Asaib zada by Aqsa Mazhar Complete Novel

Asaib zada by Aqsa Mazhar Complete Novel

Asaib zada by Aqsa Mazhar — About the Novel

Asaib zada by Aqsa Mazhar explores the unsettling intersection of supernatural occurrences and psychological distress within a domestic setting. The story centers on Anaya, a woman whose life is disrupted by terrifying visions and inexplicable phenomena that leave her husband, Fahad, and mother-in-law, Kausar Begum, in a state of constant alarm. As the atmosphere in their home grows increasingly heavy, the narrative questions whether the disturbances are rooted in the paranormal or if they stem from deep-seated trauma.

This Asaib zada novel invites readers to uncover the truth behind Anaya's haunting experiences.

Novel Summary in Urdu

عنایہ کی زندگی اس وقت ایک ڈراؤنے خواب میں بدل جاتی ہے جب وہ اپنے گھر میں عجیب و غریب سائے اور نادیدہ چیزیں دیکھنے لگتی ہے۔ اس کا شوہر فہد اور ساس کوثر بیگم اس کی بدلتی ہوئی حالت اور گھر کے پرسرار ماحول سے شدید پریشان ہیں۔ عنایہ کا رویہ دن بہ دن بگڑتا جا رہا ہے، کبھی وہ کمرے میں زوردار قہقہے لگاتی ہے تو کبھی دیواروں پر عجیب و غریب خراشیں نمودار ہوتی ہیں۔

گھر والوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ عنایہ کسی آسیب یا جناتی اثر کا شکار ہے، جس کے لیے وہ ایک پیر صاحب کی مدد لیتے ہیں۔

پیر صاحب کے عمل کے باوجود عنایہ کی حالت میں بہتری نہیں آتی، بلکہ گھر میں کرسیوں کا ہوا میں معلق ہونا جیسے واقعات فہد کو مزید خوفزدہ کر دیتے ہیں۔ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں تو فہد اسے شہر کے ایک بڑے نفسیاتی ہسپتال لے جاتا ہے۔ وہاں ڈاکٹر دانیال کی تشخیص سے ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے کہ عنایہ کسی آسیب کا نہیں بلکہ 'سائیکوٹک ڈیپریشن' نامی شدید نفسیاتی مرض کا شکار ہے۔

ڈاکٹر کی تشخیص کے بعد فہد کو عنایہ کے ماضی کا وہ ہولناک صدمہ یاد آتا ہے جو اس کے اکلوتے بھائی کی اچانک موت کی صورت میں اسے ملا تھا۔ یہ کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح انسان کا لاشعور اور پرانے صدمات اسے حقیقت سے دور کر سکتے ہیں۔

فہد اب اپنی بیوی کی صحت یابی کے لیے کوشاں ہے، جبکہ یہ سوال بدستور موجود ہے کہ کیا عنایہ کے دیکھے گئے مناظر محض وہم تھے یا اس کے ٹوٹے ہوئے ذہن کی چیخیں۔

Novel Detailed Summary in English

The narrative begins with Anaya experiencing intense fear within her home, claiming to witness shadows taking on monstrous shapes. Her husband, Fahad, and his mother, Kausar Begum, struggle to manage the household's deteriorating atmosphere. As Anaya’s behavior becomes increasingly erratic—ranging from sudden, chilling laughter to standing in dark corners—the family becomes convinced that she is under the influence of a malevolent force.

The tension escalates when Fahad discovers deep, inexplicable scratches on the bedroom walls, prompting the family to seek the help of a local exorcist to address the perceived spiritual possession.

Despite the intervention of the exorcist, the situation remains volatile. Anaya continues to suffer from episodes where she appears to lose control, and at one point, she witnesses heavy furniture suspended in mid-air. Fearing for her life and sanity, Fahad decides to take her to a psychiatric hospital. The transition from spiritual remedies to medical intervention marks a turning point in the story. Fahad, desperate for answers, consults with Dr. Daniyal, a psychiatrist, to understand the root cause of his wife's condition.

