About The Novel Abad say akhaz tak by Tayyba Tanveer
Delving into the Spiritual Depths: A Review of Tayyba Tanveer’s “Abad say akhaz tak” Tayyba Tanveer’s “Abad say akhaz tak” is more than just an Urdu novel; it’s a journey, a profound exploration of faith, duty, and the delicate balance between earthly existence and the promise of the afterlife. This book masterfully blends elements of the “Mard Muhafiz” genre – stories centered around virtuous and protective male characters – with deep theological considerations concerning “Akhrat,” the Islamic concept of the Hereafter. The narrative follows the life of its protagonist, a man burdened with responsibilities yet driven by an unwavering commitment to his faith.
Table of Contents
Novel Detailed Summary in English
1. The Surface: Life, Love, and Collision
The novel begins with the daily life of Mahmal Shah, a devoted student whose routine is meticulously structured, hinting at an underlying purpose greater than her studies. Her chaotic yet loving family environment, juxtaposed with her strong religious routine, sets the tone for a narrative that grounds human reality in spiritual accountability.
The story heats up when Mahmal’s fiery temper leads her to clash with the mysterious new student, Minhaj Khanzada, recently returned from Russia. This accidental collision is immediately charged with tension; Minhaj’s face is marked by “years of weariness and hidden torment,” yet he manages a “zakhmi” (wounded) smile upon seeing Mahmal. Their initial contact is a deceptive cover for the high-stakes, ruthless plot Minhaj is executing in the background.
The third point of the triangle, Ahaan Shah, represents unwavering loyalty, his silent affection for Mahmal providing a stark contrast to Minhaj’s dark intensity.
2. The Core Conflict: The Cold Logic of Revenge
The defining plot twist is the revelation of Minhaj’s true mission: orchestrating the total ruin of politician Furqan Sahib. The narrative shifts into a pure thriller as a masked figure (implied to be Minhaj or his ally) kidnaps Furqan Sahib’s son.
The motive is not mere monetary gain, but an absolute, destructive quest for retribution. The masked figure, driven by the memory of his father’s murder and destruction at the hands of Furqan Sahib, forces the politician to sign over his entire political and financial life on a video call.
This sequence details the cold logic of worldly revenge: a life for a life, a ruin for a ruin. Furqan Sahib, the embodiment of political greed, is stripped bare of his worldly power and pride. This temporary annihilation—the loss of everything he built—is the Abad (The Beginning/The Worldly Act).
Keywords Integration: The novel is a gripping spiritual revenge thriller centered on Minhaj Khanzada’s campaign against political deception and worldly ruin.
3. Abad to Akhz: The Ethical Resolution
The novel’s unique literary contribution lies in its philosophical conclusion, which separates the temporary nature of revenge from the permanence of spiritual consequence.
The Critique of Materialism:
“Insaan yeh kyun samjhta hai ke jab usay zameen par muqaam mil jaye… toh woh Khuda ban jaye?” (Why does man think that when he achieves status on earth… he becomes God?)
The narrator asserts that Furqan Sahib’s downfall, though brutal, is merely a superficial event. The true, catastrophic consequence belongs to those who prioritized fleeting political power, fame, and wealth over their ultimate spiritual fate.
Abad (The Worldly Beginning): Furqan Sahib lost his land and election. This is temporary.
Akhz (The Eternal Consequence): The novel asserts that Furqan Sahib was “barbad” (ruined) long before the plot, because he forgot his final reckoning. The ultimate, absolute, and permanent consequence awaits him in the Hereafter.
This ethical lens reframes the entire revenge plot, using it not for thrilling entertainment, but as a moral warning. It urges the reader to reflect on their own lives and ambitions, ensuring they are not making the same fatal trade-off: trading the eternal (Akhz) for the temporary (Abad).
The Unbreakable Spirit of Truth
Abad Se Akhz Tak masterfully uses a tense revenge plot to deliver a universal message of ethics and spirituality. It leaves the reader with the lingering question of divine justice and the urgency of self-reflection. The novel promises to follow Mahmal, Minhaj, and Ahaan as they navigate the consequences of this high-stakes revenge, where the ultimate destination lies not in the present world, but in the inevitable Akhz.
