About The Novel Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif
Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
A Review of “Ikhtitam se Aaghaz”
In the world of contemporary Urdu literature, few stories manage to balance psychological depth with spiritual enlightenment as effectively as “Ikhtitam se Aaghaz” (The New Beginning at the End) by Mirza Nigar Saif. This novella is not just a romantic drama; it is a profound journey of a soul that finds its way back to its Creator after losing everything to ego and materialism.
The title itself, “Ikhtitam se Aaghaz,” suggests that every end is a new beginning if one has the courage to repent. The story revolves around Mir Merjan, a high-profile businessman whose arrogance knows no bounds. He believes he can manipulate his destiny, only to find himself trapped in a nightmare where only a miracle can save him.
Merjan is a complex protagonist. He represents the modern man who prioritizes wealth and status over morality. His involvement in interest-based business (Riba) and toxic social circles leads him to a physical and spiritual breakdown. His character arc from a rebel to a humble servant of God is masterfully written.
Hani is the heart of the story. She is not a typical submissive heroine; she is a woman of principles. When Merjan crosses the line, she chooses to leave him, proving that self-respect and faith are more important than staying in a toxic marriage. Her “hijab” is not just a piece of cloth but a shield for her character.
The subplot involving Sara and her abusive husband Anis serves as a critique of societal norms. Through Hani’s dialogue with Sara, the author explores the difference between being a “property” and being a “partner.” This section of the book is a powerful commentary on domestic violence and self-worth.
The story reaches its climax when Merjan is kidnapped and tortured by the very people he tried to impress. In the darkness of a basement, stripped of his power, he realizes the truth of Hani’s warnings. This “dark night of the soul” is where his transformation begins. The description of his first prayer (Salah) after years of rebellion is one of the most emotional segments of the novella.
Mirza Nigar Saif uses rich symbolism, such as the “colors of Allah” (Sibghatullah) and the metaphor of a falling man caught by a ledge. The integration of Quranic verses and Urdu poetry adds a layer of depth that resonates with the readers’ spiritual side.
Why This Novel is a Must-Read
- Realism: It depicts the corporate world’s toxicity and the traps of modern addictions.
- Empowerment: It redefines women’s rights through an Islamic lens.
- Hope: It sends a strong message that no matter how far you have strayed, the path to repentance is always open.
“Ikhtitam se Aaghaz” is a wake-up call for those who think wealth can buy peace. It is a story of love, but more importantly, it is a story of returning to one’s roots. Mirza Nigar Saif has delivered a masterpiece that will stay in the hearts of readers long after they turn the final page.
***************
Novel Summary in Urdu
“اختتام سے آغاز” ایک ایسی کہانی ہے جو وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں عام طور پر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے میر مرجان کی، جو اپنی دولت، انا اور جدیدیت کے نشے میں خدا اور اس کے احکامات سے باغی ہو چکا تھا۔
یہ ناولٹ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک انسان اپنی خود پسندی میں ڈوب کر اپنوں اور خدا سے دور ہو جاتا ہے، لیکن پھر زندگی اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف “سجدہ” اور “توبہ” سے ہو کر گزرتا ہے۔ کہانی میں ام ہانی کا کردار حق و صداقت اور صبر کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ یہ ناولٹ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کا رنگ ہی سب سے بہترین رنگ ہے اور توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا رہتا ہے۔
مرکزی کردار:
اریمل آنٹی: مرجان کی ہمدرد رشتہ دار جو مشکل وقت میں ہانی اور مرجان کو دوبارہ قریب لانے میں پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔
میر مرجان: کہانی کا ہیرو جو نہایت مغرور، خود پسند اور باغی ہے۔ وہ سود اور غیر اخلاقی محفلوں کو ترقی کا زینہ سمجھتا ہے، لیکن صدمات اسے خدا کے قریب لے آتے ہیں۔
