Anfal by Aleesha Tanveer complete novel

Anfal by Aleesha Tanveer complete novel

Anfal by Aleesha Tanveer — About the Novel

Welcome to Prime Urdu Novels. Today we are sharing the first episode of the novel "Anfal" by Aleesha Tanveer. This beautifully written story explores themes of patience, female empowerment, and the unseen struggles of the heart.

Novel Summary in Urdu

انفال علیشاہ تنویر کا ایک خوبصورت ناول ہے جس کی کہانی ایک سادہ اور باحوصلہ لڑکی انفال کے گرد گھومتی ہے۔ انفال کے معنی آزمائش کے بعد ملنے والے تحفے کے ہیں۔ کہانی میں عورت کی خودمختاری اور نامحرم سے دل کی حفاظت جیسے اہم موضوعات کو بیان کیا گیا ہے۔ انفال ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے اپنا نام بنانا چاہتی ہے۔ اس کی کزن اور دوست فاطمہ ہر قدم پر اس کا ساتھ دیتی ہے۔

دوسری طرف اس کی والدہ اماں بیگم (خدا بیگم) ہیں، جو ماضی میں انگلش لٹریچر کی ٹاپر تھیں لیکن حالات اور والد کے فیصلے کے سامنے خاموشی سے سمجھوتہ کر گئیں۔ کہانی میں نیا موڑ تب آتا ہے جب یونیورسٹی میں انفال کی ٹکر ایک مغرور اور پُرکشش لڑکے سے ہوتی ہے۔ اس واقعے میں انفال کی سب سے عزیز ڈائری اس لڑکے کے پاس رہ جاتی ہے۔ ڈائری کھو جانے پر انفال بے حد پریشان ہو کر روتی ہے۔

یہ محض ایک ڈائری کی گمشدگی نہیں، بلکہ ایک ایسی داستان کی شروعات ہے جو آنے والے طوفانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

Novel Detailed Summary in English

"Anfal" by Aleesha Tanveer is an emotional Urdu novel revolving around a quiet, strong-willed young woman named Anfal. The title translates to a divine gift received after enduring a severe trial. The narrative highlights female empowerment, boundaries, and the struggle to protect one's heart from forbidden attachments. Anfal is a university student with a passion for writing, striving to establish her identity while remaining within modest boundaries. She is supported by her lively cousin and best friend, Fatima.

In contrast, Anfal's mother, Amaan Begum, represents women who buried their dreams. Once a brilliant English literature student, she silently accepted an arranged marriage to a strict man, masking her unfulfilled aspirations with grace. The plot takes a turn when Anfal accidentally bumps into a handsome, subtly arrogant young man at the university. True to her nature, she gathers her belongings and walks away without looking at his face, leaving the boy captivated. Unknowingly, she leaves behind her precious personal diary.

Later at home, the realization of her missing diary breaks Anfal's calm exterior, leading to an emotional breakdown. The episode concludes with a profound message from her mother about the dangers of hiding one's pain.

Key Themes

  • Women's Empowerment & Independence: Discussed through Anfal's ambitions and historical examples of strong women. Emotional Trauma & Hidden Pain: Represented by Amaan Begum's past and Anfal's silent suffering over her diary. Modesty & Boundaries: The struggle to keep one's heart safe from forbidden love.

Short Scene from the Novel

جی اماں بس پانچ منٹ میں آرہی ہو . اور ٹھیک پانچ منٹ بعد سیڑھیوں سے اترتی وہ لڑکی عجیب سا سکون اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔ سفید رنگت، لمبا قد اور سر پر سادہ سا دوپٹہ… جیسے کسی پُرسکون شام کا منظر ہو۔ اُس نے ہلکے رنگ کا سادہ شلوار قمیض پہنا ہوا تھا، مگر اُس کی سادگی ہی اُس کی خوبصورتی تھی۔شہد جیسی بھوری آنکھوں پر سجا باریک فریم کا چشمہ اُس کے چہرے کو مزید دلکش بنا رہا تھا، جبکہ ناک میں پڑی چھوٹی سی نوز رنگ اُس کی خاموش شخصیت میں ہلکی سی کشش گھول رہی تھی۔

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Editor note: Download URL missing — replace ADD_DOWNLOAD_URL_HERE before publishing.

