Safar asan nahi by Mah noor Hafeez — About the Novel
Mah noor Hafeez presents Safar asan nahi, a compelling narrative centered on the struggles of a young writer named Hadeesa. Living in a household that dismisses her creative pursuits as a waste of time, Hadeesa turns to her mobile phone to craft her stories in secret. This story explores the challenges faced by emerging authors in the digital age, from navigating social media criticism to seeking validation from established figures.
Safar asan nahi novel captures the resilience required to pursue one's passion when faced with societal disapproval and professional gatekeeping.
Novel Summary in Urdu
سفر آسان نہیں، ماہ نور حفیظ کا ایک ایسا ناول ہے جو ایک نوجوان لکھاری حدیثہ کی جدوجہد کو بیان کرتا ہے۔ کراچی کے ایک ایسے گھرانے میں جہاں لکھنے کو وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے، حدیثہ اپنے موبائل فون پر خفیہ طور پر کہانیاں تخلیق کرتی ہے۔ جب وہ اپنا پہلا ناول مکمل کرتی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
اس کا یہ سفر آسان نہیں ہوتا کیونکہ اسے نہ صرف گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سوشل میڈیا پر تنقید اور سینئر لکھاریوں کی بے رخی بھی اس کا راستہ روکتی ہے۔
کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب اس کی بہن فِضّہ اس کے کام کو دریافت کرتی ہے اور اس کی سب سے بڑی حامی بن جاتی ہے۔ جب کچھ لوگ اس پر چوری کا الزام لگاتے ہیں، تو حدیثہ ہمت نہیں ہارتی اور اپنے خیالات کا دوٹوک جواب دیتی ہے۔ وہ یہ سمجھ جاتی ہے کہ اسے کسی کی تصدیق کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے اپنے لیے لکھنا ہے۔
آخر کار، وہ نئے لکھاریوں کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ایک جرات مندانہ پوسٹ لکھتی ہے، جسے سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی ملتی ہے۔ یہ ناول ایک لکھاری کے اندرونی کرب، معاشرتی دباؤ اور اپنی پہچان بنانے کی انتھک کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ حدیثہ کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ طعنوں کو طاقت بنا کر ہی کامیابی کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
Novel Detailed Summary in English
The story follows Hadeesa, a young woman living in Karachi who secretly writes novels on her mobile phone. Despite her family viewing her writing as a waste of time, she completes her first manuscript, titled 'Safar asan nahi'. After successfully converting her work into a PDF with the help of an online page administrator, she begins sharing excerpts on social media. Her writing quickly gains traction, but this newfound visibility brings both praise and harsh criticism.
Hadeesa faces accusations of plagiarism from anonymous sources and experiences the disappointment of being ignored by established senior writers who initially promised to review her work.
As the narrative progresses, Hadeesa finds an unexpected ally in her sister, Fizza, who discovers her secret and becomes a supportive companion. When an anonymous page administrator publicly accuses her of stealing ideas, Hadeesa chooses to stand her ground, delivering a firm and confident response that asserts her creative independence. She eventually decides to stop seeking validation from the literary establishment and instead focuses on writing for herself.
Her journey culminates in a powerful social media post addressing the systemic mistreatment of new writers, which resonates with hundreds of others in the community. By transforming the taunts she endured into a source of strength, Hadeesa resolves to continue her writing journey, proving that the path of a creator is rarely simple but ultimately rewarding.
Genre
Fictional Stories
Key Themes
- Creative struggle
- Social media dynamics
- Sisterhood
- Resilience
- Literary gatekeeping
Short Scene from the Novel
سوشل میڈیا کا یہ سفر بھی عجیب تھا۔ کبھی اس کی پوسٹ وائرل ہوتی تو ہزاروں نئے لوگ جڑ جاتے، اور کبھی کوئی تنقید کرتا تو کچھ لوگ پیج ان فالو کر کے چلے جاتے۔ پہلے یہ نمبرز اسے پریشان کرتے تھے، لیکن جلد ہی اسے سمجھ آ گئی کہ گنتی کے فالوورز سے زیادہ اہم وہ سچے قاری ہیں جو دل سے اس کی کہانی پڑھتے ہیں.
