TU Ishq Mera by Marwa Javed Complete novel

TU Ishq Mera by Marwa Javed Download pdf

About The Novel TU Ishq Mera by Marwa Javed

TU Ishq Mera by Marwa Javed Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

TTU Ishq Mera by Marwa Javed is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

Romance, Suspense, and Justice by Marwa Javed

If you are a fan of Pakistani Urdu literature that seamlessly blends intense romance with high-octane suspense and social justice, Tu Ishq Mera by Marwa Javed is a must-read masterpiece. This compelling novel breaks away from traditional storytelling tropes, offering readers a gripping narrative featuring strong characters, secret missions, family bonds, and revenge against evil.

In this comprehensive review and summary, we delve deep into the plot, character dynamics, major themes, and why this novel stands out in modern Urdu fiction.

At first glance, Tu Ishq Mera appears to be a heartwarming story about a wealthy and loving family—the Shah family. However, underneath the calm surface lies a dark underworld of human trafficking, illegal weapons, and crime syndicate networks.

The central protagonist, Eshal Shah (Eshi), leads a double life. To her doting parents, Rehan Shah and Huriya Begum, and her protective older brothers, Zalan and Haim, Eshal is a pampered and sweet young woman. But away from home, Eshal is the fierce leader of a vigilante group alongside her trusted friends: Rime, Ayla, Sarim, and Zoya.

Together, from a secret underground hideout in the woods, this group tracks down criminals who exploit innocent girls, delivering rough justice where the system fails.

The novel opens with an intense scene at a restaurant where two harassers make inappropriate remarks about Eshal. Demonstrating her inner rage and self-control, Eshal shatters a glass in her bare palm without flinching. Soon after, Eshal and her friends track down these harassers, revealing their involvement in a larger criminal ring.

2. Haim’s Return and Eshal’s Secret Revealed

Eshal’s brother, Haim—a compassionate doctor returning from abroad—notices Eshal sneaking into the house late at night. Upon confronting her, Eshal confides her secret vigilante operations to him. Though shocked at first, Haim steps in as a loving brother and doctor, dressing her injuries and promising to protect her secret while watching over her safety.

The climax of Eshal’s vigilante work centers on an operation against Akbar, a notorious criminal keeping over 500 girls captive in a basement, preparing to traffic them abroad. Eshal and her crew infiltrate the base, subduing the armed guards. While her friends evacuate the victims, Eshal discovers a traumatized young boy locked in a dark room and rescues him, showcasing her deep empathy.

The primary antagonist of the novel, Aliyar, uses blackmail and intimidation to force Zoya into a forced marriage. Just as the forced ceremony is taking place, the police—armed with solid evidence gathered by Eshal and her team—raid the venue. Aliyar is publicly arrested for human trafficking, illegal firearms possession, and drug dealing.

To protect Zoya from public scandal and give her the honor she deserves, Zalan Shah steps forward to marry her. Zoya is welcomed into the Shah Mansion with celebration, fireworks, and warmth. The story beautifully transitions into domestic romance as Zalan supports Zoya in healing from her past trauma, culminating in a poetic resolution of love and justice.

Eshal Shah: The heartbeat of the novel. Eshal challenges conventional female character tropes in Urdu fiction. She is independent, courageous, and fiercely protective of the innocent.

Zalan Shah: The epitome of strength, honor, and maturity. His protective instincts toward Zoya add a rich romantic dimension to the story.

Haim Shah: Brings warmth, humor, and emotional depth. His banter with Eshal balances the dark elements of crime and action.

Rime: The comic relief of the group who brings lightness to intense situations, whose budding romance with Aafia adds a touch of sweetness to the plot.

Zoya: Represents resilience. Her journey from victimhood to finding peace and love in the Shah household is deeply moving.

Justice Beyond the Law: The novel highlights the menace of human trafficking and portrays young individuals taking a stand against organized crime.

Family Bonds and Loyalty: The relationship between Eshal and her brothers (Zalan and Haim) showcases unconditional sibling support.

Healing and True Love: The romance between Zalan and Zoya demonstrates how love can heal past scars and offer a safe haven.

