Khail by Bilal Aslam — About the Novel
Khail by Bilal Aslam is a dark crime based Urdu novel that explores the descent of a young woman into moral decay. Driven by an obsession for inheritance and a desperate desire to secure her future with her cousin, the protagonist makes choices that lead to irreversible consequences. As she navigates a web of manipulation, betrayal, and cold-blooded decisions, the narrative examines the thin line between love and criminality.
This gripping story reveals how greed and external influence can transform a person, ultimately leading to a tragic confrontation with the law.
Novel Summary in Urdu
ناول 'کھیل' بلال اسلم کی ایک تاریک اور سنسنی خیز کہانی ہے جو عنایا نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔ عنایا اپنے کزن روحیل کے بہکاوے میں آ کر اپنے دادا کی دولت حاصل کرنے کے لیے ایک خطرناک راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ وہ روحیل کے دوست شیراز کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت شادی کرتی ہے تاکہ دادا کو ورثہ منتقل کرنے پر آمادہ کر سکے۔ جب دادا کو ان کے ارادوں کا علم ہوتا ہے، تو عنایا انہیں قتل کر دیتی ہے۔
اس قتل کے بعد، شیراز کی منگیتر ایمان انہیں بلیک میل کرنا شروع کر دیتی ہے۔ عنایا، جو شیراز کو پانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، ایمان کو بھی قتل کر دیتی ہے۔ تاہم، اس کا یہ جرم اسے قانون کی گرفت میں لے آتا ہے۔ جیل میں قید کے دوران، روحیل اس سے ملنے آتا ہے اور انکشاف کرتا ہے کہ وہ شروع سے ہی عنایا کو استعمال کر رہا تھا۔
روحیل کے پاس وہ ویڈیو موجود تھی جس میں عنایا کو دادا کا قتل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عنایا محض ایک مہرہ تھی۔ یہ ناول لالچ اور اندھی محبت کے بھیانک انجام کی ایک سبق آموز کہانی ہے۔
Novel Detailed Summary in English
The story follows Anaya, a young woman who becomes entangled in a dangerous scheme to secure her grandfather's wealth. Influenced by her cousin, Roheel, who is currently imprisoned, Anaya enters into a contract marriage with Shiraz, Roheel’s friend, to manipulate her ailing grandfather into transferring his property. As the situation escalates, Anaya’s obsession with Shiraz grows, leading to a volatile dynamic between them.
When her grandfather discovers their true intentions, Anaya commits a heinous act to silence him, effectively securing the inheritance but trapping herself in a cycle of violence.
Following the murder, Anaya finds herself further compromised when Shiraz’s fiancée, Iman, begins blackmailing them. Determined to eliminate any threat to her future with Shiraz, Anaya tracks Iman down and commits a second murder. However, her actions do not go unnoticed. The narrative takes a chilling turn when Roheel visits Anaya in prison, revealing that he had been orchestrating the events all along.
He exposes the existence of evidence—a video capturing Anaya in the act of killing her grandfather—proving that she was merely a pawn in his larger game to seize the family property.
As the truth unfolds, Anaya is left to face the consequences of her actions behind bars. The novel provides a stark look at how manipulation and unchecked ambition can lead to total ruin. By the end, the reader is left to contemplate the nature of guilt and the devastating impact of allowing oneself to be controlled by others. Khail serves as a cautionary tale about the destructive power of greed and the fragility of human relationships when built upon deceit and criminal intent.
