About The Novel Hasil e Zeest by Wajeeha Mahmood
Hasil e Zeest by Wajeeha Mahmood Complete novel. The novel is based on fiction,Suspense, tragedy, social,romantic,Past mystery Women empowerment,Bitter reality of society,motivational and Social issues. Story of the novel revolves around Hero doctor, brave and strong heroine, lawyer heroine,rich and bad boy, siblings love.
Table of Contents
Hasil e Zeest by Wajeeha Mahmood is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
Hasil-e-Zeest by Wajeeha Mahmood – A Heart-Wrenching Saga of Retribution and Resilience
Introduction: Urdu literature has always been a medium to reflect the rawest human emotions, and “Hasil-e-Zeest” (The Outcome of Life) by Wajeeha Mahmood is the latest masterpiece that stands as a testament to this tradition. This novel is not just a collection of chapters; it is a mirrors held up to a society where the powerful trample over the weak and where justice is often buried under the weight of wealth. If you are a fan of suspense, tragedy, and social reform, this novel is your perfect weekend read.
The Narrative Arc: The story kicks off with a chilling scene in a graveyard, setting a tone of deep regret and mystery. We are then transported to the bustling roads of Karachi, where a fatal accident claims the life of a righteous man, Hayat Siddiqui. The perpetrator? Shahzain Lashari, a privileged young man whose lack of empathy is bone-chilling. The contrast between Hayat’s humble life of “Halal” earnings and Shahzain’s “Haram” arrogance forms the ethical backbone of the novel.
Character Empowerment: The Rise of Abroo Siddiqui: One of the most compelling aspects of Wajeeha Mahmood’s writing is the portrayal of Abroo Siddiqui. As a budding lawyer, her journey from a devastated daughter to a woman seeking justice is inspiring. The novel touches upon Women Empowerment in a traditional setting, showing that a girl’s strength lies in her principles and her education.
The Philosophy of Makafat-e-Amal (Karma): The title itself, “Hasil-e-Zeest,” asks a profound question: At the end of it all, what do we actually gain? Is it the wealth we accumulate through deceit, or the peace of a clear conscience? The author masterfully uses the concept of Retribution, showing how the actions of the parents and children intertwine to create a fate that no one can escape.
Why You Should Read “Hasil-e-Zeest”:
- Realistic Dialogue: The conversations feel authentic to Karachi’s culture.
- Emotional Depth: You will feel the pain of the Siddiqui daughters and the burning rage of the victims.
- Social Commentary: It addresses the “cancerous” elements of society that destroy generations.
- Suspenseful Plot: The past mystery and the upcoming legal battle between Abroo and Shahzain keep you on your toes.
Wajeeha Mahmood has successfully delivered a debut that challenges the status quo. Hasil-e-Zeest is a lighthouse for those lost in the darkness of despair, reminding us that every tear shed in injustice has a witness in the Divine. As the story unfolds, we are left to wonder: will justice prevail, or will wealth win again?
***************
Novel Summary in Urdu
یہ کہانی ہے!
”ٹوٹے ہوئے اعتبار کی کِرچیوں سے زخمی انسانوں کی”
”گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے انسانوں کی”
”رشتوں کی ڈور کو ٹوٹنے سے بچاتے انسانوں کی”
”سب حاصل کر کے خالی ہاتھ رہ جانے والے بد نصیبوں کی”
”زندگی کو زندہ دلی سے جینے کی کوشش کرنے والوں کی”
”دوست کا لبادہ اُوڑھے حاسدوں کی”
”اپنوں کی خاطر خود قربان ہوتی جانوں کی”
”اپنا اصل بھول کر گمراہی کی راہوں میں بھٹکتے لوگوں کی”
”دل میں پیدا ہوتے محبت و نفرت کے جذبوں کی”
”حلال و حرام میں تمیز بھول جانے والوں کی”
”اچھے اور برے مکافات کی”
”نسلوں کو برباد کرتے معاشرے کے ناسوروں کی”
”ڈوب کر اُبھرتی اُمنگوں کی”
”زندگی میں کچھ حاصل کرنے اور کچھ لُٹا دینے کی
”یہ کہانی ہے،”
حاصل زیست کی
مرکزی کرداروں کا تجزیہ:
حیات صدیقی: کہانی کا وہ سرا جس کے گرد پورا خاندان بستا تھا۔ ایک ایماندار، حلال و حرام میں تمیز کرنے والا شخص جس کی اچانک موت نے کہانی میں بڑا خلا پیدا کر دیا۔
آبرو صدیقی: حیات صدیقی کی بیٹی، ایک باہمت اور مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی جو وکیل (Lawyer) بننے کا خواب دیکھتی ہے۔ باپ کی یتیمی اس کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہوتی ہے۔
