Jazeera e mohabbat novel by Sidra Younas Complete

Jazeera e mohabbat novel by Sidra Younas Complete

Jazeera e mohabbat novel by Sidra Younas — About the Novel

Jazeera e mohabbat by Sidra Younas is a captivating romantic novel that explores the lives of young characters navigating love, family expectations, and social dynamics. This engaging story highlights the emotional bonds and personal growth of its protagonists as they face life’s challenges together.

Novel Summary in Urdu

جزیرہء محبت سدرہ یونس کا ایک رومانوی ناول ہے جو ہنیہ، منہا اور سفیان نامی نوجوان کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی ان کی دوستی اور زندگی کے مختلف مراحل میں پیش آنے والے جذباتی اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ ہنیہ ایک زندہ دل اور نڈر لڑکی ہے جو اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے جینے کی خواہش رکھتی ہے، جبکہ اس کے دوست ہر قدم پر اس کا ساتھ دیتے ہیں۔

ناول میں خاندانی اقدار اور سماجی مسائل کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی کے دوران کچھ نئے کرداروں کا تعارف ہوتا ہے جو ان کی زندگیوں میں نئی کشمکش اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ ہنیہ کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ پختگی کی طرف بڑھتا ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داریوں اور جذباتی وابستگیوں کے درمیان توازن قائم کرنا سیکھتی ہے۔ ناول میں دوستی، محبت اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

کرداروں کے درمیان مکالمے اور ان کی آپس کی نوک جھونک کہانی کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ یہ کہانی نوجوانوں کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے جہاں جذبات اور حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ناول محبت کے ایک ایسے جزیرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر کردار اپنی خوشیوں اور خوابوں کی تعبیر پانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

Novel Detailed Summary in English

Jazeera e mohabbat follows the lives of Haniya, a spirited young woman, and her companions, Minha and Sufyan. The story begins with their adventurous late-night escapades, showcasing their close-knit bond and Haniya’s bold personality. As the narrative progresses, the characters encounter new people, including Dawar, whose presence introduces a sense of mystery and intrigue into their lives. The novel delves into the complexities of relationships, emphasizing the importance of family support and the evolving nature of love.

Throughout the story, the characters face various social and personal hurdles, which test their resilience and maturity. Haniya’s journey, in particular, highlights her transition from a carefree teenager to a more responsible individual, while maintaining her unique charm. The plot weaves together themes of friendship, familial duty, and the pursuit of happiness. As the characters grow, they learn to balance their personal desires with the expectations placed upon them by their loved ones.

The narrative captures the essence of youth and the enduring power of affection, painting a vivid picture of the characters’ lives as they navigate the path toward their future. The story remains grounded in the emotional experiences of its protagonists, offering a heartfelt look at their interconnected worlds.

Genre

Romantic Fiction

Key Themes

  • Friendship
  • Family Dynamics
  • Personal Growth
  • Romantic Relationships
  • Social Expectations

Short Scene from the Novel

جب وہ دونوں كالج پڑھتے تھے تب ان دونوں کی ایک کلاس فیلو نتاشا تھی داور کو وہ لڑکی شروع سے ہی بہت اچھی لگتی تھی شاید وہ اس سے محبت کرتا تھا وہ ہر بار اسکے آس پاس رہنے کی کوشش کرتا نوٹس میں اسکی ہیلپ بھی کرتا۔

پھر ایک دن داور نے اس سے محبت کا اظہار کیا تو نتاشا نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی بلکہ وہ اسکے کزن زوار سے محبت کرتی ہے حالانکہ زوار نے کبھی نتاشا کو گھاس بھی نہیں ڈالی تھی لیکن پھر بھی وہ داور کی نظر میں اسکا مجرم بن گیا تھا جو ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔

اس دن وہ بہت ہرٹ ہوا تھا اسے زوار سے نفرت محسوس ہوئی پھر وہ زوار سے کھینچا کھینچا رہنے لگا زوار نے اس سے کئی بار پوچھنا چاہا مگر داور نے اسے بہت برا بھلا کہا اور جتايا کہ وہ ہر بار اپنی وجہ سے اسے ہرٹ کرتا ہے اور اب جب وہ کسی لڑکی کو پسند کرتا تھا تب وہ لڑکی داور کی بجاۓ اسے پسند کرتی تھی۔