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

انفال

اَزِقَلم:علیشاہ تنویر

انتساب: ہر اُس شخص کے نام جو کسی بوجھ کے سائے میں جی رہا

اہم نکات:انفال کے معنی مال غنیمت کے ہے یعنی تحفہ ،

جو کسی بھی آزمائش کے بعد انسان کو حاصل ہوتا ہے اور اِس آزمائش میں ناکام ہونے والے ہمیشہ اِس سے محروم رہتے ہے جیسے فتح خیبر کے موقع پر منافق آزمائش میں جانے سے مُکر گئے مگر مال غنیمت کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہِ وسلم کے ساتھ چلنے لیکن اللہ کا قانون نہیں بدلا, اور مال غنیمت صرف آزمائش میں پورا اترنے والوں کو ملا.

انفال وہ تحفہ ہے جو کسی سے ملتا نہیں ہے خود کمانا پڑتا ہے..

مال غنیمت کی خاطر عورت کی آزمائش یہ ہے کہ وہ کس حد تک نہ محرم سے دور رہتی ہے. اپنے دل کو کسی نامحرم کی محبت کی محبت سے بچانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی اندھے کو راستہ دیکھنا .

نہ محرم کے محبت اور عورت کی اُس کی طرف بڑھتی توجہ عورت کے اپنے وجود کو ہی جلا کر رکھ کر دیتی ہے .

اُمید ہے میرے الفاظ میری کہانی کی شکل میں آپ تک پہنچے گے ، کہانی میں موجود غلطیوں کو نظر انداز کردیجئے گا .

ایک پیغام : آپ سب کے نام :"اپنے دل کی حفاظت خود کرے لوگ آپکے دل کی حفاظت نہیں کرتے اُسے زخمی کرتے ہے"

باب نمبر:1

داستانِ تباہی

جو ہم پر گزرے تھے رنج سارے جو خود پر گزرے تو لوگ سمجھے

جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا

اُنہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نے اترے تو لوگ سمجھے

اُس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نا سمجھا

جب اُس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے

وہ خواب تھے ہی چمبیلیوں سے سو سب نے حاکمِ کی کر لی بیعت

پھر ایک چنبیلی کی اوٹ سے جوسانپ نکلے تو لوگ سمجھے

وہ گاؤں کا ایک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پر کیوں خفا تھا

جب اُن کے بچے شہر جا کر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے

انفال بیٹا اٹھ جاؤ بابا تمھارا کب سے انتظار کررہے ہے .اٹھ جاؤ بیٹا انہوں نے تمہیں یونیورسٹی چھوڑ کر آفس بھی جانا ہے.یہ سیاہ رنگ کے سادہ لباس میں ملبوس سر پر ڈوپٹہ اوریے چالیس سالہ خاتون کی آواز تھی جو انفال کو آواز دے رہی تھی .

جی اماں بس پانچ منٹ میں آرہی ہو . اور ٹھیک پانچ منٹ بعد سیڑھیوں سے اترتی وہ لڑکی عجیب سا سکون اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔ سفید رنگت، لمبا قد اور سر پر سادہ سا دوپٹہ… جیسے کسی پُرسکون شام کا منظر ہو۔ اُس نے ہلکے رنگ کا سادہ شلوار قمیض پہنا ہوا تھا، مگر اُس کی سادگی ہی اُس کی خوبصورتی تھی۔شہد جیسی بھوری آنکھوں پر سجا باریک فریم کا چشمہ اُس کے چہرے کو مزید دلکش بنا رہا تھا، جبکہ ناک میں پڑی چھوٹی سی نوز رنگ اُس کی خاموش شخصیت میں ہلکی سی کشش گھول رہی تھی۔

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

ایک ہاتھ میں سیاہ رنگ کی ڈائری اور دوسرے میں چند فائلیں تھامے، وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔وہ اُن لڑکیوں میں سے تھی جو شور سے نہیں، اپنی خاموش موجودگی سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں۔ سادہ… مگر اتنی خوبصورت کہ نظریں چند لمحے اُس پر ٹھہر جائیں۔نیچے اُتری آخری زینے پر قدم رکھتے اُس نے آواز لگائی!

