About The Novel Pardesi by Karozia Bhatti
Pardesi by Karozia Bhatti Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Pardesi by Karozia Bhatti is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
The Emotional and Psychological Cost of Migration
The phenomenon of migration for labor is deeply embedded in the social fabric of Pakistan. Every year, hundreds of thousands of men pack their lives into small suitcases, leaving behind their aging parents, newlywed wives, and newborn children to earn a livelihood in distant lands. In her deeply moving and realistic Urdu novel “Pardesi”, talented writer Karozia Bhatti sheds light on the unspoken trauma, struggles, and ultimate sacrifices of these overseas workers.
Opening with a hard-hitting digital realization, the author reflects on a quote that inspired the entire narrative: “If I were a writer, I would write a book on the migrant (Pardesi). Families must keep the environment peaceful because sons run away from toxic taunts, not from their homes.” This single sentence lays the foundation for a story that represents over 762,000 Pakistani men working tirelessly abroad.
Karozia Bhatti does not filter the reality of a migrant’s life. Instead, she divides the narrative into two interconnected, painful realities: the life of the husband in a foreign labor camp and the declining mental and physical health of the wife back home.
The story captures the heartbreaking transition of Sajid, a young man from Gujranwala, who decides to migrate due to financial pressures and family taunts. The descriptions of his final moments at home—looking at his mother’s plants, the old bicycle, and the quiet tears of his parents—are masterfully written. The international arrival and departure gates of airports are painted not as places of travel, but as cold, unfeeling structures where half of a person’s soul is left behind.
One of the most unique aspects of Pardesi is its focus on the female protagonist, Sarah. When her husband Aslam migrates, she is three months pregnant. She later gives birth to twins, but Aslam cannot afford to return to see them. Bhatti explicitly details the clinical and psychological changes a woman goes through in the absence of her husband:
- Severe Insomnia and Weight Loss: Eating leftover food alone and staying awake counting hours.
- Chronic Migraines and Mental Fatigue: The physical manifestation of constant anxiety, panic, and single parenting.
- The Emotional Rollercoaster: Shifting between irritability, sadness, and forced strength.
The climax of the novel introduces a beautiful, humanitarian angle. In the cramped spaces of foreign labor camps, people from different socio-economic backgrounds and religions converge. Characters like Rehman Sahib (the elderly father), Zeeshan (the dutiful son), and Kamran (a youth from a different faith) show that when poverty and displacement strike, human empathy supersedes all superficial divisions.
***************
Novel Summary in Urdu
“پردیسی” کروضیا بھٹی کی ایک انتہائی اثر انگیز، حقیقت پسندانہ اور جذباتی داستان ہے جو پاکستان کے ان لاکھوں مردوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی خوشیاں اور جوانی دیارِ غیر کی تلخ گلیوں میں وار دیتے ہیں۔ یہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ ان 762,000 پردیسیوں کا نوحہ ہے جو روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتے ہیں اور پھر کبھی لوٹ کر بھی اپنے ماضی کو واپس نہیں پا سکتے۔
کہانی کا یہ سفر گوجرانوالہ کے ایک عام نوجوان کی دہلیز چھوڑنے سے شروع ہو کر ایئرپورٹ کے بے حس انتظار گاہوں سے گزرتا ہوا خلیج کے لیبر کیمپوں تک جاتا ہے۔ اس تحریر کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ جہاں پردیس میں ہڈیوں کو پگھلانے والے مردوں کے کرب کو دکھاتی ہے، وہاں وطن میں اکیلی رہ جانے والی ان کی شریکِ حیات (بیویوں) کے ان پوشیدہ ذہنی اور جسمانی امراض، مائیگرین، اور اکیلے پن پر بھی کھل کر بات کرتی ہے جو سماج کو نظر نہیں آتے۔
یہ کہانی اپنوں سے دوری کے دکھ، معاشی مجبوریاں اور سب سے بڑھ کر پردیس میں بننے والے ‘انسانیت’ کے ان انمول رشتوں کی بات کرتی ہے جو خون کے رشتوں سے بھی زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔
یہ کہانی ایسے مردوں کی ہے جو اپنی زندگی اپنی خوشیاں اپنی خواہشات اپنی فیملی کے سروں سے وار دیتے ہیں یہ کہانی ہے پاکستان کے 762،000 مردوں کی جو اپنے بچے اپنی بیوی چھوڑ کر بیرون ممالک میں سخت محنت مزدوری کی زندگی گزار رہے ہیں ۔یہ کہانی ہے ہر روز نئی مشکلات سے لڑنے والے باغیوں کی ۔امید کرتی ہوں آپ کو یہ تحریر کسی اپنے کے دکھوں پر نظر کرنے میں راہنمائی کرے گی ۔
اور اس ساتھ شوہر کے بعد بیوی کی ذہنی اور جسمانی حالت پربھی بات کریں گے۔ شوہر کے پردیس (بیرونِ ملک) جانے کے بعد بیوی کو شدید ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ دورانیہ جذباتی اور صحت کے لحاظ سے انتہائی آزمائشی ہوتا ہے۔
