Aseer e ishqam by Arooshy Khan Complete novel

Aseer e ishqam by Arooshy Khan Download pdf

About The Novel Aseer e ishqam by Arooshy Khan

Aseer e ishqam by Arooshy Khan Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Aseer e ishqam by Arooshy Khan is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

A Whirlwind of Forced Marriage and Fiery Romance

If you are looking for a novel that perfectly blends humor with intense emotions, “Aseer-e-Ishqam” by the talented Arushay Khan is your next must-read. This story marks Arushay’s debut in PDF format, bringing a fresh voice to the world of Urdu web novels.

The story centers around Orhan Shah, a breathtakingly handsome yet arrogant young man, and Zartasha Lashari, a girl whose wit and “fitna” personality keep Orhan on his toes. Their relationship is a classic example of “Tom and Jerry” dynamics—they can’t live with each other, yet they can’t stay apart.

The plot takes a dramatic turn when a casual long drive leads them into a dangerous encounter with a local “Sardar” and his gang. In a desperate move to save Zartasha’s honor and their lives, Orhan makes a bold claim: “She is my wife.” To prove it, they are forced into a sudden, unplanned Nikkah on the spot.

  • Witty Dialogue: The banter between Orhan and Zartasha is sharp, modern, and genuinely funny.
  • Relatable Modern Characters: From Instagram scrolling and sending reels to school-day struggles, the characters feel like people we know.
  • Fast-Paced Plot: There isn’t a dull moment in the first episode, keeping the readers hooked from the first “Salam” to the final cliffhanger.

“Aseer-e-Ishqam” is more than just a romance novel; it’s a journey of two souls tied together by fate in the most unexpected way. Whether you are a fan of “Forced Marriage Tropes” or “Enemies to Lovers,” Arushay Khan has delivered a masterpiece that promises to rule the hearts of Urdu novel lovers in 2026.

***************

Novel Summary in Urdu

کہانی کا آغاز ایک جدید طرز کے کمرے اور اورحان شاہ کے سحر انگیز تعارف سے ہوتا ہے، جو اپنی وجاہت اور بے نیازی کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز ہے۔ اورحان اور اس کا کزن نوفل شاہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور گہرے دوست ہیں۔ کہانی میں مزاح کا رنگ تب بھرتا ہے جب نوفل اور اس کے دوست ٹیسٹ کی تیاری نہ ہونے پر اورحان کی منتیں کرتے ہیں، کیونکہ اورحان نے ہی گزشتہ روز شرارت میں استاد سے ٹیسٹ لینے کی فرمائش کی ہوتی ہے۔

دوسری طرف زرتاشہ لاشاری کا خاندان ہے، جن کے شاہ ولا کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعلقات ہیں۔ زرتاشہ اور اورحان کے درمیان ایک “ٹام اینڈ جیری” جیسی جنگ جاری رہتی ہے؛ وہ ایک دوسرے کو ایک پل برداشت نہیں کرتے مگر ایک دوسرے کے بغیر ان کا دل بھی نہیں لگتا۔ اورحان جب زرتاشہ کو لینے اس کے گھر جاتا ہے تو اس کی زرتاشہ کے والد زوہیب لاشاری کے ساتھ بھی دلچسپ نوک جھونک ہوتی ہے، جو اسے “ڈرائیور” کہہ کر ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

کہانی میں بڑا موڑ تب آتا ہے جب یہ تمام دوست (نوفل، حمزہ، صائم، منیبہ، اورحان اور زرتاشہ) ایک لانگ ڈرائیو پر نکلتے ہیں۔ راستے میں اورحان اور زرتاشہ کی گاڑی باقی سب سے پیچھے رہ جاتی ہے اور ایک سنسان مقام پر انہیں ایک مقامی “سردار” اور اس کے مسلح گینگ کے کارندے گھیر لیتے ہیں۔ حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اور سردار کی بدنیتی سے زرتاشہ کو بچانے کے لیے اورحان ایک بڑا جھوٹ بولتا ہے کہ “یہ میری بیوی ہے”۔

