About The Novel Spectra 17 by Juhaina Arwish
Spectra 17 by Juhaina Arwish Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around Forbidden love, Psychological tension Secret agent (emotionless, dangerous) Bold heroine × stone-hearted hero, Unspoken possession, one-sided intensity……
Table of Contents
Novel Detailed Summary in English:
If you are searching for Spectra 17 by Juhaina Arwish, you can easily read online or download PDF to enjoy this amazing Urdu novel anytime. The complete novel is available here for all readers who love quality Urdu literature.
Spectra 17 by Juhaina Arwish is a thrilling and captivating Urdu novel that combines emotions, suspense, and thought-provoking twists. The writer Juhaina Arwish has beautifully crafted this story to keep readers engaged from the very first page till the end.
The story of Spectra 17 by Juhaina Arwish revolves around unforgettable characters, deep emotions, and powerful situations. Each chapter brings a new revelation, making it impossible for readers to put the book down. The unique storytelling style and creative imagination of Juhaina Arwish give this novel a special place among modern Urdu fiction.
It has Unique and gripping storyline full of suspense.Strong emotional depth and beautifully developed characters.Spectra 17 by Juhaina Arwish** is a perfect read for Urdu novel lovers who enjoy meaningful stories.Download & Read Online Spectra 17 by Juhaina Arwish
************
Novel Summary in Urdu
“جب دل سے خالی لوگ کسی کو ‘اپنا’ کہتے ہیں،
تب وہ صرف ساتھ مانگتے نہیں — وہ آزادی چھین لیتے ہیں۔”
“یہ کہانی ہے اُس محبت کی،جو ایک لڑکی کے دل میں عبادت کی طرح جاگی ، اور ایک ایسے مرد کے دل پر گری، جو احساس کے ہر ذرے کو ریزہ ریزہ کر دینے کا فن جانتا تھا۔”
“وہ ہارتی رہی… مگر جھکی نہیں”
اور وہ؟ توڑتا رہا… مگر کبھی قریب نہیں آیا”
وہ لڑکی خاندان کی آنکھوں کا تارا تھی
“گڑیا سی پیاری”، “سائنس کی دیوی”، “ایٹیٹیوڈ کی کوئن “،جو کبھی کسی کے آگے نہیں جھکی…
وہ جس کمرے میں جاتی، روشنی ساتھ لے جاتی اسکی سبز آنکھوں پر دنیا مرتی تھی
مگر ایک شخص تھا —جس کے سامنے وہ روشنی مدھم پڑ جاتی تھی۔
وہ اُس سے ڈرتی نہیں تھی —
بلکہ شدت سے، جنون سے، کھل کر محبت کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
ہر بار کہتی:
“ہاں، میں تم سے محبت کرتی ہوں — اور کرتی رہوں گی۔”۔۔۔۔۔۔
اور وہ؟ہر بار چپ رہتا… مگر چلا بھی نہیں جاتا۔
وہ پتھر تھا ،پگھلتا نہیں تھا لیکین اس کے لئے وہ پتھر کی صورت ایک راز تھا جسکو دریافت کرنے کا وہ قسم کھا چکی تھی کیونکہ وہ خود اس میں کھو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ایسا سایہ تھا ، جو چلتا تو روشنی پیچھے ہٹ جاتی تھی۔
دل؟ اُس کے لیے صرف خون پمپ کرنے والا عضلہ تھا۔
احساس؟ صرف مشن میں خلل ڈالنے والا لفظ۔۔۔۔۔
اُسے محبت سے نہیں،خود سے ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا:
“میں جہنم ہوں ، وہ مجھے سنوارنے نہیں آئی، خود برباد ہونے آئی ہے۔”
وہ اُسے اپنی ملکیت کہتا تھا —
“وہ میری ہے۔”مگر ساتھ ہی یہ بھی جانتا تھا:
“وہ مجھے قابو نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
کیونکہ میں وہ ہوں، جو خود کو بھی کنٹرول نہیں کرتا۔”
وہ لڑکی؟
وہ ہنستی تھی، بچھتی تھی، اور ہر بار اُس کی خاموشی پر خود کو ہارتے ہوئے محسوس کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
