Aaghosh e akhuwat Season 2 by Hajra Batool complete novel

Aaghosh e akhuwat Season 2 by Hajra Batool

Aaghosh e akhuwat by Hajra Batool — About the Novel

Aaghosh e akhuwat Season 2 by Hajra Batool continues the intense narrative surrounding the lives of Ahmed, Tara, and the enigmatic Yusuf Ali Khan. As the boundaries between past grievances and present dangers blur, the characters find themselves entangled in a web of secrets and long-held grudges. With Nimra’s return from captivity, the tension within the household escalates, forcing everyone to confront the truth about their families.

This installment explores the complex dynamics of loyalty, revenge, and the heavy price of seeking justice in a world where trust is a rare commodity.

Novel Summary in Urdu

آغوشِ اخوت سیزن 2 احمد اور تارا کی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے والدین کی موت کے صدمے سے دوچار ہیں۔ احمد کو یقین ہے کہ یوسف علی خان اس کے والد کے قتل کا ذمہ دار ہے، جس کا بدلہ لینے کے لیے وہ اپنے دوستوں حارث، علی اور احمر کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بناتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت یوسف کی بیٹی نمرہ کو اغوا کیا جاتا ہے، لیکن یہ عمل خود ان کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔ احمر، جو خود یوسف کا بیٹا ہے، اپنے دوستوں اور اپنے خاندان کے درمیان ایک مشکل کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔

نمرہ کی رہائی کے بعد بھی حالات معمول پر نہیں آتے۔ نمرہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے والد یوسف نے اغوا کے معاملے پر اس سے جھوٹ بولا ہے اور پولیس کو ملوث نہیں کیا، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف، تارا اور احمد اپنی زندگیوں میں پیش آنے والے حادثات اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوستوں کا یہ گروہ، جو کبھی ایک مقصد کے لیے متحد تھا، اب اپنے کیے گئے فیصلوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔ کہانی میں سسپنس اس وقت بڑھ جاتا ہے جب تارا اور احمر کی ملاقاتیں اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں نئے سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ یوسف علی خان کے اصل عزائم اور ماضی کے رازوں سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے، جس سے کرداروں کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

یہ ناول انتقام کی آگ اور خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتا ہے، جہاں ہر کردار سچائی کی تلاش میں کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔

Novel Detailed Summary in English

The story follows the lives of Ahmed and his sister Tara, who are haunted by the mysterious death of their parents. Ahmed, convinced that the powerful Yusuf Ali Khan is responsible for their father's murder, seeks retribution alongside his friends, Haris, Ali, and Ahmer. The group’s attempt to leverage Yusuf by kidnapping his daughter, Nimra, leads to unforeseen consequences and internal conflict.

As the narrative unfolds, the lines between the captors and the victims become increasingly blurred, especially as Ahmer—who is Yusuf’s son—finds himself caught between his loyalty to his friends and his own family identity.

Nimra’s eventual release and return home do not bring the expected peace. Instead, she discovers that her father, Yusuf, has been concealing the truth about the kidnapping and his interactions with the police. Meanwhile, Tara and Ahmed continue to navigate their own trauma, with Tara finding herself in a precarious position as she interacts with Ahmer. The group of friends, once united by a singular goal, now faces the reality of their actions and the moral weight of their choices.

As they gather at a cafeteria to process the unfolding events, the realization dawns that the game they initiated has spiraled beyond their control. With Yusuf’s true motives remaining shrouded in mystery and the threat of further violence looming, the characters must decide how far they are willing to go to uncover the truth about their pasts. The manuscript highlights the psychological toll of vengeance and the fragile nature of relationships when built upon secrets and hidden agendas.

Genre

Crime based Urdu Novels

Key Themes

  • Revenge and Retribution
  • Family Secrets
  • Trauma and Healing
  • Loyalty vs. Morality
  • Kidnapping and Consequences

Short Scene from the Novel

(امریکہ کی شام پاکستان کی شام سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔تارا،داؤد اور احمد سینٹرل پارک میں ائے ہوئے تھے جہاں بہت سے لوگ اپنی ہی دنیا میں گم مزے کر رہے تھے۔ داؤد اور احمد کی ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہتی تھیں احمد کافی کم گو ہو گیا تھا یا پھر شاید وہ اپنے بولنے کی صلاحیت کھو چکا تھا وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا تھا۔اخر وہ پولیس والے کا بیٹا تھا!اس سارے وقت میں اس نے محسوس کیا تھا کہ تارا اور داؤد دونوں کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔جو اسے ایک انکھ نہ بھائی۔ تارا خوش تھی مگر نہ جانے کیوں احمد کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا یہ بات نہیں تھی کہ وہ تنگ سوچ کا مالک تھا مگر جب وہ داؤد کے قریب ہوتا تھا تو اس کی نظریں۔۔ وہ کچھ عجیب تھیں!