سردار ان کی بات کا یقین کرنے کے لیے ان کے سامنے ایک کڑی شرط رکھتا ہے کہ اگر وہ واقعی میاں بیوی ہیں تو ابھی، اسی وقت دوبارہ نکاح کریں۔ یوں، زندگی اور موت کی اس کشمکش میں، اورحان شاہ اور زرتاشہ لاشاری کا نکاح پڑھا دیا جاتا ہے۔ قسط کے اختتام پر جب باقی دوست وہاں پہنچتے ہیں تو وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ ان کا نکاح ہو چکا ہے، جس سے سب حیران رہ جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ “مجبوری کا نکاح” ان کی زندگیوں میں محبت لائے گا یا مزید نفرت؟

****************

About The Writer, Arooshy Khan

اسلام و علیکم! مائے سیلف اروشے خان! میرا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور پنجاب سے بھی ہے! یہ میری پہلی تحریر نہیں ہے! مگر پی ڈی ایف فارم میں یہ میری پہلی تحریر ہے جو پبلش ہو رہی ہے۔۔۔! ویسے میں ایک یوٹیوب رائٹر ہوں! میں نے ناول لکھنا اس لیے شروع کیا کیونکہ میں اپنی کہانیوں اور کرداروں کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی تھی۔۔۔ یہ کہانیاں لکھنا میرے لیے ایک ایسا مشغلہ ہے جس کے ذریعے میں اپنے جذبات، خیالات اور تخیل کو حقیقت کا رنگ دے سکتی ہوں! میں چاہتی ہوں کہ میری کہانیاں لوگوں کے دلوں کو چھوئیں اور انہیں کچھ نیا محسوس کروائیں!
پیغام:
میرا مقصد صرف کہانیاں لکھنا نہیں بلکہ اپنے قارئین کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنانا ہے!

****************

Sneaks Peeks From Novel

اب اگر تم نے شور مچایا تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گا جاہل انسان! لاشاری مینشن کے سامنے گاڑی روکتے وہ بنا رکے ہارن پہ ہارن دیتا زوہیب لاشاری کو باہر نکلنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔

 تو میں کون سا سر سے شور کر رہا ہوں انکل؟؟ سر پھاڑنے سے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔! پھاڑنا ہے تو ہاتھوں کو پھاڑیں! ڈھٹائی سے کندھے آچکا کر جواب دیتا وہ زوہیب لاشاری کو بے حد برا لگا تھا!

 تمہاری یہ زبان مجھے بلکل بھی پسند نہیں میرے ساتھ نے لڑایا کرو! وہ ناگواری سے بولتے اسے اس کی اوور بولنے والی زبان کا طعنہ دے گئے!

اللہ معاف کرے انکل! خدا نخواستہ میں کون سا ہجرا ہوں جو آپ کے ساتھ زبان لڑاوں گا۔۔۔! میں کنوارہ اور اکیلا لڑکا ہوں گر تو میرے کنوارے اور اکیلے پن کا فائدہ مت اٹھائیں! اپنی بیٹی کو بلائیں ورنہ مجھے لگ رہا آپ میری عزت پہ گھات لگانے والے ہیں! بے حد ڈرامائی انداز میں بولتا وہ زوہیب لاشاری کی آنکھیں حیرت سے وا کروا گیا۔۔۔

اللہ کی پناہ ناہنجار! کیسی نا زیبا گفتگو کر رہے ہو؟؟ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے بے حد غصے سے بولے جس پہ اورحان شاہ نے انہیں معصومیت سے دیکھا تھا۔۔۔

 آپ نا زیبا نیتیں پال لیں تو کوئی مسئلہ نہیں میں جا زیبا گفتگو کروں تو مسئلہ ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے؟؟ ان کو اپنے لفظوں کے جال میں پھنسانا وہ ساتھ ساتھ زرتاشہ لاشاری کو میسجز کرنے میں مصروف تھا جو اس کو بلکل بھی رسپانس نہیں دے رہی تھی!

