About The Novel Hasil se lahasil tak by Tahira Asif
(Current Episode 2)
Hasil se lahasil tak by Tahira Asif Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Novel Detailed Summary in English
Hasil Se Lahasil Tak by Tahira Asif – A Heartbreaking Tale of Forced Marriage and Social Injustice
Introduction: Urdu literature has always been a mirror to society, and “Hasil Se Lahasil Tak” by Tahira Asif is no exception. This novel is a gripping narrative that explores the dark side of traditional family values, where a daughter’s happiness is sacrificed at the altar of “family honor.” If you are a fan of emotional, social, and realistic Urdu novels, this masterpiece will surely touch your soul.
The Plot Overview: The story revolves around Alizeh, a beautiful and innocent girl whose life takes a tragic turn when her father, Shabbir Sultan, forces her into a marriage against her will. The antagonist of her life, her own father, uses emotional blackmail—threatening to divorce her mother—to make Alizeh comply. The marriage to Aban, a cold-hearted and arrogant man, marks the beginning of a life of slavery and emotional abuse for Alizeh.
Character Analysis: A Battle Between Ego and Innocence
- Alizeh: She represents the thousands of women who are silenced by societal pressure. Her character evolution from a vibrant girl to a “living corpse” is depicted with immense pain.
- Aban: The “hero” who is far from heroic. Aban treats Alizeh as a burden, shifting her to a storeroom and treating her with utter disdain.
- Shabbir Sultan: A symbol of toxic patriarchy. His character highlights how some parents prioritize their social standing over their children’s lives.
Themes of the Novel:
- Forced Marriage: The central theme is the trauma of being tied to someone without consent.
- Parental Greed and Ego: The novel questions the “honor” that requires the destruction of a daughter’s life.
- Isolation and Resilience: Alizeh’s struggle in her new home, where even the garden is forbidden to her, shows the heights of emotional cruelty.
Why “Hasil Se Lahasil Tak” is a Must-Read: Tahira Asif’s writing is evocative. She captures the silence of the night and the “clinking of bangles” that awakens a sleeping tyrant with such detail that the reader feels Alizeh’s anxiety. The novel is not just about suffering; it is a critique of a system that buries daughters alive in “golden cages.”
“Hasil Se Lahasil Tak” is a journey from having everything to losing it all. It is a story of a girl who lost her identity but kept her faith. As the plot unfolds, the mystery of Aban’s hatred and Alizeh’s endurance keeps the readers hooked until the very end.
***************
Novel Summary in Urdu
“حاصل سے لاحاصل تک” طاہرہ آصف کی ایک ایسی دلدوز تحریر ہے جو معاشرے میں رائج “غیرت اور عزت” کے نام پر بیٹیوں کی قربانی اور ان کی مرضی کے خلاف زبردستی کے فیصلوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کہانی علیزے نامی ایک ایسی لڑکی کی ہے جس کی زندگی کے تمام رنگ اس وقت چھین لیے جاتے ہیں جب اسے اس کے ظالم باپ، شبیر سلطان، کی انا کی خاطر ایک ایسے شخص (آبان) کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے جسے اس سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ناول کی فضا غم، گھٹن اور بے بسی سے بھرپور ہے۔
یہ کہانی جہاں ایک طرف پدری نظام کے جبر کو دکھاتی ہے، وہیں دوسری طرف ایک بیٹی کے اس کرب کو بھی بیان کرتی ہے جو جیتے جی ایک زندہ لاش بننے پر مجبور ہے۔ “حاصل سے لاحاصل تک” محض ایک افسانوی داستان نہیں بلکہ ان تمام لڑکیوں کی چیخ ہے جن کے سپنے سماجی روایات کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں۔