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Editor note: Download URL missing — replace ADD_DOWNLOAD_URL_HERE before publishing.

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

*آغوش اخوت*

*از قلم* : *حاجرہ بتول*

PART 2:

"زندگی ایک خوبصورت کتاب ہے جس کا ہر صفحہ ایک نئی کہانی لیے بیٹھا ہے اور اگر تم صرف محبت والے صفوں کو ہی پڑھتے رہو گے تو پھر اگلے صفوں کی سیاہی سوکھ جائے گی!"

(قسط 1 تا 3)

بہار،

نہ صرف پھولوں کے کھلنے کا بلکہ دلوں کے کھلنے کا موسم!

بہار کے موسم کی پہلی صبح جب سورج پہاڑوں سے جدا ہوا تو وہ نرمی سے اسمان کے گلے لگ گیا۔

سورج چاچا کی نرم گرم دھوپ دیکھ کر ہواؤں میں ہلچل مچی۔وہ ہوائیں خوشی کا پیغام لیے پھولوں کے پاس ائی اور ان کے کانوں میں سرگوشی کی اور پھول چہک اٹھے۔ سورج نے مسکرا کراچی کے سمندر کو دیکھا جو اج کچھ زیادہ ہی پرسکون تھا اور اپنی ہواؤں میں پرندوں کو جھومتا دیکھ رہا تھا۔ بہار کی پہلی صبح کو گویا پوری کائنات خوشی سے خوش امدید کہہ رہی ہو!

ایسے میں وہ لکڑی کا گھر اج بھی ان کھیتوں کے درمیان خاموشی سے کھڑا بدلتے ہوئے موسم دیکھ رہا تھا۔ ایک ہفتہ خاموشی سے گزرا تھا مگر کون جانتا تھا اس خاموشی میں کتنی اوازیں بلند ہوئی تھیں!

وہ 22 سال کا نوجوان مزے سے اس ظالم دنیا سے دور گہری نیند میں سو رہا ہوتا ہے۔ اس کے کمرے میں نیم اندھیرا ہوتا ہے واحد کھڑکی کے سامنے پردے کو ڈال کر روشنی کو اندر انے سے منع کیا گیا ہوتا ہے۔ وہ ایک ہلکا سا کھیس سینے تک اوڑھے سو رہا ہوتا ہے۔ وہ کروٹ لیتا ہے۔ اب اس کا چہرہ کھڑکی کی طرف تھا۔ اچانک اس کے ماتھے پر بل آتے ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں کو چھونے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔احمر بمشکل اپنی بھاری ہوتی ہوئی لمبی پلکوں کو جدا کرتا ہے۔ اس کی ہری پُر کشش انکھوں میں نیند کے موتی واضح تھے۔ وہ اپنے ساتھ پڑا ایک تکیہ اٹھا کر زور سے کھڑکی کی طرف اچھالتا ہے اور کھڑکی جھٹ سے بند ہو جاتی ہے۔ وہ پھر سکون سے انکھیں بند کر لیتا ہے۔ مگر اس کا یہ سکون صرف پانچ منٹ کا ہی تھا۔ پھر سے سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں کو چومتیں ہیں۔ وہ بڑی بڑی آنکھیں تھیں ہی اتنی پیاری کہ تمھارا انھیں بار بار چومنے کا دل چاہے۔

"یہ صرف قیامت انے پر ہی اٹھ سکتا ہے!"

"مجھے تو مشکل لگتا ہے!"

"سور پھونکنے والا فرشتہ قیامت والے دن اس کے سر پر کھڑا ہوگا اور یہ اس سے کہہ رہا ہوگا۔۔۔بس فرشتے بھائی۔۔۔ بس پانچ منٹ سونے دو۔۔۔ اپ سب حساب کتاب نپٹاؤ میں بس پانچ منٹ سو کے اتا ہوں!"

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp :

Email:

"ہا ہا ہا ہا ہا ہا!"