ام ہانی: مرجان کی شریک حیات، جو باحجاب، دیندار اور نہایت صابر خاتون ہے۔ وہ مرجان کی سرکشی پر اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے مگر اس کی ہدایت کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتی ہے۔
سارہ: ہانی کی سہیلی، جو ایک ٹاکسک رشتے (انیس کے ساتھ) میں مقید ہے اور ملکیت اور عزت کے فرق کو نہیں سمجھ پاتی۔
کہانی کا آغاز ایک خواب سے ہوتا ہے، جہاں میر مرجان خود کو ایک گہری کھائی میں گرتا ہوا محسوس کرتا ہے، مگر عین اختتام پر وہ ایک منڈیر تھام کر بچ جاتا ہے۔ یہ خواب دراصل اس کی زندگی کی عکاسی ہے، جہاں وہ گناہوں کی دلدل میں گر رہا تھا لیکن اللہ کی رحمت نے اسے تھام لیا۔ فجر کی اذان کی آواز اس کے مردہ دل کو بیدار کرتی ہے اور وہ روتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔
ماضی میں مرجان ایک ایسا شخص تھا جو اپنی بیوی ام ہانی کی نصیحتوں کو “بھاشن” قرار دے کر مسترد کر دیتا تھا۔ وہ سود کو کاروبار کے لیے ناگزیر سمجھتا تھا اور لبرل ازم کے نام پر لیسبینز اور غیر اخلاقی پارٹیز کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ ام ہانی، جو ایک باحیا اور باکردار عورت تھی، اسے ان اندھیروں سے روکتی رہی، مگر مرجان کی انا نے اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہانی نے اسے آخری بار کہا تھا کہ وہ اللہ سے اس کے لیے توبہ کی توفیق مانگے گی۔
مرجان سپین کے ایک وفد کے ساتھ سود پر مبنی ڈیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہاں اسے دھوکا ملتا ہے۔ اسے اغوا کر لیا جاتا ہے، اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور زبردستی منشیات (Ice) دی جاتی ہیں۔ اسے ایک اندھیرے تہہ خانے میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں اسے ہانی کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ وہ پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ وہ کتنا بے بس ہے۔ وہ شخص جو کہتا تھا کہ وہ “اختتام کو آغاز میں بدل سکتا ہے”، آج ایک ایک سانس کے لیے اللہ کا محتاج ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف، ہانی اپنی سہیلی سارہ کو سمجھاتی ہے کہ عورت مرد کی ملکیت (Property) نہیں بلکہ ایک قابلِ عزت انسان ہوتی ہے۔ سارہ اپنے شوہر انیس کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہے، مگر وہ اسے اپنی “محبت اور پوزیسیو نیس” سمجھتی ہے۔ ہانی اسے آئینہ دکھاتی ہے کہ جہاں عزت نہیں وہاں محبت نہیں ہو سکتی۔
مرجان جب ہسپتال پہنچتا ہے تو وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ ہانی اس کی حالت دیکھ کر واپس آتی ہے، مگر اس بار وہ کمزور بن کر نہیں بلکہ ایک رہنما بن کر آتی ہے۔ وہ مرجان کو بتاتی ہے کہ اللہ ہی اصل “رب” (پالنے والا) ہے اور وہی خوراک اور عقل عطا کرتا ہے۔ مرجان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے، اس کی دولت اور جائیداد پر کیسز ہو جاتے ہیں اور وہ کنگال ہونے کے قریب ہوتا ہے، لیکن ہانی اسے حوصلہ دیتی ہے کہ “ہم سب پھر سے بنا لیں گے”۔
کہانی کے اختتام پر مرجان ہانی سے معافی مانگتا ہے۔ اس کی انا ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی، مگر اس کے دل میں اللہ کی محبت نے گھر کر لیا ہے۔ وہ دونوں اپنے رشتے کا ایک نیا آغاز کرتے ہیں، جو اللہ کی رضا پر مبنی ہے۔
****************
About The Writer, Mirza Nigar Saif
مرزا نگار سیف اردو ادب کے افق پر ایک ایسی لکھاری کے طور پر ابھری ہیں جو الفاظ کے ذریعے روح کے تار چھیڑنے کا فن جانتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں مذہب، تصوف اور جدید معاشرتی مسائل کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ محض کہانیاں نہیں لکھتیں بلکہ انسانی رویوں کی جراحی کرتی ہیں۔
ان کا اسلوبِ بیان سادہ مگر نہایت گہرا ہے، جس میں اشعار اور قرآنی آیات کا برمحل استعمال قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مرزا نگار سیف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کرداروں کے باطنی تضادات اور ان کی روحانی بے چینی کو بہت خوبصورتی سے منظر عام پر لاتی ہیں، جس کی بہترین مثال ان کا یہ ناولٹ “اختتام سے آغاز” ہے۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
سمائرہ بیگم کچن میں کھڑی ہیں۔ کچن بھی کیسا؟ کچن کے نام پر ایک چھوٹی دیوار جس کے کونے میں چھوٹا سا چولہا بنا ہے۔ پاس ہی کچھ لکڑیاں بھی ہیں۔ وہ ان میں سے تھوڑی تھوڑی لکڑیاں اٹھا کر جلانے کے لیے ڈال رہی ہیں۔ دھواں بے تحاشہ ہے جو کہ ان کی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ آمنہ (بیٹی) ان کے قریب بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہے اور ہاتھ میں موبائل ہے۔
“آمنہ ناشتہ کر کے ذرا میری مدد تو کر دو۔” وہ شائستگی سے بولیں۔
“واٹ آر یو سئینگ
What are you saying?