Genre
Crime based Urdu Novels
Key Themes
- Greed and Inheritance
- Manipulation and Betrayal
- Moral Decay
- Criminal Intent
- Consequences of Actions
Short Scene from the Novel
دادا جی کی عمر اور صحت ایسی نہیں تھی کہ وہ بچی کھچی چند سانسیں بچانے کے لئے زیادہ ہاتھ پاؤں مار سکتے ۔ کچھ ہی لمحوں میں ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے ۔ جب مجھے پوری تسلی ہو گئی کہ اب ان کے وجود کے بوسیدہ مکان سے سانس کا آخری پرندہ بھی پرواز کر چکا ہے ۔ میں نے ان کے منہ سے تکیہ ہٹا دیا ۔ ان کا سرخ چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہو گیا تھا ۔ کھلی بے جان آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی جم کر رہ گئی تھی جیسے آخری سانس تک انہیں یقین نہ آیا ہو کہ ان کی لاڈلی پوتی جسے خود انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پالا وہ ان کی جان کے درپے بھی ہو سکتی ہے ۔ زندگی شاید اسی غیر یقینت کا نام ہے ۔
Download Novel
نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online reading
ناول کے ابتدائی صفحات
کھیل
ازقلم: بلال اسلم
جیل کی سلاخوں کے اس پار روحیل کھڑا تھا ۔
روحیل میرا چچا زاد تھا ۔۔۔ میرے چچا کا بیٹا اور میری محبت بھی ۔ ہاں میں اسے بچپن سے پسند کرتی تھی اور اس کا اعتراف بھی میں برملا روحیل کے سامنے برسوں پہلے کر چکی تھی ۔ اسے میری محبت قبول تھی اور مجھے وہ قبول تھا ہر حال میں ۔۔۔ ہر صورت میں ۔
میں جانتی تھی کہ اس کا کردار صاف نہیں ۔ وہ مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے اور آئے دن کسی نہ کسی جرم میں جیل کی ہوا چکھنے پہنچ جاتا تھا ۔ اس میں اس کا زیادہ قصور بھی نہیں تھا ۔ بچپن ہی سے محرومیوں میں جیتا آیا تھا ۔ اس کے والدین بچپن ہی میں اس سے بچھڑ گئے تھے ۔ دادا اسے گھر تو لے آئے مگر کبھی دل سے اس کے وجود کو قبول نہیں کیا ۔ وجہ یہ رہی تھی کہ چچا نے ان کی مرضی کے خلاف جا کر شادی کی ۔ نتیجتاً انہیں گھر اور جائیداد دونوں سے دستبردار ہونا پڑا ۔
والدین تو میرے بھی بچپن ہی میں چل بسے تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جلد ہی ہم دونوں میں گاڑھی چھننے لگی تھی ۔ دادا جہاں روحیل کے وجود کو بمشکل جھیل رہے تھے وہیں مجھ پر جان نچھاور کرتے تھے ۔ میرا ہر لاڈ اٹھاتے اور ہر فرمائش پلک جھپکنے میں پوری کر دیتے ۔ روحیل یہ سب خاموشی سے دیکھتا اور اندر ہی اندر کڑھتا رہتا مگر زبان سے کچھ نہیں بولتا تھا ۔ رفتہ رفتہ وہ اتنا کم گو ہو گیا کہ دنوں میں کوئی ایک آدھ بار ہی بولتا وہ بھی میرے بے تحاشا اصرار اور مجبور کرنے کے بعد ۔ میں اس کی کزن بھی تھی اور دوست بھی ۔ وہ مجھ سے کہتا کچھ نہیں تھا بس خاموشی سے میرے گلے لگ جاتا اور میں اس کی خاموشی سے اس کے درد چنتی رہتی ۔ یہی عادت اس کی ہمارے بڑے ہونے کے بعد بھی برقرار رہی ۔ دادا سے ملے زخموں کا علاج وہ میری قربت میں ڈھونڈتا اور میں ایک مسیحا بن کر اس کے زخموں پر مرہم رکھتی چلی جاتی ۔
" روحیل! خدا کے لئے زیادہ نہ سہی مگر کچھ دنوں کے لئے تو خود کو ٹھیک کر لو ۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دادا کی زندگی کے دن بس گنے چنے رہ گئے ہیں ۔ کل ڈاکٹر زیدی آئے تھے اور وہ واضح طور پر بتا کر گئے ہیں کہ ان کے پاس دو چار ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں اور جیتے جی وہ مجھے دلہن بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ۔"
میں نے پہلے کی طرح ایک بار پھر روحیل کو سمجھانے کی کوشش کی مگر روحیل کی کھوپڑی الٹی تھی ۔ بات کو سمجھنا اس کی سرشت میں تھا ہی نہیں ۔
" میں چاہے سونے کا بھی بن کر آ جاؤں تب بھی دادا تمہاری شادی مجھ سے کبھی نہیں کریں گے اور یہ تم بھی اچھی طرح جانتی ہو ۔"
روحیل نے ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ۔