Tu Ishq Mera by Marwa Javed is an engaging blend of action, romance, family values, and mystery. With sharp dialogue, well-paced action sequences, and emotional depth, it keeps readers hooked from the very first page to the satisfying conclusion.

***************

Novel Summary in Urdu

“تو عشق میرا” مصنفہ مروہ جاوید کا لکھا ہوا ایک انتہائی سنسنی خیز، رومانوی اور ایکشن سے بھرپور اردو ناول ہے۔ کہانی کا بنیادی محور ایشال شاہ نامی لڑکی ہے، جو بظاہر ایک لاڈلی، نرم دل اور خوش مزاج گھرانے کی بیٹی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اور اس کے دوست مل کر ایک خفیہ مشن پر کام کر رہے ہیں۔ وہ معاشرے کے ان درندوں اور مجرموں کو قانون اور اپنے طریقے سے سزا دیتے ہیں جو بے گناہ اور معصوم لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔

اس ناول میں محبت، دوستی، قربانی اور خاندانی وابستگی کے رنگ بہت خوبصورتی سے نمایاں کیے گئے ہیں۔ ایک طرف جہاں ایشال اور اس کے دوستوں کی نڈر اور سنسنی خیز سرگرمیاں قارئین کی توجہ باندھے رکھتی ہیں، وہیں دوسری طرف شاہ مینشن کے خاندانی تعلقات، پیار محبت اور ہنسی مذاق سے بھرے مناظر کہانی کو توازن فراہم کرتے ہیں۔

ناول میں انسانی سمنگلنگ، ظلم اور انتقام جیسے سنگین موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ دکھایا گیا ہے کہ حق اور سچ کے لیے لڑنے والے کس طرح اپنی جان پر کھیل کر مظلوموں کا سہارا بنتے ہیں۔ سسپنس اور جذباتی موڑ سے بھرپور یہ داستان قارئین کو شروعات سے لے کر اختتام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔

کرداروں کا تعارف

ایشال شاہ (ایشی): کہانی کی مرکزی کردار۔ اپنے گھر کی لاڈلی اور ریحان شاہ کی بیٹی۔ بظاہر معصوم اور نادان لگنے والی ایشال اندر سے ایک نڈر اور باہمت لڑکی ہے جو ایک خفیہ مشن کے تحت مجرموں کو سزا دیتی اور مظلوموں کو بچاتی ہے۔

زالان شاہ: ایشال کا بڑا بھائی۔ ایک ذمہ دار، باوقار اور سنجیدہ انسان جو اپنے خاندان اور زویا کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

حائم شاہ: ایشال کا بھائی جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے۔ وہ زندہ دل اور مذاق کرنے والا ہے، لیکن ایشال کی حقیقت جاننے کے بعد اس کا محافظ اور ہمراز بن جاتا ہے۔

ریحان شاہ اور حوریہ بیگم: ایشال، زالان اور حائم کے والدین۔ محبت کرنے والے اور اپنے بچوں پر جان نچھاور کرنے والے۔

رائم، آیلہ، صارم اور زویا: ایشال کے مخلص دوست جو اس کے ہر مشن اور مہم میں برابر کے شریک ہیں۔

رائم: گروہ کا سب سے شریر اور شوخ رکن جو نازک لمحات میں بھی مزاح پیدا کرتا ہے۔

عافیہ: داستان کا ایک ثانوی کردار جس کا رائم کے ساتھ ایک معصوم اور جذباتی تعلق دکھایا گیا ہے۔

عالیار: کہانی کا مرکزی منفی کردار (Villain) جو معصوم لڑکیوں کی اسمگلنگ، غیر قانونی اسلحے اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہے۔

****************

About The Writer, Marwa Javed

مروہ جاوید جدید اردو ادب اور آن لائن ناول نگاری کی دنیا کا ایک ابھرتا ہوا اور مقبول نام ہیں۔ انہوں نے اپنے منفرد طرزِ تحریر، دلچسپ پلاٹ اور احساسات سے بھرپور مکالموں کی بدولت بہت کم عرصے میں قارئین، بالخصوص نوجوان نسل کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنائی ہے۔