✿————————✿
جب حدیثہ کو سوشل میڈیا پر تھوڑی بہت پہچان مل گئی، تو اس نے لکھاریوں کی دنیا کا ایک اور نیا اور سچا روپ دیکھا۔
کچھ پرانے اور مشہور لکھاری، جنہیں حدیثہ بچپن سے پڑھتی تھی اور جن کی وہ بہت عزت کرتی تھی، اب اس کے پیج پر بھی آنے لگے تھے۔
Download Novel
نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online reading
ناول کے ابتدائی صفحات
عنوان:
سفر آسان نہیں
مصنفہ: ماہ نور حفیظ
شہر: کراچی ۔
انتساب
اُن تمام خاموش دلوں کے نام.
جو راتوں کے اندھیرے میں اپنے خوابوں کو الفاظ کا روپ دیتے ہیں،
جن کے جذبے لائکس اور فالوورز کی اس بے رحم دنیا سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں،
اور جو یہ جانتے ہیں کہ.
سفر آسان نہیں،
مگر پھر بھی وہ قلم نہیں چھوڑتے .
گھر کے سب لوگ سو چکے تھے۔ کمرے کے ایک کونے میں بیڈ پر حدیثہ اپنی بہن کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی۔ اس کا اپنا کوئی الگ روم نہیں تھا، جہاں وہ سکون سے بیٹھ کر میز پر لیمپ جلا کر لکھ سکتی۔ اس کی پوری دنیا بس موبائل کی چھوٹی سی سکرین اور بستر کا ایک کونا تھی.
اس نے چادر کو آہستہ سے اپنے چہرے تک کھینچ لیا تاکہ موبائل کی روشنی باہر نہ جائے.
گھر والوں کے لیے ناول لکھنا وقت کا ضیاع تھا."فضول کاموں میں ذہن مت چلاؤ، پڑھائی اور گھر کے کاموں پر دھیان دو کو ہنر سیکھو کیا کوئی کام نہیں آئیگی یہ لکھنا"-یہ طعنے اس کے کانوں میں گونجتے رہتے تھے۔ لیکن جب اندر جذبات کا طوفان مچتا، تو وہ خود کو روک نہیں پاتی تھی۔
موبائل ایپ کی نوٹس (Notes) والی فائل کھلی ہوئی تھی۔ حدیثہ کے انگوٹھے تیزی سے سکرین پر چل رہے تھے۔ آنکھیں تھکن سے بوجھل تھیں، گردن میں مسلسل جھکے رہنے سے درد ہو رہا تھا، مگر دل میں ایک عجیب سی آگ تھی۔ اس نے اپنے تمام احساسات، گھر کی گھٹن، اور اپنے خوابوں کو اسی موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر ٹائپ کر کے ایک کہانی میں ڈھال دیا تھا۔
ہفتوں کی اس خاموش اور چوری چھپے کی گئی محنت کے بعد، آج اس کا پہلا ناول مکمل ہو چکا تھا۔
اس نے فائل کا عنوان لکھا: "سفر آسان نہیں"۔
ایک لمحے کے لیے اس نے پاس سوئی ہوئی بہن کو دیکھا کہ کہیں وہ جاگ تو نہیں گئی۔ جب اطمینان ہو گیا، تو اس نے انسٹاگرام ایپ کھولی۔ وہاں ایک مشہور آن لائن ناول ویب سائٹ / پیج کا میسج باکس کھولا، جہاں وہ نئے رائٹرز کے ناولز شائع کرتے تھے۔
حدیثہ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ اگر گھر میں کسی کو پتہ چل جاتا تو بڑا ہنگامہ ہوتا… لیکن اب اپنے خوابوں کو دبانا ناممکن تھا۔
اس نے نوٹس سے پورا ناول کاپی کیا، میسج میں پیسٹ کیا اور کانپتی انگلی سے 'Send' کا بٹن دبا دیا۔
موبائل کی سکرین پر 'Sent' لکھا آیا تو حدیثہ نے جلدی سے موبائل کا سکرین آف کر کے اسے تکیے کے نیچے چھپا دیا۔ چادر کے اندر اندھیرے میں لیٹے ہوئے، اس نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں تھی، یہ اس کی اپنی آزاد دنیا کی پہلی اڑان تھی.
