About The Novel Khayin by Abdulahad Butt
Khayin by Abdulahad Butt Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around historical fiction.
Table of Contents
Khayin by Abdulahad Butt is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
A Tale of Love, Betrayal, and Despair
Introduction “Khain” is a soul-stirring Urdu novel written by the talented Abdulahad Butt. It is a historical and romantic tragedy that explores the boundaries of faith and the devastating consequences of forbidden love. The story spans across the famine-stricken Kashmir of 1875 to the vibrant yet tragic streets of Amritsar and Lahore in 1912.
The narrative follows Noor-ul-Ain (Nuri), a girl from a reputable Muslim family whose life takes a dark turn when she falls for Shankar, a Hindu poet. What starts as a poetic romance quickly turns into a nightmare of social boycott and personal loss. After Shankar is imprisoned for two years, Nuri’s world collapses. Her elders pass away in grief, and she finds herself abandoned by destiny.
The novel reaches its peak when Shankar, after escaping prison, finds Nuri in the infamous Heera Mandi of Lahore. She is no longer the innocent girl of Amritsar; she is now a courtesan known as ‘Rani’. The encounter between the two on a rooftop in Lahore is one of the most heartbreaking scenes in modern Urdu fiction. Nuri refuses to return, believing her soul is too tainted for redemption.
- Rich Vocabulary: Abdulahad Butt’s command over Urdu is exceptional.
- Historical Accuracy: The depiction of pre-partition India is vivid.
- Emotional Depth: It challenges the reader to think about the true meaning of “Khain” (the traitor).
***************
Novel Summary in Urdu
خائن محض ایک افسانوی داستان نہیں بلکہ روح کے اضطراب، عقیدے کی مضبوطی اور انسانی جذبات کی کشمکش کا ایک آئینہ ہے۔ کہانی کا آغاز 1875 کی ریاستِ کشمیر کے اس ہولناک دور سے ہوتا ہے جہاں قحط نے انسانیت کو سسکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہاں سے یہ داستان 1910 کے امرتسر کی گلیوں تک کا سفر طے کرتی ہے، جہاں محبت اور ایمان کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔
ناول کا مرکزی کردار نور العین (نوری) ہے، جو ایک قدامت پسند مسلم خاندان سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کا دل شنکر نامی ایک ہندو نوجوان اور اس کی شاعری کے سحر میں گرفتار ہے۔ یہ ناول ان گناہگاروں کے نام ایک انتساب ہے جو اپنی خطاؤں کو خدا کی رحمت سے بڑا سمجھ بیٹھتے ہیں۔
کیا نوری اپنے خاندانی وقار اور ایمان کی خاطر اپنی محبت قربان کر دے گی؟ یا پھر “شنکر” کی محبت اسے ایک ایسی راہ پر لے جائے گی جہاں سے واپسی ناممکن ہے؟ عبدالاحد نے اس ناول میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اصل “خائن” (غدار) کون ہے؟ وہ جو معاشرتی اصولوں سے بغاوت کرے، یا وہ جو اپنے دل کی آواز کو کچل دے؟
ناول “خائن” کی یہ داستان جتنا سوز اپنے نام میں رکھتی ہے، اس کا انجام اس سے کہیں زیادہ الم ناک اور روح فرسا ہے۔ آپ کی ہدایات کے مطابق، اس مکمل ناول کا اردو خلاصہ، انگریزی بلاگ پوسٹ اور دیگر مواد درج ذیل ہے:
عبدالاحد کا ناول “خائن” ایک ایسی تحریر ہے جو قاری کو 1875 کے قحط زدہ کشمیر سے اٹھا کر 1912 کے ہیرا منڈی لاہور کے کوٹھوں تک لے جاتی ہے۔ یہ کہانی صرف محبت کی نہیں، بلکہ عقیدے، سماجی جبر، اور فیصلوں کے اس موڑ کی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
کرداروں کا تعارف
نور العین (نوری): ایک معزز مسلم خاندان کی لڑکی، جو اپنی پاکیزگی اور خاندانی روایات کے حصار میں قید تھی، مگر محبت نے اسے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں اس کا ایمان اور وقار دونوں داؤ پر لگ گئے۔
شنکر ناگپال: ایک ہندو شاعر، جس کی شاعری اور شخصیت نوری کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر سحر بن گئی۔ وہ نوری کی محبت میں قید خانوں کی اذیت جھیلتا ہے مگر آخر میں ایک ناکام عاشق کے روپ میں ابھرتا ہے۔
