Shehmaat by Fareeha Mirza Complete novel

Shehmaat by Fareeha Mirza Download pdf

About The Novel Shehmaat by Fareeha Mirza

Shehmaat by Fareeha Mirza Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Shehmaat by Fareeha Mirza is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

Shehmaat is a gripping and psychologically intense Urdu novel penned by the talented Fareeha Mirza. The story masterfully deconstructs the illusion of fairy tales, contrasting them with the harsh, unforgiving realities of life. Centered around themes of childhood trauma, dysfunctional families, and societal taboos, the novel uses the strategic metaphor of a chessboard to depict human survival.

The protagonist, Sofiya Sikandar, transitions from a pampered “princess” into a scarred survivor after witnessing her father’s brutal murder on her thirteenth birthday. Forced to flee her home, she realizes that in the real world, no prince on a white horse is coming to save her; she must fight her own battles.

The narrative delves deep into her mental hell, her absolute isolation in a boarding school, and her burning vow of revenge. With a dark, atmospheric setting and deeply philosophical dialogues, Shehmaat explores how an ordinary pawn can transform into a powerful queen to deliver the ultimate checkmate against injustice and cruelty.

If you are a fan of contemporary Urdu literature that goes beyond mainstream romantic tropes and dives deep into human psychology, then Shehmaat by Fareeha Mirza is a must-read for you. This Urdu novel is not just a fictional story; it is an intense, emotionally draining, and highly captivating journey that explores childhood trauma, dysfunctional family dynamics, and the ultimate battle for survival.

In this comprehensive blog post, we will dissect the plot, analyze the key characters, and explore why Shehmaat is making waves in the Urdu literary world.

The title Shehmaat translates to “Checkmate,” a term used in chess when the king is completely trapped and defeated. The author beautifully uses the chessboard as a metaphor for human life. Most of us grow up reading fairy tales where a handsome prince on a white horse arrives to save the distressed princess. However, Shehmaat shatters this romanticized illusion right from the first chapter.

The story advocates that life is a game of chess where every human being is merely a “pawn” (پیادہ). In this survival of the fittest, you cannot rely on magical wands or external saviors. To survive, an ordinary pawn must move forward, endure the pain, and eventually transform into a powerful “Queen” to crush the oppressor.

The narrative begins on a horrific note on the 13th birthday of Sofiya Sikandar. Sofiya, who used to live in her own world of fairy tales, walks into her lounge only to find her father lying dead in a pool of blood. Her world shatters instantly. Taan Seen, their loyal old servant, forces her to flee the mansion through the back door to save her life.

Dressed in her white birthday frock stained with her father’s blood, Sofiya runs into the dark night. With thorns piercing her feet, she vows to return—not for justice, but for revenge. Finding no way out, she leaps off a bridge into a dark canal, leading the world to believe she committed suicide.

Seven months later, the story shifts to a boarding school in Lahore. Sofiya is alive but mentally dead. She is now an isolated, stone-cold girl who sits on the last bench, completely zoned out from reality. Her academic performance drops drastically, and her sketches reveal a horrific internal hell. When her teacher, Mrs. Daneen, discovers her disturbing drawings, she attempts to uncover Sofiya’s dark past, leading to intense philosophical confrontations about God, tests, and human suffering.

***************

Novel Summary in Urdu

“شہہ مات” فریحہ مرزا کا تحریر کردہ ایک بے حد طاقتور، نفسیاتی اور سسپنس سے بھرپور ناول ہے، جو انسانی جذبوں کی عکاسی شطرنج کی بساط کے مہروں کی صورت میں کرتا ہے. یہ کہانی زندگی کی تلخ سچائیوں، بچپن کے صدمات، ڈسفنکشنل خاندانوں کے پس منظر اور معاشرتی ممنوعات کے گرد گھومتی ہے.

ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حقیقی زندگی کا چیس بورڈ افسانوی دنیا سے بالکل مختلف ہے، جہاں ہر انسان ایک پیادے کی طرح اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ کہانی کار نے بڑی مہارت سے یہ دکھایا ہے کہ جب زندگی کسی بے رحم موڑ پر لا کھڑا کرے، تو کسی غیبی شہزادے یا جادو کی چھڑی کا انتظار کرنے کے بجائے انسان کو خود اپنی جنگ لڑنی پڑتی ہے، ورنہ انجام “شہہ مات” کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ ناول قارئین کو ایک ایسی تاریک اور سحر انگیز دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ صرف ایک فکشن نہیں بلکہ صدمات سے گزرنے والوں کی ان کہی داستان ہے، جو قاری کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔

اہم کرداروں کا تعارف:

صوفیہ سکندر: ناول کی مرکزی کردار جو خود کو ایک “ملعون شہزادی” سمجھتی ہے۔ تیرہ سال کی عمر میں اپنے باپ کے بہیمانہ قتل کی گواہ بننے کے بعد اس کی معصومیت چھن جاتی ہے۔ وہ شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہے، اکیلی رہتی ہے، اور ماضی کی تلخیوں سے فرار پانے کی کوشش میں لکھی جانے والی ڈائری اور سکیچز کے ذریعے اپنے اندر کے جہنم کا اظہار کرتی ہے۔

تان سین: سکندر صاحب کا ایک وفادار اور پرانا بوڑھا ملازم۔ وہ صوفیہ کے بچپن کا ساتھی اور کہانی کار ہے جو اسے فیری ٹیلز سناتا تھا۔ باپ کے قتل کی رات صوفیہ کی جان بچا کر اسے محل سے فرار کروانے والا اور اسے زندگی بھر کی جمع پونجی دینے والا یہی مخلص انسان ہے۔

سکندر صاحب: صوفیہ کے والد، جن کا بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے اور ان کا قتل صوفیہ کی زندگی کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔

مسز دانین: لاہور کے بورڈنگ سکول کی ایک حساس اور مشاہدہ کار استانی۔ وہ صوفیہ کی پراسرار خاموشی، اس کی گرتی ہوئی تعلیمی کارکردگی اور اس کے خوفناک سکیچز کو دیکھ کر اس کا ماضی کریدنے اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ہادیہ، حدید، ابو ہریرہ، لبابہ مناہل، اور ایڈوکیٹ سطوت عدنان: یہ وہ پسِ منظر کے کردار اور معاونین ہیں جو صوفیہ کی زندگی کے سفر، بقا کی جنگ، تدوینِ زندگی اور قانونی و اخلاقی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

****************

About The Writer, Fareeha Mirza

فریحہ مرزا اردو ادب کے افق پر ایک ابھرتی ہوئی اور انتہائی حساس قلم کار ہیں، جو اپنے گہرے نفسیاتی مشاہدات اور منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے جانی جاتی ہیں. ان کا قلم معاشرے کے ان تاریک گوشوں پر روشنی ڈالتا ہے جن پر عام طور پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ فریحہ مرزا نے “شہہ مات” کو محض ایک کہانی کے طور پر نہیں لکھا، بلکہ اسے دو سال کے طویل اور کٹھن فکری سفر کے بعد تخلیق کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے اردگرد بکھرے تلخ ترین انسانی تجربات اور سچائیوں کا نچوڑ پیش کیا ہے۔

ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فکشن اور حقیقت کے امتزاج سے قاری کو اس حد تک سحر زدہ کر دیتی ہیں کہ الفاظ قاری کے اندر ٹھہر جاتے ہیں اور اسے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ فریحہ مرزا ممنوعہ اور حساس موضوعات جیسے بچپن کے صدمات اور نفسیاتی الجھنوں کو نہایت نپے تلے اور دل دوز انداز میں کاغذ پر اتارنے کا ہنر جانتی ہیں، جو انہیں ہم عصر لکھاریوں میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

”تو تم ابوہریرہ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟“عالم بخت نے دلچسپی سے پوچھا۔

”ڈیفینیٹلی…. “ہادیہ نے کہا۔ ”اس نے مجھے پروپوز کیا تھا۔“چمک کر جتایا بھی۔

”نہیں بابا….“ابوہریرہ نے خجالت سے انہیں دیکھا۔ ”یہ جھوٹ بول رہیں ہیں۔ میں نے تو….“وہ بیچارہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تھا۔

”تم نے مجھے پروپوز کیا تھا۔ تم نے کہا تھا ہم دونوں بڑے ہو کر شادی کریں گے اور ایک گھر بناکر رہیں گے اور اس میں ہمارے…..“

”ہادیہ!“ابوہریرہ نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اسے ٹوکا پھر پلٹ کر ان تینوں کو دیکھا جن کے چہروں پر محظوظ ہونے والی مسکراہٹ تھی۔