✿————————✿
تیسری رات، جب گھر کے سب لوگ گہری نیند سو چکے تھے، حدیثہ نے ویسے ہی چپکے سے چادر اپنے اوپر تانی۔ اس نے فون نکالا اور انسٹاگرام کھولا۔
اس کے پاس اسی مشہور ناول والے پیج کا میسج آیا تھا۔ اس نے جلدی سے کھول کر پڑھا-
"السلام علیکم حدیثہ! آپ کی کہانی 'سفر آسان نہیں' ہمیں بہت پسند آئی ہے۔ ہم نے آپ کے اس ناول کی ایک خوبصورت پی ڈی ایف (PDF) فائل بنا دی ہے، اور اس کا لنک نیچے دے رہے ہیں۔ آپ اسے دیکھ لیں۔"
حدیثہ نے جب اس لنک پر کلک کیا، تو اس کے سامنے اس کی اپنی لکھی ہوئی تحریر ایک باقاعدہ کتاب کی شکل میں پی ڈی ایف کی صورت میں کھل گئی۔ موبائل کی چھوٹی سکرین پر اپنے نام کے ساتھ وہ پی ڈی ایف دیکھ کر اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ وہ پہلا لمحہ تھا جب اسے یقین ہوا کہ اس کے الفاظ اب دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔
خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔
Prime Urdu Novels Publications
Whatsapp : 03335586927
Email: aatish2kx@gmail.com
لیکن اس خوشی کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں ایک بڑا سوال آ گیا."اسے تو بس لکھنا آتا تھا، لیکن بک اسٹگرام کی اس بڑی دنیا میں اس کا پروموشن کیسے کیا جاتا ہے؟ لوگ اپنی کہانیوں کو زیادہ سے زیادہ قاریوں تک کیسے پہنچاتے ہیں؟"
حدیثہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو کسی چیز کا پتہ نہ ہونے پر گھبرا جائیں۔ اس نے فوراََ اسی پیج کے ایڈمن کو میسج ٹائپ کیا.
"وعلیکم السلام! پی ڈی ایف بہت زبردست لگ رہی ہے، بہت شکریہ۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ میں اپنے اس ناول کا پروموشن کیسے کروں، یا اسے اور لوگوں تک کیسے پہنچاؤں؟ کیا آپ مجھے تھوڑا سا بتا سکتے ہیں؟" چند گھنٹے بعد دوسری طرف سے ایڈمن کا ریپلائی آ گیا.
"یہ بہت آسان ہے۔ آپ اپنے ناول کے کچھ اچھے اچھے جملے (Quotes) اور خوبصورت تصاویر کے ساتھ انسٹاگرام پر پوسٹ بنایا کریں۔ جب آپ اپ لوڈ کریں، تو ہمیں ٹیگ کر دیا کریں، ہم بھی اپنی سٹوری یا پوسٹ میں شیئر کر دیں گے۔"
میڈیا اور پروموشن کی یہ چھوٹی سی بات سمجھ آتے ہی حدیثہ کے ذہن کے سارے دروازے کھل گئے۔ اسے سمجھ آ گیا کہ اب اسے اگلا قدم کیا اٹھانا ہے۔ اس نے فون بند کیا، تکیے کے نیچے رکھا، اور پرسکون ہو کر سو گئی، کیونکہ اب اس کے پاس اپنے سفر کو آگے بڑھانے کا ایک واضح راستہ موجود تھا.
✿————————✿
ایڈمن کی ہدایت کے مطابق اگلے ہی دن حدیثہ نے اپنے فون کی نوٹس فائل سے ناول کے چند انتہائی جاندار اور اثر انگیز جملے چنے۔ اس کے پاس کوئی مہنگا ڈیزائننگ ٹول نہیں تھا، مگر اس کا عزم محکم تھا۔ اس نے اپنے سادہ سے فون میں ایک ایڈیٹنگ ایپ کے ذریعے مدہم اور دلکش پس منظر پر اپنے ناول "سفر آسان نہیں" کا ایک اقتباس ترتیب دیا.
