My Dear Shaitan by Huda
Free download read online
My Dear Shaitan by Huda
Realistic, Social and Fiction based novel
A Humorous Take on Faith and Temptation
Have you ever felt a whisper in your ear telling you to check “just one more notification” during the Azan? Or a voice that justifies delaying your prayers because “you’re too tired”? In her brilliant literary piece, “My Dear Shaitan,” the author Hüda personifies these whispers in a way that is both hilarious and deeply moving.
Unlike traditional religious stories, Huda introduces Shaitan not as a terrifying monster, but as a sarcastic, witty, and surprisingly logical companion. The protagonist shares her daily life with this “Dear Shaitan,” engaging in debates about everything from Instagram addiction to the philosophy of Free Will.
- The Procrastination Trap: The story perfectly captures the struggle of a modern Muslim. The internal battle between responding to a cousin’s DM and standing up for Salah is something we all face.
- The Debate on Destiny: One of the most intellectual parts of the story is the discussion on Loh-e-Mahfooz (The Preserved Tablet). Shaitan argues that humans blame him for everything, while he simply offers options. The choice to sin remains with the human.
- Modern Fitna (Trials): Huda tackles contemporary issues like:
- Bold Urdu Novels: The rise of vulgarity in digital literature for the sake of views.
- Music & Lyrics: How subconscious lyrics like “Dil keh raha hai gunahgaar ban ja” (My heart says, become a sinner) slowly corrupt the soul.
- Societal Norms: The pressure to compromise on religious boundaries, such as shaking hands with non-Mahrams under the guise of “etiquette.”
The author masterfully uses the poetry of Allama Iqbal to deliver reality checks. When the protagonist misses Fajr, Shaitan mocks her with the famous lines about people wanting Jannah without even being able to walk to the Masjid. This irony serves as a powerful wake-up call for the readers.
Huda’s writing style is conversational and relatable. She doesn’t preach from a high pedestal; instead, she sits with the reader and examines the common flaws we all share. The “Finished” (ختم شد) note at the end leaves the reader in a state of reflection: Is Shaitan really our enemy, or is our own Nafs (self) the one leading the way?
“My Dear Shaitan” is a masterpiece of modern Urdu literature. It teaches us that while Shaitan is an official rebel, we have been given the intellect to choose the Sirat-al-Mustaqim (The Straight Path). It’s a story about regaining control over our time, our digital habits, and our faith.
********************
My Dear Shaitan by Huda Summary
ہدیٰ جدید اردو ادب کی ایک ایسی تخلیقی لکھاری ہیں جن کا قلم معاشرتی اصلاح اور نفسیاتی گتھیوں کو سلجھانے میں مہارت رکھتا ہے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، رواں اور مکالماتی ہے، جو قاری کو محسوس کراتا ہے جیسے وہ خود اس کہانی کا حصہ ہے۔ ہدیٰ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بھاری بھرکم تبلیغی لہجے کے بجائے مزاح اور طنز کے ذریعے گہری مذہبی اور اخلاقی باتیں کہہ جاتی ہیں۔ ان کے کردار زندہ جاوید محسوس ہوتے ہیں، اور وہ عام انسانی کمزوریوں کو نہایت نفاست سے کاغذ پر منتقل کرتی ہیں۔
