Obsessed Stalker by by Husn-e-Tehreer Complete Novel

Obsessed Stalker by by Husn-e-Tehreer Complete Novel

Obsessed Stalker by by Husn-e-Tehreer — About the Novel

In the gripping novel Obsessed Stalker by Husn-e-Tehreer, a quiet life in a rented apartment turns into a nightmare for Ishal. While her husband, Ahmar, is away, she finds herself under the constant, invisible watch of a neighbor who hides a dark fixation behind a mask of friendship. As personal belongings vanish and her digital privacy is systematically dismantled, Ishal realizes she is being hunted by someone she once trusted.

This intense story explores the terrifying reality of an obsessed stalker who will stop at nothing to possess what he desires.

Novel Summary in Urdu

اِشال اور احمر ایک کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں، جہاں احمر کا بچپن کا دوست سکندر بھی پڑوسی کے طور پر منتقل ہوتا ہے۔ بظاہر ایک مددگار دوست نظر آنے والا سکندر دراصل اِشال کا ایک جنونی پیچھا کرنے والا (obsessed stalker) ہے۔ وہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اِشال کے موبائل اور لیپ ٹاپ کو ہیک کر لیتا ہے اور اس کی نجی زندگی کی ہر سرگرمی پر نظر رکھتا ہے۔

اِشال کو گھر میں اپنی چیزوں کے غائب ہونے اور کسی کے موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے، جو اسے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

سکندر کی یہ ہوس اس وقت انتہا کو پہنچ جاتی ہے جب وہ اِشال کے گھر کی ڈپلیکیٹ چابی بنا کر اس کی غیر موجودگی میں داخل ہوتا ہے اور اس کا سامان چراتا ہے۔ جب احمر کام کے سلسلے میں باہر ہوتا ہے، تو سکندر اسے اغوا کر کے اپنے گھر میں قید کر لیتا ہے اور اِشال کو دھوکے سے اپنے فلیٹ میں بلا لیتا ہے۔

اِشال جب سکندر کے گھر پہنچتی ہے تو اسے وہاں اپنی تصاویر اور احمر کی بندھی ہوئی حالت دیکھ کر حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ یہ کہانی ایک خوفناک انجام تک پہنچتی ہے جہاں سکندر اپنے کیے کا خمیازہ بھگتتا ہے۔ ایک سال بعد، اِشال اور احمر اپنی زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس واقعے کے گہرے اثرات ان کی زندگی کا حصہ بنے رہتے ہیں۔

Novel Detailed Summary in English

Ishal lives a seemingly ordinary life in a rented apartment with her husband, Ahmar. Their neighbor, Sikandar, who is also Ahmar’s childhood friend, begins to integrate himself into their lives under the guise of being a helpful acquaintance. However, beneath this facade, Sikandar harbors a dangerous fixation on Ishal. He systematically hacks her electronic devices, monitors her movements, and begins stealing her personal items, including trash and clothing, to satisfy his twisted obsession.

Ishal feels a constant, unsettling presence in her home, though she initially struggles to identify the source of her distress.

As the situation escalates, Ishal discovers that her home has been breached multiple times, finding evidence of an intruder who leaves behind mysterious items like a ring that belongs to neither her nor her husband. The psychological toll on Ishal is immense, especially as Ahmar remains away for work. Sikandar’s manipulation reaches a breaking point when he intercepts communications and lures Ishal into his own home under false pretenses.

Once inside, she discovers the horrifying truth: Sikandar has not only been stalking her but has also kidnapped and bound her husband. The narrative reaches a tense climax as Ishal confronts the man who has been orchestrating her fear, leading to a final, desperate struggle for survival. The story concludes with the aftermath of this confrontation, showing the long-term impact of the ordeal on Ishal and Ahmar as they attempt to reclaim their lives after the threat is finally removed.

