Shikayat nama by Abbas Ali Shah Complete novel pdf

Shikayat nama by Abbas Ali Shah Download pdf

Shikayat nama by Abbas Ali Shah Complete novel. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Shikayat nama by Abbas Ali Shah is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

Shikayat Nama by Abbas Ali Shah – A Masterpiece on Social Injustice and Revenge

Introduction: Are you looking for an Urdu novel that mirrors the harsh realities of our society? “Shikayat Nama” (The Letter of Complaint) by Abbas Ali Shah is a gripping narrative that explores the psychological journey of an oppressed child who grows up to be a man of steel. This novel is not just a story; it’s a social commentary on how injustice can turn a victim into a vigilante. In this blog, we will delve into the depths of “Shikayat Nama,” its characters, and the profound message it carries.

The Genesis of a Rebel: Adeem Hashmi’s Childhood: The protagonist, Adeem Hashmi, starts his life in a poverty-stricken household with an abusive father and a helpless mother. The author beautifully portrays the “Inner Child” trauma. When a teacher mocks Adeem in front of the class, it marks the end of his innocence. His famous line in his diary, “I complain to this world, which was never made for me,” sets the tone for the entire novel.

Themes of Shikayat Nama:

  1. The Absence of Justice: The novel highlights a society where the law serves the powerful. Characters like Daim Sultan represent the arrogance of wealth, while Adeem represents the silent suffering of the weak.
  2. Character Transformation: The shift from a boy holding a pen to a man seeking revenge is portrayed with intense realism. It raises the question: Does the environment create criminals, or is it a choice?
  3. The Power of Silence: Affan Munir is a character who believes in silent decisions that change history. His intervention in Adeem’s life provides the necessary shift from helplessness to power.

The Turning Point: From Laborer to Legend: Adeem’s struggle on the streets as a laborer is heart-wrenching. His confrontation with a shopkeeper who refuses to pay his wages is the climax of his emotional threshold. The physical fight that ensues and his subsequent arrest by the police represent the “Systematic Failure” of society. The entry of Affan Munir at the police station is a symbolic “Hand of Fate,” rescuing Adeem from a cage only to place him in a larger, more dangerous world.

Why You Should Read “Shikayat Nama”: Abbas Ali Shah’s writing style is cinematic. He describes the scent of mud after rain and the sting of a slap with equal vividness. The novel is a must-read for fans of psychological thrillers and social dramas. It forces the reader to look in the mirror and ask: What would I do if every door was shut in my face?

Conclusion: “Shikayat Nama” is a soul-stirring journey. It teaches us that silence is not always peace; sometimes, it’s a storm brewing inside. As Adeem leaves the police station with Affan Munir, the readers are left anticipating a saga of power, betrayal, and ultimate justice. This novel is a lighthouse for Urdu literature lovers, reminding them that every person has a “Shikayat Nama” written on their soul.

***************

Novel Summary in Urdu

“شکایت نامہ” عباس علی شاہ کے قلم سے نکلی ایک ایسی تلخ اور حقیقت پسندانہ داستان ہے جو معاشرے کے پِسے ہوئے طبقے اور انصاف کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے فرد کے گرد گھومتی ہے جس کا معصوم بچپن غربت، باپ کے تشدد اور سماجی بے حسی کی نذر ہو گیا۔

یہ ناول محض ایک افسانوی تحریر نہیں بلکہ اُن ہزاروں “شکایتوں” کا مجموعہ ہے جو خاموشی کی چادر اوڑھ کر انتقام کے شعلے میں بدل جاتی ہیں۔ مرکزی کردار کا سفر ایک معصوم بچے سے ایک سخت گیر وجود تک کا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں تو انسان کے اندر کا انسان مر جاتا ہے اور وہاں سے ایک “حیوان” یا ایک “باغی” جنم لیتا ہے۔

مرکزی کرداروں کا تجزیہ:

عدیم ہاشمی (مرکزی کردار): ایک حساس لڑکا جس کی زندگی کا آغاز ہی محرومیوں سے ہوا۔ وہ ایک ایسا “ہیرو” ہے جسے حالات نے “ولن” بننے پر مجبور کیا۔ اس کی ڈائری میں لکھی گئی شکایتیں دراصل اس کے ٹوٹے ہوئے دل کی آواز ہیں۔

عفان منیر: ایک پراسرار اور طاقتور شخصیت جو عدیم کے غصے اور اس کی “چنگاری” کو پہچان لیتی ہے۔ وہ عدیم کی زندگی کا رخ بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