"کبھی کبھی سفر اتنا مشکل نہیں ہوتا، جتنی وہ خاموشی ہوتی ہے جو ہمیں اندر ہی اندر توڑتی ہے۔ لیکن جو اندھیرے میں بھی چلنا نہیں چھوڑتے، صبح کا پہلا سورج بھی انہی کا منتظر ہوتا ہے۔"
نیچے اس نے لکھا: ناول: سفر آسان نہیں . از قلم: حدیثہ-
پوسٹ تیار ہوتے ہی اس نے اسے انسٹاگرام پر اپ لوڈ کر دیا اور ساتھ ہی اس مشہور پیج کو ٹیگ کر دیا۔
✿————————✿
شام کو جب گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر اس نے اپنا فون چیک کیا، تو نوٹیفیکیشنز کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔
اس ناول پیج نے حدیثہ کی پوسٹ کو اپنی سٹوری پر شیئر کیا تھا اور لکھا تھا.
"ایک نئی اور انتہائی بااثر تحریر! لازمی پڑھیں اور پی ڈی ایف کے لیے پیج کا میسج باکس دیکھیں۔"
اس کی پوسٹ پر سو سے زائد لائکس آ چکے تھے اور کمنٹس میں لوگ تحریر کی گہرائی کی تعریف کر رہے تھے۔ کچھ پڑھنے والوں نے تو یہاں تک لکھا کہ "یہ الفاظ صرف کہانی نہیں، کسی کے سچے جذبات لگتے ہیں!"
حدیثہ کے چہرے پر کسی قسم کی کمزوری یا آنسو نہیں تھے؛ اس کی جگہ ایک پراعتماد اور فاتحانہ مسکراہٹ نے لے لی تھی۔ جن طعنوں کو اس نے سالوں سے خاموشی سے برداشت کیا تھا، آج اس کی محنت ان کا جواب بن کر سکرین پر چمک رہی تھی۔
اس کے ڈی ایم (DM) میں نئے قاریوں کے میسجز آ رہے تھے جو اس کے کام کی تعریف کر رہے تھے اور اگلی کہانی کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔
حدیثہ نے فون کی سکرین بند کی، تکیے کے نیچے رکھا اور چادر تان لی۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کا ایک واضح خاکہ تھا.وہ جانتی تھی کہ آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، مگر وہ لڑنے اور آگے بڑھنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔
✿————————✿
اگلے کچھ ہفتے حدیثہ کی زندگی میں ایک نئے امتحان جیسے تھے۔ اس کا لکھا ہوا اقتباس سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہو گیا تھا۔ اب اس کے سامنے محبت کرنے والے بھی تھے اور تنقید کرنے والے بھی۔
اس کے ان باکس میں روزانہ بہت سے نئے لوگوں کے پیغامات آنے لگے۔ لوگ اس کی تعریف کرتے اور اگلی کہانی کے بارے میں پوچھتے۔ نئے فالوورز کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔ اب اسے اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا تھا، کیونکہ بہت سے لوگ اس کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
مگر ہر کوئی اس کی تعریف نہیں کر رہا تھا۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اس کی تحریر پر تنقید شروع کر دی.
کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ باتیں صرف جذباتی ہیں۔
کچھ نے طنز کیا کہ نئے لوگ بس تھوڑی سی شہرت کے لیے لکھتے ہیں۔
شروع میں یہ باتیں پڑھ کر اسے تھوڑا دکھ ہوتا اور پرانی باتیں یاد آ جاتی جب گھر والے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن اس بار اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے سوچا کہ جو لوگ خود کچھ نہیں کرتے، وہ دوسروں کی کامیابی پر ہمیشہ انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا یہ سفر بھی عجیب تھا۔ کبھی اس کی پوسٹ وائرل ہوتی تو ہزاروں نئے لوگ جڑ جاتے، اور کبھی کوئی تنقید کرتا تو کچھ لوگ پیج ان فالو کر کے چلے جاتے۔ پہلے یہ نمبرز اسے پریشان کرتے تھے، لیکن جلد ہی اسے سمجھ آ گئی کہ گنتی کے فالوورز سے زیادہ اہم وہ سچے قاری ہیں جو دل سے اس کی کہانی پڑھتے ہیں.