“مائی ڈئیر شیطان” ان کے اسلوب کی بہترین عکاس ہے، جہاں انہوں نے روایت سے ہٹ کر شیطان کو ایک “ساتھی” بنا کر پیش کیا تاکہ انسان کے اپنے “نفس” کے عیب ظاہر ہو سکیں۔ ہدیٰ کی تحریریں نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر پرکشش ہیں کیونکہ وہ ان کے مسائل کو انہی کی زبان میں بیان کرتی ہیں۔
کرداروں کا تعارف:
راویہ (مرکزی کردار): ایک عام لڑکی جو اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ نماز پڑھتی ہے، تلاوت کرتی ہے، مگر انسانی کمزوریوں اور موبائل فون کی لت کی وجہ سے اکثر “مائی ڈئیر شیطان” کے بہکاوے میں آ جاتی ہے۔
مائی ڈئیر شیطان: یہ کردار شرارت، تکبر اور چالاکی کا مجموعہ ہے۔ وہ راویہ کے ساتھ ہر وقت سائے کی طرح رہتا ہے، اسے نماز میں دیر کرنے، سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے اور فضول بحثوں میں الجھانے کے بہانے تراشتا ہے۔
دیگر کردار: کزن، بہن اور ماں، جو کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرنے اور راویہ کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دلانے کے لیے آتے ہیں۔
************
About The Writer, Huda
ہدیٰ اردو ادب کی ایک ایسی ابھرتی ہوئی قلم کار ہیں جن کی تحریروں میں معاشرتی اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ وہ عام فہم مگر دلکش زبان میں گہری باتیں کہنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ہدیٰ کا مشاہدہ بہت گہرا ہے، وہ انسانی رویوں کی باریکیوں کو سمجھتی ہیں اور انہیں اپنے الفاظ کے ذریعے قاری کے دل تک پہنچا دیتی ہیں۔ ان کا اسلوبِ نگارش سادہ ہے لیکن اس میں چھپا پیغام بہت طاقتور ہوتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے مسائل اور ڈیجیٹل دور کی خرابیوں کو علامتی انداز میں پیش کرنا ان کی خاص پہچان بنتا جا رہا ہے۔
********
Short Scene of My Dear Shaitan by Huda
آج کا کیا پلین ہے پھر ؟۔۔۔اس نے خود ہی بات شروع کی ۔ایک پل کے لیے تو میں حیران بھی ہوئی تھی اتنا نارمل انداز۔
نہیں کچھ نہ کچھ تو گڑبڑہے۔۔۔میں نے بے اختیار سوچا اور پھر اسے شدید اگنور کرتے ہوئے فون اٹھایا ۔میسج چیک کرکے میں نے فون دوبارہ نیچے رکھا اور لیپ ٹاپ پر کوئی اچھا سا ناول پڑھنے کا پلین بنایا ۔اب وہ اٹھ کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا اور نظریں اسکرین پر ٹکا کر ساتھ ساتھ الٹے سیدھے مشورے جاری تھے ۔
روحِ یارم کیسا رہے گا ؟۔۔۔اس کی بات پر میں نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا ۔
جب بھی دینا کوئی فضول ہی مشورہ دینا ۔ اریج شاہ ٹوٹلی بین ہے میری بک شیلف میں۔۔۔میرا جواب سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا ۔کافی دیر سوچنے کے بعد ایک بار پھر اس کی آواز گونجی۔تو میں جو ابھی ایک اچھا سا ناول کھول چکی تھی رج کے بدمزہ ہوئی تھی اوپر سے غصہ مجھے الگ آیا ۔
نور آصف یا حسنِ کنول کا کوئی پڑھ لو وہ بھی کافی فیمس ہیں!!۔۔۔اگلا مشورہ حاضر تھا وہ بھی نہایت ہی کوئی گھٹیا ۔
شرم کرلو کچھ !!وہ رائیٹرز ایسا کونٹینٹ لکھتی ہیں کہ تم بھی شرم سے ڈوب کر مرجاؤ!!لیکن انہیں شرم نہیں آتی ایسا گند لکھتے ہوئے ۔۔۔میں نے دبے دبے غصے سے کہا تو وہ اپنی جگہ پر شرمندہ سا ہوگیا تھا۔