Dr. Daniyal diagnoses Anaya with 'psychotic depression,' a severe medical and psychological condition. This revelation forces Fahad to confront the possibility that the 'hauntings' were manifestations of Anaya's internal struggle rather than external supernatural entities. He reflects on a traumatic event from Anaya's past—the sudden death of her only younger brother—which appears to be the catalyst for her current state. As Anaya remains in the ICU, Fahad is left to reconcile the reality of her mental health with the terrifying events he witnessed.

The story concludes with a focus on the fragility of the human mind and the impact of unresolved grief, leaving the reader to contemplate the thin line between the perceived supernatural and the reality of psychological trauma.

Genre

Psychological crime thriller

Key Themes

  • Psychological trauma
  • Supernatural vs Reality
  • Unresolved grief
  • Mental health awareness
  • Domestic tension

Short Scene from the Novel

فہد نے لرزتے ہوئے عنایہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بے اختیار بہہ رہا تھا اور وہ فہد کے وجود سے لگ کر بھی بری طرح کانپ رہی تھی۔ فہد نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تو وہ برف کی طرح ٹھنڈے اور بالکل سُن ہو چکے تھے۔ عنایہ کا سانس اکھڑ رہا تھا اور اس کے سینے کے اندر دل کی دھڑکن اس قدر تیز اور وحشیانہ تھی کہ فہد کو اس کے ساتھ مس ہوتے ہی وہ صاف سنائی دے رہی تھی، جیسے کوئی بند دروازہ اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے اعصاب اس ہولناک تجربے کی تاب نہ لا کر جواب دے چکے تھے۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

آسیب زدہ

ازقلم: اقصیٰ مظہر

انتساب:

اپنی ذات، اقصیٰ مظہر کے نام۔۔۔

رات کے دو بج رہے تھے۔ پورے گھر پر ایک گہری، خوفناک خاموشی مسلط تھی مگر عنایہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ بستر پر سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی، جہاں پنکھے کا سایہ آہستہ آہستہ ایک بہت بڑے نادیدہ ہاتھ کی شکل اختیار کر رہا تھا۔ ایک ایسا ہاتھ جو نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے بے ساختہ اپنے برابر سوئے فہد کی طرف دیکھا۔ وہ دن بھر کی تھکن کے باعث گہری نیند سو رہا تھا۔ عنایہ نے اسے جگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن اس کے چہرے کی تھکن دیکھ اس کا ہاتھ وہی رک گیا۔اس نے گھبرا کر رخ بدلا تو

اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے بڑے آئینے پر پڑی۔ اندھیرے میں آئینے کا شیشہ ایک گہرے کنویں کی طرح لگ رہا تھا، جس کے اندر دھندلا سا عکس ہل رہا تھا۔ وہ عنایہ کا اپنا عکس نہیں تھا؛ وہ کوئی اور تھی، جو آہستہ سے آگے بڑھی اور اس نے اپنا چہرہ شیشے سے ٹکا دیا۔ عنایہ کا سانس رک گیا۔ اگلے ہی پل، سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس ایک انچ آگے سرکا۔ لکڑی پر گلاس کے رگڑنے کی ہلکی سی آواز اس خاموشی میں گولی کی طرح گونجی۔

’’ک۔۔۔ کون ہے؟‘‘ عنایہ کے حلق سے بمشکل آواز نکلی۔

جواب میں کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا اس کا دوپٹہ ہوا کے بغیر ہی تیزی سے ہلا، جیسے کسی نے اسے جھٹکا دیا ہو۔ عنایہ نے کمبل اپنے منہ پر تان لیا۔ اسے پکا یقین تھا کہ اس گھر میں اس کے علاوہ بھی کوئی تھا۔

________

رات کے اس ہولناک طوفان کے بعد جب صبح کی پہلی ناتواں کرن کھڑکی کے پردوں کو چیرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی، تو عنایہ کے چہرے کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ وہ رات بھر کمبل میں منہ چھپائے ہر آہٹ پر لرزتی رہی تھی اور اب اس کی سرخ آنکھیں اس کے رات بھر کے جاگنے کی گواہی دے رہی تھیں۔ صبح کی روشنی تو پھیل چکی تھی، مگر عنایہ کے دل سے خوف کا اندھیرا ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کی طرف دیکھا؛ پانی کا گلاس ابھی تک وہیں پڑا ہوا تھا جہاں رات کو سرک کر آیا تھا۔

