Meerab Hayat – A Writer Who Captures Hearts with Her Words
Meerab Hayat, whose real name is Habiba Moin, hails from Lahore, Punjab. She holds a Master’s degree in English from Punjab University.
Her journey as a novelist began with her debut novel, “Mohabbat Hayat Hoti Hai.” When asked why she started writing, even she cannot pinpoint a specific reason—it was simply a flow of thoughts that found their way onto paper. Guided by the world of imagination, she went on to write several captivating novels, including “Mohabbat Hayat Hoti Hai,” “Hai Tu Hi Meri Manzil,” “Jo Bikhroon Mein Sahara Tu,” “Aan,” “Shiddat,” and “Tum Adhuri Ho.”
Meerab Hayat’s writing is driven by a deep passion for storytelling, where she transforms her imagination into words. Her ultimate goal is to convey emotions in a way that resonates with her readers—those who truly understand the essence of her stories.
میرا حقیقی نام حبیبہ معین جبکہ قلمی نام میرب حیات ہے۔۔ میں پنجاب کے شہر لاہور سے تعلق رکھتی ہوں اور میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے انگلش کی سند حاصل کی ہے(الحمداللہ)
میرے پہلے ناول کا نام “محبت حیات ہوتی ہے” تھا۔۔ میں نے ناول لکھنے کا کیوں سوچا؟ یہ تو میں خود بھی نہیں جانتی بس سوچیں پنپتی گئیں اور میں انھیں صفحے پر اتارتی چلی گئی۔۔ تخیل کی دنیا کا ہاتھ تھامے یکے بعد دیگرے کئی کردار اور کئی کہانیاں لکھ ڈالیں جن میں “محبت حیات ہوتی ہے” کے بعد “ہے تو ہی میری منزل” ، “جو بکھروں میں سہارا تُو”, “آن” ، “شدت” اور “تم ادھوری ہو” شامل ہیں۔۔
میرے لکھنے کا مقصد اپنے تخیل کو الفاظ دینا اور اپنے قارئین تک وہ احساسات پہنچانا ہے جنہیں سمجھنے کی صلاحیت فقط میرے “قارئین” ہی کے پاس ہے۔
“Mohabbat Hayat Hoti Hai by Meerab Hayat” – From Childhood Love to Reality
Synopsis:
Mohabbat Hayat Hoti Hai traces the bittersweet journey of Dil Ainur Shah , who has loved her older neighbor, Sikandar Shah , since childhood. Despite her unwavering affection, Sikandar dismisses her feelings as childish infatuation. When fate intervenes, Sikandar marries Dil Ainur’s step sister, Shajiah , shattering Dil Ainur’s heart. Devastated, she moves abroad to escape her pain.
Years later, Sikandar realizes his mistake and longs to reconnect with Dil Ainur. Meanwhile, a young man named Faris enters her life, reigniting hope for a brighter future. Will Dil Ainur forgive Sikandar, or will she choose to move on with Faris? The answer lies within the pages of this enchanting novel.
Themes Explored in Mohabbat Hayat Hoti Hai by Meerab Hayat:
- Unrequited love and its lasting impact
- Self-discovery and healing
- Second chances at love
“Mohabbat Hayat Hoti Hai by Meerab Hayat” reminds us that true love often requires patience and perseverance.
