Yeh kese mumkin by Manahil Waqas download pdf
(Current Episode 2)
Yeh kese mumkin by Manahil WaqasComplete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Manahil Waqas is an emerging new writer and Yeh kese mumkin by Manahil Waqas is her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Yeh kese mumkin by Manahil Waqas is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
At Prime Urdu Novels: Free pdf Library, we extend a warm welcome to all literature enthusiasts. Our mission is not just to promote literature but to create and propagate quality literature.
************
Yeh kese mumkin by Manahil Waqas Summary
ایک 16 سال کی لڑکی کی کہانی ہے۔ اسے ہسپتال کی غلط رپورٹ کی وجہ سے گھر سے نکال دیتے ہے ۔ اس کا چچا غیرت کی نام پے اسے نکال دیتا ہے رات کو گھر سے۔اور بڑی پھوپھو اس کے چاچو کا ساتھ دیتی ہے یوں اسے 16 کی عمر میں نکال دیتے۔
اس ناول میں ایک لڑکی کی کہانی ہے جو دنیا سے اپنے حق اور جینے کے لئے لڑتی ہے ۔ پھر اس کی زندگی میں ایک چھوٹا بچہ 5 سال کا آتا ہے۔ وہ ایک فلسطینی بچہ ہوتا ہے اسے پاکستانی کپل گود لیتے ہے لیکن پھر چھوڑ دیتے ہے تو وہ لڑکا اس کا حلیمہ یزدان رکھتی ہے۔ وہ اسے بچوں کی طرح پالتی ہے ۔
یوں وہ اپنے خونی رشتوں کو یہ یقین کرانہ کوششوں میں لگ جاتی ہے کہ وہ ایک پاک اور جائز اولاد ہے اور پھر حالات سے مقابلہ کرنے والی بہادر لڑکی موت کے آگے بےبس ہو جاتی ہے اور مرجاتی ہے۔
اس کہانی میں یہ بتادو کہ ثمینہ کا رول بہت اہم ہے وہ حلیمہ کی دوست ہوتی ہے اور مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیتی ہے ۔ رہی بات یزدان کی تو اسے حسان نامی ہیرو پالتا ہے وہ حلیمہ کو پسند کرتا ہے اور ان کی شادی نہیں ہوپاتی لیکن حلیمہ کی سچائی اور یزدان کو وہ پالتا ہے اور مرنے تک شادی نہیں کرتا۔
************
About The Writer, Manahil Waqas : A New Literary Voice
مناہل وقاص کا تعلق لاہور سے ہے لیکن وہ اس وقت کراچی میں مقیم ہیں۔ وہ فرسٹ ایئر کامرس کی طالبہ ہیں۔ “یہ کیسے ممکن” اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کا پہلا عملی اظہار ہے۔ مناہل نے کم عمری میں ہی لکھنے کا آغاز کیا، اور ان کا مقصد اپنے الفاظ کے ذریعے قارئین کے دلوں تک پہنچنا اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Manahil Waqas All Novels Link
********
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
Short Scene of Yeh kese mumkin by Manahil Waqas
ہر طرف اندھیرا تھا ۔ ہر ذی روح اپنے اپنے گھروں میں سورہے تھے ۔ آسمان پر چاندنی چمک رہی تھی ۔ کتے ویرانوں میں بھونک رہے تھے ۔ ایسے میں اگر ایک عمارت میں دیکھا جائے تو وہاں کچھ مخلوق جاگ رہی تھی ۔ ایک وجود دنیا سے بے خبر بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور 4 لوگ اس کے اردگرد پریشانی سے چکر کاٹ رہے تھے ایسے میں اس دنیا مافیا سے بے خبر لیٹے وجود کی بڑبڑاہٹ واضح ہوتی ہے ۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔، میں نے نہیں کیا، مجھے مت جلائو ، میں معصوم ہوں ۔”
“ثمینہ یہ کچھ بول رہی ہے.”
“ہا عایشہ میں نے بھی سنا۔”
“حلیمہ، حلیمہ آنکھیں کھولو کوئی نہیں ہے یہاں ۔” ثمینہ حلیمہ کو اٹھانے کی کوشش کرتی ہے اور حلیمہ آنکھیں کھولتی ہے ۔
“ثمینہ وہ مجھے جلادے گے، وہ مجھے مار دے گے” حلیمہ ثمینہ کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر کہتی ہے۔ “Relax
حلیمہ یہاں کوئی نہیں ہے” پیچھے سے تاشا بولتی ہے ۔ سدرہ ان سب سے الگ چپ ہو کر کھڑی ہوتی ہے ۔
ہم”ہاں حلیمہ کوئی نہیں ہے ، سدرہ پانی دو حلیمے کو ۔”
****************
Click the link below to download Yeh kese mumkin by Manahil Waqas in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
| Episode 1 | Episode 2 |
“Loved This Novel? Explore These Similar Stories”
Sabaz qdam se mubarak qadam by Kanzul Hayya
Yeh kese mumkin by Manahil Waqas Episode 2 Online Reading
How To Download Yeh kese mumkin by Manahil Waqas
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
- You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
- You will see mediafire download page and here click on download button.
- Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
- Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 662 Views