Download Novel

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

جزیرہء محبت

سدرہ یونس

مکمل ناول

رات کے ساۓ ہر طرف پھیلے تھے ہر کوئی اپنی نیند میں مگن سو رہا تھا۔ ایسے میں ایک خوبصورت علاقہ جہاں وہ بنگلہ اپنی پوری آب و تاب سے کھڑا تھا ایک سایہ کھڑکی سے اندر داخل ہوا اور کمرے میں سوۓ وجود کے پاس پہنچا۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا آنے والے کو دیکھنا مشکل تھا۔

منہا مزے سے گہری نیند میں مگن تھی تھی جب آہٹ کی آواز سے اسکی نیند میں خلل پیدا ہوا۔

ایک سایہ اسکی جانب بڑھا اور آہستہ سے اسکا کمبل کھینچا۔

کسی کے کمبل کھینچنے سے فورا منہا کی آنکھ کھلی کوئی انسان اسکے بیڈ کے پاس کھڑا تھا چہرے پر ہیلمٹ تھا اسکا پورا وجود پسینے میں نہا گیا ڈر کے مارے اس نے چیخ مارنی چاہی مگر مقابل نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چیخ کا گلا گھونٹ دیا۔

جلدی چلو . . . . اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے چہرے سے ہٹا کر کہا۔ نسوانی آواز سن کر وہ حیران ہوئی آنکھوں میں حیرت در آئی اور اگلے پل ہی وہ غصے سے اٹھی اور اسکا ہیلمٹ کھینچ اتارا۔

جیسے ہی ہیلمٹ اترا تو سیاہ گھنے بال کھلے اور اسکی پشت پر پھیل گئے۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسکا چہرہ واضح نہ ہوا مگر منہا جان چکی تھی وہ کون ہے منہا نے لائٹ جلائی اب اسکا چہرہ واضح ہوا وہ سترہ سال کی خوبصورت سی لڑکی جو اس وقت بلیک جینز کے اوپر گرین شرٹ پہنے ہاتھوں پر گلوز چڑھائے اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ہنی آدھی رات کو کیوں مجھے ڈرا دیا؟ وہ ہنیہ کو دیکھ کر غصے سے بولی۔

اف کتنی بھلکڑ ہو تم منہا ڈنر ٹائم بتایا تھا ناں آج رات ریس لگانی ہے بھول گئی کیا؟ ہنیہ اس کے بھلکڑپن پر افسوس کر کے بولی اور اپنا ہیلمٹ منہا سے لیا اور پہن لیا۔

اوہ شٹ میں بھول گئی . . . . منہا کو یاد آیا۔

چلو پھر جلدی راستہ صاف ہے اس سے پہلے کوئی اٹھ گیا تو مسلہ ہو جاۓ گا . . . یہ کہتے ہی ہنیہ باہر نکلی تو منہا بھی شوز پہنتے اسکے پیچھے بھاگی۔

وہ پچھلے لان کی جانب آئی جہاں ہنیہ اور سفيان بائیک پر بیٹھے اسکے انتظار میں تھے۔

منہا نے جلدی سے اپنی بائیک سنبهالی اور وہ تینوں گیٹ سے باہر نکل گئے ہنیہ نے پلٹ کر نوری( ہنیہ کی وفادار ملازمہ جو اسکی ہر شرارت میں اسکا ساتھ دیتی تھی) کو گیٹ بند کرنے کا اشارہ دیا اور فل سپیڈ میں نکل گئی۔ نوری نے گیٹ بند کیا اور پریشانی سے وہیں ٹہلنے لگی۔

اللّه نہ کرے ابھی صاحب یا میڈم اٹھ جائیں اگر وہ اٹھ گئے پھر تو تو گئی نوری . . . . . . . نوری گیٹ کے پاس پریشانی سے چکر کاٹتی ہوئی بولی۔ وہ انیس سال کی تھی ہنیہ کے سارے کام وہی کرتی تھی پہلے بھی ایک دو بار آدھی رات کو ہنیہ، منہا اور سفيان کی وجہ سے اسے بہت ڈانٹ پڑ چکی تھی آج بھی وہ اسی ٹینشن میں تھی۔ سب اللّه پر چھوڑتی وہ وہیں گھاس کے اوپر بیٹھ گئی اور انکی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔

******

وہ تینوں فل سپیڈ میں بائیک چلا رہے تھے ہنیہ سب سے آگے تھی منہا اسے کراس کرنے کے چکر میں تھی لیکن کر نہیں پا رہی تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے اس وقت سڑک خالی تھی اسی لیے وہ سب بے فکر ہو کر فل سپیڈ میں بائیک چلا رہے تھے۔

دیکھنا آج پھر میں ہی جیتوں گی . . . . ہنیہ اونچی آواز میں بولی۔

دیکھتے ہیں . . . . سفیان نے بائیک اسکے قریب کی اور اسکے پاس سے ہوتا تیزی سے آگے نکل گیا۔

تم مجھ سے جیت نہیں سکتے سفی . . . . . ہنیہ نے بائیک کو ریس دی اور کراس کرنا چاہا مگر وہ تو ہواؤں سے باتیں کرتا آگے نکل گیا۔ منہا ان دونوں سے پیچھے تھی۔

ہنیہ فل سپیڈ میں بائیک چلا رہی تھی جب دائیں جانب سے اچانک ایک کار آئی بائیک کی سپیڈ فل ہونے کی وجہ سے وہ بروقت بریک نہ لگا سکی۔ گاڑی والے نے اچانک بریک لگائی کار اور بائیک ایک انچ کے فاصلے پر مشکل سے

رکیں۔

گاڑی میں موجود آدمی غصے سے باہر آیا وہ دکھنے میں ہینڈسم لگتا تھا مگر چہرے پر کرختگی تھی۔

اندھے ہو کیا دیکھ کر نہیں چلا سکتے . . . . وہ بائیک والے کا کندھا جھنجھوڑ کر بولا اس آدمی کے چھونے پر ہنیہ بائیک سے اتری اور غصے سے ہیلمٹ اتارا سیاه بالوں کا آبشار پھر سے بہنے لگا گوری دمکتی رنگت، سیاہ بڑی بڑی جھیل آنکھیں جن پر سایہ فگن خمدار گھنیری پلکیں جو دیکھنے والے کو اپنا دیوانہ بنا لیتی تھی بلاشبہ وہ کافی خوبصورت لڑکی تھی اور کم عمر بھی تھی شاید اپنے بےپناہ حسن سے انجان تھی۔ داور نے اوپر سے نیچے تک اسکا معائینہ کیا۔

اتنی خوبصورت لڑکی وہ بھی آدھی رات کو بائیک چلاتے ہوئے . . . . مقابل کھڑا وہ آدمی کافی امپریسڈ نظر آتا تھا۔

ہاں اس سے تمہیں کیا تکلیف ہے؟ ہنیہ غصے سے بولی۔

تکلیف ہے ناں اب تمہیں دیکھ کر دل بےقابو ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی چلا جاؤں یا اس حسین موقع کا فائدہ اٹھاؤں ویسے پسند آئی چیز کبھی چھوڑتا نہیں ہوں لیکن . . . . وہ اسکی کلائی تھام کر بولا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو میرا ہاتھ . . . وہ اسکی بات کاٹ کر زور لگا کر اپنا ہاتھ چھڑاتی بولی منہا وہاں پہنچ گئی اور انجان آدمی کو ہنی کے ساتھ دیکھ کر رک گئی۔

ہاہاہا بہت جان ہے تمہارے اندر آئی ایم امپرسسڈ . . . . وہ اسے گہری نظروں سے تکنے لگا ہنیہ کو اس آدمی کی فضول گفتگو پر غصہ آیا۔

کیا ہوا ہنی؟ منہا بائیک اس کے قریب لے کر پہنچی اندر اندر سے وہ ڈر بھی رہی تھی۔

یہ پتا نہیں کون پاگل آدمی چمٹ گیا ہے چلو چلیں . . . ہنیہ بائیک پر بیٹھتی بائیک سٹارٹ کر کے بولی تبھی سفیان بھی واپس اسی طرف آ رہا تھا۔