Genre

Psychological crime thriller

Key Themes

  • Obsession and Stalking
  • Breach of Privacy
  • Psychological Manipulation
  • Betrayal of Trust
  • Survival

Short Scene from the Novel

اسے بیڈ کے نیچے بھی کوئی نہ ملا… لیکن وہ ڈر گئی تھی… سکندر اِشال کے کمرے سے نکل جانے کے بعد بیڈ کے نیچے سے واش روم میں جا کے چھپ گیا تھا… اِشال سے زیادہ اب وہ ڈرا ہوا تھا کہ کہیں اسے اِشال نے دیکھ لیا تو وہ کیا کرے گا، وہ یہی دعا کرنے لگا تھا کہ اب اِشال واش روم میں نہ آئے ورنہ وہ پکڑا جائے گا اسی سوچ میں گم ڈرتے ہوئے وہ واش روم میں کھڑا اس کے کمرے سے کچن جانے کا انتظار کرنے لگا کہ جونہی اِشال کچن کی طرف جائے وہ نکل کر گھر سے چلا جائے… اس سے پہلے اِشال کچن گئی تو تھی لیکن وہ بہت جلدی میں واپس کمرے کی طرف آئی تھی جس کی وجہ سے وہ باہر جا نہیں پایا تھا اور ہڑبڑی میں واش روم میں چھپ گیا تھا کیونکہ اس کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں بچا تھا وہ جانتا تھا کہ اِشال اب بیڈ کے نیچے ضرور دیکھے گی یہ تو اس کی قسمت اچھی تھی کہ آتے ساتھ پہلے اس نے بیڈ کے نیچے نہیں دیکھا ورنہ وہ ضرور پکڑا جاتا…

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Editor note: Download URL missing — replace ADD_DOWNLOAD_URL_HERE before publishing.

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

کہانی:

اوبسیسڈ اسٹاکر (Obsessed Stalker)

تحریر: حسنِ تحریر

وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی: "کب آؤ گے واپس؟"

"میری جان بس کچھ دنوں کی بات ہے… بہت جلد.."

"پر میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر وہ بھی اکیلے، تم جانتے ہو، نہ تو مجھے عادت ہے اور نہ ہی میں رہ سکتی ہوں.."

"جانتا ہوں فکر کیوں کرتی ہو یہ چند مہینے ایسے گزریں گے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور ویسے بھی تم تو جانتی ہو میں خود تم سے دور نہیں رہ پاتا، آفس والے پریشرائز نہ کرتے تو میں کبھی تمہیں اکیلا چھوڑ کر نہ جاتا، کام ہے ضروری ہے.."

"وہ کسی اور کو بھی تو بھیج سکتے ہیں آپ ہی کیوں؟"

"میری جان تم نہیں سمجھو گی میں مجبور ہوں اب جاب تو کرنی ہے نہ.. ورنہ گھر کیسے چلے گا.. اور ویسے بھی تم ہی تو کہتی ہو صرف محبت سے پیٹ نہیں بھرتا.."

"ہاں پر.." اِشال منہ بناتے ہوئے افسردگی سے بولی: "میں نہیں رہ پاؤں گی.. مجھے ڈر لگتا ہے.."

احمر نے مسکراتے ہوئے اس کے رخسار کو ہاتھ لگایا اور پیار سے بولا: "تم اکیلی نہیں ہو میں ہر لمحے تم سے ٹچ میں رہوں گا اور ہاں سچ یاد آیا وہ رینٹ پہ میرا دوست جو رہنے آ رہا ہے سکندر وہ ہوگا نہ، تمہیں جس بھی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک تم اس سے کہہ سکتی ہو بہت اچھا لڑکا ہے پریشان کرنے والوں میں سے نہیں ہے بیسٹ فرینڈ ہے میرا.. مجھے اس لیے زیادہ ٹینشن بھی نہیں ہے کیونکہ وہ ہوگا سو اب تم اکیلی نہیں ہو اوکے.."

"وہ تو ساتھ والے فلیٹ میں رہے گا نہ.. میرے ساتھ تھوڑی ہوگا.."

"ارے فلیٹ بغل میں ہی تو ہے دور تھوڑی ہے، تھوڑی ہمت کرو بہت لڑکیاں رہتی ہیں اکیلی.. چلو اب مجھے دیر ہو رہی ہے میں پہنچتے ہی فون کروں گا اپنا ڈھیر سارا خیال رکھنا اوکے لو یو اللہ حافظ.." احمر اِشال کے متھے پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا… اِشال نے آنسو پونچھے اور دروازہ لاک کر دیا…

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

"یار ایک تو یہ احمر بھی.. عجیب انسان ہے… میں رہنے جا رہا ہوں تو اب اس کے گھر کے کام بھی دیکھوں اس کی بیوی کا خیال بھی رکھوں کیا مصیبت ہے.. ابھی پہنچا ہوں نہیں اور کام نکلوانا شروع اتنا تھا تو لے جاتا بیوی کو ساتھ… خیر اب کیا کر سکتا ہوں بچپن کا دوست ہے منع بھی تو نہیں کر سکتا اوپر سے رہنے بھی انہی کے رینٹڈ اپارٹمنٹ میں جا رہا ہوں.. کرنا تو پڑے گا…" سکندر بریک فاسٹ بناتے ہوئے اپنے ساتھ باتیں کرتا رہا…