***************
Novel Summary in Urdu
“یہ ناول محبت، اقتدار اور ذاتی قربانیوں کی کہانی ہے جس میں مرکزی کردار اپنی شناخت اور رشتوں کے بیچ جدوجہد کرتے ہیں۔ کہانی میں جذباتی اُتار چڑھاؤ اور غیر متوقع موڑ پڑھنے والے کو آخر تک جکڑے رکھتے ہیں۔”
ناول “ابد سے اخذ تک” ایک ایسی کہانی ہے جو بظاہر ایک انتقامی تھرلر ہے مگر اس کی بنیاد دنیوی لذتوں کی عارضی حیثیت اور آخرت کے شعور پر قائم ہے۔ یہ کہانی محمل اور منہاج کے گرد گھومتی ہے، جن کے درمیان تعلق تصادم سے شروع ہوتا ہے لیکن اس کے پس پردہ ایک گہرا راز اور ایک خوفناک انتقامی مشن کارفرما ہے۔ ناول ایک مضبوط اخلاقی پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے کہ دنیاوی کامیابی یا تباہی صرف “ابد” ہے، جبکہ اصل اور دائمی نتیجہ “اخذ” (آخرت) میں ملے گا۔
:کرداروں کا تعارف
| کردار | حیثیت / تعلق | اہم خصوصیات |
| محمل شاہ | مرکزی کردار، 4th year کی طالبہ | نفیس، لاپرواہ، کتابوں کی شوقین، گندمی رنگت اور خوبصورت مسکراہٹ والی۔ وہ چائے کی دیوانی ہے اور اپنے خاندان سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد (جو نیند سے بھی پیارا ہے) ابہام میں ہے۔ |
| منہاج خانزادہ | نیا طالب علم، روس سے تعلیم یافتہ | محمل کا کلاس فیلو، دراز قد، سرخ و سفید رنگت، پرکشش شخصیت کا مالک۔ وہ بے سکون اور تھکا ہوا ہے، جس کے چہرے پر برسوں کا کرب ہے۔ وہ انتقامی مشن پر ہے۔ |
| آحان شاویز شاہ | محمل کا کزن اور دوست | محمل کا کلاس فیلو، دراز قد، گہری سرمئی آنکھیں، پرکشش نقوش۔ وہ محمل سے چاہت اور نرمی رکھتا ہے، اور اسے فلمی ہیرو کی طرح محمل کا انتظار کرتے دکھایا گیا ہے۔ |
| رابیل شاہ | محمل کی والدہ | ہاؤس وائف، جو بیٹیوں کو گھر کے کام سکھانے پر زور دیتی ہیں، حالانکہ محمل کو یہ زبردستی ناپسند ہے۔ |
| شاویز شاہ (نقاب پوش) | مرکزی دشمن، سیاستدان | نقاب پوش شخص، جس نے فرقان صاحب کے خلاف سازش کی، اور ان کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ |
| فرقان صاحب | (نامکمل) | سیاستدان، جو نقاب پوش کے والد کی بربادی میں شامل تھا۔ وہ ابدی طور پر برباد ہو چکا ہے۔ |
| یوسف، سعد، معاز | محمل کے بھائی | یوسف (بیرسٹر)، سعد (زلیل اور شرارتی)، معاز (سب سے چھوٹا)۔ خاندان کے تفریحی اور شریر ارکان۔ |
:کہانی کا تفصیلی خلاصہ
حصہ اول: محمل کی زندگی اور تناؤ کا آغاز
ناول کا آغاز محمل کے معمول کے مطابق صبح جاگنے، نماز پڑھنے اور اپنے نفیس کمرے میں تیاری کرنے سے ہوتا ہے۔ وہ ایک لاپرواہ مگر پیاری لڑکی ہے، جسے نیند سے بھی زیادہ کوئی چیز عزیز ہے (شاید وہ مقصد جس کے لیے وہ جاگتی ہے)۔ گھر کا ماحول پرجوش ہے، جہاں بھائیوں (یوسف، سعد، معاز) کے ساتھ چائے پر جنگ کا منظر پیش آتا ہے۔
یونیورسٹی میں، محمل کی ملاقات اس کی دوست ہیر سے ہوتی ہے، جس سے وہ اپنی شرارتوں کی وجہ سے ہمیشہ ناراض رہتی ہے۔ اسی دوران محمل کی ٹکر ایک دراز قد، پرکشش نوجوان سے ہوتے ہوتے بچتی ہے، جسے وہ غصے میں “خرمغز” کہہ دیتی ہے۔ یہ تصادم محمل کو یاد رہتا ہے۔