گلاب فاطمہ (دادی): خاندان کی بزرگ اور روایات کی پاسدار، جن کا انتقال نوری کے فرار کے صدمے سے ہوا۔
یاور: نوری کا منگیتر، جو ایک فوجی تھا اور نوری کی زندگی میں استحکام کی علامت بن سکتا تھا۔
****************
About The Writer, Abdulahad Butt
عبدالاحد اردو ادب کے افق پر ایک ایسا ابھرتا ہوا نام ہیں جن کی تحریر میں کلاسیکی ادب کی خوشبو اور جدید عہد کے انسانی جذبوں کی عکاسی بیک وقت ملتی ہے۔ ان کا اسلوبِ بیان سادہ مگر نہایت پر اثر ہے، جو قاری کو محض ایک کہانی نہیں سناتا بلکہ اسے اس عہد کے جیتے جاگتے مناظر میں لے جاتا ہے۔
عبدالاحد کی خاصیت ان کی وہ گہری مشاہداتی نظر ہے جس کے ذریعے وہ انسانی نفسیات کے پیچیدہ گوشوں کو بڑی مہارت سے کریدتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج اور انسانیت کے لیے تڑپ صاف جھلکتی ہے۔ ناول “خائن” میں ان کا قلم جس طرح تاریخی اور معاشرتی تضادات کو جوڑتا ہے، وہ ان کے فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
”نور العین؟ تم تو میری سوچ سے زیادہ حسین نکلی۔ “ اس نے جسم کا اوپری حصہ آگے بڑھایا اور ایک ادا سے نور العین کے گلے لگی۔ نورالعین پتھرا گئی۔
”شنکر نے بھی بہت سوچ کر تمھیں پسند کیا۔ چاند کا ٹکڑا ہو۔ شاید اس سے بھی زیادہ حسین۔ آؤ میرے ساتھ چلو۔“ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر جانے لگی۔
”نہیں۔ ہمیں جانا ہوگا۔ دیر ہورہی ہے۔“ وہ متذبذب کے عالم میں شنکر کو بتانے لگی، مگر شنکر کو اس عورت کی موجودگی میں جیسے چپ لگ گئی تھی۔
”ارے۔ اتنی جلدی؟ مجھے تو تم سے بہت باتیں کرنی تھیں۔ بہت ساری۔“ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک دوسرے کمرے لے جانے لگی۔ نورالعین نے بنا لحاظ ہاتھ چھڑوایا اور شنکر کو دیکھا۔
”ہمیں جانا ہوگا۔“ اب کی بار اس نے شنکر کو سختی سے گھورا۔ شنکر جیسے چونکا۔
”انھیں جانے دیں۔ ان کا لوٹ جانا ضروری ہے۔“ شنکر نے بے جان لہجے میں کہا۔ شیتل کے لب اوہ میں ڈھلے۔ اس نے نور العین کا ہاتھ چھوڑا۔
”کم سے کم ایک تصویر کھینچوائے بغیر میں تم کو جانے نہیں دے سکتی۔“ اس نے نورالعین کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”تصویر؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟“وہ دوبارہ گھومی، ابکہ اس کی آنکھوں میں خفگی تھی۔ شنکر ہنوز خاموش کھڑا تھا۔
”آپ جانتے ہیں نوراتری میں جب ہم یہاں آئے تھے تب اسی وقت گھر لوٹے تھے اور دادی جان نے ہماری خوب خبر لی تھی۔ ہم تاریخ دہرانا نہیں چاہتے۔ “ اس نے شنکر پر جیسے اس کی چُپ باور کروانا چاہی۔
شنکر نے لب کھولے مگر شیتل کے آگے کچھ بھی کہنے میں ناکام ٹھہرا۔
”میں تمھاری یاد اپنے پاس سلامت رکھنا چاہتی تھی۔“ شیتل مصنوعی سا خفا ہوئی۔
”ہم یہاں نہیں رکیں گے۔“ نورالعین نے گردن تن کر کہا۔
”اوہو۔ آپ تو نوراض ہی ہوگئیں۔“ شیتل مسکرائی۔ ”ٹھیک ہے، ہم آپ کو نہ روکیں گے۔ آپ ہماری ہونے والی بہو ہیں، سو ملاقات کے بیشتر موقع ملیں گے۔“
اس بات پر نور العین نے طیش سے شنکر کو دیکھا۔آنکھوں میں اس کے لیے خفگی کا اظہار جا بجا سلامت تھا۔
”ایسا کچھ نہیں ہورہا۔ “
نور العین نا محسوس انداز میں پیر پٹختی کمرے سے جانے لگیں۔
”رُک جائیے۔ رات بہت ہورہی ہے۔ بگھی ڈھونڈنے میں مشکل ہوگی۔ شنکر کے ساتھ جائیے۔“
وہ مزے لینے والےا نداز میں کہہ کر صوفے پر بیٹھی۔ پھر شنکر کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ دونوں مڑے بغیر چلنے لگے۔
”اور دونوں یہ بات اچھی طرح سے دماغ میں بٹھا لو۔ شادی تو میں کروا کر رہوں گی۔“ آواز میں دھمکی گھلی۔ نور العین نے پھر مشتعل ہو کر شنکر کو دیکھا۔ گویا کچھ نہ کہنے پر اسے ملامت کر رہی ہو۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور شنکر اس کے پیچھے چلنے لگا۔
”اس حسن کے ٹکڑے نے، آنا میرے پاس ہی ہے۔“ اس نے زیر لب دہرا کر تالی پیٹی۔
****************
Download Khayin by Abdulahad Butt in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ عبدالاحد کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Abdulahad Butt All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Dil e matamzada by Fatyma Saleem
Yadon ki dhool by Muqadas Younas
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 921 Views