بریک فاسٹ کرنے کے بعد وہ اپنا سامان لیے گھر سے نکل گیا…

دوپہر کے 2 بجے تھے اِشال ٹاول سے اپنے بال پونچھتے ہوئے باتھ روم سے نکلی کہ اتنے میں ڈور بیل بجی.. وہ ڈرپوک سی سہَم گئی.. کون ہو سکتا ہے… آہستہ آہستہ دروازے کے قریب گئی اور ڈور ویوور سے آنکھ لگا کر دیکھا.. سامنے ایک ہینڈسم سا لڑکا پیٹھ کیے کھڑا نظر آیا جو 6 فٹ لمبا تھا.. "کون؟" اِشال نے دھیمی آواز میں پوچھا….

"میں سکندر احمر کا دوست آپ کا کرایہ دار اور نیبر بھی.."

گہرا سانس لیتے ہوئے آنکھیں جھپک کر سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اِشال بولی: "اوہ اوکے.." اس نے دروازہ کھولتے ہی سلام کیا: "السلام علیکم.." سکندر سلام کا جواب دیتے ہوئے مڑا: "وعلیکم…." آدھا جواب دیا تھا اور آدھا اس کے منہ میں ہی رہ گیا اور وہ پورا جواب بھی نہ دے پایا…

"آئیں اندر آئیں.." وہ اِشال کو کچھ لمحے دیکھتا رہ گیا.. اس کا بھیگا چہرہ، پانی کے قطرے اس کے رخسار کو چھوتے ہوئے اس کی ٹھوڑی تک بہتے چلے گئے… گیلے بال.. ان سے ٹپکتی پانی کی بوندیں اور پانی کے وہ قطرے جو اس کے نازک گلے سے ہوتے ہوئے اس کی بیوٹی بونز پر رقص کر رہے تھے ساتھ ہی وہ چمکتی کالی آنکھیں جنہیں دیکھ کر سکندر سلام کا جواب دینا بھول چکا تھا..

وہ اِشال کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا، اس کی پھولوں جیسی مہک کو محسوس کرتا ہوا لاؤنج میں خاموشی سے بیٹھ گیا..

"تو آپ احمر کے بچپن کے دوست ہیں.. بتایا تھا اس نے مجھے آپ کے بارے میں.."

اس کے چہرے پر نظریں ٹکائے دیکھتے ہوئے… "جی میں اس کا بیسٹ فرینڈ ہوں.." وہ ایسے مسلسل اسے دیکھتا رہا کہ جیسے وہ اس کی ایک جھلک بھی قضا نہیں کرنا چاہتا ہو…

"پر میں اس کے سبھی دوستوں سے مل چکی ہوں آپ تو ہماری شادی میں بھی نہیں آئے تھے شاید.." اِشال سوال کرتی رہی..

"جی وہ.. میں.. ایکچولی میں اکیلا رہتا ہوں اور میں آ نہیں پایا.."

"کیوں؟" اِشال نے سوال کیا..

"آنا چاہیے تھا.. غلطی ہو گئی مجھ سے.." سکندر کے منہ سے فوراً یہ جواب نکلا..

اِشال مسکراتے ہوئے: "ارے کوئی بات نہیں.. میں چائے لاتی ہوں.."

سکندر اٹھ کھڑا ہوا: "نہیں میں بس چلوں گا شفٹنگ تو کل ہی کروا چکا تھا میں بس خود آج آیا ہوں.. آپ کو بھی خواہ مخواہ ڈسٹرب کر دیا.."

"نہیں میں ڈسٹرب نہیں ہوئی اچھا ہوا کہ آپ آئے اب مجھے تھوڑا اطمینان ہوگا.. آپ میرے بہت کام آنے والے ہیں.."

"جی ضرور احمر نے بتا دیا تھا مجھے.."

"آپ نے بھی سوچا ہوگا خود چلا گیا بیوی کی ذمہ داری مجھے سونپ گیا.. لے ہی جاتا اسے بھی.."