محبت حیات ہوتی ہے، مصنفہ میرب حیات کا پہلا ناول ہے جس کی کہانی اور کردار دونوں ہی قاری کے ذہن کو اپنے سحر میں جکڑنے کی صلاحیت لیے ہوئے ہیں۔۔ دل آئنور شاہ اس ناول کا بنیادی کردار ہے جو کہ خود سے دس سال بڑے سکندر شاہ کو بچپن سے چاہتی ہے۔۔ لیکن اس کے برعکس سکندر دل آئنور کو چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کرتا ہے۔
وہ اس کے لیے کسی قسم کے خاص جذبات نہیں رکھتا بلکہ وہ دل آئنور شاہ کی سوتیلی بہن شجعیہ سے منسوب ہے اور اس بابت دل آئنور قطعی لاعلم ہے، اسی لاعلمی میں وہ ایک رات سکندر شاہ پر اپنا حالِ دل عیاں کر دیتی ہے۔ سکندر ایک پل کو ششدر رہ جاتا ہے اور پھر اگلے ہی پل اسے بری طرح دھتکار ، ذلیل کرکے چلا جاتا ہے۔ گھر میں سکندر اور شجعیہ کی شادی کے ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں جن کا گہرا اثر لے، دل آئنور ہاسپٹل کے بیڈ سے جا لگتی ہے۔۔
بڑی دقتوں سے وہ شجعیہ اور سکندر کی شادی کی تقریبات میں شامل ہوتی ہے اور پھر اسی رات دل برداشتہ ہو کر تعلیم کا بہانہ بنا، ملک سے باہر چلی ہے۔۔ یہی وہ پل ہوتا ہے جب سکندر کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دل آئنور کو چاہتا ہے اور اسے دیکھے یا سنے بنا نہیں رہ سکتا مگر وقت اور موقع، اس کی مٹھی سے ریت کی مانند پھسل چکا ہوتا ہے۔۔
بیرون ملک ماریہ اور فارس دل آئنور کے دوست بن جاتے ہیں۔۔ ماریہ فارس کو پسند کرتی ہے جبکہ فارس ، دل آئنور کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۔ وہ اسے پروپوز کرتا ہے مگر کیا دل آئنور اسے قبول کر اس سے شادی کرلے گی۔۔؟ کیا شجعیہ پر کبھی سکندر شاہ کے دل کی حالت عیاں ہو سکے گی؟ ماریہ تہی داماں رہ جائے گی یا پھر دل آئنور زندگی کی دوڑ ہار بیٹھے گی؟
جاننے کے لیے پڑھیے۔۔ ‘محبت حیات ہوتی ہے’ بقلم میرب حیات
Download Link
Mohabbat Hayat Hoti Hay by Meerab Hayat
**********
Hai Tu Hi Meri Manzil by Meerab Hayat – A Test of Love and Trust
Synopsis:
At the heart of this story ” Hai Tu Hi Meri Manzil” is Larwish , an orphan living with her mother in her paternal home. Her life takes an unexpected turn when she develops feelings for her cousin, Zain Ahmar Naizi . Just as their bond begins to blossom, a mysterious figure named Magheez Hamdani enters Larwish’s life, bringing both comfort and fear.
Misunderstandings between Larwish and Zain create rifts in their relationship, while Magheez manipulates situations to drive them apart. As tensions escalate, Larwish must navigate a labyrinth of emotions to uncover the truth and reclaim her happiness.
Themes Explored in Hai Tu Hi Meri Manzil by Meerab Hayat:
- The fragility of trust in relationships
- Jealousy and its destructive power
- Rediscovering love amidst chaos
“Hai Tu Hi Meri Manzil by Meerab Hayat” is a gripping tale of love, betrayal, and redemption.
ہے تو ہی میری منزل کی کہانی لاروش اور اس کی زندگانی کے گرد گھومتی ہے جو یتیم ہے اور اپنی ماں کے ساتھ ، باپ کے آبائی گھر میں رہائش پذیر ہے۔ زین احمر نیازی اسکا تایا زاد ہے جس سے لاروش منسوب ہے۔۔
مغیز ہمدانی لاروش کا کلاس فیلو ہے اور اس میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔ اس کا کردار پراسرار ہے کیونکہ وہ اکثر و بیشتر لاروش کے لیے سنجیدہ نظر آتا ہے مگر بعض اوقات وہ اسے ہراس کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ایک روز زین نیازی ۔۔ لاروش اور مغیز کو ایک ساتھ دیکھ لیتا ہے اور غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے۔۔ کسی نا کسی طرح لاروش اس کی غلط فہمی دور کر دیتی ہے وہ دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں مگر مغیز اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس بار پیدا ہونے والی بدگمانی کے نتیجے میں زین احمر اپنی کزن کے ساتھ انوالو ہوجاتا ہے اور لاروش کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔۔
ناول میں دونوں کردار اکثر ایک دوسرے سے نالاں نظر آتے ہیں مگر بہرطور ان کے مابین موجود کشش و محبت انھیں اک دوجے سے باندھے رکھتی ہے اور بالآخر ان کی آپسی غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ کو یقینی بناتے ہیں۔۔ لکھاری نے اس ہلکی پھلکی کہانی کو ایک الگ انداز سے بیان کرکے پڑھنے والی آنکھ کو کرداروں کے دکھ سکھ سے باندھے رکھا ہے جس کے لیے وہ داد کی مستحق ہیں۔۔ جاندار ڈائیلاگز ، ہلکے پھلکے مزاح، اور محبت بھرے احساسات سے مزید داستان جاننے کے لیے پڑھیے ہے تو ہی میری منزل بقلم میرب حیات
Download Link
hay tu he meri manzil by Meerab Hayat
******************
“Jo Bikhron Mein Sahara Tu by Meerab Hayat” – A Journey Through Love and Loss
Synopsis:
Set against the backdrop of familial ties and societal pressures, this story follows three interconnected characters navigating the complexities of love and misunderstanding. Nishal Alvi harbors deep feelings for her maternal cousin, Zegham Ajlal , only to face rejection due to his traumatic past. Heartbroken and desperate, Nishal makes a drastic decision that alters the course of her life forever.