“گھروں کا ماحول اچھا رکھیں۔
بیٹے طعنوں سے بھاگتے ہیں گھروں سے نہیں”
یہ جملہ والدین اور گھر والوں کو یہ پیغام ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار اور پرسکون رکھیں۔ نوجوان بیٹے اکثر گھر کی تنگی یا غربت کی وجہ سے اتنے پریشان نہیں ہوتے، جتنا وہ روز روز کے طعنوں اور ذہنی دباؤ سے تنگ آ کر گھر چھوڑنے یا پردیس (دوسرے ملک) جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
کرداروں کا تعارف
ساجد (مرکزی کردار): گوجرانوالہ کا ایک نوجوان جو گھر کے معاشی حالات اور روز روز کے طعنوں سے تنگ آ کر دبئی (پردیس) کا رخ کرتا ہے۔ وہ ۵ سال تک دن رات محنت کرتا ہے، جذباتی طور پر بہت مضبوط ہے مگر اندر سے تنہا ہے۔
سارہ / اسلم کی بیوی: پردیسی شوہر کی اکیلی بیوی جو شوہر کی غیر موجودگی میں جڑواں بچوں کی اکیلے پرورش کرتی ہے۔ وہ اکیلے پن، شدید ذہنی دباؤ، اور مائیگرین کا شکار ہے مگر شوہر کے اعتماد پر خود کو مضبوط بناتی ہے۔
رحمان صاحب (عمر رسیدہ باپ): ایئرپورٹ اور لیبر کیمپ کا ایک اور پردیسی کردار جو اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بوڑھے کندھوں پر پردیس کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور سب کے لیے ایک شفیق بزرگ کا درجہ رکھتا ہے۔
ذیشان (ایک مخلص بیٹا): وہ پردیسی جو اپنی تین جوان بہنوں کی شادی اور والد کے انتقال کے بعد گھر کا قرضہ اتارنے کے لیے پاکستان چھوڑتا ہے۔
کامران (دوسرے مذہب/طبقے کا نوجوان): جو صرف ایک بہتر زندگی کی تلاش میں پردیس آتا ہے۔ وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ بھوک اور پردیس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور وہ اسلم کا سب سے بڑا ہمدرد بنتا ہے۔
اماں (ساجد کی ماں): ایک روایتی اور شفیق ماں جو بیٹے کی دوری پر روتی ہے مگر اس کی واپسی پر اس کے لیے دعاؤں کا سایہ بنتی ہے۔
****************
About The Writer, Karozia Bhatti
اردو ادب اور آن لائن کہانیوں کے افق پر “کروضیا بھٹی” ایک ایسا نام بن کر ابھر رہی ہیں جو سماج کے ان پہلوؤں پر قلم اٹھاتی ہیں جن پر عام طور پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا حقیقت پسندانہ انداز اور معاشرتی مسائل کو گہرائی سے محسوس کرنا ہے۔ وہ فرضی دنیا کے سحر انگیز خواب دکھانے کے بجائے عام انسان کی روزمرہ زندگی، اس کی قربانیوں، اپنوں کی خاطر دی جانے والی تکالیف اور خاموش آنسوؤں کو الفاظ کا روپ دیتی ہیں۔
ان کی تازہ ترین تحریر “پردیسی” اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ انسانی نفسیات اور خاص طور پر دیارِ غیر میں رہنے والے پاکستانی مردوں اور ان کے پیچھے اکیلی رہ جانے والی عورتوں کے دکھ کو کتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں۔ کروضیا بھٹی کا اندازِ بیاں سادہ مگر حد درجہ پرکشش ہے، جو قاری کو کہانی کے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ ان کی تحریریں قاری کے دل پر ایک گہری چھاپ چھوڑ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کو خلوصِ دل کے ساتھ کاغذ پر اتارتی ہیں، جو انہیں ایک مخلص اور دور اندیش لکھاری بناتا ہے۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
جہاں گھر والے مٹھائیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں، وہاں پردیسی اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر فون پر مبارکبادیں وصول کرتا ہے۔
اس خاص موقع پر اسے ماں کے ہاتھ کے کھانے اور بہن بھائیوں کی رونقیں شدت سے یاد آئیں
اب اس پر صرف اپنی ذات کا نہیں، بلکہ ایک نئی زندگی اور شریکِ حیات کا معاشی و جذباتی بوجھ بھی آنے والا تھا ۔۔۔
وہ اب ہر پل اس سوچ میں رہنے لگا کہ کیا اس کی شریکِ حیات پردیس کے ماحول میں ڈھل پائے گی یا نہیں۔
تنہائی ختم ہونے والی تھی مگر اس خوف کے ساتھ ایک دلی سکون بھی ہے کہ اب پردیس کے ویران کمرے میں کوئی اس کا انتظار کرنے والی ہوگی۔
چھٹیوں کا حساب کتاب کرنے لگا ۔اب وہ دن گننا شروع کر چکا تھا ۔کہ کب اسے نوکری سے چھٹی ملے گی اور وہ کب اپنے وطن روانہ ہوگا۔
رابطے کی تڑپ بھڑنے لگی منگیتر سے بات کرنے کی خواہش اور پردیس کے وقت کے فرق کی وجہ سے وہ اکثر راتوں کو جاگ کر وقت گزارنے لگا ۔۔۔۔
خوابوں کی بنتی بگڑتی دنیااب بنیے لگی تھی ۔۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں شادی کی رسومات اور مستقبل کے گھر کو سجانے کے منصوبے بناتا رہتا ۔۔۔
دوسری طرف کچھ لوگوں کی زندگی بدل گئی تھی ۔۔ اسلم جب گیا تب سارہ 3 مہینے کی امید سے تھی اب اللّٰہ نے اسکو جڑواں بچوں سے نوازا تھا مگر اسلم انکی پیدائش پر بھی نہ آ سکا ۔۔۔۔
پردیس کی اور پردیسی کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں جو کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔۔۔۔۔
****************
Download Pardesi by Karozia Bhatti in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ کروضیہ بھٹی کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Karozia Bhatti All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Aurat by Jamila Nawab Complete novel
Yeh qurbatain hain sarab si by Sundas Shaikh Complete novel
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 373 Views


