کمرے میں چند اوازیں گونجی۔احمر کو یہ آوازیں کسی کنویں سے اتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ شاید وہ ان اوازوں کو پہچانتا تھا یا شاید نہیں اس کا سویا ہوا دماغ فیصلہ نہ کر پایا۔

"ابے اب آٹھ بھی جا احمر!" کسی نے پوری کھڑکی کھول دی۔ اور اب سورج کی شعائیں اس شخص کی شکر گزار بنتی پورے کمرے میں پھیلتی جا رہی تھی۔ اچانک احمر کی انکھ کھلی اور وہ اٹھ بیٹھا۔وہ ان اوازوں کو پہچانتا تھا کیا! کوئی اپنے دوست کی اواز بھی کبھی بھول سکتا ہے؟

انکھیں ملتے ہوئے وہ منظر واضح ہوا تھا۔ حارث اس کی ڈریسنگ ٹیبل کی چیزیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔علی اس کھڑکی سے گھر کے آس پاس کے نظارے کو دیکھنے میں مگن تھا اور احمد ہاتھوں میں کچھ لیے اسے گھور رہا تھا۔

"تم سب ؟" اس کی اواز پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

"اٹھ گئے مہاراج!"

"ہاں"وہ انگرائی لیتا ہے۔

چند پل ایسے ہی گزر جاتے ہیں احمر بیڈ پر بیٹھا انہیں خاموشی سے دیکھ رہا ہوتا ہے وہ ابھی تو نیند سے اٹھا تھا مگر اس کے سامنے کھڑے اس کے تین دوست اسے گھور رہے ہوتے ہیں اچانک احمر کو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے وہ سب اتنے خاموش کیوں ہیں اور اس کے دماغ میں پھر لال گھنٹی بجی تھی۔اس کی انکھیں! اس کی وہ ہری انکھیں جس پر لینز نہیں لگے ہوئے تھے!!!

احمر تیزی سے بیڈ سے اٹھا اس کا رخ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب تھا۔ وہ تیزی سے ہاتھ چلاتا کچھ ڈھونڈنے لگ جاتا ہے۔ یہ ایک ہفتے بعد ان سب کی پہلی ملاقات تھی۔ احمد کے ایکسیڈنٹ کے بعد احمر ان سب کے سامنے نہیں ایا تھا۔ اور نہ ہی ان تینوں کی احمر سے کوئی بات ہوئی تھی اور اج اچانک!

"اسے ڈھونڈ رہے ہو ہری انکھوں والے؟" احمد کی اواز پر احمر نے بے اختیار احمد کو پیچھے مڑ کر دیکھا جو اب کھڑکی کے قریب کھڑا ہوتا ہے اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ ہوتا ہے۔

احمر کی بلیک لینس کولیکشن!

"احمد اسے-"

اس سے پہلے کہ احمر کی بات پوری ہوتی احمد کا ہاتھ کھڑکی سے باہر گیا۔۔

"احمد مجھے واپس دو۔۔۔ وہ ڈبہ میرا ہے!" احمر کے منہ سے الفاظ پھسلے

"یہ۔۔۔تمہارے اور احمد کے درمیان میرا تیرا کیسے ا گیا؟" علی نے احمر کو گھوری سے نوازا۔

"احمر تم اپنی انکھیں کیوں چھپاتے ہو؟"

احمد نے احمر کے الفاظ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا۔ احمر نے ایک گہری سانس لی اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔

"میں۔۔۔میں شرمندہ تھا!" اس نے سر جھکا لیا اور اس کمرے میں موجود اس کے دوستوں نے چاہا کے اس کی قسمت کی کتاب سے ہر دکھ مٹا دیں اور اس میں خوشیوں کے رنگ ڈال دے مگر قسمت تو خدا لکھتا ہے نا!

"کس سے شرمندہ احمر؟" حارث کا لہجہ نرم ہوا اور وہ اس کے ساتھ ا کر اس کی دائیں طرف بیٹھا۔

"اپنے آپ سے!"