Meanwhile, Mishal Alvi , living abroad with her mother and stepbrother, becomes a victim of abuse and neglect. Enter Zargham Ikram , a compassionate soul who vows to protect Mishal and give her a new lease on life. However, their journey is fraught with challenges that test their resolve and faith.
The third narrative centers around Sameha Alvi , whose arranged marriage turns into a nightmare when she is abducted by a police officer, Zaman Ahmed , who forces her into marriage. As Sameha grapples with her new reality, the novel delves into themes of power dynamics and resilience.
Themes Explored in Jo Bikhron Mein Sahara Tu by Meerab hayat :
- The thin line between love and obsession
- Miscommunication and its consequences
- Overcoming adversity through inner strength
This multi-layered novel beautifully captures the intricacies of human relationships.
داستان اگر عشق کی ہو تو اسے دماغ بنتا ہے اور ہاتھوں کی بجائے دل لکھتا ہے۔۔ جو بکھروں میں سہارا تو بھی ایسی ہی ایک داستان ہے جسے میرب حیات کے دماغ نے تشکیل دیا مگر لفظوں کے موتی دل نے ہی پروئے۔۔
اس طویل ناول میں تین کہانیاں اور اُن کے محور میں گھومتے کئی کردار مختلف پہلوؤں کو جوڑتے بالآخر آپس میں آ ملتے ہیں۔۔
نشال علوی اپنے نانا اور ماموں کے یہاں رہائش پذیر ہے اور اپنے ماموں زاد ضیغم اجلال کو دل ہی دل میں پسند کرتی ہے جو کہ ماضی کی کچھ تلخیوں کے باعث نشال سے برہم ہے۔۔ وہ اس سے شادی کے لیے صاف انکار کردیتا ہے نتیجتاً نشال دل برداشتہ ہو کر خود کشی کر لیتی ہے۔۔
دوسری جانب مشال علوی ، بیرون ملک اپنی ماں اور اس کے دوسرے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہے جہاں اسکا سوتیلا بھائی اول تو اس سے برا سلوک رواں رکھتا ہے اور بعد ازاں اس پر بری نظر رکھنے لگتا ہے نتیجتاً وہ ایک رات اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔۔
ضرغام اکرام ایک خوش شکل اور ہنس مکھ نوجوان ہے جو مشال علوی کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی اپنا دل ہار بیٹھتا ہے۔۔ مشال کے ساتھ ہوئی تمام تر زیادتیوں کو جاننے کے باوجود وہ اسے اپنانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔۔
سامعہ علوی ، نشال کی چچا زاد ہے اور نشال کے سوتیلے بھائی سے منسوب ہے مگر آصف علوی کی غلط حرکتوں سے نالاں ہو کر وہ اس سے شادی سے انکار کر دیتی ہے۔۔ گھر والوں کے زبردستی کرنے پر وہ گھر سے فرار ہو جاتی ہے جہاں وہ ایک پولیس آفیسر زمان احمد کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔۔ وہ اسے اپنے فلیٹ میں قید کرلیتا ہے جہاں سے فرار ہونے کی بار ہا کوششوں کے نتیجے میں زمان اس سے زبردستی نکاح کر لیتا ہے۔۔
لکھاری صاحبہ نے کرداروں کے جذبات کی خوب ترجمانی کی ہے، اچھوتے ڈائیلاگز اور بہترین انداز بیان۔۔ نفرتوں کے بیچ پنپتے کردار اور بدگمانیوں کے درمیان ڈولتے رشتوں کی ٹوٹتی ڈور کو سنبھلتے دیکھنے کے لیے پڑھیے ایک دلفریب داستان
جو بکھروں میں سہارا تو بقلم میرب حیات کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے
Download Link
Jo bikhron mein sahara tu by Meerab Hayat
********************
“Aan byt Meerab hayat” – A Tale of Love, Betrayal, and Survival
Synopsis:
“Aan by Meerab hayat” revolves around the lives of two sisters whose paths diverge due to circumstances beyond their control. Rabi Siraj , the elder sister, grows up under the protective shadow of her grandmother after enduring years of cruelty from her stepmother. Her life takes a tragic turn when she falls in love with her cousin, Usaid Akram , who reciprocates her feelings but is torn between duty and desire. After her grandmother’s death, Rabi is forced to flee her home, leaving behind everything she holds dear.
On the other hand, An Sultan , a university student in Islamabad, finds herself entangled in a toxic relationship with a self-absorbed man. What starts as infatuation soon spirals into humiliation and heartbreak, forcing An to confront the harsh realities of love and survival.
Themes Explored:
- The fragility of love and trust
- The impact of betrayal on personal growth
- Religious identity and its role in shaping one’s destiny
This novel is a poignant exploration of how love and pain coexist, testing the limits of human endurance.
آن کی کہانی، ناول کے بنیادی کرداروں کے غرور کی عکاسی کرتی ہے جس میں دو بہنیں مختلف حالات اور ماحول میں پرورش پا کر پروان چڑھتی ہیں۔۔ ایک دل کی مریضہ ہے تو دوسری محبت کی۔۔ ایک کو محبت عزیز ٹھہری تو دوسری نے آبرو کو ترجیح دے کر اپنی بقا کی جنگ لڑی۔۔ ہاں یہ داستان ہے عشق میں فنا کی۔۔ محبت میں جفا کی تو کہیں مذہبی بقا کی۔۔!!
رابی سراج سوتیلی ماں کے مظالم سے تنگ ، بچپن ہی سے دادی کے زیر سایہ پرورش پاتی ہے اور اپنے پھپھی زاد کو پسند کر بیٹھتی ہے جبکہ اسید عکرمہ اُسی کی سوتیلی بہن کرن کو پسند کرتا ہے۔۔ رابی کے خوابوں کا محل اسید کی ایک لمحاتی لغزش کے باعث زمین بوس ہو جاتا ہے ، دادی کی وفات کے بعد زندگی مزید تنگ پڑ جانے کی صورت میں وہ فرار کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔۔
دوسری جانب آن سلطان اسلام آباد کی مشہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے ۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ ایک مغرور سنگر کو دل دے بیٹھتی ہے اور رسوائی اسکا مقدر ٹھہرتی ہے۔۔
حورب اور محدث ابراہیم مختلف صورتحال میں ملتے اور مجبوراً محدث کو اپنی جسمانی معذوری کے باوجود حورب سلطان سے نکاح کرنا پڑتا ہے اور یہیں سے کہانی کی حقیقی شروعات ہوتی ہے۔۔ ماضی باب درباب کھلتا ہے اور ان کے رشتے کو تباہ کن حد تک خراب کرتا ہے۔۔
تیسری جانب حمیری ایک معصوم کردار ہے جو حق اور باطل کی کشمکش میں مبتلا ہو کر بالآخر حق کو چن کر زوہا بننے کو ترجیح دیتی ہے۔۔ میسم مظہر اسکا مجبوری کا شوہر ہے جو کسی صورت زوہا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔۔ وہ اپنی ماضی کے عشق کا روگ دل سے لگائے زوہا کے وجود سے لاتعلق نظر آتا ہے مگر انجانے میں اسے چاہنے لگتا ہے۔۔ کرداروں کے مابین الجھی گتھیاں کیسے سلجھتی ہیں ، جاننے کے لیے پڑھیے
آن بقلم میرب حیات اب کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے
Download Link
***************
Shiddat by Meerab Hayat – A Masterpiece of Love, Rebellion, and Redemption
In the realm of Urdu literature, few novels manage to capture the raw intensity of human emotions as profoundly as “Shiddat” by Meerab Hayat. This masterpiece is not just a story—it’s an exploration of love, pride, sacrifice, and the relentless pursuit of destiny. With its richly developed characters and emotionally charged narrative, Shiddat takes readers on a journey through the labyrinth of human experiences, where joy and sorrow intertwine in unpredictable ways.
