Kaif e dil by Mahi Shah Complete novel

Kaif e dil by Mahi Shah Download pdf

About The Novel Kaif e dil by Mahi Shah

Kaif e dil by Mahi Shah Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Kaif e dil by Mahi Shah is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

A Riveting Tale of Sacrifice, Destiny, and Protection

Urdu literature has always been rich with stories that touch the soul, but few manage to weave social issues with emotional depth like Mahi Shah‘s complete novel, “Kaif-e-Dil”. This novel is not just a romantic saga; it is a profound exploration of a mother’s sacrifice and a man’s journey to becoming a guardian of a broken family.

The story opens in a dark, suffocating environment where Faiza, a woman enduring a miserable marriage with a drug addict named Aman, is in the throes of labor. Her struggle represents thousands of women trapped in abusive relationships. When her husband refuses to help, she turns to Kaif, her foster brother and an SSP in the police force. This moment sets the stage for a dramatic shift in the lives of all involved.

The medical emergency at the hospital presents a tragic choice: save the mother or the newborn twins. Faiza, embodying the ultimate spirit of motherhood, chooses her children over herself. However, her concern for her 13-year-old daughter, Dil, haunts her last moments. Fearing that Aman will exploit or neglect Dil, she begs Kaif to marry her daughter right then and there.

The Nikkah of 25-year-old Kaif and 13-year-old Dil is the most controversial yet pivotal point of the novel. Mahi Shah handles this sensitive topic with immense maturity, focusing on the concept of ‘Tahaffuz’ (Protection) rather than a traditional marriage. Kaif takes on the role of a father, a mentor, and a legal guardian to Dil and her newborn brother, Sahil.

No great novel is complete without a compelling antagonist. Zumar Rajput, the man behind the “Black Mahal,” enters the story as a dark shadow seeking revenge against Kaif. In a shocking twist, he abducts one of the newborn twins from the hospital, leaving Kaif devastated. Zumar’s character is complex—he is a man driven by the loss of his beloved Tamanna, and his actions are a reflection of his internal turmoil.

As the story progresses, we see the characters maturing. The transition from childhood to youth for characters like Dil and Sahil is beautifully portrayed. Dil, now the “Dhadkan” of Kaif’s life, evolves from a scared little girl to a woman who understands the weight of her husband’s sacrifices.

  1. Motherhood: Faiza’s death to give life to her children.
  2. Protection vs. Exploitation: Kaif’s role as a savior against Aman’s negligence.
  3. Justice and Revenge: The cat-and-mouse game between the police (Kaif) and the underworld (Zumar).
  4. Family Unity: The concluding chapters show a grand reunion of families, proving that blood is not the only thing that binds people.

The final pages of the novel introduce us to the next generation—Kashir, Dhadkan, Jiya, and Roshni. The cycle of love and fear continues as Kashir shows an interest in Dhadkan, calling her his “White Fairy.” Meanwhile, Zumar Rajput, despite his power, remains a prisoner of his past and the health struggles of his daughter, Roshni.

If you are a fan of Urdu novels that offer a mix of social drama, intense emotions, and a touch of suspense, “Kaif-e-Dil” is a must-read. Mahi Shah’s ability to keep the reader hooked from the first labor pain of Faiza to the final playful interactions of the children is commendable.

***************

Novel Summary in Urdu

“کیفِ دل” مصنفہ ماہی شاہ کے قلم سے نکلی ایک ایسی جذباتی اور معاشرتی داستان ہے جو انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں، قربانیوں اور تقدیر کے فیصلوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ کہانی ایک مجبور ماں کی اپنی اولاد کے لیے دی گئی عظیم قربانی سے شروع ہوتی ہے اور پھر محبت، بدلے اور تحفظ کے ایسے سفر پر نکلتی ہے جہاں تیرہ سالہ “دل” اور پچیس سالہ “کیف” کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے جڑ جاتی ہیں۔

