Maahiyat by Sania Hussain download pdf
Maahiyat by Sania Hussain Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which She pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Maahiyat by Sania Hussain is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
************
Novel Summary in Urdu
“ماہیت” ایک دل کو چھو لینے والا ناول ہے جو صرف ایک رومانوی کہانی نہیں، بلکہ روحانی سفر، خود شناسی اور احساسات کے گہرے رنگوں سے جڑی داستان ہے۔ یہ کہانی انسان کے اندر کے جذبات، کشمکش، محرومی، اور اپنی پہچان کی تلاش کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ ناول میں کرداروں کی ذہنی اور روحانی تبدیلی کو دکھایا گیا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل خوبصورتی انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔
************
About The Writer, Sania Hussain
کبھی کبھی انسان خود کو ہی کھو دیتا ہے۔ نہ چہرہ باقی رہتا ہے نہ پہچان۔ صرف ایک سوال رہ جاتا ہے۔ میں کون ہوں؟
ماہیت ایک ایسی داستان ہے جو بظاہر کامیاب، مضبوط، اور مکمل دکھنے والے کرداروں کے اندر چھپی اُس سچائی کی پرتیں کھولتی ہے جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہے۔ یہ کہانی ہے اُن لوگوں کی جو زندگی کی دوڑ میں اپنے اصل وجود کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ جو دکھتے کچھ اور ہیں مگر اندر سے ٹوٹے اور بکھرے ہوئے ہیں۔
یہ ناول سچ اور جھوٹ کے درمیان جھولتے ضمیر، ذات کی تلاش، اور روح کی پکار پر مبنی ایک ایسا سفر ہے جو ہر انسان کو اپنی ہی ماہیت پر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
کیا ہم واقعی وہ ہیں جو دنیا ہمیں سمجھتی ہے؟ یا وہ جو ہم خود سے بھی چھپاتے ہیں؟
****************
Sneaks Peeks From Novel
” تم بہت اچھے اداکار ہو۔ “ شیری ہنوز اسی کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ” میں کبھی سوچ بھی نہیں پایا کہ تمہیں یہ بات معلوم ہوسکتی ہے۔ “
جابر کی آنکھوں میں جہاں سرد تاثر تھا ، وہیں ہلکی سی درد کی لہر اٹھی۔
” مجھے میرے ایک عزیز سر کہا کرتے تھے کہ جابر! اداکاری سیکھو۔ کرنے کے لیے نہیں ،اپنے اردگرد موجود منافق لوگوں کی اداکاری سمجھنے کے لیے۔ اور تم جانتے ہو میں کتنا فرمانبردار آدمی ہوں۔ “
شیری نے تھکے سے انداز میں سر ایک طرف ڈھلکائے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ جابر نے اگلے ہی پل اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن دبوچی۔
” تم بہت بڑے کمینے نکلے ، شیری۔ “ جابر کا انداز جتنا سرد تھا، شیری کا اتنا ہی لاپرواہ۔ اسے موت کا خوف نہیں تھا۔ اسے بس امید تھی۔
” اور تم مجھ سے بھی بڑے کمینے نکلے، میجر۔ “ وہ کھانسا۔ پھر ہلکا سا مسکرایا ۔ ” میں جانتا ہوں تم مجھے نہیں مارو گے۔ اس لیے بہتر ہے پہلے مجھے سن لو۔ “
جابر چند پل اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر تلخی سے مسکرا دیا۔
”تم میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ کمینے ہو۔ “ جابر یوں ہی سر جھٹک کر پیچھے ہوا۔ پستول اس سے دور کر لی۔ ” مگر وہ کیا ہے نا۔ میں تمہارا ہی دوست ہوں۔ تم سے دس قدم آگے۔ اس لیے مجھےبس ایک سوال کا جواب دو۔“
اس نے بایاں ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرا۔
” میں تمہارے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہوں، میجر۔ مگر تمہیں مجھے سننا ہوگا۔ مجھ پر یقین کرنا ہوگا۔ “
” ابھی بھی؟ “ جابر نے برق رفتاری سے گردن موڑے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں اس کی بے غیرتی اور ڈھٹائی دیکھ کر حیرت عود آئی تھی۔ ” تم چاہتے ہو میں اب بھی تم پر اعتبار کروں؟ “
شیری اپنی جگہ سیدھا ہوا۔ اپنی گردن کو چھوا۔ پھر ہاتھ پہلو میں گرا دیا۔
” میں تین سال تمہیں ڈھونڈتا رہا جابر۔ مجھے تمہیں وہ سب بتانا تھا جو…..“
” کیوں؟ “ جابر نے اس کی بات کاٹی۔ ” کیوں تم یشغٰی کے سامنے مجھے ڈھونڈنے کا ڈھونگ کرتے رہے جبکہ تمہیں اچھے سے معلوم تھا کہ میں کہاں ہوں۔ کس حال میں ہوں۔ “ جابر ایک دم دھاڑا تو شیری نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے ریلیکس کرنا چاہا۔
” میں واقعی نہیں جانتا تھا کہ تم کہاں ہو۔ “ شیری اس کے برعکس بڑے مدھم لہجے میں بولا۔