’’فہد کی آنکھ کھلی اور اس کی نظر عنایہ پر پڑی تو وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔ سرخ آنکھیں، بکھرے بال اور سہمے ہوا چہرہ۔

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

’’یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے؟‘‘ فہد کے ماتھے پر فکر کی لکیریں ابھریں۔ ’’کیا تم آج پھر رات کو نہیں سوئیں؟‘‘ اس نے پُرتشویش لہجے میں پوچھا اور اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔

عنایہ کے لب ہلکے سے کانپ رہے تھے، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھا کہ فہد کو کیا بتائے۔ اس نے فہد کا ہاتھ تھام لیا۔اس کا اپنا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔

’’فہد! یہاں کچھ ہے۔ میں آپ کو پہلے بھی کہتی ہوں کہ اس گھر میں کوئی ہے، یہاں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔رات کو میں نے خود اسے دیکھا‘‘ وہ خوف سے ہلکا سا کانپ رہی تھی۔تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں تھا؟اس نے فکر سے پوچھا۔۔۔آپ تھکے ہوئے تھے۔۔مم۔مجھے لگا آپ تنگ ہوں گے۔اس کی آواز میں اب بھی ڈر تھا ۔

فہد نے مضبوطی سے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ تم نے یہ کیسے سوچا کہ میں تنگ ہوں گا اور یہاں کچھ نہیں ہے، تمہارا وہم ہوگا۔ اس گھر میں ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس نے تسلی دی۔

عنایہ کی آنکھ سے ایک آنسو گرا۔ ’’میں نے خود اس کو دیکھا تھا، وہ وہاں تھی۔۔۔‘‘ اس نے کانپتی انگلی سے آئینے کی طرف اشارہ کیا۔

’’اچھا اب کچھ نہیں ہے، تم ریلیکس ہو جاؤ۔‘‘ فہد نے عنایہ کو اپنے ساتھ لگایا اور دلاسا دیا، مگر خود اس کی آنکھوں سے گہری پریشانی جھلک رہی تھی۔ پہلے کبھی کبھار عنایہ کو کچھ نظر آتا تھا، مگر اب اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر وہ خود الجھن کا شکار ہو رہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد عنایہ پُرسکون ہوئی تو وہ کمرے سے باہر نکلا اورکوثر بیگم کے کمرے کی طرف بڑھا۔وہ آنکھیں موندے بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔آہٹ سن کر انہوں نے آنکھیں کھولیں ۔سامنے فہد پریشان سا کھڑا تھا۔کیا ہوا ہےسب خیریت ہے؟ انہوں نے پریشانی سے پوچھا۔کچھ نہیں امی بس عنایہ کی طبیعت خراب ہے۔وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔

کوثر بیگم کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔

’’طبیعت خراب ہے یا ڈراما کر رہی ہے؟‘‘

فہد نے ان کی بات سن کر پہلو بدلا۔

’’امی! ایسا تو نہ کہیں۔ آپ کو پتا تو ہے، وہ ڈر جاتی ہے۔‘‘

’’ہاں، مجھے تو جیسے کچھ پتا ہی نہیں!‘‘ کوثر بیگم نے ناگواری سے منہ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں تو بس اپنی بیوی کی فکر رہتی ہے۔ گھر میں اور بھی کام ہوتے ہیں، مگر تمہیں اس کے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

امی، میرے لیے آپ اور وہ دونوں برابر ہیں۔فہد نے فوراً کہا۔‘

کوثر بیگم نے اس کی بات سن کر سر جھٹکا۔

__________

فہد کے آفس جانے کے کچھ دیر بعد عنایہ کمرے سے باہر نکلی۔ اس کی آنکھیں ابھی تک سرخ تھیں اور چہرے پر رات بھر جاگنے کی تھکن نمایاں تھی۔ وہ خاموشی سے کچن کی طرف بڑھنے لگی تو سامنے بیٹھی کوثر بیگم نے اسے دیکھ لیا۔