ناول میں جہاں ایک طرف معاشرتی تلخیاں اور نشے کی لعنت (امان کا کردار) دکھائی گئی ہے، وہیں دوسری طرف کیف جیسا محافظ اور ضمار راجپوت جیسا پراسرار کردار کہانی میں سسپنس اور جذبات کا تڑکا لگاتے ہیں۔ یہ ناول قارئین کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں درد سے مسکراہٹ تک کا سفر بہت طویل مگر خوبصورت ہے۔

کرداروں کا تعارف:

کیف ملک: ایک فرض شناس پولیس افسر، جو دل کا محافظ اور شوہر بن کر اس کی زندگی میں آتا ہے۔ وہ ایک باپ کی طرح فائزہ کے جڑواں بچوں کو پالتا ہے اور دل کے بچپن کو تحفظ دیتا ہے۔

دل (دلکش کیف ملک): ایک معصوم اور خوبصورت گرے آنکھوں والی لڑکی، جو تیرہ سال کی عمر میں ماں کی جدائی اور نکاح جیسے بڑے بوجھ کو سہتی ہے۔ وہ کیف کو ماموں ہی پکارتی ہے مگر آہستہ آہستہ اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتی ہے۔

فائزہ: دل کی ماں، جس کی موت کہانی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔

ضمار راجپوت: ایک پراسرار اور طاقتور کردار (کالا سایہ)، جو کیف سے بدلہ لینے کے لیے ہسپتال سے جڑواں بچوں میں سے ایک بچی کو اغوا کر لیتا ہے۔ اس کا اپنا ماضی “تمنا” نامی لڑکی کی موت کے گرد گھومتا ہے اور وہ اسی کا بدلہ کیف سے لینا چاہتا ہے۔

لبابہ: ضمار کی بیوی، جو اپنی اپاہج بیٹی روشنی اور بیٹے کے ساتھ ضمار کے “بلیک محل” میں رہتی ہے۔

****************

About The Writer, Mahi Shah

ماہی شاہ اردو ادب کی دنیا میں اپنے منفرد اسلوب اور انسانی نفسیات کو الفاظ میں ڈھالنے کے ہنر کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور عورت کی لاچاری کو بہت موثر انداز میں بیان کرتی ہیں۔

ماہی شاہ نے اپنے کیریئر میں کئی مقبول سوشل اور رومانوی ناول تخلیق کیے ہیں، لیکن “کیفِ دل” ان کے بہترین کاموں میں سے ایک ہے، جس میں انہوں نے ایک تیرہ سالہ بچی کے نکاح جیسے حساس موضوع کو بہت وقار اور احتیاط کے ساتھ نبھایا ہے۔ ان کا قلم قاری کو جذباتی طور پر کہانی کے ساتھ جوڑے رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

یہ کیا ہوا ہے تمہیں لبابہ  امنہ نے کہا تو لبابہ نے اکرم کو دیکھا اور پھر چلتی ہوئی امنہ اور طہام کے پاس گئی اور مشکل سے صوفے پر بیٹھی پھپھو اپ بیٹھے میں اپ کو بتاتی ہوں۔۔۔۔

امنہ نے ایک نظر اکرم کو دیکھا اور پھر لبابہ کو اور پھر خاموشی سے بیٹھ گئی طہام نے بھی لبابہ  کو دیکھا اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔

پھپھو  مجھے اپ لوگوں کو کچھ بتانا ہے اپ لوگوں کو ہمت سے سننا ہوگا جو میں بتانے جا رہی ہوں لبابہ نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے امنہ کو کہا تو امنہ نے حیرانگی سے لبابہ کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔””

جو بات ہے نہ لبابہ  وہ صاف صاف بولو کیا ہے اور کیف کہاں ہے طہام  تو کہہ رہا تھا تم کیف کو لے کر اؤ گی لیکن وہ کیوں نہیں ایا۔۔۔۔۔۔