اور وہ شخص؟
وہ اسے چاہتا تھا —اپنے ہی اصولوں کے خلاف، مگر اپنے انداز میں۔۔۔۔۔۔
نہ چھوڑتا تھا، نہ اپناتا تھا۔
بس اسے تڑپتا دیکھ کر زندہ رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
************
About The Writer, Juhaina Arwish
جوہینہ اروش ایک باصلاحیت لکھاری ہیں جنہیں لکھنے کے ساتھ ساتھ مصوری اور اسکیچنگ کا بھی شوق ہے۔ وہ خیالی ناولوں کی شوقین قاریہ ہیں اور منفرد انداز میں اصل کہانیاں تخلیق کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ “تعبیرِ حیات” سے قبل وہ دو ناولز تحریر کر چکی ہیں، اگرچہ وہ ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔ جوہینہ اروش محنت پر یقین رکھتی ہیں اور اپنے ادبی سفر میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد رکھتی ہیں۔
****************
Short Scene From Novel
ویسے شرم تو نہیں آئی نا، جس ملک میں رہ رہے ہو ، اس کی وردی کو پہنا ہوا ہے اور اسی سے غداری کر رہے ہو۔۔۔
وہ آگے بڑھا اس نے زور سے پیوست چھری کو اس گارڈ کے آنکھ سے نکال دیا ۔ ایک زوردار چیخ اسکے منہ سے نکلنے لگی ۔ دھب کی آواز سے وہ نیچے گرا اسکی آنکھیں پھر سے جنرل پر مرکوز ہوئی ۔۔۔۔۔
ہم بات کر سکتے ہیں ، دیکھو میری بات سنو ! وہ دونوں ہاتھ اٹھا چکا تھا ۔ اس نے اپنے گارڈ کو دیکھا جو زمین پر تڑپ رہا تھا۔۔۔۔
میں تمہیں پیسہ، طاقت ، بینک، بیلنس، رینک سب کچھ دے سکتا ہوں ۔ اس کے پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔دائیں طرف سے اس سائے پر دوسرے گارڈ نے گولی چلائی تھی مگر وہ جھک گیا تھا ۔ گولی دیوار میں سراخ کر گئی ۔ اس نے گھوم کر پیچھے سے ایک طوفانی لات ماری اور گن اس کے ہاتھ سے اچھل کر ہوا میں اڑ کر اس کے ہاتھ میں گری۔۔۔۔
نائس گن فار یور ڈیتھ ۔ اس نے اس گن کو دیکھ کر کہا اور پھر ٹھاہ کی آواز سے گولی سیدھا اس گارڈ کے ماتھے کے آر پار ہو گئی۔۔۔۔۔۔
وہ جگہ ابھی خالی ہو گئی تھی ۔ صرف وہی سایہ اور جنرل کھڑے رہ گئے تھے ۔ سایہ گھوم کر جنرل کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔
دیکھو میری بات سنو تم جو چاہتے ہو میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔
میری تربیت میں مجھے صرف وطن کی محبت اور دشمن کی موت سکھائی گئی ہے ۔ وہ بہت ریلیکس انداز سے ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا. جنرل نے ایک خفیہ بٹن دبایا تھا لیکن سائے کو اس بارے میں پتہ نہیں چلا۔۔۔۔
تمہیں کس نے بھیجا ہے؟؟؟ آرمی نے یا آئی ایس آئی نے ؟؟؟ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔ وہ تمہیں بھی استعمال کر رہا ہے میری بات مان لو ۔۔۔۔۔
باہر سے دو گارڈز اور بھی آ گئے تھے کیونکہ انہیں سگنل مل گیا تھا ۔ اس نے پیچھے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دباتے اس نے سلائیڈ کر کے تیزی سے آگے بڑھ کر ایک کے گلے کا نس کاٹ لیا اور دوسرے کو گھما کر بینڈ کر کے اس کے کمر کو توڑ دیا ۔ دونوں ایک ساتھ گرے اور دونوں کے زمین پر گرنے کی آواز پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے واپس جنرل کی طرف بڑھ گیا ۔ اس بار کوئی مزاحمت اس تک پہنچنے کے لیے سائے کو نہیں روک سکتی تھی ۔ اپنے دفاع کے لیے جنرل نے گن نکال کر گولی چلائی ، مگر وہ پھر سے بچ گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ دوسری بار گولی چلاتا ۔ اس نے اس کے منہ پر ایک مکا مارا اور گردن پر ایک دھپ رسید کیا ۔