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ دادا کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور میری شادی وہ روحیل سے کر دیتے یہ اس جنم میں تو ممکن نہیں تھا ۔
" لیکن میں تمہارے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی یہ تم بھی اچھی طرح جانتے ہو ۔"
میرے ضدی لہجے پر روحیل ہلکا سا مسکرایا ۔ وہ کم مسکراتا تھا مگر جب مسکراتا تو اس کی مسکراہٹ بڑی دلکش ہوتی ۔
" ہاں جانتا ہوں عنایا! لیکن اگر ضد میں آ کر مجھ سے شادی کرو گی تو وراثت کا حق کھو بیٹھو گی ۔ دادا اپنی جائیداد میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی تمہیں نہیں دیں گے ۔ یاد رکھو دادا کی جائیداد ہر حال میں تمہیں اپنے نام کرانی ہے ۔"
" پھر بتاؤ میں کیا کروں ۔ مجھے تو اس مسئلے کا کوئی حل سمجھ نہیں آ رہا ۔"
میں نے بےبسی سے کہتے ہوئے روحیل کی طرف دیکھا ۔
" لیکن میرے پاس اس مسئلے کا حل ہے ۔"
روحیل نے سرسراتے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے ڈرامائی انداز اختیار کیا ۔
" حل ۔۔۔ کیسا حل؟"
میں نے بے اختیار پوچھا ۔
" میرا ایک دوست ہے شیراز ۔ اسے پیسوں کی ضرورت ہے ۔ تم اسے کچھ رقم دے کر اس کی خدمات دو چار ماہ کے لئے مستعار لے لو ۔ اسے دادا سے اپنے شوہر کے طور پر متعارف کراؤ اور انہیں بتاؤ کہ ان کی خوشی کے لئے تم شیراز کے ساتھ نکاح کر چکی ہو ۔"
" کیا فضول باتیں کر رہے ہو ۔ ایسے کیسے وہ کسی بھی راہ چلتے شخص کو میرا شوہر تسلیم کر لیں گے؟"
روحیل کی تجویز پر میں صحیح معنوں میں بھڑک اٹھی تھی ۔ وہ بالکل بچوں جیسی باتیں کر رہا تھا ۔۔۔ حقیقت سے بہت دور ۔
" ملاقات کا وقت پانچ منٹ رہ گیا ہے ۔"
قریب سے گزرتے کانسٹبل نے ہانک لگائی تو روحیل گویا ہوا ۔
" جلدی سے کاغذ پن دو ۔"
میں نے جلدی سے پرس میں سے کاغذ اور پن نکالا اور روحیل کو تھما دیا ۔ روحیل نے تیزی سے کاغذ پر کچھ تحریر کیا اور مجھے پکڑاتے ہوئے بولا ۔
" یہ شیراز کا ایڈریس اور فون نمبر ہے ۔ گھر جا کر تسلی سے سوچو ۔ میں تمہیں مجبور نہیں کرتا مگر ہم دونوں کا فائدہ اسی میں ہے ۔ ایک بار جائیداد تمہارے نام ہو گئی تو پھر بقیہ زندگی ہماری آرام سے گزرے گی ۔ دل مانے تو اس سے رابطہ کر لینا ۔"
اس نے میری مٹھی میں دبے کاغذ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
" اب جاؤ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچو ۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار میرے بارے میں ضرور سوچ لینا ۔"
کہتے ہوئے وہ سامنے سے ہٹ گیا اور اپنی بیرک میں چلا گیا مگر جاتے جاتے مجھے عجیب امتحان میں ڈال گیا ۔
*******
میں گم صم سی گھر لوٹی تو میرا ذہن گھڑ دوڑ کا میدان بنا ہوا تھا ۔ میں روحیل کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتی تھی چاہے یہ وقتی طور پر کسی معاہدے کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو مگر جب ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا تو روحیل کا موقف ٹھیک لگا ۔ بیشک مجھے روحیل سے محبت تھی مگر زندگی صرف محبت کے سہارے تو نہیں گزاری جا سکتی ۔ اس کے لئے پیسے کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور روحیل کوئی جاب ہولڈر یا پھر بزنس مین تو تھا نہیں کہ میں دادا کی بے تحاشا دولت ٹھکرا روحیل کے ساتھ ایک خوشگوار اور آرام دہ زندگی گزار سکتی بلکہ اس کا مستقبل بھی اسی جائیداد سے مشروط تھا جو دادا میرے نام کرنے والے تھے ۔
جب گہرائی سے سوچا تو مجھے یہی ٹھیک لگا کہ فی الوقت دادا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مجھے فوری طور پر ایک شوہر کی ضرورت تھی اور یہ شوہر دنیا کا ہر لڑکا ہو سکتا تھا سوائے روحیل کے ۔
" کہاں پھنس گئی میں ۔ مجھے بھی ساری دنیا چھوڑ کر صرف روحیل ہی سے محبت ہونا تھی ۔"
میں جھنجھلاہٹ آمیز لہجے میں بڑبڑانے لگی ۔ خیر جھنجھلاہٹ تو جلد ختم ہو گئی اور میں نے شیراز کا نمبر ملا کر فون کان سے لگا لیا ۔ دوسری طرف سے جلد فون اٹھا لیا گیا ۔