اماں بیگم ابا نکل گئے کیا؟جواب میں گھر کے اندرونی حصے سے آواز آئی. جی انفال بیٹا ابھی باہرہونگے.ٹھیک ہے اماں بیگم اللہ حافظ . کہہ کرباہر کو دوڑی. انفال بیٹا سنو کچھ کھا تولو،اور آواز دھیمی ہوتی گئ.ہماری زندگی میں بہت سی ایسی آوازیں ہوتی ہے جنہیں ہم سنتےنہیں اور وہ ہماری زندگی سےایسےغائب ہوجاتی جیسے کبھی تھی ہی نہیں ، اور آوازیں انسان کے دماغ میں اثر چھوڑجاتی ہے…صحن سے ہوتی ہوئی وہ گھر میں موجود باغچے کی دوسری طرف ائی جہاں گاڑی میں موجود (چالیس سالہ،بھورےرنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس سیاہ آنکھیں اور سحت مزاج بظاھر) شخص اُس کا انتظار کررہے تھے .اُس نے گاڑی کی دوسری طرف سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور سلام کی .اسلام و علیکم بابا صبح بخیر! گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اُس نے سلام کی . سوری بابا رات میں دیر تک اسیگیمنٹ تیارکررہی تھی تو صبح تھوڑی دیر ہوگئی . وعلیکم السلام گڑیا بیٹا کوئی بات نہیں . ( گڑیا وہ اُسے پیار سے پکارتے تھے)سیٹ بیلٹ باندھتے انہوں نے جواب دیا .راستے میں ہلکی گفتگو اُن میں جاری رہی .یونیورسٹی کے گیٹ پر پُہنچ کرانفال گاڑی سے باہر نکلی اور اپنے والد کو خدا حافظ کیا …اللہ حافظ بابا شام میں گھر پر آپ سے ملاقات ہوتی …کہہ کر وہ اندر بڑھ گئ .. تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنی کلاس میں موجود تھی اور اپنی سہیلیوں کی ساتھ بات کررہی تھی . اسیگمنٹ بنا لی فاطمہ تم نے؟ ساتھ بیٹھی لڑکی سیاہ سوٹ میں دوپٹہ گلے میں پیچھے کی طرف کو پھینکے ،چہرے پر ہلکا میکپ کیے پیروں میں سیاہ ہی رنگ کی چپال پہنے اُس کی طرف مری . انو یار میں نے ابھی بس لاسٹ پیج رہ گیا رات کو کب سوگئی پتہ نہیں چلا اور مزید چند لفظ لکھ کر اُس نے صفحے ترتیب دیئے . ہاں ہوگیا دیکھو بن گئی اسیگیمنٹ میری. میس رایٹر صاحبہ .لیکچر کے بعد ہم چلے گے جمع کروانے اب کے انفال بولی. فاطمہ نے ہاں میں سر ہلایا . کچھ دیر میں لیکچر چھوڑو ہوگیا تھا اور اب وہ دونوں لیکچر لے رہی تھی. اگلے منظر میں وہ دونوں کینٹین میں تھی . اور مزید دو تین لڑکیاں اُن کے ساتھ دائرہ بنائے بیٹھی تھی . انو؟ تمھاری کتاب ہوگئی مکمل ؟ ایک طرف سے نیلی آنکھوں والی لڑکی نے سوال کیا . ہاں مریم بس کچھ کام رہ گیا جلد اپنی کتاب شائع کر دونگی . انفال نے جواب دیا . کیا ضرورت پڑی ہے اتنا سب کرنے کی سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس کھلے بال جو ماتھے پر آرہے تھے سیاہ آنکھیں لڑکی انفال کو مخاطب کر کے بولی . کیا مطلب انفال کی جگہ ساتھ بیٹھی فاطمہ نے آبدار سے سوال کیا ؟ اُس کا شوق ہے ہُنر ہے تم کہہ رہی کیا ضرورت ؟ ہاں تو؟ اسکے بابا سب کرتے تو ہے پرکیا ضرورت ہے اتنا خود کو پاگل کرنے کی . مجھے لگتا کے اگر آپکے باپ بھائی یا شوہر آپ کو تحفظ اور سب فراہم کرتے ہیں تو آپ خود بھی خود مختیار ہو؟ انفال نے جواب دیا . (مریم اور آبدار انفال کی یونیورسٹی کی دوستیں تھی …. انفال کو یونیورسٹی میں تین سال ہو چُکے تھے مگر ابھی بھی وہ مریم اور آبدار کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی وہ دونوں کافی عجیب تھی جب بھی انفال اور فاطمہ اُن کی فیملی کے متعلق پوچھتی تھی وہ دونوں بات کو گھوما دیتی تھی یا ٹال دیتی تھی آخر کار فاطمہ اور انفال نے اُن سے اس معاملے پر بات کرنا مناسب نا سمجھتے ہوئے بات بند کر دی وہ دونوں آپس میں اچھی دوستیں تھی مگر انفال اور فاطمہ کو اُن سے خاص مناسبت نہیں تھی. وہ ہمیشہ اُن دونوں کی باتوں میں نکس نکلتی تھی

