میں خاموش ہوئی۔”

“پھر میں نے لوگوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔”

“اور آخر میں…”

اس کی آواز سرد ہو گئی۔

“میں نے بدلہ لینا شروع کر دیا۔”

افسر نے فائل میں کچھ لکھا۔

“اور تم نے چھ لوگوں کو قتل کیا؟”

زمل نے سر جھکا دیا۔

“جی۔”

“کیوں؟”

زمل نے کچھ لمحے جواب نہیں دیا۔

پھر بولی،

“ہر قتل کے پیچھے ایک کہانی تھی۔ ہر بار مجھے لگا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لے رہی ہوں۔”

“مگر آج سمجھ آتا ہے…”

وہ تلخی سے مسکرائی۔

“کہ میں حساب نہیں لے رہی تھی۔ میں خود کو مزید اندھیرے میں دھکیل رہی تھی۔”

افسر نے پوچھا،

“تم نے اپنے لیے ‘سرپنٹ کوئین’ کا نام کیوں رکھا؟”

زمل نے پہلی بار سیدھا افسر کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں درد تھا۔

“میں نے یہ نام شوق سے نہیں رکھا تھا۔”

“پھر؟”

“مجھے حالات نے بنایا تھا۔”

وہ آہستہ سے بولی:

“ایک زمل تھی جو محبت کرتی تھی۔”

“ایک زمل تھی جو لوگوں پر یقین کرتی تھی۔”

“ایک زمل تھی جو معاف کر دیتی تھی۔”

“پھر ایک دھوکا آیا…”

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

“اور وہ زمل کہیں پیچھے رہ گئی۔”

زمل نے آنسو صاف کیے۔

“اس کے بعد جو لڑکی سامنے آئی، وہ کسی پر رحم نہیں کرتی تھی۔”

“وہ اپنے درد کو طاقت سمجھتی تھی۔”

“وہ سمجھتی تھی کہ اگر دنیا نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا تو وہ خود انصاف کرے گی۔”

زمل نے نظریں جھکا لیں۔

“اور اسی لڑکی کو دنیا نے سرپنٹ کوئین کہا۔”

افسر نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا،

“کیا تم اپنے کیے ہوئے قتلوں پر پچھتاوا کرتی ہو؟”

اس بار زمل نے فوراً جواب دیا۔

“جی۔”

“بہت؟”

زمل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“اتنا کہ اگر وقت واپس آ جائے تو میں اپنی زندگی کا ہر وہ قدم بدل دوں جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔”

وہ سسکی۔

“لیکن وقت واپس نہیں آتا۔”

“مردے واپس نہیں آتے۔”

“اور کیے ہوئے جرم مٹائے نہیں جا سکتے۔”

زمل نے اپنے ہاتھ میز پر رکھ دیے۔

“اسی لیے میں خود پولیس کے پاس آئی ہوں۔”

****************

Download The serpent queen by Kainat Tahir in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Ehsas e mohabbat by Aiman Razzaq Download pdf

Phoopho ki bhatijiaan by Ayesha Falak Sher Download pdf

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 47 Views

Leave a Comment