شاہزین لاشاری: ایک امیر کبیر باپ کا بگڑا ہوا بیٹا، جو اپنی تیز رفتار گاڑی سے حیات صاحب کو کچل دیتا ہے مگر اسے اپنے گناہ پر ذرہ برابر شرمندگی نہیں۔ وہ غرور اور بے حسی کی علامت ہے۔
سبرینہ احمد: ایک لاڈلی اور ضدی لڑکی، جس کی زندگی کا رخ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک ٹکراؤ اور “فیضی” نامی لڑکے کی آمد سے بدلنے والا ہے۔ اس کے والدین کا اندھا بھروسہ اس کے لیے آزمائش بن سکتا ہے۔
آفاق قریشی: حیات صاحب کا بھانجا اور ایک پائلٹ، جو مشکل وقت میں صدیقی فیملی کا سہارا بن کر ابھرتا ہے۔
فیاض لاشاری: شاہزین کے والد اور حیات صاحب کی کمپنی کے مالک، جو اپنے بیٹے کی کرتوتوں پر پریشان تو ہیں مگر اپنی ساکھ بچانے کے لیے مجبور بھی۔
ناول کا آغاز ایک بوجھل اور دردناک منظر سے ہوتا ہے، جہاں ایک نوجوان (جو شاید مستقبل کا شاہزین ہے) قبرستان میں دو قبروں کے درمیان بیٹھا اپنی خطاؤں پر رو رہا ہے۔ یہ فلیش فارورڈ قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کے “حاصلِ زیست” میں صرف خون اور پچھتاوا کیوں ہے۔
کہانی کے حال میں، حیات صدیقی جو اپنے خاندان کے لیے پھل خرید کر گھر جا رہے ہوتے ہیں، شاہزین لاشاری کی تیز رفتار گاڑی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شاہزین کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ ایک انسان کو قتل کر کے اسے محض “اس کا وقت آ گیا تھا” کہہ کر ٹال دیتا ہے۔ دوسری طرف صدیقی ہاؤس میں خوشیوں کا سماں ہے کیونکہ آبرو کا داخلہ ایل ایل بی میں ہو گیا ہے، مگر حیات صاحب کی واپسی کے بجائے ان کی میت گھر پہنچتی ہے۔ یہ صدمہ صالحہ بیگم اور ان کی پانچ بیٹیوں کے لیے قیامت خیز ثابت ہوتا ہے۔
کہانی میں ایک اور پہلو سبرینہ کی زندگی کا ہے، جو اپنے باپ کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی ہے۔ وہ ایک آزاد خیال لڑکی ہے جو یونیورسٹی میں “فیضی” نامی ایک نوجوان کے تعاقب اور اس کے اچانک پروپوزل سے پریشان ہے۔ سبرینہ کا کردار یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح حد سے زیادہ لاڈ پیار اولاد کو صحیح اور غلط کی تفریق سے دور کر دیتا ہے۔
ناول اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں آبرو صدیقی کو اپنے باپ کے قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے، جبکہ اسے ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ قاتل اس کے باپ کا اپنا ہی باس (شاہزین) ہے۔ مکافاتِ عمل کا پہیہ گھوم چکا ہے؛ حیات صاحب کی بیٹی قانون کی طالبہ ہے اور شاہزین لاشاری قانون کا مجرم۔ کیا آبرو اپنے باپ کا خون معاف کر دے گی یا وہ انصاف کی جنگ لڑے گی؟ یہ کہانی حق اور باطل، اور حلال و حرام کے درمیان جاری اس کشمکش کی ہے جس کا انجام ہی “حاصلِ زیست” کہلائے گا۔
****************
About The Writer, Wajeeha Mahmood
اسلام و علیکم!میرا نام وجیہہ محمود ہے اور میرا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے ہے۔میرا بچپن سے ہی مطالعہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے۔پہلے پہل کتابیں پڑھنا محض ایک شوق تھا مگر گزرتے وقت کے ساتھ یہ میرے لیے صرف وقت گزارنے کا ذریعہ یا شوق نہیں رہا بلکہ یہ میری سوچ،احساسات اور مشاہدات کی تشکیل کا سبب بن گیا۔ لفظوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہی میں نے انسان، سماج اور زندگی کے مختلف رنگوں کو قریب سے دیکھنا سیکھا اور اپنے اردگرد بکھری ہوئی کہانیوں کو محسوس کرنا شروع کیا۔
اردو زبان سے میری دل چسپی محض ایک زبان تک محدود نہیں بلکہ یہ میری تہذیب، میرے جذبات اور میرے اظہار کا سب سے معتبر وسیلہ ہے۔ اس کی نرمی، گہرائی اور وسعت نے مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچا ہے۔بلاشبہ اردو میری پسندیدہ زبان ہے!
میرا پہلا ناول “حاصلِ زیست” دراصل زندگی کے انہی تجربات، تلخیوں اور سچائیوں کا عکس ہے جن کا سامنا ہمارا معاشرہ ہر روز کرتا ہے۔یہ تصنیف میرے دل کے بےحد قریب ہے اور تاحیات رہے گی کیونکہ یہ میرے قلم سے لکھی گئی پہلی تحریر ہے۔یہ کہانی معاشرتی ناہمواریاں، انسان کی خاموش تکالیف اور زندگی کی مسلسل کشمکش جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔
“حاصلِ زیست” میرے لیے محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ زندگی کے مشاہدے کا نچوڑ ہے،ایک ایسی کوشش جس میں میں نے اپنے احساسات کو الفاظ کا روپ دے کر قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔مجھے یقین ہے کہ ادب کا اصل مقصد سماج کے آئینے میں سچ کو دکھانا ہے اور یہی یقین میری تحریر کی بنیاد ہے۔میری تحریر کے بہت سے پہلوؤں سے آپ اختلاف بھی کر سکتے ہیں جو بحیثیت قاری آپکا حق ہے اور بحیثیت لکھاری آپکی قیمتی رائے جاننا میرا حق ہے اور میری پوری امید کرتی ہوں کہ آپ مجھے میرے حق سے محروم نہیں کریں گے!