✿————————✿
جب حدیثہ کو سوشل میڈیا پر تھوڑی بہت پہچان مل گئی، تو اس نے لکھاریوں کی دنیا کا ایک اور نیا اور سچا روپ دیکھا۔
کچھ پرانے اور مشہور لکھاری، جنہیں حدیثہ بچپن سے پڑھتی تھی اور جن کی وہ بہت عزت کرتی تھی، اب اس کے پیج پر بھی آنے لگے تھے۔
جب بھی حدیثہ کوئی نیا اقتباس لگاتی، تو یہ بڑے لکھاری کمنٹس میں بہت اچھے اور میٹھے الفاظ لکھتے.
"ماشاءاللہ! بہت زبردست لکھا ہے۔"
"نئے لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوشی ہوئی۔"
شروع میں حدیثہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھی کہ اتنے بڑے نام اس کی تعریف کر رہے ہیں۔
لیکن جلد ہی اسے سچائی کا اندازہ ہو گیا۔ ایک دن حدیثہ نے ہمت کی اور ان میں سے ایک مشہور لکھاری کو میسج کر کے اپنے نئے ناول کے پہلے باب کا لنک بھیجا، تاکہ وہ اس پر اپنی رائے دے سکیں۔
اس سینئر لکھاری نے بہت پیار سے جواب دیا: "جی بالکل، میں ضرور پڑھ کر بتاتی ہوں۔"
مگر مہینے گزر گئے، کوئی جواب نہیں آیا۔ حدیثہ نے نوٹس کیا کہ وہ لکھاری سوشل میڈیا پر روزانہ آن لائن ہوتی ہیں، دوسروں کی پوسٹس پر بھی کمنٹس کرتی ہیں، لیکن انہوں نے حدیثہ کے ناول کا لنک کھول کر بھی نہیں دیکھا ہوگا۔
یہ تعریفیں صرف دکھاوا ہوتی ہیں تاکہ وہ خود کو اچھا ظاہر کریں۔
حقیقت میں یہ پرانے لوگ نئے لکھاریوں کو سنجیدہ نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا کام پڑھنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں.
یہ بات جان کر حدیثہ کو تھوڑا دکھ ہوا، مگر اس نے ہم نہیں ہاری۔ اس نے خود سے کہا.
"مجھے بڑے ناموں کی جھوٹی تعریفوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے لیے وہ عام قاری ہی کافی ہیں جو سچے دل سے میری تحریر کا انتظار کرتے ہیں۔"
اس نے پرانے لکھاریوں سے امید رکھنا چھوڑ دی اور اپنی پوری توجہ صرف اور صرف اپنے کام اور کہانی پر لگا دی۔
✿————————✿
ایک دن حدیثہ نے اپنے ناول سے ہٹ کر زندگی کے ایک عام مگر گہرے موضوع پر ایک خوبصورت پوسٹ بنا کر شیئر کی۔ وہ خیال بالکل اس کے اپنے دل کا تھا، لیکن سوشل میڈیا پر جہاں لوگ دوسروں کی کامیابی سے جلتے ہیں، وہاں طوفان اٹھنے میں دیر نہیں لگتی۔
پوسٹ اپ لوڈ ہوتے ہی کچھ ہی دیر میں ایک دوسرے پیج کے ایڈمن نے کمنٹ میں ہنگامہ کھڑا کر دیا.
"یہ آئیڈیا میرا تھا! تم نے میری پوسٹ سے کاپی کیا ہے، یہ نئے لوگ بس دوسروں کا کام چرا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں!"