ہبی جان ہبی جان۔۔۔۔۔۔لبابہ کی اواز سنتے دل سے کمرے سے نکل کر سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی نیچے ائی تو لبابہ  نے اسے دیکھا جو کہ تیار ہو کر نیچے ائی تھی اور لبابہ کے پاس ا کر کھڑی ہو گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

لبابہ  آپی ہبی  جان کہاں ہے وہ کدھر ہیں ایک تو پتہ نہیں ہبی  جان کو کیا ہے مجھے تنگ ہی کرتے رہتے ہیں ان کو بولتی نا جلدی اجائیں میں تیار ہو گئی ہوں ہم نے باہر گھومنے جانا تھا ائس کریم کھانے جانا تھا دل اپنے دونوں ہونٹوں کو مروڑتے ہوئے کہنے لگی جبکہ لبابہ  کا ایک دل کیا کہ وہ ان کو نا بتائے لیکن اسے زیادہ بتانا ہی بہتر لگا۔۔۔۔۔۔””

لبابہ تم دل کو دیکھنا چھوڑو اور مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے امنہ نے ذرا سہتی سے کہا تو لبابہ  نے امنہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

پھپھو ہم ہم ایک مشن میں گئے تھے تو وہاں پر جس گینگسٹر کو ہم نے پکڑنا تھا وہ پہاڑی سے نیچے گر گیا اور اس نے مجھے بھی گولی ماری ٹانگ پر اس لیے میری یہ ٹانگ زخمی ہو گئی ہے لبابہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

ہاں تو یہ اچھی بات ہے لبابہ کے وہ گینگسٹر پہاڑی سے نیچے گر گیا ہے اور تم ٹھیک ہو نا تمہیں کہیں اور تو نہیں لگی ۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں لیکن۔۔۔۔

لیکن کیا لبابہ کھل کے بات کرو میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔۔

لیکن پھوپھو اس گینگسٹر کے ساتھ ساتھ کیف بھی پہاڑی سے نیچے گر گیا ہے کہ۔۔۔۔ کب۔۔۔۔۔۔ کب سے پولیس والوں سے ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کیف کی لاش نہیں۔۔۔۔۔۔۔

لبابہ  بس کرو تمیں بولتے ہوئے شرم نہیں ارہی تم کیف کے بارے میں کیا بکواس  کرتی جا رہی ہو امنہ غصے سے صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور غصے سے لبابہ کو کہنے لگی تمہارا کزن ہے وہ دوست ہے شرم آنی  چاہیے تمیں  اپنے دوست کے بارے میں اسے کہتے ہوئے کہ اس کی لاش نہیں مل رہی پاگل ہوگی تم تمہارے  دماغ میں گولی لگی ہے تمہارے امنہ کو سمجھ نہیں ائی تو وہ کیسا ری ایکشن دے جب کہ طہام کے تو ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تھے اور دل تو عجیب نظر سے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

لبابہ۔۔۔ آپی۔۔۔۔کک۔۔۔سس۔۔۔۔کس کی لاش نہیں ملی طہام  نے اٹکتے ہوئے کہا وہ اب 17 سال کا ہو گیا تھا چھوٹا بچہ نے تھا وہ لبابہ کی بات نہ سمجھ پاتا۔۔۔۔۔۔

طہام  میری بات غور سے سنو اس گیسٹر کو گولی ماری تھی تو کیف نے اس کا گریبان پکڑا ہوا تھا تو وہ پہاڑی سے نیچے گرا تھا کیف بھی پہاڑی سے نیچے گر گیا اور نہ ہی اس گینگسٹر کی لاش ملی ہے نہ ہی کیف کی۔۔۔۔۔

طہام نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا لبابہ آپی کک۔۔کااا۔۔۔۔کیا کیا کہہ رہی ہیں اپ ہ کیف بھائی کیف بھائی۔۔۔۔۔۔