جلد ہی، کلاس میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہی “خرمغز” منہاج خانزادہ نیا طالب علم ہے جو روس سے تعلیم مکمل کر کے آیا ہے۔ منہاج بھی محمل کو دیکھ کر مسکراتا ہے، مگر یہ مسکراہٹ زخمی سی ہے۔ اسی دوران، محمل کا کزن اور قریبی دوست آحان شاہ (جو محمل سے گہری چاہت رکھتا ہے) خاموشی سے محمل کو دیکھتا رہتا ہے۔
حصہ دوم: زور زبردستی اور انتقام کا مشن
گھر واپس آکر، محمل کو اپنی والدہ رابیل شاہ کی طرف سے زبردستی کچن کے کام کرنے کا حکم ملتا ہے، جس پر محمل اندر ہی اندر ناخوش ہوتی ہے، کیونکہ وہ کام دل سے کیے جانے کو پسند کرتی ہے۔ یہ حصہ بیٹیوں پر کام مسلط کرنے کے سماجی رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔
دوسری طرف، منہاج اپنی والدہ عائشہ کے پاس جاتا ہے اور ان کی گود میں لیٹ کر سکون پاتا ہے۔ اس کا بے چین وجود اور برسوں کی تھکن واضح ہے۔
انتقامی پلاٹ کا انکشاف: ناول کا حقیقی موڑ ایک فلیش بیک میں سامنے آتا ہے، جہاں نقاب پوش (جس کی آنکھیں ہلکی بھوری ہیں) ایک گاڑی میں بیٹھا ہے۔ وہ سیاستدان فرقان صاحب کے بیٹے کو اغوا کر لیتا ہے۔ نقاب پوش دھاڑتے ہوئے فرقان صاحب کو الیکشن سے استعفیٰ دینے اور ساری زمین اس کے نام کرنے کا حکم دیتا ہے، یہ کہہ کر کہ فرقان صاحب بھی اس کے باپ کے قتل اور بربادی کے ذمہ دار تھے۔ فرقان صاحب، بیٹے کی جان بچانے کی خاطر، تمام مطالبات مان لیتے ہیں اور دنیاوی طور پر برباد ہو جاتے ہیں۔
حصہ سوم: ابد اور اخذ کا فلسفہ
نقاب پوش (جس کے منہ پر زخمی سی مسکراہٹ تھی) فرقان صاحب کی بربادی دیکھ کر اپنے گارڈز کو لڑکے کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور خود اوجھل ہو جاتا ہے۔
ناول کا اختتام ایک طاقتور اخلاقی سبق پر ہوتا ہے: آج کسی کی بربادی کا دن تھا، کسی کو اس کے اعمال کی سزا ملی۔ مصنفہ یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ انسان دنیاوی طور پر مال و دولت حاصل کر کے خود کو خدا کیوں سمجھنے لگتا ہے۔ وہ واضح کرتی ہیں کہ فرقان صاحب کی یہ دنیاوی بربادی صرف “ابد” (آغاز) تھی، جبکہ اصل سزا اور بربادی تو اس شخص کی آخرت میں ہوگی (“اخذ”) جو پہلے ہی خدا کو بھلا چکا ہے۔ یہ کہانی ہر اس شخص کے نام ہے جو دنیا کے دھوکے میں اپنے انجام کو بھلائے بیٹھا ہے۔
************
About The Writer, Tayyba Tanveer
طیّبہ تنویر اردو ادب کی ایک ایسی مصنفہ ہیں جو کہانیوں کے ذریعے قاری کو گہرے اخلاقی اور روحانی تفکر کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کی تحریر کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ روزمرہ کے واقعات اور سنسنی خیز پلاٹس کو ایک مضبوط روحانی پیغام سے جوڑتی ہیں۔
اپنے ناول “ابد سے اخذ تک” میں، طیّبہ تنویر نے ثابت کیا کہ ان کا قلم صرف کہانی نہیں بُنتا، بلکہ ایک فلسفیانہ سوال اٹھاتا ہے۔ وہ انسانوں کی دنیاوی دوڑ (Abad) کے بجائے ان کے حتمی انجام (Akhz) پر زور دیتی ہیں، اور یہ واضح کرتی ہیں کہ دنیا کی عزت، شہرت، اور کامیابی عارضی دھوکہ ہے، جبکہ اصل اور دائمی نتیجہ صرف آخرت میں ملے گا۔
ان کا اسلوب قارئین کو محض ایک انتقامی تھرلر نہیں دیتا، بلکہ اخلاقی احتساب اور خود احتسابی کے سفر پر لے جاتا ہے۔ طیّبہ تنویر کی کہانیاں ان تمام لوگوں کے نام ایک بیدار کن تنقید ہیں جو مادیت کی چکاچوند میں اپنے حقیقی مقصد اور انجام کو بھلا بیٹھے ہیں۔