مرکزی کردار:
علیزے: کہانی کی ہیروئن، ایک انتہائی حسین، نیلی آنکھوں والی مگر بے حد مظلوم لڑکی۔ وہ اپنی ماں کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دیتی ہے لیکن اس کے دل میں اپنوں کے لیے شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
آبان: علیزے کا شوہر، ایک مغرور اور بے رحم انسان جو اپنی مونچھوں کو تاؤ دینے اور جاہ و جلال کو برقرار رکھنے کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے۔ اس کے دل میں علیزے کے لیے کوئی جگہ نہیں اور وہ اسے صرف ایک بوجھ سمجھتا ہے۔
شبیر سلطان: علیزے کا باپ، جو اپنی جھوٹی انا اور رشتہ داروں میں عزت کے لیے اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
کلثوم بیگم: علیزے کی ماں، جو شوہر کے ڈر سے خاموش ہے مگر اس کی مامتا اپنی بیٹی کے دکھ پر تڑپتی ہے۔
رمشاء اور عشال: آبان کی بہنیں۔ رمشاء مغرور اور علیزے کو نیچا دکھانے والی ہے، جبکہ عشال کے دل میں علیزے کے لیے تھوڑی ہمدردی موجود ہے۔
ناول کا آغاز ایک نہایت تلخ منظر سے ہوتا ہے جہاں علیزے اپنے باپ کے سامنے نکاح سے انکار کرتی ہے، مگر جواب میں اسے تھپڑ ملتا ہے۔ شبیر سلطان اپنی بیٹی کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے نکاح نہ کیا تو وہ اس کی ماں کو طلاق دے کر گھر سے نکال دے گا۔ اپنی ماں کے تحفظ کے لیے علیزے خاموشی سے زہر کا یہ گھونٹ پی لیتی ہے اور خود کو ایک ایسے نکاح کے حوالے کر دیتی ہے جسے وہ اپنی “فاتح خوانی” قرار دیتی ہے۔
شادی کے بعد علیزے کا سفر لاہور سے اسلام آباد کا ہوتا ہے، مگر یہ سفر خوشیوں کا نہیں بلکہ مزید تنہائیوں کا ہے۔ اس کا شوہر آبان گاڑی میں ہی واضح کر دیتا ہے کہ وہ اسے صرف ایک بوجھ سمجھتا ہے اور اس سے کسی قسم کی امید نہ رکھی جائے۔ سسرال پہنچنے پر بھی اسے استقبال کے بجائے طنز اور دھتکار ملتی ہے۔ آبان کی بہن رمشاء اسے پہلے ہی لمحے یہ احساس دلا دیتی ہے کہ یہاں اس کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے۔
علیزے کی زندگی اس نئے گھر میں ایک ملازمہ سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ اسے بیڈ کے بجائے کمرے کے کونے میں سونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد جب وہ گارڈن میں تھوڑا سکون تلاش کرنے نکلتی ہے تو آبان اسے وہاں سے بھی نکال دیتا ہے اور اسے “قاعدے قانون” سکھانے کے لیے سب کا ناشتہ بنانے کا حکم دیتا ہے۔ علیزے، جو کھانا پکانا نہیں جانتی تھی، کچن میں بے بس کھڑی ہوتی ہے جہاں زاہدہ بانو (ملازمہ) اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر آبان کے غصے کا خوف ہر طرف چھایا ہوا ہے۔
کہانی میں ایک نیا موڑ تب آتا ہے جب آبان علیزے کو کمرے سے نکال کر سٹور روم میں شفٹ ہونے کا حکم دیتا ہے۔ اسی دوران علیزے کے ماں باپ اس سے ملنے آتے ہیں۔ علیزے کا باپ اب بھی اپنی انا میں چور ہے جبکہ ماں اپنی بیٹی کی خستہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھتی ہے۔ علیزے اپنے والدین کو پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ علیزے تو اسی دن مر گئی تھی جس دن آپ نے اسے جیتے جی دفن کیا تھا۔ جب وہ تلخ سچ بولتی ہے تو اس کا باپ ایک بار پھر اسے تھپڑ مارتا ہے اور ہمیشہ کے لیے اس سے رشتہ توڑ کر چلا جاتا ہے۔
************
About the writer: Tahira Asif
طاہرہ آصف اردو ادب کی ایک باصلاحیت اور حساس دل رکھنے والی افسانہ و ناول نگار ہیں، جنہوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے محبت، قربانی، معاشرتی مسائل، اور رشتوں کی نزاکت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
ان کی تحریروں میں جذبات کی گہرائی، کرداروں کی حقیقت پسندی اور کہانی کا بہاؤ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
“سایہ تیرے عشق کا” جیسے ناول ان کی تخلیقی مہارت، زندگی کے تجربات اور مشاہدات کی بہترین عکاسی ہے۔
طاہرہ آصف اپنی صاف گو اور جاندار تحریر کی وجہ سے قارئین کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔
طاہرہ آصف اردو ادب میں ایک ایسی لکھاری کے طور پر ابھری ہیں جن کے قلم میں درد کی شدت اور معاشرتی مسائل کو بیان کرنے کا منفرد ہنر موجود ہے۔ ان کا اندازِ بیاں نہایت جذباتی اور اثر انگیز ہے، جو قاری کو کہانی کے کرداروں کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ طاہرہ آصف انسانی جذبوں کی عکاسی، خاص طور پر خواتین کی بے بسی اور ان پر ہونے والے مظالم کو اپنی تحریروں کا موضوع بناتی ہیں۔
“حاصل سے لاحاصل تک” میں انہوں نے نہایت سادہ مگر کاٹ دار مکالموں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے اتار چڑھاؤ کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ ان کی تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ قاری کے سامنے صرف مسئلہ ہی نہیں رکھتیں بلکہ ان کے الفاظ سے معاشرے کے دوہرے معیاروں کے خلاف ایک خاموش احتجاج بھی جھلکتا ہے۔ طاہرہ آصف کا اسلوب قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کیا واقعی بیٹیوں کی قربانی ہی عزت بچانے کا واحد راستہ ہے؟
********
Short Scene From Novel
یہ ظلم مت کریں میرے ساتھ میں یہ نکاح نہیں کرسکتی ۔۔
تمہیں یہ نکاح ہر حال میں کرنا ہوگا۔ہماری عزت کی خاطر۔۔
میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔خدا کا واسطہ ہے تمہیں یہ نکاح نہیں کروں سنا آپ نے۔
علیزے نے دوٹوک لہجے میں کہا۔
چٹاخ ۔۔۔ایک گونج دار تھپڑ اور وہ بیڈ پہ گری۔۔۔شبیر سلطان کا تھپڑ کھانا یہ اس کےلیے کوئ نئ بات نہیں تھی۔۔
کل شام کو نکاح ہے اور رخصتی بھی۔۔۔صحیح کہتے ہیں کہ بیٹیوں کو زیادہ سر پہ نہیں بیٹھانا چاہیے۔
وہ اتنا کہتے کمرے سے باہر چلے گئے۔۔۔۔
کلثوم بیگم علیزے کو پیار سے سمجھانے لگیں۔
بیٹا یہ سماج والے بہت ظالم ہیں۔یہ ہمیں جیتے جی مار دیں گے۔
جانتی ہیں امی آپ۔۔مجھے نفرت ہے ان باتوں سے.آپ کے شوہر پہلے زخم دیتے ہیں اور پھر آپ مرہم لگانے آجاتی ہیں۔
بچپن سے آج تک آپ نے ہمیں اس سماج کا ہی ڈروا دیا ہے کیوں کیوں؟؟؟؟؟
وہ چیخی۔۔۔
ششش آواز نہ آۓ۔
تمھارے ابو نے سن لیا تو قیامت آجاۓ گی۔
کیا کریں مار دیں گے نا۔۔۔۔۔
ایسی زندگی سے بہتر ہے کہ وہ مجھے مار ہی دیں۔۔۔۔
*
کیوں مہارانی انتظار میں ہو کیا کہ کوئی تمھارا استقبال کرنے آۓ گا۔یہ بات اپنے دل کے نکال دو۔۔
اور ہاں یہاں ذرا اپنی زبان قابو میں رکھنا۔۔۔۔
اب آ بھی جاؤ۔
تبھی کسی کی آواز اب آ بھی جاؤ۔یا اسی کے ساتھ رہنے کا ارادہ ہے۔
آرہی ہوں بجو ۔۔۔چلو محترمہ
اترو جلدی مجھے اور بھی کام ہیں۔
جی اتر رہی ہوں۔
علیزے نے سسکتے ہوۓ دروازہ کھولا اور آگے بڑھنے لگی تھی کہ تبھی رمشاء نے اسکا ہاتھ پکڑتے کہا کہ سنو !!!!
یہاں کسی سے رحم دلی کی امید مت رکھنا۔
سمجھی۔۔۔۔وہ اسنے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔
اور گھر کے اندر چل دی۔۔
اسکے پیچھے پیچھے علیزے بھی چل دی۔۔گھر کے داخل ہوئی تو سب اپنے اپنے کمروں جاچکے تھے۔
صرف ایک لڑکی اسکے انتظار میں کھڑی تھی۔۔
آپ آگئیں۔۔اسنے مسکراتے کہا۔
جی آپ نے بھی کچھ کہنا ہے کیا؟نہ جانے کیوں وہ یہ سوال
کر بیٹھی۔۔۔
نہیں نہیں۔۔بھابھی آپ یہ کیسی
باتیں کر رہی ہیں۔۔
میں آپ کی عزت کرتی ہوں
میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گی۔
آئیے آپ کو کمرے تک چھوڑ دوں۔۔علیزے کو وہ لڑکی کافی
اچھی لگی۔اسکا رویہ باقیوں سے بہتر تھا۔۔۔
اچھا بھابھی میرا نام عشال ہے
آپ مجھے عشو بھی بول سکتی ہیں۔
****************
Download (Latest Episode 2)
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
Download (Previous Episodes) Hasil se lahasil tak by Tahira Asif in pdf.
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں
Download Link (All Episodes)
| Download Link | Download Link |
| Episode 1 |
Online Reading (All Episodes Links)
اگر آپ طاہرہ آصف کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Main ne tera naam dil rakh diya by Mahnoor Khan Complete
Al birr by Mubeen Fatima Complete
Main teri jogan piya by Meem Ain Complete
************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 741 Views
















Next part plz
Bht jld upload homage ga
Bht jld upload homage ga