ہبی  جان کیا ہوا ہے ہبی  جان کو لبابہ اپی کیا کہہ رہی ہیں اپ کہ ہبی جان پہاڑی سے نیچے گر گئے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ وہ ہبی جان پہاڑی سے نیچے کیسے گر سکتے ہیں اپی وہ تو اپنی دل کے بغیر کہیں نہیں جاتے اپنے دل کے بغیر وہ وہ نہیں رہتے ہیں دل کے بغیر اپ سمجھ رہی ہیں نا دل ساکت نگاہوں سے لبابہ ظ کو دیکھتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگی۔۔۔۔۔””

دل کی حالت دیکھ کر لبابہ  کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔

دل  اؤ میری گڑیا میری بات سنو لبابہ  نے دل کو پکڑنا چاہا لیکن دل نے لبابہ  کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑوایا ۔۔۔۔۔””

نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔لل۔۔لبابہ آپی آپ جھوٹ کہہ رہی ہیں ہبی جان پہاڑی سے نیچے گر گئے ہیں کیسے وہ نیچے گر سکتے ہیں انہوں نے صبح مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ائیں گے اور مجھے گھمانے لے کر جائیں گے اور ہبی جان نا اپنے  سارے وعدے پورے کرتے ہیں اپ  جھوٹ بول رہی ہیں اپ  جھوٹ ہی گندی ہیں گندی ہیں دل یہ کہتے ہوئے دوبارہ سے کمرے میں بھاگ گئی جبکہ امنہ نے ساکت نگاہوں سے اکرم اور لبابہ کو دیکھا جو کہ خود بھی رو رہے تھے۔۔۔۔۔۔

لبابہ  پلیز سچ بتا دو ایک ماں کے ساتھ ایسا مذاق۔۔۔۔۔

پھپھو کیا اپ کو لگتا ہے کہ میں اس طرح کا مذاق کر سکتی ہوں لبابہ کی انکھوں سے نکلتے انسو اس کی بے بسی اس کی ٹانگ پر لگی گولی اس کی بات پر گواہی

اس کی ٹانگ پر لگی گولی اس کی بات پر گواہی اس کی بات پر گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔

میرا بیٹا ابھی تو میرا بیٹا مجھے ملا تھا وہ صبح مجھے کہہ کے گیا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ ٹائم گزارے گا بہت سالوں سے میں نے اسے اپنا بیٹا نہیں مانا تھا لبابہ  لیکن دیکھو نا جب میں نے اپنا بیٹا مانا وہ مجھ سے الگ ہو گیا کیسے لبابہ دیکھو نا میری بات سنو وہ کیف کو بولوں اس کی ماں اس کا انتظار کر رہی ہوں بولو نا امنہ کا دل کر رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔۔۔

پھپو اپ  ہی ہمت ہار جائیں گے تو دل اور طہام  کو کون سنبھالے گا طہام جو اب ساکت نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اس کی انکھوں سے اب انسو نکلنے لگے تھے۔۔۔۔۔

مطلب لبابہ آپی  میرا بھائی وہ وہ میرا بھائی ایسا کیسے جا سکتے ہیں مجھے چھوڑ کے میں میں کیسے سنبھالوں گا  پتہ ہے وہ صبح مجھے کہہ کے کہتے ہیں کہ میں میں ان کے دل کا خیال رکھو ماما کی خیال رکھو اگر مجھے پتہ ہوتا نا کہ وہ وہ ہم سے الگ ہوتے ہیں کہ میں انہیں کبھی بھی گھر سے باہر نہ جانے دیتا لبابہ آپی انہیں بولے نا  ایک دفعہ وہ واپس ا جائیں مین اکیلے سب نہیں سنبھال سکو گا  طہام  جلدی سے لبابہ  کے گلے لگا تو طہام  کو گلے لگاتے ہی لبابہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اس گھر میں جتنی خوشیاں تھی اب اس گھر میں ماتم  بچ گیا تھا طہام کی ہچکیوں سے رونے کی اوازیں امنہ کی رونے کی اوازیں اور لبابہ کی پھوٹ پھوٹ کا رونے کی اواز اس گھر میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔

دل۔۔۔۔ دل کو سنبھالو میں چھت پر نہیں جا سکتی ورنہ میں دل کو خود سمجھاتی لبابہ نے طہام  کو کہا تو طہام نے نفی میں سر ہلایا نہیں لبابہ اپی میں دل کو کچھ بھی نہیں کہہ پاؤں گا میں اسے نہیں سمجھا پاؤں گا میں کیا بولوں گا اسے وہ کب سے تو اپنے ہبی جان  کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں اپنے بھائی کا وعدہ بھی تو پورا کرنا ہے  نا دل کا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔

ہاں اپی میں میں دل کا خیال رکھوں گا اور ماما کا بھی خیال رکھوں گا طہام  نے امنہ کی جانب دیکھا جو اپنے قدم اب اپنے کمرے کی جانب لے گئی تھی اس سے کچھ بھی بولنے نہیں ہو رہا تھا اپنے اپ کو کمرے میں لے جا کر اس نے اپنے اپ کو بند کر دیا اکرم تو اپنی بہن کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں تھا نہ ہی اس نے امنہ کو کچھ کہا کیونکہ امنہ اکرم کی بات تو کبھی بھی نہ سنتی۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں لبابہ اور اکرم اپنے گھر میں چلے گئے لبابہ کو تھوڑا ریسٹ بھی کرنا تھا اور اس میڈیسن کھا کر سونا بھی طہام  دل کے کمرے میں گیا تو دل کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا لیکن دل دروازہ ہی نہیں کھول رہی تھی۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

طہام کب سے دل کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ دروازہ ہی نہیں کھول رہی تھی۔۔۔

دل دروازہ کھولو پلیز۔۔۔

نہیں نہیں مجھے نہیں کھولنا مجھے ہبی جان چاہیے مجھے ہبی جان چاہیے اندر سے دل کے ضدی پن  کی اواز انا لگی طہام کو اس کے لہجے میں صاف روتا ہوا لہجہ محسوس ہوا طہام  کے دل کو کچھ ہوا اس کے لیے دل کو سنبھالنا بہت مشکل ہونے والا تھا۔۔۔۔۔

اچھا دل پلیز دروازہ تو کھولو نا میں کیف بھائی کو لے اؤں گا طہام  نے دل کو سمجھانا چاہا جب دروازہ کھٹک کی اواز سے کھلا تو سامنے دل جو تھوڑی دیر پہلے فراک پہن کر تیار ہو کر نیچے گئی تھی اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور رو رو کر اس نے اپنی انکھوں کا کاجل اپنے پورے چہرے پر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

دل کیا ہو گیا ہے کہ تمہیں اپنی کیا حالت کر لی ہے۔۔۔۔

طہام لبابہ آپی کیا کہہ رہی تھی کہ میرے ہبی  جان پہاڑ  سے نیچے گر گئے تو کیا وہ  کبھی واپس نہیں ائیں گے لبابہ  آپی جھوٹ بول رہی تھی نا بتاؤں مجھے۔۔۔۔۔

دل میری بات سنو ایسی بات نہیں ہے کیف بھائی کو کچھ بھی نہیں ہوا وہ پتہ ہے نا پولیس والے ہیں تو پولیس والوں کو نا ایک مشن ملتا ہے تو گنڈوں کو پکڑنے کے لیے تو انہیں پکڑنے کے لیے گئے ہے طہام  نے جھوٹ بولنا چاہا تو دل نے گھور کر طہام  کو دیکھا۔۔۔۔۔

****************

Download Kaif e dil by Mahi Shah in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Kaif e qalb by Nazz Bakhat

Teri yadon ke hujre mein by Saadat Bashir Complete novel

Rooh e mehram by Umm E Omama Season 2

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 1.3K Views

Leave a Comment