’’کیوں بھئی، اب طبیعت ٹھیک ہو گئی یا ابھی کچھ اور بھی باقی ہے؟‘‘ انہوں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔

عنایہ کے قدم رک گئے۔

’’جی، اب بہتر ہوں۔‘‘ اس نے نظریں جھکائے جواب دیا۔

’’تمہاری طبیعت بھی عجیب ہے۔ کبھی رات بھر نیند نہیں آتی، کبھی صبح اٹھ کر گھر سر پر اٹھا لیتی ہو۔ فہد کو بھی سکون سے نہیں رہنے دیتیں۔‘‘

عنایہ نے لب بھینچ لیے۔

اسے یاد آیا کہ جب وہ اس گھر میں نئی نئی آئی تھی، تب بھی ان کا رویہ کچھ ایسا ہی تھا۔تھا۔ماضی کا ایک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوما۔

وہ لاؤنج میں بیٹھی فہد کی کوئی بات یاد کر کے مسکرا رہی تھی، جب کوثر بیگم آئیں۔ عنایہ کو ہنستے دیکھ کر ان کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی’یہ تمہارا سسرال ہے، تمہارا میکہ نہیں جہاں ہر وقت قہقہے لگاتی پھرو۔‘‘

عنایہ کی ہنسی یکدم تھم گئی۔

’’مجھے شروع سے اس گھر میں خاموشی کی عادت ہے، اور بہتر ہے کہ تم بھی اپنے طور طریقے بدل لو۔‘‘

’’جی امی!‘‘ عنایہ نے دھیمی آواز میں کہا۔

’’اور کیا کہہ رہی تھی تم فہد سے؟ کہ تم گھر کی سیٹنگ بدلنا چاہتی ہو؟‘‘

’’جی، آپ کو پتا ہے، مجھے گھر ڈیکوریٹ کرنے کا کتنا شوق ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر لاؤنج میں۔۔۔‘‘ عنایہ نے خوشی سے بتانا شروع کیا، مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کوثر بیگم بول پڑیں۔

’’کوئی ضرورت نہیں کچھ کرنے کی۔ جیسی سیٹنگ ہے، ویسی ہی رہے گی۔‘‘

وہ سخت لہجے میں کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔

عنایہ کے چہرے پر اداسی پھیل گئی۔وہ کچھ بھی کرتی تو ان کو مسئلہ ہوتا۔یہاں تک کہ اس کے بولنے اور ہسنے پر بھی۔

’’اب یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ کوثر بیگم کی آواز نے اسے خیالوں سے باہر نکالا۔ عنایہ نے چونک کر ان کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے نظریں جھکا کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔

______

"دن تیزی سے گزر گیا اور شام ڈھل گئی۔ فہد جب آفس سے گھر لوٹا، تو عنایہ کافی پرسکون اور نارمل تھی۔ اس نے مسکرا کر فہد کا استقبال کیا، اس کے لیے چائے بنائی اور دونوں لاؤنج میں بیٹھ گئے۔ فہد نے کچھ دیر تو ادھر ادھر کی باتیں کیں، عنایہ کی طبیعت کا پوچھا، لیکن پھر حسبِ معمول اس کا ہاتھ موبائل کی طرف بڑھ گیا اور وہ سکرین میں مگن ہو گیا۔ عنایہ کچھ دیر خاموشی سے صوفے پر بیٹھی اس کی طرف دیکھتی رہی، پھر جب فہد کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا، تو وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی

_____

اگلی صبح، فہد ہمیشہ کی طرح تیار ہو کر آفس چلا گیا۔اور گھر میں ایک بار پھر وہی خاموشی چھا گئی

عنایہ بھی ناشتہ کرنے کے بعد خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ آہستگی سے بند کیا اور چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے بکھرے بال سمیٹنے کے لیے ہاتھ اٹھایا، مگر اگلے ہی پل اس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق ہو گیا۔ اس کا پورا وجود برف کی طرح ٹھنڈا پڑ گیا۔

آئینے میں موجود عکس آہستہ آہستہ پگھلنے لگا تھا!