”میں آپ سے شادی نہیں کروں گا اور میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔ اس گھر سے میری کوئی اچھی یادیں وابستہ نہیں ہیں۔آئم سوری۔“اس نے یکدم تیز لہجے میں کہا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا تھا۔

”بابا…. “حدید نے کمرے میں چھائی آکورڈ سی خاموشی توڑی تھی۔

”بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اس گھر میں ہماری کوئی اچھی یادیں نہیں ہیں۔ ہم دوبارہ یہاں نہیں رہ سکتے۔“اس کے انداز میں سنجیدگی تھی۔

”تم ماضی کو تھام رہے ہو حدید۔ اسے چھوڑ دو۔“صوفیہ نے کہا۔

”تم اس جگہ پر اچھی یادیں بھی بنا سکتے ہو۔ “حدید نے چونک کر صوفیہ کو دیکھا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔ وہ مثبت انداز میں بات کر رہی تھی۔

”تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس جگہ سے صرف تمہاری ہی بری یادیں ہیں؟ میرے گھر میں….میں نے اپنے باپ کو خون میں لت پت، بےجان پڑے دیکھا تھا۔ میں وہ منظر نہیں بھول سکتی مگر میں اس حادثےکی وجہ سے اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی۔ “ اس کی آخری بات پر عالم بخت کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔

”اتنے سالوں سے دربدر پھرنے کے بعد میں اپنے گھر کی اہمیت کا اندازہ لگا چکی ہوں۔“اس نے کہا۔ ”میں وہیں رہوں گی۔“

”مگر بھائی اور ممی مجھے نہیں لگتا یہاں واپس آنے کے لیے راضی ہوں گے۔“حدید نے لب کاٹتے ہوئے کہا۔

”ڈونٹ وری گرینڈ پا۔“ہادیہ نے کہا۔ ”وہ واپس یہیں آئے گا۔“اس کا انداز پر اعتماد تھا۔
”اور دانین آنٹی بھی آ جائیں گی۔ تھوڑا وقت لگے گا مگر سب ٹھیک ہو جائے گا۔“اس نے نرمی سے کہا تھا اور عالم بخت نے سر ہلایا تھا۔

**

”وہ تمہیں رجیکٹ کر گیا ہے۔“گاڑی میں بیٹھنے ہوئے صوفیہ نے کہا۔

”نہیں وہ بس شرما گیا تھا سب کے سامنے۔“کار سٹارٹ کرتے ہوئے ہادیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

”وہ صاف لفظوں میں تم سے شادی کے لیے انکار کر گیا ہے۔ تمہیں اپنی بے عزتی فیل نہیں ہو رہی؟“صوفیہ نے کچھ جھلاکر پوچھا۔

”نہیں ہو رہی۔“ہادیہ نے ڈھٹائی سے کہا۔

”تو اب تم کیا کرو گی؟“

”دوبارہ پروپوز کروں گی۔“صوفیہ نے ملامتی نظروں سے اسے دیکھا۔

”وہ تمہیں پھر رجیکٹ کر دے گا۔“

“Don’t worry. I’ll try harder.”

صوفیہ نے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔

”میں نے اس کا بہت انتظار کیا ہے صوفیہ۔ بہت زیادہ۔ میں نے اسے اپنی زندگی کے ہر اچھے اور برے موقع پر سوچا ہے۔ وہ میرا پہلا دوست تھا اور میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد بھی۔ اس کے لیے میرے دل میں جو جگہ ہے اس کا تم اندازہ نہیں کر سکتیں۔“وہ اب بہت دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی۔ اس کی نظریں سڑک پر مرکوز تھیں مگر صوفیہ کو لگا وہ کہیں خلاؤں میں کچھ کھوج رہی تھی۔

”یعنی تم ارادہ کر چکی ہو اس سے ہاں کہلوانے کا۔“صوفیہ نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔

”ہاں….اصولاً اسے مجھے پروپوز کرنا چاہیے لیکن کوئی بات نہیں۔ اسے شرم آتی ہو گی اور مجھے…. “

”نہیں آتی۔“صوفیہ نے اس کا جملہ مکمل کیا۔

****************

Download Shehmaat by Fareeha Mirza in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Writer illustration

About the Writer

Fareeha Mirza

Explore more Urdu novels by Fareeha Mirza, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

Beti by Hibza Maqsood Complete

Mera harjaye by Sidra Sheikh Complete

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 465 Views

Leave a Comment