"ارے نہیں میں ایسا کیوں سوچوں گا.." نظریں نیچی کرتے ہوئے سکندر بولا.. اسے دل ہی دل میں اپنی وہ باتیں یاد آئیں جو وہ صبح خود ہی سے بریک فاسٹ بناتے ٹائم کر رہا تھا.. اسی کی وجہ سے اب جا کر اس کی نظریں نیچی ہوئی تھیں ورنہ تو جب سے اس نے اسے دیکھا تھا تب سے اس کی نظریں اِشال کے چہرے سے ہٹی ہی نہیں تھیں.. پر شاید یہ وہ چھپی شرمندگی تھی جس نے اس کی نظریں کچھ سیکنڈز کے لیے نیچی کر دیں…

"وہ چاہتا تو تھا مجھے لے جائے لیکن آفس والوں نے سختی سے منع کیا تھا.."

"جی جانتا ہوں خیر میں چلتا ہوں اب.."

"اوکے ریسٹ کریں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک مانگ سکتے ہیں.."

"جی شکریہ…" یہ کہہ کر سکندر وہاں سے نکل گیا اور اپنے فلیٹ میں چلا گیا… فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ہاتھ میں تھاما ہوا بیگ اس نے زور سے زمین پہ دے پھینکا… "ڈیم اٹ… غلطی ہو گئی.. بہت بڑی غلطی ہو گئی… ماں آپ صحیح تھیں تیرا اکیلا سب سے الگ تھلگ رہنا ایک دن تجھے بہت بڑا نقصان پہنچائے گا… پہنچا دیا نقصان… مجھ سے وہ چھین لیا جو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا ہے آج تک… مجھے تو کسی چیز کی حسرت نہیں ہوئی کبھی اور آج میں خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں… پر خیر میں نہیں ہونے دوں گا اپنا نقصان ایسے.. بس پچھتا رہا ہوں کہ کاش چلا جاتا احمر نے بلایا تھا جب اس کی شادی پر تو ہونے نہ دیتا میں یہ شادی… کوئی بات نہیں ابھی بھی دیر نہیں ہوئی… اسے تو کوئی اور بھی پسند آ جائے گا پر مجھے تو صرف یہی چاہیے اب…"

اس کے بعد وہ خود کو کول ڈاؤن کرتا ہوا فریش ہونے چلا گیا…

"ہاں آ گیا ہے آپ کا دوست مل چکی اچھا لڑکا ہے بس زیادہ بات نہیں کرتا خاموش سا ہے…"

"ہاں وہ ریزرو ٹائپ کا ہے.. قسمت سے میرا دوست ہے ورنہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں.."

"کوئی نہیں مطلب؟ اس کی فیملی ماں باپ بہن بھائی یا بیوی کوئی تو ہوگا…"

"باپ کا انتقال تب ہوا جب وہ بہت چھوٹا تھا اور ماں اس کی لاسٹ ایئر ہی وفات پا گئی اب اکیلا ہے بیوی نہیں ہے اور شادی اسے کرنی بھی نہیں ہے.."

"ایسا کیوں؟"

"بس کہتا ہے اسے ان سب میں کوئی انٹرسٹ نہیں.. اسے کوئی پسند ہی نہیں آتا ورنہ وہ اتنا ہینڈسم ہے کہ کئی لڑکیاں اسے پروپوز کر چکی ہیں لیکن وہ ہے کہ کسی کو منہ ہی نہیں لگاتا.."

"عجیب بات ہے احمر… کچھ عجیب سا نہیں ہے تمہارا دوست…؟"

"بس تھوڑا الگ ہے سب سے باقی ہے بہت اچھا لڑکا.. خیر تم نے اسے کھانا دیا آج اس کا پہلا دن ہے…"

"اوہ ہاں میں بریانی رکھ کے آئی ہوں بھول ہی گئی بند کرو کال.. اللہ حافظ.."

"اوکے پھر ہوتی ہے بات.. ٹیک کیئر.. اللہ حافظ.."

"تو پھر کیسا لگا آپ کو اپنا فلیٹ؟"

"بہت اچھا ہے.. فلیٹ بھی اور آپ بھی.."

اِشال مسکراتے ہوئے: "اچھا جی شکریہ.."

"میں آپ سے کچھ کنفیس کرنا چاہتا ہوں.."

"جی بولیں.."