مروہ جاوید کے لکھے ہوئے ناولز میں رومانس، سسپنس، خاندانی قدروں اور سماجی مسائل کو بہت خوبصورتی سے یکجا کیا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کے کرداروں کی جاندار عکاسی ہے؛ جہاں ایک طرف وہ جذبات و احساسات کی نازک تہوں کو کھولتی ہیں، وہیں دوسری طرف تھرلر اور ایکشن سے بھرپور مناظر کے ذریعے قارئین کو سنسنی کے سحر میں جکڑے رکھتی ہیں۔

ان کا ناول “تو عشق میرا” ان کی بہترین تخلیقات میں شمار ہوتا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف روایتی رومانوی داستان سے ہٹ کر ایک منفرد کہانی پیش کی ہے بلکہ انسانی رشتوں کی معصومیت، تحفظ اور انتقام کی عکاسی بھی کی ہے۔ مروہ جاوید اردو ناولز کے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز اور پبلشرز کے ذریعے اپنے قارئین کو باقاعدگی سے معیاری اور اثر انگیز تحریریں فراہم کر رہی ہیں۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

کیا ہوا۔۔۔ ؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔ ! ایشال خود کو گھورتے  ارزان سے پوچھنے لگی ۔

آپ بھی تو جب مجھ سے ملنے آتی ہیں تو میرے لیے گفٹ لاتی ہیں تو آج میں آپ کے لیے لے آیا ، ارزان بولا ۔

اچھا بابا ٹھیک ہے کچھ نہیں کہتی ، بائے دا وے تھینکس اِس گفٹ کے لیے ، ایشال مسکر کر بولی اور گفٹ بیگ میں سے بریسلیٹ ، لاکٹ اور گجرے نکالنے لگی ۔

لائیں میں پہناتا ہوں ، ارزان نے اُس کے ہاتھ سے وہ چیزیں لی اور خود پہنانے لگا جبکہ ایشال اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔

اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو آج وہ بھی اُس کے ساتھ ہوتی ، اُس کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی گزار رہی ہوتی ، لیکن کہتے ہیں نہ خوبیاں اور خامیاں تو ہر انسان میں ہوتی ہیں لیکن اُس کی یہ خامی تو ارضی تھی جو جلدی سے ٹھیک ہو جانی تھی ۔

ایشال اُس کے خود کے ہاتھ پر بوسہ دینے پر ہوش میں لوٹی ۔

یہ کہاں سے سیکھا تم نے ایشال نے پوچھا تو وہ مسکرا دیا ۔

بابا سے۔۔۔ ،وہ کندھے اُچکا کر بولا ۔

لیکن آپ کی ماما آپ کے  پاپا کے لیے محرم تھی لیکن میں تو ابھی نامحرم ہوں نہ ، ایشال نے پوچھا تو بولا ۔

تو آپ مجھ سے شادی کر لیں نے ، ارزان نے کہا تو ایشال چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔

چلو آؤ میں تمہیں اپنے لالا سے ملواتی ہوں ، ایشال نے بات بدلی اور اُسے لیے سٹیج پر آئی ۔

ارز یہ میرے لالا ہیں اور لالا یہ ارز ہے ، ایشال نے دونوں کا تعارف کروایا ۔

ہائے۔۔۔ ! کیسے ہو ارز۔۔۔۔ ؟ زالان نے اُسے خود سے لگایا ۔

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ، ارزان بولا ۔

میں ٹھیک ، زالان بولا ۔

کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد ایشال اُس کے ایک صوفے پر بیٹھا کر خود بھی اُس کے قریب ہی بیٹھ گئی ۔

ابھی وہ دونوں اپنی باتیں کرنے میں مصروف تھے جب یکدم ایشال کی نظر سٹیج پر پڑی جہاں ارب زالان سے مل رہا تھا ، وہ تو یہ دیکھ نارمل ہی رہی تھی لیکن  آنکھیں تو اُس کی تب پھٹی جب اُس کی اکرم پر پڑی ۔