عنایہ نے خوف سے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا؛ اس کا اپنا وجود موم کی طرح بہہ رہا تھا۔ اس نے بے ساختہ ایک وحشت ناک چیخ لگائی اور پاگلوں کی طرح کمرے سے باہر بھاگی۔ وہ سیدھی کوثر بیگم سے جا ٹکرائی۔

کوثر بیگم لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے بچیں اور غصے سے بولیں، ’’اب کیا آفت آن پڑی ہے جو یوں بھاگی آ رہی ہو؟‘‘

’’وہ۔۔۔ وہ کمرے میں۔۔۔ ک۔۔۔ کچھ ہے۔۔۔‘‘ اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

کوثر بیگم کے اعصاب تن گئے۔ ’’کیا ہوا کمرے میں؟ دکھاؤ مجھے!‘‘ کوثر بیگم عنایہ کو ساتھ لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ کمرہ بالکل ویسا ہی تھا؛ خاموش، پُرسکون اور ہر چیز اپنی ترتیب سے رکھی ہوئی تھی۔

’’یہ کیا روز روز کا تماشا لگا رکھا ہے تم نے؟ تم کیوں ہر روز فہد کو پریشان کرتی ہو؟ میرا بیٹا بیچارا سارا دن باہر سر کھپا کر آتا ہے اور گھر آ کر بجاے سکون ملنے کے اسے مزید ٹینشن ملتی ہے۔‘‘ وہ غصے سے کہتی ہوئی باہر چلی گئیں۔

عنایہ بے جان قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ تک آئی۔ اس نے خالی نظروں سے کمرے کو دیکھا اور یکدم اس نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔

اس کا قہقہہ اس سنسان کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہا تھا۔ کچن میں برتن سمیٹتی کوثر بیگم کے ہاتھ وہیں جم گئے۔ انہوں نے چونک کر کمرے کی طرف دیکھا جہاں سے عنایہ کے ہنسنے کی آواز مسلسل آ رہی تھی۔ دن کے اجالے میں اس آواز نے پورے گھر کے ماحول کو یکدم بھاری کر دیا تھا

انہوں نے جلدی سے فہد کو کال ملائی۔ اس نے پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا تھا۔

’’ہیلو فہد بیٹا! جلدی سے گھر آ جاؤ۔۔۔‘‘ انہوں نے ڈرتے ہوئے کانپتی آواز میں کہا۔ ’’عنایہ عجیب طریقے سے ہنس رہی ہے۔۔۔ بس تم جلدی سے گھر پہنچو!‘‘

کال بند ہوتے ہی انہوں نے اپنے کمرے کا رخ کیا اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔

تھوڑی دیر بعد فہد ہانپتا کانپتا گھر پہنچا، تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔ عنایہ کچن میں بالکل پُرسکون سی کھڑی چائے بنا رہی تھی۔ فہد کو دیکھ کر اسے ایک خوشگوار احساس ہوا۔

’’آپ اتنی جلدی کیوں آ گئے آج؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

فہد چند لمحے خاموش رہا اور اس کے چہرے کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ ’’کیا۔۔۔ کیا تم ٹھیک ہو؟‘‘

’’ہاں، مجھے کیا ہونا ہے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا اب آپ جلدی آ ہی گئے ہیں تو پھر میرے ساتھ چائے انجوائے کریں۔‘‘ وہ دوبارہ مسکرائی اور مسکراتے ہوئے اس کی آنکھیں چھوٹی ہو گئیں۔

فہد کے چہرے پر ایک ہلکی سی، الجھی ہوئی مسکراہٹ آئی۔ ’’امی کدھر ہیں؟‘‘

’’امی اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔‘‘

فہد نے گہرا سانس لیا اور امی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا

فہد جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا، وہ بھاگی ہوئی اس کے پاس آئیں اور انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔

’’فہد! تم نے عنایہ کی آواز سنی؟ وہ زور زور سے ہنس رہی تھی۔۔۔ اور اس کی آواز بھی بہت عجیب تھی۔ اس کی اپنی آواز نہیں تھی وہ!‘‘ انہوں نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔

فہد ان کی بات سن کر مزید الجھن کا شکار ہو گیا۔ ’’لیکن امی! میں جب آیا ہوں تو وہ بالکل ٹھیک تھی اور کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی۔ اس کا چہرہ دیکھ کر تو بالکل نہیں لگا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے چیخ رہی تھی یا اتنی اونچی آواز میں ہنس رہی تھی۔۔۔‘‘

’’ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے خود سنا ہے!‘‘ کوثر بیگم نے تڑپ کر کہا۔ ’’اور تم کہہ رہے ہو کہ تمہارے آنے پر وہ بالکل ٹھیک تھی؟ فہد! آخر یہ لڑکی ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے؟

اچھا آپ پریشان نہ ہوں، میں بات کرتا ہوں اس سے۔‘‘ وہ ان کو تسلی دیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔

کمرے سے باہر نکلتے ہوئے فہد کے قدم بھاری تھے اور ذہن میں سوالوں کا تانا بانا بن رہا تھا۔ لاؤنج میں چائے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، بالکل کسی عام اور خوشگوار شام کی طرح۔ عنایہ میز پر چائے کے کپ سجا رہی تھی اور اس کے چہرے پر وہی مانوس، پرسکون مسکراہٹ تھی۔ فہد نے اسے غور سے دیکھا، وہ کسی بھی زاویے سے وہ لڑکی نہیں لگ رہی تھی جس کا ذکر ابھی اس کی ماں نے خوف سے کانپتے ہوئے کیا تھا۔

وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا۔ عنایہ نے پیار سے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔

فہد نے چائے کا ایک گھونٹ لیا، ’’عنایہ ۔۔۔ امی کہہ رہی تھیں کہ تھوڑی دیر پہلے تم اپنے کمرے میں اکیلی ہنس رہی تھی؟ کیا ہوا تھا وہاں؟کیا کسی کی کال تھی؟اس نے بظاہر عام سے لہجے میں پوچھا،‘‘

عنایہ نے چائے کا کپ ہونٹوں سے ہٹایا۔

’’میں؟‘‘ عنایہ کے لہجے میں سچی حیرت تھی۔ ’’نہیں تو فہد، ان کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو پچھلے ایک گھنٹے سے کچن میں تھی، میں اپنے کمرے میں گئی ہی کب ہوں؟

اس کے چہرے پر نہ تو کوئی خوف تھا اور نہ ہی کوئی چوری پکڑے جانے کا تاثر۔ اس نے بالکل سچے اور حیرت زدہ چہرے کے ساتھ فہد کو دیکھا۔‘‘

عنایہ کا یہ جواب سن کر فہد کا ہاتھ ہوا میں جم گیا اور چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ عنایہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی، اس کی آنکھوں کی سچائی گواہ تھی، مگر اس کی ماں بھی وہم کا شکار نہیں ہو سکتی تھی۔ فہد کے ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔۔۔ اگر عنایہ سچ کہہ رہی تھی، تو پھر کمرے کے اندر کون ہنس رہا تھا؟

———-

فہد کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اور اس کے ماتھے پر گہری سوچ کی لکیریں تھیں۔ وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ اسے پتا تھا کہ عنایہ رات کو کبھی کبھی ڈر جاتی تھی، لیکن وہ اب تک اسے صرف

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Aqsa Mazhar

Explore more Urdu novels by Aqsa Mazhar, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the primary cause of Anaya's condition in the novel?

Dr. Daniyal diagnoses Anaya with 'psychotic depression,' which is linked to the trauma of her younger brother's sudden death.

Does the exorcist successfully cure Anaya?

The exorcist's intervention does not resolve the situation, as Anaya continues to experience disturbing episodes, leading the family to seek medical help.

What strange phenomena does Anaya experience?

Anaya experiences visions of melting reflections, hears a strange male voice coming from herself, and witnesses heavy furniture suspended in mid-air.

How does Fahad react to his wife's illness?

Fahad is initially confused and distressed, eventually taking charge by seeking both spiritual and professional medical help to save his wife.

👁 1 Views

Leave a Comment