About The Novel Shehr-e-Goristan by Maryam Awan
Shehr-e-Goristan by Maryam Awan Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Shehr-e-Goristan by Maryam Awan is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
The world of Urdu digital fiction is witnessing a shift toward deeply emotional, structural, and realistic storytelling. “Shehr-e-Goristan” (شہرِ گورستان) by Maryam Awan is a phenomenal addition to contemporary Urdu literature. The title, which translates to “The City of Graveyards: The City of Silent People,” sets a highly philosophical tone, exploring life, sudden losses, and the contrasting colors of human destiny.
Unlike linear stories, Maryam Awan introduces a multi-city narrative structure, taking readers through the emotional hospital corridors of Lahore, the vibrant family chambers of Gujranwala, and the chilly, orderly streets of London.
In sharp contrast to Lahore’s grief, the scene abruptly shifts to “Shah Villa” in DC Colony, Gujranwala. This segment introduces a massive, loud, and incredibly affectionate elite Punjabi joint family led by Ihtesham Shah and Mikail Malik.
The house is celebrating the engagement preparations of Munftasir Shah. Here, we meet a gang of six brothers—Mutasim (the mischief-maker), Murtasim, Meesam, Mance, Haris, and Aroon—who are playfully playing the dholak and singing traditional wedding songs. Amidst this hyper-masculine energy is Lamia Shah, the only sister of the house, who comfortably roams around in her brothers’ oversized hoodies. The witty banter, the friendly bullying, and the father-son dynamic provide top-tier comic relief, balancing the dark theme of the prologue.
***************
Novel Summary in Urdu
تمام تعریفیں ، عزتیں اللہ کے نام ۔
شہرِ خموشاں کی خاموشی میں کتنی آہوں ، سسکیوں
اور کتنی دردناک آوازوں کا شور پنہاں ہے یہ تو اللہ کے بعد وہاں کے مکین ہی جانتے ہیں ، ہم دنیا والے تو بس اتنا جان پاتے ہیں کہ جب کوئی اپنا موت کی وادی میں اتار کر شہرِ خموشاں کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر اس کے بعد شہرِ خموشاں کی خاموشی سے وحشت نہیں ہوتی ، نہ وہاں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے بلکہ وہ ویرانی آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے ۔
شہرِ خموشاں کے ویرانے میں نہ جانے کتنے لاکھوں لوگوں کی ایک خاموش دنیا آباد ہیں مگر پھر بھی وہاں دن کے اجالے اور رات کی تنہائیوں میں ہوائیں بین ڈالتی ہیں ، عالم ویرانی میں وحشت رقص بھرتی ہیں ، موت کا خوف چاروں طرف اپنا حصار باندھے ہوئے ہوتا ہے ، مگر پھر بھی نہ جانے کیوں وہاں کی خاموشی دنیاوی شور سے زیادہ عصاب پر اثر انداز ہوتی ہے ، یوں لگتا ہے جیسے وہاں گھر کا صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان آباد ہو ،
یوں لگتا ہے جیسے خوشیوں کے تمام راستے بس اس شہرِ خموشاں کے اندر آکر اختتام پذیر ہوگیے ہوں ، جیسے اپنوں کی قبر کے ساتھ آس پاس کی تمام قبریں اور ان کے مکینوں سے ایک عجیب سی اپنائیت اور انسیت محسوس ہوتی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ آپ کے عزیز سمیت پورا شہرِ خموشاں آپکی راہ دیکھ رہا ہوں ، کوئی نہ آنے کی وجہ پوچھ رہا ہوں تو کچھ اپنوں کی بے حسی کی شکایت لگا رہا ہوں جنھوں نے دوبارہ کبھی ان اُجڑی بکھری قبروں کی طرف غلطی سے بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
لوگ کہتے ہیں کہ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا مگر کوئی انھیں یہ بتائے کہ جدائی موت سے زیادہ سخت ہوتی ہیں انسان کو ہر پل موت سی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے ، اور لوگ آسانی سے کہہ دیتے ہے کہ موو اون کرنے کی کوشش کرو ” بھلا کوئی کیسے موو اون کرسکتا ہے اپنوں کو بھول کر ، ایک ہزار لوگ بھی آجائے نہ تو فقط اس ایک شخص کی کمی کو پورا نہیں کرسکتے جو وقت کی رفتار میں کہی بچھڑ گیے ہو خاص طور پر ماں کی “
ماں کی ضرورت تو انسان کو زندگی کے ہر مقام پہ پڑتی ہے ، یہ تو وہ ضرورت ہے جو کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی مگر ناجانے پھر بھی کیوں مجھے جیسے ناجانے کتنے بچے بہت جلد اس ضرورت سے محروم ہوجاتے ہیں اور پھر وہ بچے وقت سے پہلے بڑے ہوجاتے ہیں ‘ بالکل اپنی ماں کی طرح !!