شکریہ ❤️
****************
Sneaks Peeks From Novel
“آبرو تم یہ کیس ہرگز نہیں لو گی”وہ سختی سے اس کی بات کاٹتا بولا،جس پر آبرو کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
“مگر کیوں؟”سوال فوری تھا۔
“کیونکہ یہ کیس صرف ایک جھوٹ ہے،اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں”
“مگر کیا یہ سارے ثبوت بھی جھوٹے ہیں؟”آبرو کو آج اسکی ہر بات حیران کر رہی تھی۔
“ہاں جھوٹے ہیں!”اس کی آواز بلند ہوئی،
“میں اس کیس کے بارے میں بہت پہلے سے جانتا ہوں آبرو اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ صرف میرے بھائی کے خلاف ایک سازش ہے اور کچھ نہیں”آبرو کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا،
“یہ کیس پہلے بھی اسی لیے بند ہوا تھا کیونکہ اس میں کوئی سچائی نہیں تھی صرف اور صرف جھوٹے الزامات تھے”آبرو کو اسکا لہجہ،الفاظ ہر ایک چیز آج بہت عجیب محسوس ہو رہی تھی۔
“مگر اشعر کوئی کیوں کسی پر ایسے الزامات لگائے گا،آپ۔ خود سوچیں کوئی کیوں اپنی بیٹی کی عزت کے بارے میں۔۔۔۔”
“آبرو۔۔”وہ اسکی بات کاٹتا ٹیبل پر اپنا جھکاؤ کرتے بولنے لگا۔
“پیسے کی لالچ انسان سے سب کچھ کروا دیتی ہے،یہ سب اس لڑکی اور اس کے گھر والوں کی سازش ہے تاکہ وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکیں”وہ اشعر کے الفاظ کے چناؤ پر حیران تھی کہ وہ ایک مرے ہوئے انسان کے بارے میں کیسے الفاظ استعمال کر رہا تھا!
“پر اشعر انہیں کسی کی ہمدردیاں سمیٹنے سے کیا فائدہ ہوگا؟”آبرو کی بات پر وہ طنزیہ انداز میں ہنسا،
“تم تو وکیل ہو آبرو،تم تو یہ سب بہت اچھے سے جانتی ہو!”آبرو کو اسکی ہر بات آب غصہ دلا رہی تھی۔
“آج وہ الزام لگائیں گے کل کیس کا آغاز ہوگا،نامزد مجرموں کو بلیک میل کرتے ان سے پیسے وصول کریں گے،لوگون کی ہمدردیاں سمیٹتے خود پارسا بن جائیں گے اور عیش کی زندگی گزاریں گے”آبرو کا ضبط جواب دے گیا۔
“اشعر آپ یہ سب کیسے کہہ سکتے ہیں،آپ کو معلوم بھی ہے کہ ان کی بیٹی مر چکی ہے، انہوں نے اپنی اکلوتی اولاد کھوئی ہے اشعر”وہ اشعر کے مردہ دل کو جگانا چاتی تھی۔
“مجھے سب معلوم ہے آبرو مگر جو بھی ہو تم یہ اس کیس سے دور رہو،ویسے بھی میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جلد تم یہ جاب چھوڑنے والی ہو سو۔۔۔۔۔””
“اشعر میں یہ کیس اور جاب دونوں نہیں چھوڑوں گی”آبرو کا لہجہ سخت تھا۔
“ہر بات پر ضد مت کیا کرو آبرو،یہ ہم سب کے لیے بہتر ہے کہ تم نے یہ جاب جلد از جلد چھوڑ دو”وہ دوٹوک لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا،
“اور اس کیس کے بارے میں بھی سوچنا چھوڑ دو”وہ ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاتے چل پڑا،وہ ابھی دروازے کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اسکی سماعت سے آبرو کی آواز ٹکرائی،
“میں آبرو صدیقی ہوں اشعر،اپنی بات سے پیچھے ہٹنا میں نے سیکھا نہیں سو یہ کیس اور یہ جاب میں کسی صورت نہیں چھوڑوں گی”وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتی اٹل لہجے میں بولی،اشعر نے گردن موڑتے غصے سے آبرو کی جانب دیکھا اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر چلا گیا۔
****************
Download Hasil e Zeest by Wajeeha Mahmood in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ وجیہہ محمود کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Wajeeha Mahmood All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Ishq diyan zanjeeran by Ayesha Mughal Complete novel
Noor e mohabbat by Rimsha Hussain Complete novel
Sarror e ishq by Noor Arshad Complete novel
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 1.1K Views