یہ الزام دیکھ کر کمنٹ سیکشن میں بحث چھڑ گئی۔ کچھ جلنے والے لوگ فوراً حدیثہ کے خلاف بولنے لگے اور اسے تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔
مگر حدیثہ کوئی ایسی نازک یا ڈرپوک لڑکی نہیں تھی جو کسی کے جھوٹے الزام سے گھبرا جاتی یا آنسو بہاتی۔ اس نے زندگی کے تھپیڑوں اور طعنوں کو سہہ کر اپنے اندر ایک لوہے جیسی مضبوطی پیدا کر لی تھی۔
اس نے جب وہ الزام پڑھا، تو اس کے دل میں ذرا سا بھی خوف یا پریشانی نہیں ہوئی۔ اس کے چہرے پر ایک سرد اور پرسکون مسکراہٹ آئی۔ اس نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ایسا جواب لکھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے-
"خیالات اور الفاظ کسی کی جاگیر نہیں ہوتے، یہ کائنات سب کے لیے کھلی ہے۔ اگر میرا سوچا ہوا انداز آپ کے خیال سے مل گیا ہے، تو یہ میری چوری نہیں، بلکہ سوچ کی سچائی ہے۔ اور رہی بات نام کمانے کی… تو جو اپنے زور بازو پر یقین رکھتے ہیں، وہ دوسروں پر کیچڑ نہیں اچھالتے۔ اپنے ہنر پر بھروسہ رکھیں، الزام تراشی پر نہیں!"
حدیثہ کے اس بے خوف اور دوٹوک جواب نے اس الزام لگانے والے کی بولتی بند کر دی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ایک نوآموز لڑکی ڈر جائے گی، مگر یہاں تو اس کا سامنا ایک شیرنی سے ہو گیا تھا۔
کمنٹس میں موجود تمام سچے قارئین حدیثہ کے اس باوقار اور طاقتور روپ کو دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
"واہ حدیثہ! یہ ہوتا ہے اصل جواب، ایسے لوگوں کا منہ ایسے ہی بند کیا جاتا ہے!"
"جو اپنے بل بوتے پر لکھتے ہیں، وہ کسی کے الزام سے نہیں ڈرتے۔"
حدیثہ نے اپنا فون بند کیا اور اطمینان سے تکیے پر سر رکھ دیا۔ اسے معلوم تھا کہ اب لوگ اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے جلیں گے اور اسے گرانے کی ناکام کوششیں کریں گے، مگر اب وہ کسی کے آگے جھکنے والی نہیں تھی.
اس کے اندر کا اعتماد اب اور زیادہ مضبوط ہو چکا تھا۔وہ جانتی تھی کہ طوفان کتنے ہی تیز ہوں، اس کی اڑان کو اب کوئی نہیں روک سکتا!
✿————————✿
رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ گھر کے سب لوگ اپنے کمروں میں سو رہے تھے۔ حدیثہ اور فِضّہ ایک ہی کمرے میں سوتی تھیں، اس لیے کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
اندھیرے میں صرف حدیثہ کے فون کی مدہم سی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ دبی انگلیوں سے فون پر کچھ لکھنے میں لگی ہوئی تھی کہ اتنے میں فِضّہ کی آنکھ کھل گئی۔
فِضّہ نے کروٹ بدلی اور دیکھا کہ حدیثہ ابھی تک جاگ رہی ہے۔ وہ اُٹھی اور آہستہ سے بولی ۔
"آپی اتنی رات گئے تک فون پر کیا کر رہی ہو؟ اتنے دنوں سے دیکھ رہی ہوں، آپ راتوں کو سوتی نہیں ہو۔"
حدیثہ نے چونک کر فِضّہ کو دیکھا۔ ایک ہی کمرے میں رہنے کی وجہ سے وہ
مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں
About the Writer

About the Writer
Mah noor Hafeez
Explore more Urdu novels by Mah noor Hafeez, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.
View All Novels by This Writer →مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔
Similar Novels
Frequently Asked Questions
What is the central theme of Safar asan nahi?
The novel focuses on the struggles of a young writer, Hadeesa, as she navigates family disapproval, social media criticism, and the challenges of establishing herself as an author.
Does Hadeesa receive support from her family?
Initially, her family views her writing as a waste of time. However, her sister Fizza eventually discovers her work and becomes a supportive ally.
How does Hadeesa handle the accusation of plagiarism?
Hadeesa responds with a firm and confident public reply, stating that ideas and words are not the property of any single person and that the creative world is open to everyone.
What happens when Hadeesa reaches out to senior writers?
She reaches out to a senior writer for feedback, but despite an initial positive response, she receives no further communication, leading her to stop seeking validation from established authors.
What is the outcome of Hadeesa's final social media post?
Her post addressing the mistreatment of new writers receives widespread support from the writing community and helps silence her critics.
👁 25 Views