کسی اپنے کی موت کے بعد دنیا کی تمام محفلیں بے رونق نظر آتی ، سانس سینے میں گھٹنے لگتا ہے ، بہار میں پھول نہیں کھلتے ، درختوں کو ثمر نہیں لگتے بلکہ ہر آنیولا وقت یادوں کے زخم تازہ کرتا ہے شاید اس لیے وقت کے پہیے میں یادوں کے عکس دھندلاتے نہیں ہیں ۔
مگر پھر بھی دل میں اک اُمید سی ہوتی ہے کہ شاید وہ کبھی ، کہی ، کسی مقام پر مل جائے ہمارا کوئی آنسو ، کوئی کوشش ، کوئی دعا بچھڑے ہوئے کو واپس کھینچ لائے جو کہی دور کسی ویران قبر کے نیچے زیرِ آباد ہے ، جو کبھی اندھیروں سے ڈرتے تھے، جسے کبھی بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کے کڑکنے سے وحشت ہوتی تھی مگر آج وہ ہر خوف کو بلاطاق رکھے اس قبر میں تنہا ہے ۔
پتہ ہیں اپنوں کی موت کے بعد انسان صرف زندگی گزارتا ہے کبھی جی نہیں پاتا ” اور گزرنے گزارنے کے اس سفر میں انسان خود بھی کسی روز ، کسی مقام پر گزر جاتا ہے ۔ سفر اختتام ہوجاتا ہے ، سانسوں کا بوجھ ختم ہوجاتا ہے ، اذیتوں میں جکڑی روح نیلے اُفق پر آزادنہ پرواز بھرتی ہے ، بے جا خواہشوں کا سراب آخرکار تمام ہوتا ہے ، حرس و حواس اور ” میں ” میں کا شور فضاؤں میں دم توڑ جاتا ہے ، اونچا مرتبہ اور زیب و زینت ‘ دوگز زمین اور فقط ایک سفید کپڑے میں بدل جاتی ہے ، نرم و نازک اور حسن و جمال وجود مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے فقط ایک مٹی کا ڈھیر !!!
اور بالکل اسی طرح ہم بھی کسی روز خاموشی سے اس شہرِ خموشاں کا حصہ بن جائے گئے جہاں ہر سو وحشت فضاؤں میں رقص بھرتی ہے ، جہاں تنہائی مراثیہ گنگناتی ہے ، جہاں خوف و ڈر کسی خون آشام بلا کی طرح اپنے شکار کے طاق میں رہتا ہیں “”” یہی شہرِ خموشاں کے خاموش مکینوں کا سفاک پیغام ہے ۔۔۔ !!
****************
About The Writer, Maryam Awan
مریم اعوان ایک حساس سوچ رکھنے والی اُردو افسانہ و ناول نگار ہیں جو انسانی جذبات، دکھ، محرومی اور حقیقت پر مبنی کہانیوں کو خوبصورتی سے الفاظ کا روپ دیتی ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر دل میں اتر جانے والا، نرم مگر مؤثر ہوتا ہے جو قاری کو نہ صرف جذباتی طور پر جھنجھوڑ دیتا ہے بلکہ دیر تک ذہن پر اثرانداز بھی رہتا ہے۔
“عام الحزن” جیسے نازک موضوع کو مریم اعوان نے جس خوبصورتی سے بیان کیا، وہ ان کے فنِ تحریر کی پختگی کا ثبوت ہے۔ وہ ان موضوعات کو چنتی ہیں جو دل سے نکل کر دل تک پہنچتے ہیں — درد، جدائی، خاموش تکلیف اور جذبات کی ان کہی کیفیات۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والے کو احساس دلاتی ہیں بلکہ اندر تک اُتَر جاتی ہیں۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
بھیا آپ نے اپنی اس فنٹر کو اسکول کب بھیجنا ہے ؟ ۔۔ آغا فارذ کی گود میں چڑھی روحی کو دنیا جہاں کی باتیں کرتا دیکھ سامنے بیٹھے فواد نے دلچسپی سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ جانتا تھا ابھی میڈم کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجانا تھا ۔
فادی “”” کہاں سے یہ میرا معصوم بچا فنٹر لگتا ہے تمہیں ؟ ۔۔ فواد کے سوال پہ روحی کو کڑے تیور لیے اُس کی طرف ہوتا دیکھ آغا فارذ نے فورا بیچ میں بولنا مناسب سمجھا کہ کہی وہ پٹھاکہ جل نہ اُٹھے ۔۔
بھیا یہ آپ کو کہاں سے معصو لگتی ہے ؟ معصوم تو یہ ہے میری نھنی سی گڑیا ۔۔ آغا فارذ کے کہنے پہ فواد نے اُلٹا اُن سے سوال کرتے ساتھ بیٹھی حور کی گود میں موجود شہوار کی طرف اشارہ کرتے بتایا تو نھنی پیشانی پہ بل پڑا ۔۔
میرا بیٹا چاروں طرف سے معصوم ہے “” ۔۔ فواد کو گھورتی روحی کے گالوں کو چومتے باپ نے محبت سے کہا تو آغا ماموں مسکرا گئے ۔۔