 اتنے عبد الباری بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں! تمہاری نیتوں اور کرتوتوں سے اچھے سے واقف ہوں! اب بتاؤ کیا کر رہے ہو یہاں اتنی صبح صبح ؟؟ اس کو اچھی طرح ذلیل کرنے کے بعد انہوں نے اس کے آنے کا مقصد پوچھا تھا جس پہ اورحان شاہ نے اپنے دانت کچکچائے!

 ظاہر ہے آپ کی اس حسین شکل کی خاطر تو میں آ نہیں سکتا اور آپ کی صاحب زادی بھی اس لائق نہیں ہے کہ میں ان کے حسین مکھڑے کے دیدار کے لیے آپ کے گھر کے باہر پہرہ دوں! مگر ہاں انہوں نے مفت کا ڈرائیور ضرور رکھا ہوا ہے مجھے! بس اسی لیے یہاں موجود ہوں! اپنی بے عزتی کا بدلہ انہی کے لفظوں میں لیتا وہ زوہیب لاشاری کا دل اندر تک جلا گیا۔۔۔۔

 پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میری بیٹی کی چوائس کو ڈرائیور رکھا بھی تو تم جیسا! وہ بھی ز زرتاشہ لاشاری کے باپ تھے! مجال ہے جو دو انچ زبان کم رکھ لیتے؟؟؟

 واٹ دا! آپ نے مجھے ڈرائیور سمجھا ہوا ہے؟؟؟؟ اگر مروت کے مارے اسے لے جاتا ہوں اپنے ساتھ تو میرے ساتھ زیادہ پرسنل نہ ہوں! یہیں چھوڑ جاؤں گا میں اسے! ایک تو زرتاشہ نے اس کا موڈ آف کر رکھا تھا اس پہ تضاد زوہیب لاشاری نے صبح صبح اس کی اوقات دیکھا دی تھی!

 تو چھوڑ جاؤ! ویسے بھی خدمتِ خلق کا شوق تمہیں کی چڑھا ہے! میری بیٹی کسی کے بھی ساتھ آ سکتی ہے! زوہیب لاشاری نے اس کی عزت کو دو کوڑی کا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جب ان کی بات پہ اورحان نے انہیں سنجیدہ نظروں سے دیکھا۔۔۔

انکل عورتوں کی بھی اتنی زبان نہیں ہو گی جتنی آپ کی ہے! اس سے اچھا جواب کم از کم اورحان کو نہیں ملا تھا!

تمہارا چہرہ بھی مجھے مردوں سے ملتا جلتا نہیں لگتا۔۔۔ آر یو رئیلی مین اور ناٹ؟ ( کیا تم واقعی مرد ہو یا نہیں ) اب جب ان کی زبان کی تعریف کر ہی دی تھی تو وہ کیونکر پیچھے رہتے؟؟ ان کی بات پہ اورحان شاہ بری طرح بلبلایا تھا۔۔۔

 جو خود عورتوں جیسا ہو پھر اسے باقی سب بھی عورت ہی لگتے ہیں انکل پلیز اپنی بیٹی کو بلوا دیں! اسے نہیں لگتا تھا کہ آج سے پہلے کبھی وہ ان کے ہاتھوں بھی اتنا ذلیل ہوا ہو گا۔۔۔ اس کی اور زہیب لاشاری کی ہمیشہ سے ہی نہیں بنتی تھی جب کہ زرتاشہ ساتھ بھی وہ کافی کم وقت میں ہی سکون کے ساتھ پایا جاتا تھا ورنہ ہر وقت میں ان کی کتوں جیسی لڑایاں عروج پہ ہوتیں تھیں!

 وہ نہیں جائے گی تم جاؤ! ایٹیٹیوڈ سے جواب دیتے وہ دوبارہ سے اندر کی جانب بڑھ گئے جب کہ اورحان ان کا ایٹیوڈ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔

****************

Download Aseer e ishqam by Arooshy Khan in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Ek jumla bas by Sajida Sabar Complete

Dosti by TF Rajpoot Complete

Yeh Dil Aashiqanaa by Tania Tahir Complete

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 692 Views

Leave a Comment