ایشان بےساختہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی ۔

کیا ہوا اینجل۔۔۔۔ ؟ ارزان اُس کو اُٹھتے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

ارز تم اِدھر ہی بیٹھ اور یہاں سے ہلنا مت میں ابھی آتی ہوں ، ایشال اُسے کہتی جلدی سے صارم لوگوں کے پاس آئی ۔

صارم یہ اکرم یہاں کیا کر رہا ہے ، ایشال نے اُس سے پوچھا ۔

ایشی یہ ارب بھائی کے ڈیڈ ہیں ، میں خود بھی اُسے یہاں دیکھ کر شاکڈ ہوں ، مجھے یہی فکر ہے کہیں وہ ارز کو نہ دیکھ لیں ، صارم بولا تو ایشال نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی ۔

وہ ارزان کو واپس نہیں بھیجنا چاہتی تھی وہ یہاں آنے کے لیے کتنا ایکسیٹڈ تھا  ، اب اگر وہ اُسے واپس بھیجتی تو وہ اُداس ہو جاتا ۔

ایشال نے ارزان کی طرف دیکھا جو اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔

ایشی تم پریشان مت ہو ہم کچھ کرتے ہیں ، رائم اُسے کہتے وہاں سے چلا گیا ۔

ارزان جو اِدھر اُدھر دیکھنے میں مصروف تھا جب اُس کی نظر ایک شخص پر پڑی ، اُسے یوں لگا جیسے وہ اُس کا اری ہو ۔

اری۔۔۔۔ ، ارزان کے لبوں نے ہلکی سی حرکت کی ، وہ اپنی جگہ سے اُٹھتے اُس طرف چل دیا ۔

اری۔۔۔۔ ، ارزان نے اُسکے پیچھے کھڑے ہوتے اُسے پکارا جبکہ ارب جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔

وہ دونوں ایک لمحے کے لیے سٹک کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔

ارزی۔۔۔۔ ، ارب کے منہ سے بےساختہ نکلا ۔

ارزی۔۔۔۔ ، میرے بھائی تم اِدھر ، تم کدھر چلے گئے تھے ، میں نے تمہیں کتنا یاد کیا ، ارب اُس کے گلے لگ گیا جبکہ اُس کی آواز نم ہو چکی تھی ۔

اری۔۔۔ ، تم میرے اری ہو ، اینجل بلکل ٹھیک کہتی تھی وہ میرے اری کو ڈھونڈ لائیں گی ، دیکھو وہ تمہیں میرے پاس لے آئی ، ارزان اُس کے گلے لگ کر رونے لگا ۔

تم کدھر چلے گئے تھے، ڈیڈ کہتے تھے کہ تم بھی تایا تائی کے ساتھ سے مر گئے ہو لیکن مجھے لگتا تھا کہ تم زندہ ہو ، ارب اُس کی طرف دیکھ کر کہنے لگا جبکہ اُس کی بات پر ارزان کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا ۔

کیا ہوا ارزی۔۔۔ ؟ ارب اُس کی حالت دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

پ۔۔۔پانی۔۔۔ ، ارزان بولا تو ارب جلدی سے اُس کے لیے اپنی لینے بھاگا ۔

ایشال جو ارزان کو ڈھونڈتے وہاں آئی تھی جب اُس نے ارب اور اُس کی باتیں لی ۔

ارب کے وہاں سے جاتے ہی ایشال ارزان کو لیے وہاں سے چلی گئی ۔

ارب جب واپس آیا تو ارزان وہاں موجود نہ تھا ۔

ارزی۔۔۔۔  ، ارب بھاگ کر باہر آیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھا ۔

وہ ایک دفعہ پھر سے اُس کو کھو گیا تھا ۔

****************

Download TU Ishq Mera by Marwa Javedd in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Dahr by Eman Fatima Mushtaq Download pdf

Rab Rakha by Sania Hussain Download pdf

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 37 Views

Leave a Comment