"مجھے افسوس ہے میں نے آپ کو پہلے کیوں نہیں دیکھا ہم پہلے کیوں نہیں ملے مجھے کوئی پسند نہیں آیا آج تک لیکن آج آپ کو دیکھا تو دل ہار بیٹھا ہوں یہ جانتے ہوئے کہ آپ میرے دوست کی بیوی ہیں.. میں مجبور ہوں.. پلیز مائنڈ نہ کیجیے گا پر یہی سچ ہے…"

"میں کیا بولوں.." اِشال حیرت سے بولی..

"کچھ تو بولیں.." اِشال کے قریب آتے ہوئے سکندر بولا..

پیچھے ہٹتے ہوئے: "میں.. میں چلتی ہوں بس.."

"پلیز رکیں میری بات تو سنیں.." وہ اور اس کے قریب آیا..

اتنے میں ڈور بیل بجنے لگی..

"کوئی ہے دروازے پر اور شاید مجھے بھی اب چلے جانا چاہیے…"

"رکیں بات تو سنیں آپ ایسے بات ختم کیے بنا نہیں جا سکتیں…" سکندر نے اِشال کو کلائی سے پکڑ لیا.. ڈور بیل بجتی رہی…

"چھوڑو مجھے.."

"آئی ایم فالن ان لو ود یو (I’m fallen in love with you)…..” یہ کہنا تھا کہ اِشال نے زور سے دھکا دے کے سکندر کو جھٹک دیا.. اور تبھی اس کی آنکھ کھلی…. مسلسل ڈور بیل بجتی رہی… تب اسے احساس ہوا کہ وہ گہری نیند میں تھا اور خواب دیکھ رہا تھا… لیکن ڈور بیل سچ میں بج رہی تھی وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف لپکا اپنی ٹی شرٹ اٹھائی پہنی اور جا کے دروازہ کھولا… کیا دیکھتا ہے کہ اِشال سامنے کھانے کی ٹرے لیے کھڑی ہے…. "لگتا ہے سو رہے تھے آپ؟ ڈسٹرب کیا ؟؟"

"ارے نہیں اندر آئیں آپ… وہ دراصل تھکا ہوا تھا تو آتے ہی سو گیا… ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا آپ نے بیل بجائی تو ابھی جا کے آنکھ کھلی.."

"خیر میں آپ کے لیے کھانا لائی تھی آج آپ کا پہلا دن ہے سو میں نے سوچا اپنے ہاتھ کی بنی اسپیشل بریانی آپ کو کھلاؤں.."

"یہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں تھی آپ کو میں بنا لیتا کچھ.."

"ارے نہیں آج آپ مہمان ہیں اور کوئی تکلف کی بات نہیں میں اپنے لیے بھی تو بناتی ہوں نہ.. خیر آپ یہ کھائیں اب میں چلتی ہوں…" ٹیبل پر ٹرے رکھ کے اِشال وہاں سے جانے لگی تو سکندر نے پیچھے سے اسے پکارا: "اِشال…"

وہ رکی اور اس نے مڑ کر دیکھا… "جی؟"

"تھینکس فار دِس (Thanks for this)..”

"مینشن ناٹ.." مسکراتے ہوئے جواب دے کر وہ وہاں سے چلی گئی….

سکندر نے پلیٹ اٹھا کر بریانی کی طرف دیکھا اور مسکرایا…

"مجھ سے صبر نہیں ہوگا.." اس نے لقمہ بنا کر کھایا، "ہممم سو ٹیسٹی… آج تک اتنا ٹیسٹی کھانا نہیں کھایا جادو ہے اس کے ہاتھوں میں.." تھوڑی ہی دیر میں بنا رکے وہ پوری پلیٹ چٹ کر گیا.. "آہہ مزہ آ گیا…"

کھانے کے بعد وہ کرسی سے اٹھا تو زمین پہ اسے کچھ گرا ہوا دکھا…. اس نے قریب جا کر دیکھا تو وہ ایک بریسلیٹ تھا جو اِشال کے ہاتھ سے گر گیا تھا… اس نے اٹھایا اور اسے چوما پھر سینے سے لگایا… اس کے بعد جا کر اپنی ڈرائر میں رکھ دیا…

رات کا ٹائم تھا سکندر دیوار سے کان لگائے اِشال کو سننے کی کوشش کر رہا تھا اسے دھیمی سی آواز آئی: "مس یو ٹو، کب آؤ گے؟"

وہ سمجھ گیا کہ اِشال شاید احمر سے فون پر بات کر رہی ہے… وہ چپ چاپ وہیں دیوار سے کان لگائے کھڑا اسے سنتا رہا..