"کیوں؟" علی اس کے سامنے کھڑا ہوا۔احمد ابھی بھی کھلی کھڑکی کے پاس ہی کھڑا ہوتا ہے۔احمر کا لینس والا ڈبہ کھڑکی کے باہر کہیں نیچے گر کر ٹوٹ چکا تھا۔

"میں اس (گالی) شخص کا بیٹا ہوں جس کی وجہ سے میری ماں نے بہت تکلیفیں جھیلیں۔۔۔ میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس نے لوگوں کی زندگی تباہ و برباد کر دی۔۔۔میں 10 سال کا تھا جب میں نے اپنی پہچان چھپا لی۔مجھے یہ ہری انکھیں دیکھ کر گھن اتی تھی۔۔۔جب جب میں اپنے عکس کو شیشے میں دیکھتا تھا تب مجھے اپنی ہری انکھیں یوسف کی یاد دلاتی تھی جس (گالی) کی وجہ سے میری ماں کی انکھوں کا نور ختم ہو گیا! اور-"

"اور کیا؟" احمد کہتا ہوا اس کے بائیں جانب بیٹھا۔علی کرسی رکھ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کے جھکے ہوئے چہرے کو تھوری سی پکڑ کر اوپر کیا تھا اب احمر علی کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

"اور کیا احمر؟" علی کا لہجہ سنجیدہ تھا۔

"بچپن سے ہی میرے دل میں یوسف کے لیے نفرت تھی میں چاہتا تھا اس کو اس کے گناہوں کی سزا ملے مگر میں اکیلا تھا میں بے بس تھا میں نے اس سے بدلہ لینے کی خواہش کو اپنے اندر ہی کہیں دبا لیا تھا مگر وہ ختم نہیں ہوئی تھی اور جب میں تم سب سے ملا تھا اور تم سب کی زندگی کے بارے میں جانا تھا تب وہ خواہش دوبارہ زندہ ہو گئی تھی۔۔۔ہم دوست بن گئے تھے! یوسف نے میری زندگی برباد کی تھی لیکن میں اسے تم لوگوں کی زندگی برباد کرتے نہیں دیکھ سکتا تھا!"

اور اب؟" حارث نے کہا۔

"اب بھی نہیں دیکھ سکتا!"

"پھر کیوں لڑکیوں کی طرح چھپ کر اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتے؟کیوں تم ہمارا سامنا نہیں کرتے ان انکھوں کے ساتھ؟کیا تم اتنے بزدل ہو؟" احمد نے کہا اور احمر نے اپنا چہرہ احمد کی طرف موڑا

"یوسف تم سب کا دشمن ہے۔۔۔نمرا،وہ صرف ایک مہرا ہے اس سے تم لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں مگر تم اس سے نفرت کرتے ہو کیونکہ وہ بھی تو یوسف کی بیٹی ہے۔۔۔اور میں" احمر نے اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف دیکھا تھا۔

"بد قسمتی سے۔۔۔میں بھی تو یوسف کا بیٹا ہوں!" اج وہ ہمیشہ شور کرنے والا احمر بہت دھیمی اواز میں بول رہا تھا اتنی دھیمی اواز کہ ان سب کو سننے کے لیے بھی اسے قریب جھکنا پڑتا۔

"مجھے لگا۔۔۔تم لوگ مجھ سے نفرت کرو گے جیسے۔۔۔جیسے میں خود سے کرتا ہوں! میں نے کبھی دوست نہیں بناے شاید کبھی بنے ہی نہیں کیونکہ میں ان لوگوں کو اپنے قریب نہیں انے دیتا تھا۔۔۔مجھے خود سے گن اتی تھی مگر میں نے تم سب کو دوست بنا لیا شروعات میں میں نے تم سب کو صرف یوسف سے اپنے بدلے کے لیے دوست بنایا مگر اہستہ اہستہ میں نے اپنے دل کے آس پاس بنی اس دیوار کو گرتا محسوس کیا۔۔۔" سب ہلکا سا مسکرائے تھے

"میں نے محسوس کیا تھا تم سب کے ساتھ رہنے کے لیے مجھے اس بات کا خیال نہیں رکھنا پڑتا تھا کہ اگر میں نے یہ کر دیا تو وہ مجھے پسند کریں گے یا نہیں کریں گے، تم سب کے ساتھ رہنے کے لیے مجھے اپنی برای کو چھپانا نہیں پڑا، تم سب کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ دوستی کتنی قیمتی ہوتی ہے! آپ دنیا کھو سکتے ہو مگر اپ دوست نہیں کھول سکتے!"

