Rab Rakha by Sania Hussain Complete novel pdf

Rab Rakha by Sania Hussain Download pdf

About The Novel Rab Rakha by Sania Hussain

Rab Rakha by Sania Hussain Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels historical story, partition based, love story, friendship based.

Novel Detailed Summary in English

The Red Veil of Sacrifice: A Review of “Rab Rakha” by Sania Hussain

Introduction: Historical fiction often focuses on the grand movements of nations, but “Rab Rakha” by Sania Hussain focuses on the microscopic destruction of the human heart during the 1947 partition. It is a story where the title, a blessing meaning “May God be your Protector,” becomes a final, agonizing goodbye. This novel explores the depth of a love that was sacrificed at the altar of religious fanaticism and political divide.

The Climax: When Neighbors Become Predators: The most chilling part of the novel is the transformation of Baldev. Once a best friend who swore to protect Shehryar, he becomes a leader of a mob thirsty for Muslim blood. This shift highlights how quickly social fabric can tear when fueled by hate. However, the author provides a silver lining through Balvinder, the younger brother, who helps Dilrit escape to warn her loved ones, proving that humanity can survive even in the darkest hours.

The Symbolic Meeting on the Roof: The secret meeting between Dilrit and Shehryar under the dim candlelight is a masterpiece of atmospheric writing. Dilrit’s plea for Shehryar to leave for Pakistan is not an act of betrayal to her own people, but a supreme act of love. She gives him her Red Veil (Surkh Aanchal)—a garment she had embroidered with dreams of their wedding. She selflessly asks him to give it to his future wife, accepting that their destiny in this world is forever severed.

The Ultimate Sacrifice: As the riots break out, the village of “Thaskan Miran Ji” turns into a slaughterhouse. In a final showdown, as Baldev swings his sword at Shehryar, Dilrit takes the blow. Her death is a powerful statement: love has no religion, and its blood is always red. She dies in the arms of the man she loved, making him promise to reach the promised land, Pakistan.

Themes of Eternal Grief: The novel concludes with the elderly Shehryar in Pakistan, still cherishing the red veil. The story emphasizes that some goodbyes are not just for a journey, but for an eternity. The fact that Shehryar never married again speaks volumes about the “immortality of love” that Sania Hussain intended to portray.

Why This Novel Resonates:

  • Authentic Emotions: The dialogue and the depiction of pain are raw and unpolished.
  • Cultural Symbolism: The use of the red dupatta and the Punjabi blessing “Rab Rakha” adds a layer of cultural depth.
  • A Warning for Humanity: It serves as a reminder of the horrors that unbridled hate can bring upon innocent lives.

Conclusion: Rab Rakha is a hauntingly beautiful tragedy. It teaches us that while maps can be redrawn and borders can be fenced, the human soul remains connected to the memories of those who loved us unconditionally. It is a poignant tribute to the unsung martyrs of 1947.

***************

Novel Summary in Urdu

رب راکھا تقسیم ہند کے وقت کی ایک مختصر سی داستان ہے ۔ دلریت اور شہریار کی محبت اور ان کی قربانیوں کی اور ایسی دوستی کی جو انسانیت کے ساتھ مر گئی۔

جس نے یہ بات سکھا دی کی بٹوارے کے وقت صرف زمین کا بٹوارہ ہی نہیں بلکہ دلوں کا بھی بٹوارہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے، جن کے ساتھ عمر گزری تھی وہی ہجرت کے وقت انسانیت کے احساس سے عاری ہوکر درندے بن گئے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی کہ وہاں دِلریت جیسے کتنے ہی لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی بس اس لیے کہ شہریار جیسے لوگ آزادی کا خواب پورا کر سکیں۔ یہ کہانی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی قیمت ادا کی تھی۔

“رب راکھا” تاریخ کے ان اوراق کی بازگشت ہے جو انسانیت کے زوال اور محبت کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔ ثانیہ حسین نے 1947ء کے کرب کو دِلریت اور شہریار کے کرداروں کے ذریعے اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ ناول دکھاتا ہے کہ جب سیاست اور مذہب درندگی کا لبادہ اوڑھ لیں، تو صرف وہ دل ہی محفوظ رہتے ہیں جو سچی محبت سے لبریز ہوں۔ “رب راکھا” صرف ایک الوداعی جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی دعا ہے جو موت کے مقتل میں زندگی کی نوید بن کر ابھری۔

کرداروں کا تعارف:

دِلریت: ایک نڈر سکھ لڑکی، جس کی کائنات شہریار کی محبت ہے۔ وہ ایثار اور قربانی کی وہ بلند ترین مثال ہے جو اپنے محبوب کو بچانے کے لیے اپنوں کی تلوار کے سامنے ڈھال بن گئی۔