دائم سلطان: طاقت اور انا کی علامت، جو قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور عدیم جیسے کمزوروں کو کچلنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

حبا نور: اس کہانی کی واحد مثبت اور نرم لہر، جو عدیم کے سخت دل میں محبت کی رمق باقی رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

تفصیلی خلاصہ: کہانی کا آغاز بارش کے بعد کی ایک کچی گلی سے ہوتا ہے جہاں دس سالہ عدیم ننگے پاؤں بھاگ رہا ہے۔ اس کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں ہے؛ گھر میں نشئی باپ کا تشدد اور اسکول میں استاد کی تضحیک اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہے۔ جب استاد اس کی کاپی پھاڑ کر اسے “جوتے پالش کرنے والا” کہتا ہے، تو عدیم کے اندر پہلا بیج “شکایت” کا بویا جاتا ہے۔

عدیم جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے، اس کی “شکایتوں کی کاپی” بھرتی جاتی ہے۔ ایک دن کلاس میں ہم جماعتوں کے مذاق سے تنگ آکر وہ قلم سے وار کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اسے اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا بڑا موڑ ہے جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں “حق” مانگنے سے نہیں، طاقت سے ملتا ہے۔ اس کے باپ کا اسے گھر سے نکال دینا اسے سڑکوں پر بھٹکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

عدیم سڑکوں پر مزدوری کرتا ہے، بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، مگر اس کا غرور اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں دیتا۔ جب ایک مغرور مالک اس کی مزدوری کے پیسے دینے سے انکار کرتا ہے اور اسے دھکا دیتا ہے، تو عدیم کے اندر کا دباہوا غصہ پھٹ پڑتا ہے۔ وہ اس شخص کو لہو لہان کر دیتا ہے۔ اسی ہنگامے کے دوران عفان منیر نامی ایک پراسرار شخص دور کھڑا عدیم کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ عدیم کے اندر کی اس “آگ” کو پہچان لیتا ہے جو کسی بڑے مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

پولیس عدیم کو گرفتار کر کے تھانے لے جاتی ہے، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حوالدار اسے کہتا ہے کہ “یہاں حق مانگنا سب سے بڑا جرم ہے”۔ لیکن عین اسی وقت عفان منیر تھانے میں داخل ہوتا ہے اور اپنی طاقت و اثر و رسوخ کے بل بوتے پر عدیم کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

وہ عدیم سے کہتا ہے کہ “قسمت نے تمہیں میرے راستے پر ڈال دیا ہے”۔ ناول اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتا ہے جہاں عدیم ہاشمی، ایک مظلوم مزدور سے ایک طاقتور گروہ کا حصہ بننے کے سفر پر ہے، جہاں اس کی ہر “شکایت” کا جواب “بدلے” کی صورت میں نکلنا ہے۔

************

About The Writer, Abbas Ali Shah

عباس علی شاہ اردو ادب کی دنیا میں ایک ایسی حساس آواز ہیں جو معاشرتی ناانصافیوں اور انسانی نفسیات کے تاریک گوشوں کو بڑی مہارت سے کاغذ پر اتارتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیاں تصویری ہے، جہاں وہ الفاظ کے ذریعے قاری کو کہانی کے کرب میں پوری طرح شریک کر لیتے ہیں۔

عباس علی شاہ کی تحریروں میں “مکافاتِ عمل” اور “سماجی جبر” کے موضوعات نمایاں ہوتے ہیں۔ “شکایت نامہ” ان کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک لکھاری کا کام صرف کہانی سنانا نہیں بلکہ معاشرے کو وہ آئینہ دکھانا ہے جس سے وہ نظریں چرا رہا ہے۔ ان کے مکالمے مختصر مگر گہرے اثر کے حامل ہوتے ہیں۔

********

Short Scene From Novel

“یہ لڑکا… یہ عام نہیں لگتا۔ اس کے اندر ایک چنگاری ہے، جسے اگر ہوا ملی تو شعلہ بن جائے گی۔”

اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ پھر اس نے سگریٹ زمین پر پھینک کر جوتے کے نیچے کچلا اور بولا:

“وقت آ گیا ہے… اسے پرکھنے کا۔”

اسی شور شرابے میں اچانک پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی ہوئی قریب آن رکی۔ دو سپاہی اور ایک حوالدار فوراً باہر نکلے۔

حوالدار چیخا:

“اوے کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ ہاتھ روک!”