"تمہیں لگا کہ ہم تمہارے اور یوسف کے رشتے کی وجہ سے تم سے نفرت کریں گے احمر یوسف؟" علی نے کہا۔

"دوست قیمتی ہوتے ہیں احمر۔۔۔دنیا میں دوست نہ ہو تو یہ پھیکی لگتی ہے!"حارس نے کہا۔

"تم بھی ایک انسان ہو احمر۔۔۔کوئی بھی انسان مکمل طور پر خوش نہیں ہوتا۔سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی حصہ ہمیشہ خالی ہی رہ جاتا ہے۔زندگی خوبصورت نہیں ہوتی احمر مگر خدا نے جینے کے لیے اس زندگی میں کچھ لوگ دیے ہوتے ہیں جو کوس قزح سے رنگ چرا کر لاتے ہیں وہ لوگ جن کے ساتھ اپ کا خونی رشتہ نہ بھی ہو تب بھی وہ لوگ اپ کو اپنے لگتے ہیں کیونکہ اپ کا دل ان کو اپنا مانتا ہے اور تم جانتے ہو ان کو کیا کہا جاتا ہے؟"

"دوست!" احمر کی انکھیں نم ہوئی۔اس کے دوست اس کو لینے ائے تھے۔ وہ اس کے دوست تھے۔۔۔ وہ اس کو کیسے چھوڑ سکتے تھے؟ دوستوں کو پیچھے نہیں چھوڑا جاتا!

حارث اٹھا اور اس نے احمر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو شیشے کے سامنے کھڑا کیا اور احمر نے پہلی دفعہ خود کو ائینے میں دیکھا۔۔۔وہ ائینے میں تو خود کو روز ہی دیکھتا تھا مگر اسے لگا کہ اج اس نے پہلی دفعہ خود کو دیکھا ہے! دودھ سے دھلا ہوا وہ سفید چہرہ جس پہ چمکتی وہ ہیرے جیسی ہری انکھیں جو لمبی گھنی پلکوں کے درمیان قید تھیں۔اور پھر ان انکھوں نے اپنے ساتھ کھڑے ہوتے ان لڑکوں کو دیکھا۔ حارث نے احمر کے گلے میں ہاتھ ڈالا، علی نے پیچھے سے دونوں ہاتھ احمر کے گلے میں ڈالے اور احمد نے اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ مضبوطی سے دبایا تھا وہ سب ائینے میں دیکھ رہے تھے۔ وہ ادھورے انسان مکمل لگ رہے تھے۔

ائینے میں کھڑے وہ لوگ بڑے خوبصورت تھے۔ دل کے خوبصورت!

دنیا میں اگر مکمل منظر کسی کو کہا جاتا تو ائینے میں دکھتے وہ چار تھے!

یہ جو تھکے تھکے سے لوگ ہیں ان سے پوچھو یہ کیوں خاموش ہیں؟ کیا زندگی نے غم دیے یا خوشیاں ساری بے مول ہیں؟؟

"اچھا چلو اب نکلو میرے کمرے سے! بہت ہو گیا!" وہ تینوں بے اختیار مسکرائے تھے ان کا احمر واپس ا چکا تھا۔

"ابے اتنی دور سے تجھے منانے ائے ہیں… وہ بھی اتنی صبح صبح۔۔۔کھانا وانا ہی کھلا دے!" احمد نے منہ بنایا۔

"اچھا چل بھوکے کھلا ہی دیتا ہوں تو بھی کہ یاد رکھے گا کہ کس سخی سے پالا پڑا تھا تیرا!"

کچھ دیر بعد؛

وہ سب اس لکڑی سے بنے گھر کے درمیان میں ڈائننگ ٹیبل کے ارد گرد موجود تھے۔اج اس گھر میں کچھ الگ ہی مہک اور خوشی پھیلی ہوئی تھی۔احمر اپنی ماں کے ساتھ خوشی سے ناشتہ لگا رہا ہوتا ہے اور گل بار بار احمر کی انکھوں کو دیکھتی مسکراتی اور شکر کے کلمات ادا کرتی۔اخر اج کی تاریخ میں احمر نے خود کو ازاد کر دیا تھا!

"انٹی اپ نے تو بہت زحمت کر دی!"علی نے مسکراتے ہوئے کہا احمر اور اس کی امی بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔

"نہیں بیٹے مجھے تو بہت خوشی ہے کہ اپ سب ائیں!" گل نے مسکرا کر احمر کو دیکھا۔

"مجھے بہت اچھا لگا کہ اج احمر نے خود کو قبول کر لیا اپ سب کا بہت شکریہ!"