رانا شہریار: ایک باوقار نوجوان، جس کی زندگی کا واحد سکون دِلریت کی آنکھیں تھیں۔ وہ آزادی کی قیمت اپنے محبوب کی صورت میں ادا کرتا ہے۔

بلدیو: دِلریت کا بھائی اور شہریار کا جگری یار، جس کی انسانیت کو فرقہ واریت کا زنگ لگ گیا اور وہ “محافظ” سے “قاتل” بن گیا۔

بلویندر: دِلریت کا چھوٹا بھائی، جو اس المیے میں انسانیت کا استعارہ بن کر ابھرا اور اپنی بہن کو شہریار کو بچانے کے لیے راستہ فراہم کیا۔

****************

About The Writer, Sania Hussain

ثانیہ حسین نے اس مختصر ناولٹ میں سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کا اسلوبِ بیاں اتنا پُر اثر ہے کہ قاری خود کو “ٹھسکاں میراں جی” کی گلیوں میں بھٹکتا محسوس کرتا ہے۔ مصنفہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی جذبات کے نشیب و فراز کو سمجھنے اور انہیں الفاظ کے ذریعے زندہ کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی تحریر میں موجود دردو کرب قاری کو تقسیم کے ان زخموں تک لے جاتا ہے جو آج بھی ہارے ہیں۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

” دل تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ حالات اب قدرے مختلف ہیں۔“ شہریار کا دل بیٹھنے لگا۔ دِلریت کو کچھ ہوگیا تو؟

” شہریار! اگر دِلریت تم سے کہے کہ تم ابھی کے ابھی یہاں سے چلے جاؤ تو کیا تم مانو گے؟ “

شہریار نے اسے ناسمجھی سے د یکھا۔

” اگلے محلے کے سکھ میرے ویربلدیو کے ساتھ مل کر آخری پہر تم سب کو مارنے آرہے ہیں۔ کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟ “

” دِلریت مگر یہ کیسے ممکن ہے۔ بلدیو میرا یار ہے۔“

” بٹوارہ صرف زمینی نہیں ہے شہریار ۔ اس نے دلوں کا بھی بٹوارہ کر دیا ہے اور اب بلدیو صرف سکھ ہے ۔ وہ مسلمانوں کا کچھ نہیں لگتا۔ اگلے محلے کے سکھ تعداد میں زیادہ ہیں شہریار۔ خود کو بچا لو۔ سب کو بچا لو۔ چلے جاؤ یہاں سے۔ “  شہریار اسے یک ٹک دیکھتا رہا۔ پھر اثبات میں سر ہلایا۔ جیسے وہ دِلریت کی ہر بات پر یقین رکھتا ہو۔ جیسے وہ دِلریت کا ہر حکم ماننے کو تیار ہو۔

(میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات)

” جاؤ شہریار ۔ پاکستان کی دھرتی تمہارے انتظار میں ہے۔ “ وہ پھر بولی۔ شہریار بول بھی نہ سکا۔ کیا جانا اتنا آسان ہوتا ہے ؟ کیا جا کر پھر کبھی نہ لوٹنا آسان ہوتا ہے؟

” میں بچاؤں گا۔ میں جس جس کو بچا سکا ، بچاؤں گا۔ “ دِلریت کو جیسے تسلی ہوئی۔ وہ مسکرا دی۔ رنج، دکھ، تکلیف ۔ کیا نہیں تھا اس کی مسکراہٹ میں۔

”تم تو جنموں پر بھی یقین نہیں رکھتے شہریار ۔ ورنہ میں تم سے کہتی، اس جنم نہ سہی اگلے جنم میں ملیں گے۔“

شہریار زخمی سا مسکرایا ۔

” اور میں تم سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ دل، میرا انتظار کرنا ۔ میں واپس لوٹ کر آؤں گا۔ “

دِلریت کے دل پر ایک اور گھاؤ لگا۔

” یہ سرزمین تمہاری نہیں رہی شہریار۔ یہاں کے لوگ تمہاری جان کے دشمن بن چکے ہیں ۔ وہ جو کبھی ساتھ رہا کرتے تھے ، اب زندگی ختم کرنے کے در پہ ہیں۔“

دِلریت رکی۔ پھر بولی ۔”کبھی لوٹ کر مت آنا شہریار۔ تمہیں بہت تکلیف ہوگی۔ یہ جگہ، یہ گاؤں مقتل بن چکا ہے۔ اسے پار کر جاؤ۔ اور پھر کبھی مقتل لوٹ کر مت آنا ۔ بہت سے زخم تازہ ہوں گے۔ “ شہریار خاموش رہا۔ دِلریت نے سچ ہی تو کہا تھا۔ اب وہ جگہ مقتل بن چکی تھی۔

****************

Download Rab Rakha by Sania Hussain in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Junoon tery ishq ka by Kainat Ijaz Complete

The real owner by Gull Writes Complete

Tum rooh ki khwab gah by Hina Asad Complete

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 762 Views

Leave a Comment