********
Short Scene From Novel
اچانک ایک ہیولا سا نظر آیا زیر لب کچھ بولا اور چلا گیا۔ اپنے پیچھے ایک کہان چھوڑ کر۔ اس نے دعا کے لیے ہاتھ اوپر کیے تو اچانک کسی کا چہرہ نظروں کے سامنے آیا تو وہ مسکرادی۔
*
“یار آپی معاز کو جگا دے وہ کب سے گدھے، گھوڑے بیچ کر سویا ہوا ہے۔”
“اچھا تم اپنی تیاری کرو میں جاتی ہوں اس کے پاس۔ “
محمل یہ کہہ کر معاز کے پاس گئی اور اسے جگانے لگی پر وہ تو واقع گدھے بیچ کر سویا ہوا تھا۔ اسے سر کی طرف سے جگاتی تو وہ اس کی گود میں گر جاتا تھا۔ اچانک محمل کو یاد آیا اور وہ اس کو گدگدی کرنے لگی تھی اور یہ مشن کامیاب ہوا۔
معاز ہنستے ہوئے جاگا تومحمل نے اسے اس کی یونیفارم دی۔
یہ چار بہن بھائی تھے۔ سب سے بڑا یوسف تھا جو کہ بیرسٹر تھا، اس سے چھوٹی محمل تھی جو کہ 4th year میں تھی، اس سے چھوٹا سعد تھا جو کہ 2nd year میں تھا حد حساب کا زلیل اور دوسروں کی ناک میں دم کرنا اس کا پسندیدہ مشغله تھا۔ اس کا کھانا ہی تب تک ہضم نہیں ہوتا تھا، اور سب سے چھوٹا معاز تھا جو کہ 10th میں تھا۔ یہ سب اسماعیل شاہ اور رابیل شاہ کی اولاد تھی۔
صبح صبح ہی ان کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا ادھر، ادھر ہر کسی کو اپنی تیاری کی جلدی تھی۔
وہ چاروں لکڑی کی گول میز پر بیٹھے ناشتا کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی عزت افزائی بھی۔ یوسف کا ناشتا ختم ہوا تو اس نے سعد کی پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، سعد نے اسے باقاعدہ کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوے اپنی پلیٹ پیچھے کر لی تھی۔
محمل کی یہ دیکھ کر ہنسی نکل گئی اور اس نے اپنی پلیٹ یوسف کی بڑھا دی۔
تبھی سعد نے اس کی چائے کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو محمل نے تپ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کے ہاتھ پر زور سے ہاتھ مارا۔ وہ چائے کی دیوانی تھی ۔ سعد کے لال ہوتے ہاتھ کو دیکھ کر یوسف اور معاز کی ہنسی نکل گئی تو سعد نے آنکھوں میں شیطانی لیے ان دونوں کی چائے اپنے کپ میں پلٹ دی۔
لے جی لاہور اور اس کے مضافات میں جنگ عظیم سوم کا وقت ہوا جاتا ہے۔
محمل جیسے ہی یونیورسٹی گئی اس کی دوست ہیرنے اسے جا لیا
” زلیل، بد تمیز میں تجھے کل سے کالز کر رہی ہوں پر مجال ہے جو ملکہ پرستان نے ایک بار بھی کال ریسیو کرنے کی ز حمت کی ہو”
****************
Download (Latest Episode 3,4)
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Download (Previous Episodes) Abad say akhaz tak by Tayyba Tanveer in pdf.
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
اگر آپ طیبہ تنویر کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Tayyba Tanveer All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
- Dastan e firaq by Haleema Sadia download pdf
- Adam aur Iblees by Jazim Hateem download pdf
- Ek aam si Ladhki by Nazneen download pdf
- Phir kabhi by Aiman Akmal download pdf
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 631 Views