نو وے میرا یونیورسٹی میں آج بہت امپورٹنٹ لیکچر ہے۔” وہ قدر بد تہذیبی سے گویا ہوئی۔
” بیٹی کتنی دفعہ بولا ہے کہ انگریزی کے الفاظ میرے سامنے نہ استعمال کیا کر مجھے سمجھ نہیں آتی پہلے ہی میں نے مشکل سے اردو بول چال سیکھی ہے۔” وہ اس کے رویے پر غصہ نہیں تھیں۔اسی نرم لہجے میں اس سے مخاطب تھیں۔
“سو واٹ ماما اگر آپ کو نہیں آتی
This is none of my business.”
وہ چڑچڑے انداز میں کہتی اٹھ کر جانے لگی لیکن اپنے پیچھے کھڑے باپ کو دیکھ کر رک گئی جو خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ آمنہ کا دل ہو لایا۔ کیا بابا نے سن لیا؟؟
” وہ بابا…..” ابھی وہ کچھ کہتی کہ اس کے والد نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کیا۔
” میں کمرے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آؤ ضروری بات کرنی ہے۔” وہ حکم صادر کرتے دوسری نظر ڈالے بغیر کمرے کی طرف چلے گئے۔ مرغیاں اپنے معمول کے مطابق خوراک کی تلاش میں صحن میں اِدھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔چھوٹا سا گھر تھا دو کمروں پر مشتمل اور ایک کچن اور ایک باتھ روم۔
وہ انگلیوں کو مڑوڑتی ایک نظر ماں کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ سمائرہ بیگم آج اس کے مفاد میں کچھ نہیں بولیں۔انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ اب معاملہ باپ بیٹی خود ہی سلجھا لیں گے۔
وہ نظریں جھکائے کمرے میں داخل ہوئی۔ لقمان صاحب پلنگ پر بیٹھے تھے، ہاتھ میں اخبار لیے۔ وہ گہرا سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔
” بابا میں اندر آ جاؤں۔” اس نے اجازت طلب کی۔ بے چینی کی وجہ سے بھول گئی کہ وہ کمرے میں داخل ہو چکی ہے۔
” آپ اندر آ چکی ہیں۔” انہوں نے اخبار طے کرتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔
” سوری۔” اس نے کہہ کر زبان دانتوں تلے دبائی۔
” آئیں ادھر میرے پاس بیٹھیں۔” وہ ہچکچاتی ہوئی بیٹھ گئی۔
” باہر ابھی آپ کس سے بات کر رہی تھیں۔” انہوں نے آرام دہ انداز میں پوچھا۔
“م۔۔ ماما سے۔” اس نے جھکی نظروں سے جواب دیا۔
” اور ماں کے قدموں تلے کیا ہے؟”
” جوتے” وہ بے ساختہ بولی۔
“آمنہ بیٹے میں سنجیدہ ہوں” انہوں نے خفگی سے کہا۔
” ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔” اس نے حوالے کے ساتھ بتایا۔”
” تو آپ اپنی جنت سے ایسے بات کر رہی تھیں۔ دیکھو بیٹا اگر میں روایتی باپ ہوتا یا تمہاری ماں ایک روایتی ماں ہوتی تو تمہیں تھپڑ جڑ دیتے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا معلوم ہے کیوں؟” انہوں نے پوچھا تو آمنہ نے سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھا۔ “کیونکہ ایک ماں سے زیادہ پیار اپنے بچے سے کوئی نہیں کرتا اور کیا کبھی تم نے غور کیا ہے کہ تمہاری ایک آنکھ کا رنگ دوسری سے مختلف کیوں ہے۔”
” نہیں” اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
” چلو میں تمہیں ایک ماں کی کہانی سناؤں۔” انہوں نے کہا تو وہ ہمہ تن گوشی سے سننے لگی۔
” ایک گاؤں میں ایک سردار تھا۔ اب سردار لوگ تو بہت امیر ہوتے ہیں۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی اور ان کی صرف ایک بیٹی تھی لیکن سردار ہمیشہ اپنی بیوی اور بیٹی سے بدزن رہتا تھا کیونکہ اسے بیٹے کی خواہش تھی جو اس کی نسل کو آگے بڑھاتا۔ سردار کی بیٹی کو پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن وہ کبھی سکول نہیں گئی اور وجہ کیا تھی جانتی ہو؟”