اچھاااااا۔۔۔لیکن لوگ تو بہت شوق سے پڑھتے ہیں ایسی رائٹرز کے ناولز۔۔۔ وہ ان کی وکالت کرنا شروع ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں میرے غصے کا گراف مزید بڑھ گیا ۔
وہ جو لوگ پڑھتے ہیں انہیں بھی تم نے ہی بہکایا ہوا ہے۔اور ایسی رائٹرز کو بھی تم ہی اکساتے ہو بولڈ لکھنے پروہ بھی صرف ٹی آر پی کے چکر میں۔ ورنہ جتنی اچھی ان کی گریپنگ اسکل ہے وہ چاہیں تو بہت اچھا لکھ سکتی ہیں!!۔۔۔میں نے بھی ٹکاسا جواب اس کے منہ پر مارا تھا ۔میری بات سن کر وہ گردن پیچھے پھینک کر ہنسا تھا۔کافی دیر تک ہنسنے کے بعد وہ آنکھوں میں ایک پر اسرار سا تاثر لیے میری طرف پوری طرح گھوما۔
بیوقوف لڑکی اگر وہ اچھا لکھیں تو ایک ہی ناول لکھنے میں کم از کم سال یا دو سال تو لگ جائے ۔لیکن بولڈ لکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ریڈی میڈ فحاشی انٹرنیٹ سے لیں اس میں اسلام کا تڑکا لگائیں اور ہوگیا آپ کا ناول مکمل۔مزید آپ دو تین ہزار صفحوں کا ناول آرام سے لکھ سکتے ہیں ۔
دوسری طرف جو رائٹرز اچھے اور فحاشی سے پاک ناولز لکھتے ہیں ان بیچاروں کو ایک ناول لکھنے میں ہی مہینوں لگ جاتے ہیں اور کبھی تو دو تین سال لگ جاتے ہیں ۔۔۔صاف ظاہر تھا کہ وہ مجھ پر طنز کر رہا ہے لیکن میں صرف ضبط کر کے رہ گئی کیوں کہ مجھے ابھی ناول پڑھنا تھا ۔خیر میں نے آگے پڑھنا شروع کیا جب ایک دم وہ چیخا تھا اور میں نے بے ساختہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے ۔
ارے ہاں !! وہ جو بولڈ اور فحش لکھنے والےرائٹرز اور ان کے من موہنے ریڈرز ہیں ناں جن کو بقول آپ کے اور بہت سی اور اچھی لکھاریوں کے میں نے بہکایا ہوا ہے ۔پرسوچ انداز میں کہتا وہ جاتے جاتے مڑا ۔۔۔
وہ کہنا یہ تھا کہ ان رائٹرز اور ان کالکھا بولڈ اور فحش کونٹینٹ پڑھنے والے ریڈرز کے پاس بھی فری ول ہے ۔دو آپشن ہیں اور سب سے بڑھ کر عقل اور شعور ہے لیکن میری مہربانی کا نتیجہ ہے کہ آج کل وہ گھٹنوں میں ہے ۔۔۔اپنی بات کے آخر میں وہ خود ہی مسکرایا تھا۔تمسخر سے ،تفاخر سے اور رعونت سے۔
ہاں پتہ ہے !! تم تو آفیشل پرمیشن لے کر آئے ہو اللہ سے کہ ۔۔۔آدمؑ اور ان کی اولاد کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا دو گے !!۔۔۔تمہارا تو کچھ نہیں ہوسکتا ۔
لیکن ایسے رائٹرز اور ریڈرز کو جب فرشتے قبر میں الٹا لٹکائیں گے تو گھٹنوں سے اپنے آپ ہی سر میں آجائے گی ان کی عقل۔۔۔میں نے بھی جواباََ خاصے تپے ہوئے انداز میں جواب دیا ۔
کتنی اچھی طرح سمجھتی ہو میری بات !!۔۔۔ایسے ہی تو میں نہیں کہتا کہ میں تمہارا ڈئیر شیطان ہوں!!۔۔۔
زچ کرنے والے انداز میں کہتے اس نے میرے اتنی رات تک جاگنے پر چوٹ کی تھی جو مجھے محسوس بھی ہوئی تھی۔
****************
Download My Dear Shaitan by Huda in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
************
اگر آپ ھدیٰ کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Huda All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Wafa mamnooh thehri by Mala Shah Complete novel
Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel
Mere angan mein utra chand by Ayesha Falak Sher Complete novel
******************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download My Dear Shaitan by Huda
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 581 Views






