احمد جوس کا گلاس پیتے ہوئے کھانے کی خوشبو کے ساتھ یادوں میں ڈوب گیا۔

(اٹھ سال کا احمد اپنی ماں باپ اور تارا کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا۔

"بابا امی کو کہیں نہ کہ مجھے جوس نہیں پینا!" احمد نے باپ کے کان میں کہا۔ وہ مسکرائے۔

"میں نے سن لیا ہے احمد خاموشی سے پیو!"حسن کی بیوی جو تارا کو نوالے بنا بنا کے کھلانے میں مصروف تھیں انہوں نے احمد کو ایک گھوری سے نوازا۔

"بابا!" احمد نے اپنی معصوم سے انکھیں ان سنہری انکھوں میں گاڑی تھیں۔

"اچھا ٹھیک ہے اج مت پیو لیکن کل پی لینا!"احمد کھلکھلایا اور اپنی ماں کو دانت نکالے۔

"اپ میرے بیٹے کو بگاڑ رہے ہیں حسن!" انہوں نے مصنوعی ناراضگی سے حسن کی طرف دیکھا تھا حسن ہلکا سا ہنسا۔ وہ اپنی پولیس کی وردی میں موجود تھا۔اس نے احمد کے جوس کا گلاس اٹھایا اور اچانک ہی اپنی بیوی کی لبوں سے لگا دیا۔

"لیں آپ کو بھی بگاڑ دیتے ہیں بیگم جی!" احمد کی ماں کے گال ٹماٹر کی طرح سرخ ہوئے تھے۔

تارا ان سب سے بیزار بیٹھی چھوٹے چھوٹے نوالے اپنے منہ میں ڈال رہی تھی وہ ابھی ان کی باتیں سمجھنے کے لیے چھوٹی تھی۔)

ناشتے کی خوشبو میں وہ منظر ختم ہوتا چلا گیا۔ وہ اداسی سے مسکرایا۔

ماضی کی یادوں کو انے سے بھی بھلا کون روک سکتا ہے اور ان کو جانے سے بھی کون روک سکتا ہے؟

وہ سب مسکرائے تھے۔ کاش ان کو کوئی بتاتا کہ ان کے گھر کے باہر کوئی طوفان موجود تھا وہ طوفان جو خاموشی سے کھڑا ان سب کو پھر سے اپنا اشیانہ بناتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ان سب کو اس طوفان سے ڈرنا چاہیے تھا!

۔۔۔۔۔۔

کے پی ایس؛

کراچی کا بہترین سکول اینڈ کالج تھا۔ تارا اور امنہ اسی کالج میں جاتی تھی اور نمرا نے بھی اسی کالج سے ایف ایس سی کی تھی۔

لائبریری اپنے اندر ہزاروں کتابیں سمیٹے خاموش کھڑی تھی۔اس بڑی لائبریری میں چاروں دیواروں کے اگے بڑے بڑے شیلفز کھڑے تھے جن میں مختلف کتابیں رکھی تھیں اور درمیان میں کرسیاں اور ٹیبلز تھی۔ کچھ سٹوڈنٹس وہاں بیٹھے ہوئے کتابوں میں غرق تھے تارا بھی وہیں ایک

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

Editor note: Online reading URL missing — replace ADD_READER_URL_HERE before publishing.

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Hajra Batool

Explore more Urdu novels by Hajra Batool, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

Who is the primary antagonist in Aaghosh e akhuwat Season 2?

Yusuf Ali Khan is portrayed as the central figure whose past actions and alleged involvement in the murder of Ahmed and Tara's parents drive the conflict.

Why did Ahmed and his friends kidnap Nimra?

They kidnapped Nimra in an attempt to force Yusuf Ali Khan to surrender specific files that they believed would expose his criminal activities.

What is the relationship between Ahmer and Yusuf Ali Khan?

Ahmer is the son of Yusuf Ali Khan, a fact that creates significant internal conflict for him as he is also friends with those seeking revenge against his father.

How did Ahmed and Tara's parents die?

While initially framed as an accident, Ahmed believes his parents were murdered by Yusuf Ali Khan, a suspicion supported by conversations he overheard between his uncle and aunt.

What is the significance of the files mentioned in the novel?

The files are the primary leverage Ahmed and his friends seek to obtain from Yusuf to prove his involvement in past crimes, though their exact contents remain a central mystery.

👁 1 Views

Leave a Comment