” ایسا کیسے ممکن ہے کہ تم خضرج کے آدمی ہوتے ہوئے بھی اس بات سے بےخبر رہو۔ “ جابر آگے بڑھا۔ اس پر جھک کر اس کا گریبان سختی سے اپنی مٹھی میں لیا۔ ” تم بھی ان سب میں تھے شیری ۔ “ اس نے گریبان سے اسے اپنی جانب کھینچا ۔ دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھے۔ ہاں وہی جو کبھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہوتےتھے۔
” تم بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ اس رات…. اس رات مجھے موت کے منہ میں دھکیلنے والوں میں تم بھی شامل تھے شیری۔ میرے بہترین دوست۔ “ اس کی آواز دردناک تھی۔ کھولتی ہوئی۔ ” تم سب جانتے تھے۔ تمہیں علم تھا کہ مجھ پر کیا گزری تھی۔ میری جاب داؤ پر لگی تھی۔ میری پہچان چھن چکی تھی۔ میری محبت ،میری بیوی میرے خلاف ہو چکی تھی۔
تب… تب تم نے میری پیٹھ پیچھے بغاوت کی تھی۔ میں تمہارا ہر دھوکا معاف کر سکتا ہوں مگر وہ نہیں جو مجھے اس رات ملا تھا۔ اس رات کا حساب میں سب سے لوں گا۔ کسی کو نہیں بخشوں گا۔ کسی کو بھی نہیں ۔ “ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑا اور چند قدم دور جاکر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے ۔ پھر بالوں میں۔ شیری چپ چاپ بس اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ، اس کے چہرے پر کچھ بھی نہیں تھا۔ کوئی تاثر تک نہیں ۔
” تمہیں لگتا ہے اس رات میں وہاں تھا؟ “ شیری نے سوال کیا۔ سپاٹ لہجے میں ۔ جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو کہ جابر اس کے بارے میں یہ سوچتا تھا۔ مگر جابر نے جواب نہیں دیا۔ وہ جانتا تھا کہ شیری وضاحت دینے والا ہے۔ وہ مزید بولنے والا ہے۔
اس نے ریلنگ کے پاس جاکر اس پر اپنے ہاتھ رکھے۔ سختی سے۔ کاش ….کاش وہ انکار کر دے۔ کاش وہ کہہ دے کہ وہ وہاں نہیں تھا۔ جابر کا دل بری طرح دھک دھک کر رہا تھا۔ سانس اس لمحے جیسے رک گئی تھی۔ جیسے جیسے شیری اس کے قریب آتا گیا، جابر کی گرفت ریلنگ پر سخت ہوتی چلی گئی۔
” تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں وہاں تھا؟ “
کاش کہ وہ کہہ دے کہ وہ وہاں نہیں تھا۔ جابر نے سانس روک لیا تھا۔
” میں وہاں نہیں تھا جابر۔ “
عقب سے، بےحد قریب سے اس کی آواز سنائی دی اور جابر نے ایک دم آنکھیں بند کیں۔ غیر محسوس انداز میں گہرا سانس خارج کیا۔شک یقین میں بدلنے کی بجائے جھٹلا دیا گیا تھا۔ تب تک شیری اس کی دائیں طرف آکھڑا ہوا تھا۔ جابر نے آنکھیں کھولیں اور آسمان کو دیکھنے لگا۔ یعنی وہ شیری کو سن رہا تھا۔
” میں اتنا نہیں گر سکتا کہ اپنے ہی دوست کے قتل کے منصوبے میں شراکت دار بنوں۔ “
” مگر اتناگر سکتے ہو کہ اسے دھوکا دے سکو۔ اس سے دغا کر سکو۔ “ جابر کا لہجہ سپاٹ تھا۔ کوئی طنز نہیں ۔
” تم میں اتنا تو ظرف ہونا چاہیے میجر ۔کہ مجھے ایک بار سن لو۔ دوستی کا ہی بھرم رکھ لو۔ “ شیری بھی یوں ہی آسمان کو تکتے بولا۔ دونوں کی نگاہ سامنے تھی مگر سماعت ایک دوسرے سے جڑی تھی۔
” میرا ظرف مجھے بس اتنی اجازت دیتا ہے کہ تمہیں زندہ سلامت یہاں سے جانے دوں۔ تمہاری بکواس سنے بغیر۔ رہا دوستی کا بھرم ….“ جابر تلخی سے مسکرایا ۔” اس رات تمام دوستیاں مٹی کا ڈھیر ہوگئی تھیں جب جابر مرا تھا۔ “
” کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟ “ شیری کے چہرے پر اب کے پہلی بار فکر کی رمق نمایاں ہوئی۔
جابر نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ چند پل دیکھتا رہا۔ شیری بھی۔ پھر دھیرے سے مسکرایا۔ کیا نہیں تھا اس مسکراہٹ میں ۔ ” احسان۔ تمہارے باس نے احسان کیا تھا مجھ پر۔ “ اور اگلے ہی پل وہ وہاں سے چل پڑا۔
” جابر!میری بات تو سنو….“ شیری پیچھے سے اسے پکارتا رہا مگر وہ شخص جاچکا تھا۔
اس نے تھکی سی سانس خارج کی۔ پھر پیشانی پر ہاتھ رکھا جہاں جابر نے پستول کی نال رکھی تھی۔ بےاختیار گہرا سانس لے کر وہ واپس اپنی جگہ پر بےدم ہوکر ڈھے سا گیا۔
یہ وہ جابر نہیں تھا جسے وہ جانتا تھا ۔ یہ تو کوئی اور تھا۔ بےرحم ۔ سفاک ۔
****************
Download Maahiyat by Sania Hussain in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ ثانیہ حسین کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Sania Hussain All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Inteqam e mohabbat by Zarish Noor Complete
Main bhi aseer e mohabbat hoon by Tuba Rani Complete
Mohabbaton ke darmyan by Tuba Rani Complete
************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 1.2K Views
















Next episode kb tk aye gi?