جنرل سیدھا زمین پر گر گیا ۔ اس کی گن اس سے تھوڑے فاصلے پر گرا ۔ سائے نے پاؤں کے ٹھوکر سے اس کو دور اچھال لیا ۔ وہ ابھی اس کے قریب کھڑا زمین پر اس کو پڑا دیکھ رہا تھا ۔ جیسے موت بے رحمی سے کسی کو دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو، میں نے جو کیا ہے لوگوں کے بھلے کے لیے کیا ہے ۔۔۔۔
سائے نے ٹیبل پر پڑے لیپ ٹاپ سے یو ایس بی کو نکال لیا ۔ وہ ابھی پھر سے جنرل کو دیکھنے لگا۔ ابھی تک کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا جنرل نے بھی نہیں!!!!! وہ جھک کر ایک پاؤں اس کے سینے پر رکھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔۔
تم نے صرف غداری کی ہے ۔ بہت سے جوانوں اور شہیدوں کے ماں باپ کو ، ان کے بچوں کی زندگیوں کے بدلے پیسے دیے ہیں ۔ تمہارا کوئی حق نہیں ہے زندہ رہنے کی۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ پلیز مجھے مت۔۔۔۔۔ اس کی آواز منہ میں رہ گئی تھی ۔ ایک تیز بلیڈ نما چری جو اس نے اپنے پینٹ کے پاکٹ سے نکالی تھی ۔ اس نے اس کے دل میں پیوست کر دیا ۔ وہ ابھی بھی مرا نہیں تھا۔۔۔
تمہارے لیے تو یہ موت بالکل آسان بن جائے گی ۔ مجھے کچھ اور سوچنا پڑے گا ۔ وہ اس کے اوپر سے اٹھنے لگا ۔ اس کی وہی گن جسکو اس نے ٹھوکر مارا تھا نظریں اسی پر ٹھہر گئی ۔ وہ اسے اٹھانے لگا۔
کیا خیال ہے جنرل ! آج تمہاری گن سے تمہیں مزہ چکاتے ہیں ۔ وہ بے جان ہو رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں !!!!!!! تم مر نہیں سکتے تمہیں یہ درد سہنا ہوگا ۔۔۔۔۔
ٹھاہ! ٹھاہ! ٹھاہ! گن کے تین گولیاں اس نے اس کے جسم میں اتار دیے ۔ اس سے پہلے کہ وہ مرتا اس نے موت کے درد سے اسکو روشناس کرایا تھا۔ اب بچنے کی تو چانس نہیں بنتی تھی ۔ خون نے جیسے وہاں کے فرش کو نہلانے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ وہ گن کو وہیں پر پھینک گیا ۔ اپنے کان میں لگے ڈیوائس کو ٹچ کرنے لگا ۔ دوسری طرف سگنل مل گئی تھی۔۔۔۔
سپیکٹرا 17 کیا رپورٹ ہے، ریڈیو پر آواز آئی ۔۔۔۔
دی میشن از اوور۔ روبوٹک انداز۔۔۔۔
جنرل ریاض از فنشڈ ۔ جیسے یہ اسکے لئے عام سی بات ہو۔۔۔۔۔
ڈیٹا محفوظ ہے۔خطرناک حد تک سرد لہجہ اور بات ختم ۔ دوسری جانب سننے والے کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی ،
تم نے اپنے کام کو رات کے خاموشی میں کر دیا مگر اس کی آوازیں بہت دور تک جائیں گی۔ وہ جو بھی تھا اس کی خوشی اس کے الفاظ سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔
اٹس مائی ڈیوٹی سر! بغیر مزید کوئی اور بات کر کے وہ اپنی طرف سے ڈس کنیکٹ کرنے لگا۔ اس نے ایک نظر اس بینکر میں دیکھا ۔ پانچ لاشیں زمین پر بے جان پڑی تھیں۔ وہ جیسے آیا تھا بالکل ویسے کسی سائے کی طرح اندھیرے میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔
****************
Download Spectra 17 by Juhaina Arwish in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ جہینہ اروش کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Juhaina Arwish All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Dasht e harjaye by Sara Urooj Season 1 Complete
Tere sang yara by Irfa Ijaz Complete
Tamasha e mohabbat by Mahi Rajpoot Complete
************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 916 Views



















Thanks for post complete this novel I love This novel and this writer is may favourite writer ❤️❤️❤️
Wow ! amazing
I love it ……….
Finally I find something unique ……….
The amaan qaisar’s character ……….has become one of the most favrt character of mine
I think I should update my crush 😝