اولاد چاہے بوڑھی بھی کیوں نہ ہوجائے ماں باپ کے لیے ہمیشہ ہی بچی رہتی ہے جیسے ہمارے لیے تم دونوں ۔ بھلے اب تم لوگ خود باپ بن گیے ہو مگر میرے لیے آج بھی تم دونوں بچے ہی ہو ۔۔ آغا ماموں نے بھی بات میں حصہ لیا ۔۔
آدا دانی جے تاچو تو بالے ( سمجھا لے ) جے ہل بال لوحی تو داندا بولتے لیتے ہے ۔۔ شاید اُسے فواد کا بولنا برا لگ تھا تبھی ناک نکوستے وہ باپ کے اگے یوں بولی جیسے اگر وہ نہ مانا تو وہ ڈون کی بچی کچھ کردی گئی ۔۔
گندے کو گندا ہی بولتے ہے ” ۔۔ مسکراہٹ ضبط کیے فواد نے مزید اُسے چھیڑا ۔ پورے گھر میں ایک وہ واحد ہی تھا مرحا فارذ کا دشمن ۔۔
آدا دانی دیتھ لو نہ تاچو تو “” ۔۔ اُسے پھر بولتا دیکھ وہ نظریں اٹھائے غصے سے چیخی ۔ انداز چڑچڑا تھا ۔
فادی نہ کرو تنگ میری بچی کو ۔۔ دادی بھی پوتی کی معصومیت کو دیکھتی پیار سے بولی تو میڈم کی آئیبرو اونچی ہوئی ۔ گھر کا ہر فرد اُس کی سپورٹ میں تھا ۔۔
فادی میں دیکھ رہا ہوں تمہیں تم کچھ زیادہ ہی نہیں میرے بیٹے کو تنگ کرنے لگے ؟ ۔۔ مسکراہٹ ضبط کئے آغا فارذ زبردستی لہجے میں غصہ لیے بولے آخر کو بیٹی کا مان بھی تو برقرار رکھنا تھا ۔۔
بھیا آپ کا بیٹا جب ہر وقت میری بیٹی کے پیچھے پڑھا رہتے ہے وہ ” وہ تو بیچاری کچھ کہہ نہیں سکتی تو اب اس کے بابا ہی اس کی سپورٹ میں بولے گے کہ نہیں آپ بھی تو اس میسنی کے پیچھے ڈانٹتے ہے نہ مجھے ۔۔ فواد بھی کمر پہ ہاتھ رکھے فل لڑاکا موڈ لیے بولا ۔ ناشتے کا میز ہو اور ان چاچا بھتیجی کی لڑائی نہ ہو یہ تو ناممکن سی بات تھی ۔۔
آدا دانی تاچو تھود بول لے ہے دے تو دندی دول تلتی ہی نہیں ہے تو لوحی تھتے بادے دی فر ۔۔ چاچو کی بات فل پاور سے جھٹلا گئی ۔ اتنا کھلا تضاد اُسے پسند نہیں آیا تھا ۔
ہاں بھئی بتاؤ اب کیسے بھاگ سکتی ہی میری گڑیا تمہاری گندی ڈول کے پیچھے ۔۔ بیٹی کی بات پہ سر تسلیم خم کرتے انھوں نے حور کی گود میں بے فکری سے سوئی شہوار کی طرف دیکھتے کہا ۔ اُس بیچاری کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ غلطی نہ ہوتے بھی وہ ان چاچا بھتیجی کی لڑائی میں ہر روز شامل ہوجایا کرتی تھی ۔۔
بھیا یہ غلط بات ہے بھئی میری معصوم بچی کو تو بنا غلطی کے بدنام کیا ہوا اپ کی بیٹی نے ۔ فواد کے اشارے پہ حور بھی ماتھے پہ بل لیے بولی ۔ مقصد صرف اس توتلی وکیل کو چڑانا تھا ۔۔
آہہ ” دیتھ لے ہے اپ آدا دانی جے تاچی بھی اب تاچو تے شاتھ مل دی ” ۔۔ ہر کسی کی بغاوت منظور تھی مگر اپنی فیورٹ چاچی کی بغاوت کی قطعی اُمید نہیں تھی تبھی گرے آنکھیں اور منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
کوئی بات نہیں آغا جانی تو اپنے بیٹے کے ساتھ ہی ہے ۔۔ اپنی مضبوط گرفت میں اُس چالاک یونیکورن کو جکڑتے آغا فارذ نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ سب کے برعکس میرال کا فوکس ناشتے پہ تھا کیونکہ ابھی تو وہ باپ کا دماغ کھا رہی تھی مگر اُن کے جانے کے بعد وہ ماں سے چیپٹ جانے والی تھی تبھی اُسے اینرجی کی خاصی ضرورت تھی ۔۔
لوحی تو نی لینا ایتھ دھر میں “‘ ادھر توئی لوحی تے پار نی ترتا ۔۔ ضدی لہجا لیے وہ سر نفی میں ہلاتی بولی گرے آنکھوں میں واضح ناراضگی تھی ۔
****************
Download Shehr-e-Goristan by Maryam Awan in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ مریم اعوان کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Jory asmano pe banaty hain by Laiba Yousaf Complete novel
Tum adhoori ho novel by Meerab Hayat
Zama Janaan by Tamana Noor Complete novel
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 354 Views

