” نہیں”وہ کہانی میں اتنی منہمک تھی کہ بول گئی۔
” کیونکہ اس کے باپ نے کبھی اسے جانے ہی نہیں دیا کہ وہ ایک لڑکی ہے لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ اسے اپنی بیٹی پر بھروسہ نہیں تھا۔ آج بھی معاشرے میں کچھ لوگ اسی تصور کے تحت بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ تعلیم کے زیور سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اب وہ گاؤں کا سردار تھا اسے ڈر تھا کہ اگر اس کی بیٹی باہر گئی تو وہ اس کی عزت کو خاک میں ملا دے گی اور اسی وجہ سے وہ جلد از جلد اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن اس نے بغیر اپنی بیٹی کی مرضی جانے اس کا رشتہ طے کر دیا گاؤں کے ایک استاد سے اور اس کی بیٹی کی عمر اس وقت محض 17 سال تھی۔ بیٹی نے چپ چاپ حامی بھر لی کیونکہ جب وہ گھر سے رخصت ہو کر جا رہی تھی تو باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“پہلی بار تم پر بھروسہ کیا ہے کبھی توڑنا نہیں” باپ کے ان الفاظ سے اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ نکل کر اس کے رخسار پر بہہ گیا جو کسی کو نظر نہیں آیا اور وہ پھر اپنے شوہر کے گھر آگئی۔ اس کا باپ کبھی اس کی ماں کو اس نے ملنے نہیں دیتا تھا۔
معلوم ہے جب اس لڑکی کی گود میں رحمت آئی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس نے اپنی بیٹی کو اٹھانے سے منع کر دیا۔ جب اس کے شوہر نے پوچھا تو اس نے کہا
“مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میں اس کے ساتھ نا انصافی نہ کر دوں۔” لیکن وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتی تھی۔ جب اس کی بیٹی چھوٹی تھی تو اس کی ایک آنکھ میں مسئلہ تھا تو ماں نے ڈاکٹر سے بات کر کے اپنی ایک آنکھ اپنی بیٹی کو دے دی۔
آج وہ خود ایک آنکھ سے دیکھتی ہے تاکہ اس کی بیٹی دونوں آنکھوں سے دنیا دیکھ سکے اور آج بھی وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ کیا وہ قابل تعریف نہیں ہے؟ جاننا چاہو گی کہ وہ کون ہے؟”
آمنہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ سر نفی میں ہلاتی بھاگ کر باہر گئی اور فوراً اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔ سمائرہ بیگم پہلے ٹھٹکیں اور پھر اس کا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولیں۔
” لاڈلی یہ تم رو کیوں رہی ہو۔ دیکھ چہرے کو کیا کر لیا ہے آخر ہوا کیا ہے؟”
” بس اس کی غلط فہمیاں دور کی ہیں تاکہ اس کے ذہن سے غلط سوچیں نکل جائیں۔” جواب آمنہ کی بجائے لقمان صاحب نے دیا۔
” نہ میری لاڈلی یوں نہیں روتے، تم تو ہمیشہ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہو۔ یہ روتی ہوئی لڑکی تو میری بیٹی نہیں ہے۔” وہ خفگی سے بولیں لیکن آمنہ نے انکا پر اطمینان چہرہ دیکھا۔
****************
Download Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ مرزا نگار سیف کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Mirza Nigar Saif All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Namehram by Rabea Tariq Complete novel
Mohabbat parsai hai by Sidra Malik
Zakham e dosti by Annaya Shah download pdf
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 662 Views