انفال اور فاطمہ اُن کی یہ عادت سمجھ چُکی تھی سو زیادہ سے زیادہ وہ اُن دونوں کو نظر انداز کرتی تھی مگر آبدار اور مریم اُن دونوں کی بیچ ضرور آتی تھی )….. انفال نے کسی احساس کے تحت بات دوبارہ شروع کی …. نبی کریم صلی علیہ وسلم کے دور میں بھی بہت سی عورتیں ایسی تھی جو خود مختیار تھی ….. حضرت عائشہ سے لوگ علم کی باتیں پوچھنے اتے تھے حضرت خدیجہ ایک کامیاب کاروباری خاتون تھی, حضرت فاطمہ بنت محمد جنت کی عورتوں کی سردار،حضرت ام عمارہ جنہوں نےاُحد کے موقع پر نبی پاک صلی اللہ وسلم کی حفاظت کی تھی ….اسی بہت سی مثالیں ہے دین میں …. تو پراج کی عورتیں کیا زیادہ افضل ہے اُن سب سے؟ ہاں تم ٹھیک کہہ رہی پر جب شوہر یا بھائی باپ ہے تو کیا کرنا کما کر؟ اج ہے کل نہ ہو تو؟ خود کی حفاظت اور خودمختاری کا یہ مقصد نہیں کے آپ اپنی حدود کو پار کر دے.ہاں تمھاری بات اپنی جگہ ٹھیک ہے پر .کیا پرور اب کے فاطمہ بولی ہماری دوست رائٹر بن رہی ہے . اسی بات پر اج انفال ہمیں کچھ میٹھا کھلائے گی . ہاں میرا بھی بہت دل کررہا آئس کریم کھانے کو ؟ مریم میٹھے کے نام پر فوراً بولی . اچھا چلو منگوا لو میں پے کر دونگی انفال نے جواب دیا .پاس کھڑے ویٹر کو آرڈردیا گیا اور کچھ ہی دیر میں وہ ویٹر ہاتھ میں چار الگ فلیور کی آئس کریم پکڑے اُنہی کی طرف بڑھا اُس نے باری باری اُن کو وہ آئسکریمز تمائی اور پیمنٹ لے کرچلا گیا. وہ چاروں باتوں میں مصروف اپنی اپنی آئسکریم انجواۓ کرنے لگی .چلو یاراب چار بج رہے آخری لیکچر چھوڑو ہونے والا چلتے ہے .نیلی آنکھوں والی لڑکی نے کہا. ہاں اٹھو چلو. چیزیں اٹھا لو اپنی اپنی ،فاطمہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا . اب وہ چاروں ایک قطار میں باہر نکلی . اُن سب میں انفال الگ ہی نظر آتی تھی خوبصورت ، سادہ دلکش . فاطمہ تم تینوں جاؤ کلاس میں بات سن کر آتی اُسکی (اُس نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کرتی کہا) . وہ تینوں آگے بڑھ گئی اور انفال اُس لڑکی کی جانب بڑھ گئی جب اُس کی ٹکر سامنے سے آتے اک لڑکے سے ہوئی اور اُس کی ساری چیزیں زمین پر بھکر گئی اُس نے جھک کر سب سمیٹنا چھوڑو کیا . سوری خاتون میں اُس جانب بڑھ رہا تھا میں آپکو نہیں دیکھ پایا (سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ لمبا قد، گندمی رنگت اور تیز نقش والا مرد تھا۔ اُس کے گھنگریالے بال ہمیشہ بےترتیبی سے ماتھے پر گرتے رہتے، جیسے ہوا بھی اُنہیں سنوارنے میں ناکام ہو۔ گہری روشن سیاہ آنکھوں میں عجیب سا اعتماد اور خاموش غرور چھپا تھا۔ جبڑے کی مضبوط لکیر اُس کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتی تھی)۔ وہ کم بولتا تھا، مگر اُس کی موجودگی ہی ماحول پر حاوی ہونے کے لیے کافی تھی۔ اُس کے چہرے پر ایک بےپرواہ سی کشش تھی، ایسی کشش جو انسان کو انجانے میں اُس کی طرف کھینچ لے" لڑکا جھک کر اُس کے صفحے اٹھاتے ہوئے وضاحت دے رہا تھا .مگر وہ سنہری آنکھوں والی لڑکی کا دھیان اپنی کتابیں اور صفحےاُٹھنے پر تھا . وہ اپنی چیزیں سمیٹ کرآگےبڑھ گئ بنا کچھ جواب دیئے .وہ حیرانی کے علم میں اٹھ کراپنےدوست الحان کی جانب بھرنے لگا. وہ حیران تھا جہاں لڑکیاں خود اُس سے بات کے بہانے ڈھونڈتی تھی یہ پہلی لڑکی تھی جس نے اُسے دیکھا بھی نہیں آگئے بڑھتے وقت اُس کا دھیان ایک طرف گیری ڈائری پر پڑا اُس نے اُسے تھاما اور ڈائری واپس کرنے کو مرا تو وہ بھیڑ میں کہی کھو گئ تھی. وہ اگے اپنے دوست کی طرف بڑھ گیا.کہا رہ گیا تھا تو؟ کب سے کھڑا ہو میں کلاس چھوڑوہوگئی ہوگی اور وہ لڑکی کون تھی تو اُسے جانتا ہے کیا؟ "ہاں" وہ بس اتنا ہی کہہ پایا . اچھا چل چلےوہ ڈائری ہاتھ میں تھامے اگے بھرگیا مگر اُس روشن آنکھوں والے کی نظریں اب بھی اُس سنجیدہ لڑکی پر تھی . یونیورسٹی سے گھر آ کر کچھ دیر آرام کے بعد انفال نے اپنا بیگ اپنی کتابیں اور کچھ مزید چیزیں نکالنے کے لئے کھولا اور ڈائری نکلنا چاہی . مگر اُس کی بے چینی اُس وقت بھر گئی جب اُسے وہ ڈائری ملی نہیں وہ پاگلوں کی طرح اُس ایک ڈائری کے لئے اپنا ساراکمرہ الٹ پلٹ کر چکی تھی اور آخر میں اپنے بیڈ کے ساتھ لگ کر زمین پر بیٹھی اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگی. جب انسان کو لگتا کے وہ سب ہار گیا سب ختم ہوگیا تو تب ہی تو اصل امتحان چھوڑو ہوتا ہے چاہے وہ محبت کا ہو یا کسی اور من پسند چیز کا ..

نَبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ . ترجمہ (اردو): “اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو"

وہ جتا تونہیں رہی تھی مگروہ تکلیف میں تھی یہ اُس کی آنکھوں سے ظاہرہورہا تھا . اچانک دوسری طرف پڑھا فون بجا وہ آواز فون سے آرہی تھی وہ اٹھی اور غصے میں فون اٹھا کر کان سے لگایا .دوسری طرف سے لڑکی کی آواز گونجی ،میں فاطمہ ہو کب سے کال رہی ہو .میں تمھاری طرف آرہی ہو تو سوچا پوچھ لو اج کونسے فلیورکا کیک لاؤ.فاتی پلیز تنگ مت کرو یہ کہہ کر اُس نے کال کاٹ دی اور فون واپس رکھ کر بیڈ پر گیرنے کے انداز میں ليٹ گئ . وہ کب سوگئی اُسے خود بھی معلوم نہ ہوا .انسان اتنا کمزور ہے کے اپنی من پسند چیز کے کھو جانے کے خیال سے ہی ڈیہ جاتا ہے. اُس کی آنکھ دروازے کی دستک پر کھلی .اُس نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور سامنے سے فاطمہ اندر داخل ہوئی اُس نے کمرے کا جائزہ لیا (یہ کمرہ مناسب سائز کا تھا کمرے کی ایک طرف بیڈ اور اُس کے سامنے دیوار پر شیشہ لگا تھا بیڈ کے پیچھے کھڑکیاں تھی اور ساتھ بالکنی کا دروازہ تھا بیڈ سے تھوڑا آگے کی طرف سائڈ پرایک اسٹڈی ٹیبل اورکرسی پڑھئ تھی اور سامنے باتھرُوم کا دروازہ اور اُس کی ساتھ والی دیوار پر کپڑوں کی الماری فیکس تھی .یہ کمرہ انفال کی طرح تھا تو سادہ مگر اِس وقت بری طرح بِکھرا پڑا تھا. فاطمہ نے ایک نظر کمرے کو دیکھا اور ایک بار انفال کو جو بیڈ پر خاموشی سے لیٹی تھی اُس نے ہاتھ میں پکڑا کیک والا ڈیبا ایک طرف رکھا اور سارا سامان سمیٹنا چھوڑو کیا اُس کو اِس وقت سمجھ کچھ نہیں آیا مگر اُس نے پہلے سب سمیٹنا مناسب سمجھسب سمیٹ کر اب وہ انفال کے برابر آ کر بیٹھی کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو کمرے کا کیا حال بنایا ہوا تھا تم نے (آنفال اور فاطمہ دونوں بچپن کی سہیلیاں اور ماموں زاد تھی ). انفال نے ایک دم رونا چھوڑو کردیا.یارمیری ڈائری نہیں مل رہی صبح مجھے یاد ہے میں یونیورسٹی لئےکرگئ تھی مگر اب مل نہیں رہی وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرتے رونے لگی فاطمہ نےروکنے کی کوشش کی مگر وہ بنا سنے اور رونے لگتی. جب رو رو کر انفال تھک گئے تو وہ خاموش ہوگئی ایک دم ساکت .فاطمہ نے بہت بار

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

Editor note: Online reading URL missing — replace ADD_READER_URL_HERE before publishing.

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Aleesha Tanveer

Explore more Urdu novels by Aleesha Tanveer, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the meaning of the novel's title, "Anfal"?

"Anfal" means "spoils of war" or a gift from God received after successfully enduring a severe trial.

Who are the main characters introduced in Episode 1?

The main characters are Anfal, her mother Amaan Begum, her best friend Fatima, and a mysterious boy she bumps into at the university.

What is Amaan Begum's past?

Amaan Begum was a brilliant English Literature student who silently compromised and married a strict man to honor her father's choice, burying her own dreams.

Why does Anfal cry uncontrollably at the end of the episode?

Anfal cries because she loses her precious personal diary at the university after colliding with a boy, and she struggles to express her deep emotional pain.

👁 1 Views

Leave a Comment