From the bustling streets of Sindh to the quiet corners of ancestral havelis, Shiddat paints a vivid picture of lives shaped by tradition, rebellion, and unspoken desires. In this blog post, we’ll dive deep into the essence of this novel, unpacking its themes, characters, and the emotional resonance that makes it a must-read for fans of Urdu literature.
At its core, Shiddat is a tale of intensity —of emotions so profound that they leave an indelible mark on both the characters and the readers. It explores the complexities of relationships, societal expectations, and the internal battles we all face. Whether it’s the clash between tradition and modernity or the struggle for self-identity, the novel delves into universal themes that resonate deeply with audiences.
Shiddat is more than just a novel—it’s an emotional odyssey that lingers long after you’ve turned the last page. With its intricate plot, memorable characters, and timeless themes, it stands out as a shining example of Urdu literature at its finest. Whether you’re a fan of romance, drama, or philosophical musings, this book has something to offer everyone.
Have you read Shiddat ? Which character did you connect with the most? Share your thoughts in the comments below! If you haven’t picked up this gem yet, don’t wait—order your copy today and embark on a literary journey you won’t soon forget.
شدت – ایک لازوال داستان
شدت” میری وہ کاوش ہے جس کی تخلیق میرے دل و دماغ نے “جو بکھروں میں سہارا تو” کی تکمیل کے فوراً بعد کر لی تھی، مگر “آن” کی وجہ سے اسے لکھ نہ پائی۔ خیر، “آن” مکمل کرنے کے بعد میں نے اس کے کرداروں کو لمحہ بہ لمحہ ترتیب دینا شروع کیا۔ وقت گزرتا رہا… اور کچھ زیادہ ہی گزرا، لیکن بالآخر تین سال کی طویل مدت کے بعد شدت کو مکمل کرلینے میں کامیاب ہوئی۔
یہ داستان جذبات و احساسات کا سمندر لیے اب آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے، آپ کی نگاہوں کے عین سامنے! اس کے کردار آپ کی مسکراہٹ چھین لینے اور آنکھیں نم کر دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر چاہے وہ چھوٹی حویلی کا وارث، بیس سالہ فدا حسین ہو یا بڑی حویلی کی روایات سے باغی، تیس سالہ حدیبہ شاہ۔ حویلی کے دریچوں میں اپنے فرائض نبھاتی وہ سلونی سی زہرہ ہو یا اس کی محبت میں مجرم ٹھہرا ولید عالم شاہ…!
ان کرداروں کی اذیتوں اور مسرتوں سے بُنی مزید کہانیاں جاننے کے لیے پڑھیے “شدت” – جس میں اپنی ہی ذات کے غرور میں قید، چودہ قبیلوں کے سردار کی داستان بھی رقم ہے، جسے اپنی ادھوری ذات سے محبت تھی۔ فنا اور بقا کی کشمکش میں الجھے یہ کردار آپ کو سندھ کی ان راہوں پر لے جائیں گے، جہاں ایک دوسرے سے ٹکراتی تقدیریں، قارئین کے تجسس کی ہر گتھی سلجھا دیں گی۔
شدت بقلم میرب حیات اب کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے
Download Link
***************
اگر آپ ان ناولز کو کتابی شکل میں اپنی بک شیلف کی زینت بنانا چاہیں تو ابھی ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com