پولیس والے لپک کر نوجوان کو جکڑ لیتے ہیں۔ وہ مزاحمت کرتا ہے مگر دو سپاہیوں کے مضبوط ہاتھوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ لوگ شور مچانے لگتے ہیں:

“صاحب! یہ لڑکا حق مانگ رہا تھا، مزدوری کی تھی!”

“اسے چھوڑو، قصور اس کا نہیں!”

مگر پولیس والوں کو کسی کی بات سننے کی فرصت نہیں۔ وہ نوجوان کو زور سے دھکا دیتے ہیں، ہاتھ مروڑ کر ہتھکڑی پہنا دیتے ہیں۔

نوجوان کی آنکھوں میں بےبسی، غصہ اور درد ایک ساتھ جھلکنے لگتا ہے۔ وہ چلّاتا ہے:

“میں نے مزدوری کی تھی… میرا حق مانگا تھا…!”

پولیس والے ہنستے ہیں اور اسے زبردستی جیپ میں بٹھا دیتے ہیں۔

جیپ کے چلنے سے پہلے وہی شخص جو دور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، ہلکا سا مسکرایا اور بڑبڑایا:

“یہی وہ لمحہ ہے… تقدیر نے خود اسے میرے راستے پر ڈال دیا ہے۔”

     ۔ راستے بھر وہ لڑکا بار بار دہراتا رہ

“میں نے صرف مزدوری کا حق مانگا تھا… کوئی جرم نہیں کیا۔”

مگر سپاہی ہنستے ہوئے کہتے:

“او پتر! یہاں حق مانگنا سب سے بڑا جرم ہے۔”

تھانے پہنچتے ہی حوالدار نے اسے زور کا دھکا دیا۔ وہ زمین پر گر گیا، کہنی چھل گئی۔ اندھیرا سا کمرہ، دیواروں پر پرانے کیلنڈر اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ حوالدار نے ڈانٹ کر کہا:

“ادھر بٹھا دو اس بدماش کو، ابھی صاحب آئیں گے!”

نوجوان ایک کونے میں پڑی پرانی چارپائی کے پاس بیٹھ گیا۔ پسینے میں شرابور، دل میں غصہ اور آنکھوں میں آنسو چھپائے۔

اسی وقت وہی پراسرار شخص جو دور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، آہستہ آہستہ تھانے میں داخل ہوا۔ اس کے قدم پُراعتماد تھے اور چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ حوالدار نے فوراً اٹھ کر سلام کیا۔

“صاحب! آپ یہاں؟”

وہ شخص بولا:

“ہاں… یہ لڑکا میرا ہے۔ اسے میرے حوالے کر دو۔”

حوالدار نے چونک کر پوچھا:

“صاحب! یہ تو مارپیٹ کے الزام میں آیا ہے… اگر اوپر والوں کو پتا چلا تو؟”

وہ شخص مسکرایا، جیب سے سنہری سگریٹ کیس نکالا، ایک سگریٹ سلگائی اور آہستہ آہستہ دھواں چھوڑتے ہوئے بولا:

“اوپر والوں کو پتا میں دیتا ہوں… تمہیں نہیں۔ تم صرف دروازہ کھولو۔”

حوالدار نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں ایسا جلال تھا کہ مزید سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے فوراً ہتھکڑی کی چابیاں اٹھائیں اور لڑکے کے ہاتھ کھول دیے۔

نوجوان حیران اور سہمے لہجے میں بولا:

“آپ کون ہیں…؟ اور مجھے کیوں اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں؟”

وہ شخص دھیرے سے قریب آیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:

“بیٹے، تمہیں ابھی کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں… بس اتنا جان لو کہ قسمت نے تمہیں میرے راستے پر ڈال دیا ہے۔”

پھر وہ پولیس والوں کی طرف مڑا اور تیز آواز میں حکم دیا:

“لڑکا میرے ساتھ جا رہا ہے۔ اب یہ تھانے کی دیوار کبھی نہیں دیکھے گا!”

****************

Download Shikayat nama by Abbas Ali Shah in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Abbas Ali Shah All Novels Link

Raaz e hayat by Mehak Writes Complete novel

Zamurd by Javeriya Hussain Complete novel

Qalab e sakoon novel by Emaan Zahra

************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 1.4K Views

Leave a Comment