نام بھی تمہاری طرح خوبصورت ہے ہنی یعنی شہد تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے قسمت پھر ہمیں ملائے گی ابھی کے لئے جا سکتی ہو شہد لیکن اگلی بار تمہیں جانے کا موقع نہیں دوں گا . . . . . وہ اسکی جانب دیکھ کر مسکراتا اپنی گاڑی کی جانب پلٹا اور اندر بیٹھ کر آخری نظر اسے دیکھتا چلا گیا۔ ہنیہ نے غصے سے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔

کون تھا یہ آدمی؟ سفیان اسکے پاس بائیک لا کر بولا۔

تھا کوئی فضول آدمی . . . . . ہنیہ نے منہ بنایا۔ اور تم ہمیں اکیلا چھوڑ کر آگے نکل گئے . . . . اب وہ سفیان پر غصہ نکالنے لگی۔

تم سے جیتنا بھی تو تھا . . . وہ مسکرا کر بولا۔

ہونہہ مجھ سے جیت نہیں سکتے . . . ہنیہ نے بائیک کو ریس دیتے ہوئے کہا۔

میڈم گھر واپس چلو مروانا ہے کیا ایک گھنٹہ ہو گیا ہے . . . منہا اسکا ارادہ بھانپ کر جلدی سے بولی۔

اتنا کیوں ڈرتی ہوں تم میں

ہوں نہ . . . . وہ آنکھ مار کر بولی۔

چلو ہنی اب گھر چلیں کل مجھے ہرا لینا . . . سفیان بھی ڈر کر بولا کیونکہ وہ جانتا تھا ہنی کو کسی نے کچھ نہیں کہنا تھا ساری ڈانٹ اسے پڑنی تھی۔

اچھا ڈرپوک ڈرو نہیں کل ریس لگاتے ہیں . . . . . وہ ان دونوں کے لٹکے ہوئے چہرے دیکھ کر بولی۔ وہ دونوں مسکرائے اور تینوں واپسی کے لئے پلٹ گئے۔

🌸🌸🌸🌸***************

شکر ہے ہنی بی بی آپ آ گئی ہیں ورنہ آج آپ کو ہماری لاش ملنی تھی . . . وہ تینوں گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو نوری کی جان میں جان آئی اور خوش ہو کر بولی۔

اف نوری اتنا کیوں ڈرتی ہو تم میں ہوں نہ پھر کیسے مرنے دوں گی تمہیں . . . . . ہنیہ بائیک سے اتر کر نوری کے پاس آئی اور اسکا گال چھو کر بولی۔

آپ تو بہت اچھی ہیں ہنی بی بی . . . نوری شرما کر بولی۔

اور میں کیسا ہوں نوری؟ سفیان اس کے پاس آ کر ہاتھ اپنے بالوں میں ڈال کر پوچھنے لگا ۔

آپ تو بہت وہ ہے صاحب وہ . . وہ . . . . نوری اب سہی معنوں میں شرما گئی اور ہچکچا کر بولی۔

وہ . . وہ . . کیا نوری؟ سفیان مسکراہٹ دبا کر بولا ہنیہ اور منہا نے بھی اپنی ہنسی دبائی۔

صاحب جی وہ جو ہوتا ہے ناں وہ جو لڑکا بہت سوہنا ہوتا ہے اسے انگریزی میں کیا کہتے ہیں ارے ہاں ہنڈسا وہی وہی ہیں آپ . . اب وہ مسکرا کر بولی۔

ہیں وہ کیا ہوتا؟ سفیان سوچ میں پڑ گیا جب کہ ہنی اور منہا زور زور سے ہنسنے لگیں۔

یہ ہنڈسا کیا ہوتا نوری؟ سفیان ناراضگی سے نوری کو دیکھ کر بولا۔

وہ جو بہت سوہنا ہوتا ہے صاحب جی وہی . . . نوری معصومیت سے بولی۔

تم ہینڈسم کہنا چاہ رہی ہو ناں نوری . . . ہنی نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔

جی بی بی جی بالکل وہی وہی ہینڈسم . . . نوری خوش ہو کر بولی تو سفیان مسکرایا۔

تھینک یو نوری تم بھی بہت پیاری ہو . . . . سفیان نے بھی مسکرا کر اسے کہا تو نوری چہرہ دوپٹے میں چھپاتی اندر بھاگ گئی اسکے جاتے ہی وہ تینوں کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔

کیوں اس بیچاری کو تنگ کرتے ہو ایک دن اس نے سچ میں دل ہار دینا ہے تم پر . . . . ہنی سفیان کا کان پکڑ کر بولی۔

مذاق کرتا ہوں اور جنگلی بلی اپنے یہ نیلز کاٹ لو کانوں میں گھس رہے ہیں . . . سفیان منہ بنا کر بولا۔

ہونہہ خود ہو گے جنگلی بلے . . . ہنیہ اسکا کان چھوڑ کر پلٹی جیسے ہی وہ پلٹی جمال صاحب کو دیکھ کر وہیں رک گئی منہا اور سفیان بھی پلٹے انکا بھی یہی حال تھا۔

کہاں تھے تم تینوں؟ وہ گرج کر بولے۔

ڈیڈ وہ ہم بائیک ریس لگانے گئے تھے . . . ہنیہ نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔

یہ ٹائم ہے آپکا باہر جانے کا بیٹا میں آپ پر غصہ نہیں ہونا چاہتا کیوں۔ مجھے غصہ دلاتی ہو آپ . . . . ہنیہ پر وہ چاہ کر بھی غصہ نہیں کر پاتے تھے۔

ڈیڈ پلیز ناراض نہیں ہوں مجھے بائیک ریس کا بہت شوق ہے . . . وہ جمال صاحب کے پاس آ کر انکا ہاتھ تھام کر بولی۔

تو بیٹا وقت بھی تو دیکھنا چاہیے ناں آپ لڑکی ہو لڑکیاں آدھی رات کو یوں منہ اٹھائے باہر نہیں نکل جاتی . . . وہ اپنی جان سے پیاری بیٹی کو دیکھ کر بولے۔

اچھا ڈیڈ آیندہ نہیں کروں گی ایسا . . . وہ اپنے کان پکڑ کر بولی منہا اور سفیان ڈرے ہوئے پیچھے ہی کھڑے تھے۔

میری پیاری بیٹی . . . وہ اسے گلے لگا کر بولے۔ جاؤ بیٹا سو جاؤ منہا بیٹا آپ بھی جاؤ . . . . وہ اسے دیکھ کر مسکرائے تو ہنیہ اور منہا اندر چلی گئیں سفیان بھی نظر بچاتا اندر جانے لگا جب جمال صاحب نے اسے کان سے پکڑ کر کھینچا۔

یہ کونسا ٹائم ہے ریس کا؟ اور وہ بھی دو جوان بچیوں کو ساتھ لے کر جانا کونسی عقلمندی ہے . . . . . . . جمال صاحب نے سفیان کی کلاس لی۔

چاچو میری کوئی غلطی نہیں یہ سب ہنیہ کا پلان تھا ہر بار کی طرح . . . . وہ اپنا کان چھڑاتا ہوا بولا۔

جھوٹ مت بولو تم بھی برابر کے شریک ہو ایک ہفتہ تمہیں کوئی پاکٹ منی نہیں ملے گی . . . . وہ اسے سزا سناتے اندر چلے گئے۔

یہ کیا بات ہوئی غلطی وہ میڈم کرے اور سزا ہر بار مجھے ملے اللّه پوچھے تمہیں ہنی چڑیل . . . . . . وہ دہائی اندر کی جانب بڑھ گیا اب پورا ہفتہ

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

اگر آپ اس مصنفہ کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک کو اوپن کریں

Sidra Younas کے مزید ناولز

Similar Novels

مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں

Categories and Tags

Categories:

Tags:

Frequently Asked Questions

Is Jazeera e mohabbat a complete novel?

Yes, Jazeera e mohabbat by Sidra Younas is a complete novel.

Who is the author of Jazeera e mohabbat?

The novel is written by the emerging writer Sidra Younas.

What is the main theme of the novel?

The novel primarily focuses on a romantic story intertwined with social and family issues.

👁 769 Views

Leave a Comment