"تو بس کرو نہ آ بھی جاؤ اب… تمہارے بغیر یہ گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے مجھے… مسنگ یو سو مچ…"

سکندر کو اِشال کے منہ سے احمر کے لیے ایسا کہتے سن کر غصہ آنے لگا وہ جیلیسی فیل کرنے لگا.. اس نے زور سے دیوار پر پنچ دے مارا.. جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا اور دیوار پر اس کے خون کے نشان رہ گئے… وہ غصے کی حالت میں دونوں کی پیار بھری گفتگو سنتا رہا… اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اِشال اسے دھوکا دے رہی ہے… حالانکہ وہ تو اس کی کچھ لگتی ہی نہیں تھی… نہ ہی اس کے جذبات اور ارادوں سے واقف تھی..

پھر اچانک سے وہ بولی… "ہاں ملی تھی آج اس سے اچھا لڑکا ہے…"

سکندر سمجھ گیا کہ اس کی بات ہو رہی ہے..

"پر احمر مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی وہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتا اتنا تو ہینڈسم ہے…"

اِشال کے منہ سے اپنی تعریف سن کر سکندر بلش کرنے لگا جو پنچ اس نے غصے میں بنا رکھا تھا اسے کھول کر سیدھا سینے پر رکھا… اب وہ اچھا محسوس کرنے لگا تھا…

"اچھا جی تو جیلیسی ہو رہی ہے اپنے ہی بیسٹ فرینڈ کی تعریف سن کر…" اِشال زور زور سے ہنسنے لگی تھی… "میں تو سچ کہہ رہی ہوں ہینڈسم ہے وہ کافی بس ایک کمی ہے…"

یہ سنتے ہی سکندر نے دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے اور کان کو زور سے دیوار پر لگایا تاکہ وہ اچھے سے سن پائے…

"کمی یہی ہے کہ اس کے ہیئرز تھوڑے بڑے ہیں شارٹ ہو جائیں تو بہت ہینڈسم لگے گا…."

سکندر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا…

"اچھا بہت کر لیا جیلس تمہیں اب ٹاپک کلوز اب مجھے سونا ہے…… اوکے کل کریں گے بات….. جی ٹھیک ہے….. تم بھی اپنا خیال رکھنا… لو یو ٹو.. بائے.."

اس کے 5 منٹ بعد تک سکندر دیوار سے کان لگائے کھڑا رہا… لیکن خاموشی ہو گئی شاید وہ سو چکی تھی… 5 منٹ بعد وہ آئینے کے قریب گیا… اور اپنے آپ کو دیکھنے لگا… انگلیاں اپنے بالوں میں پھیرتے ہوئے بولا: "بہت پسند ہیں مجھے اپنے بال… ماں کتنا کہتی تھیں شارٹ کرا لو لیکن کبھی نہیں مانا میں پر اِشال تمہارے لیے میں اپنی پسند کو بھی بدلنے کو تیار ہوں…" وہ رات کے 11 بجے گھر سے جا نکلا… قریبی سیلون پہنچا جو کہ بند تھا… پھر میپ میں اویلیبلٹی چیک کرنے لگا کہ کون سا سیلون اوپن ہوگا اسے ایک سیلون اوپن ملا جو کہ 30 منٹ کے فاصلے پر تھا اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور روانہ ہو گیا… وہاں پہنچا تو 11:35 ہو چکے تھے.. اسے اندر آتا دیکھ کر باربر بولا: "کلوزنگ ٹائم سر آپ کل آئیے گا.."

"نہیں میں بہت دور

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

Editor note: Online reading URL missing — replace ADD_READER_URL_HERE before publishing.

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

by Husn-e-Tehreer

Explore more Urdu novels by by Husn-e-Tehreer, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

Who is the stalker in the novel?

The stalker is Sikandar, who is Ahmar's childhood friend and Ishal's neighbor.

How does Sikandar monitor Ishal?

Sikandar hacks Ishal's electronic devices, including her phone and laptop, and watches her through her own systems.

What happens to Ahmar in the story?

Ahmar is kidnapped and held captive by Sikandar in his apartment.

Does Ishal discover the stalker's identity?

Yes, Ishal discovers the truth when she enters Sikandar's apartment and finds him holding Ahmar captive.

What is the outcome for Sikandar?

Sikandar commits suicide after his obsession is exposed and he is confronted by Ishal and Ahmar.

👁 1 Views

Leave a Comment