" ہیلو ۔۔۔"
ایک سرد آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔
" السلام عليكم! میں عنایا بات کر رہی ہوں ۔ روحیل کے حوالے سے ۔"
میں نے اپنا تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ روحیل کا حوالہ بھی دے دیا ۔
" جی جی عنایا! کیسی ہیں آپ؟ روحیل نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا ۔"
اس کے لہجے میں اچانک سے نرمی در آئی تھی ۔
" میں ٹھیک ہوں ۔ ہم مل سکتے ہیں کہیں؟" میں سیدھا مدعے پر آئی ۔ حال احوال بہت لے لیا تھا ویسے بھی وہ میرا کوئی قریبی جاننے والا تو تھا نہیں جو میں اس سے دکھ سکھ بانٹنے بیٹھ جاتی ۔
" جی جی کیوں نہیں ۔ مجھے بتائیے کہاں ملنا ہے؟"
وہ فوراََ ملنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ میں نے اسے ایک قریبی ریسٹورنٹ کی لوکیش بھیجی اور ایک گھنٹے میں وہاں پہنچنے کو کہا ۔
اس کے بعد میں خود بھی تیار ہونے کے لئے اٹھ گئی ۔ دادا کو دوا پہلے ہی دے چکی تھی ۔ وہ سو چکے تھے ۔ اس حوالے سے میں مطمئن تھی ۔ تیار کیا ہونا تھا بس بالوں میں برش کیا اور شولڈر بیگ اٹھا کر باہر آ گئی ۔ عام طور پر ڈرائیور میری گاڑی چلاتا تھا مگر آج میں نے اکیلے ہی جانا تھا ۔ ریسٹورنٹ پہنچنے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگا ۔
" پتا نہیں میں اتنی جلدی کیوں آ گئی؟"
وہاں پہنچ کر میں نے موبائل پر وقت دیکھا تو شدید حیرت ہوئی ۔ اسے میں گھنٹے کا کہہ کر خود بیس منٹ میں پہنچ آئی تھی ۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا ۔ نہ جانے اتنی عجلت پسندی مجھ میں کہاں سے آ گئی تھی ۔ بہر حال مجھے وہاں شیراز کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔ پندرہ بیس منٹ بعد وہ بھی وہاں پہنچ ہی گیا ۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد میں سیدھا مدعے پر آئی ۔
" روحیل نے آپ کو بتا تو دی ہو گی ساری صورتحال؟"
میں نے کام کی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ۔
" جی کچھ اس نے بتا دی ہے ۔ کچھ آپ بتا دیں گی تو میرے لئے آسانی ہو جائے گی ۔"
" اوکے ۔۔۔"
میں نے کہتے ہوئے ایک طویل سانس خارج کی اور مزید کہنا شروع کیا ۔
" آپ کو میرا شوہر بننا ہے دو تین ماہ کے لئے اور اس کام کے لئے میں آپ کو اچھی خاصی رقم دوں گی ۔"
میں نے سوچا ایک ہی بار میں اسے سب بتا کر واضح کر دوں تاکہ بار بار وضاحت نہ دینی پڑے ۔ ویسے بھی کیوں کیسے کب اگر مگر جیسے الفاظ سے مجھے سخت چڑ تھی ۔
" ہممم ۔۔۔"
ایک ہمکاری بھرتے ہوئے وہ سوچ میں پڑ گیا ۔ اب پتا نہیں وہ واقعتاً سوچ رہا تھا یا پھر محض سوچنے کی اداکاری کر رہا تھا ۔ اسے خاموش پا کر میں نے مزید کہا ۔
" یہ ہمارے درمیان ایک معاہدے کے تحت ہو گا تاکہ ہم دونوں کے لئے اپنی کمٹمنٹ سے فرار کا کوئی راستہ نہ بچے ۔"
" میں تو اس معاہدے سے فرار کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ مجھے رقم کی سخت ضرورت ہے ۔"
اس نے بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اس کی بھی اپنی ضروریات اور مجبوریاں ہیں ۔ مختصراً یہ کہ ہم دونوں کی مشکلات کا حل یہ معاہدہ ہی تھا ۔
" تو پھر چلیں وکیل کے پاس؟"
میں نے نیچے سے شولڈر بیگ اٹھاتے ہی کہا تو وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا ۔
" کوئی چائے کافی ۔۔۔؟"
" معاہدہ ہو جانے کے بعد سکون سے میرے گھر میں پیئیں گے ۔"
میں نے دو ٹوک انداز میں کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس کے پاس اب وہاں سے اٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا ۔
" ٹھیک ہے تو پھر چلتے ہیں ۔"
میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ عام سے لباس میں بھی کافی پرکشش لگ رہا تھا ۔ یہ میرا اس کے لئے پہلا تاثر تھا مگر میں نے اپنی گفتگو سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میں کسی حد تک اس سے متاثر ہو چکی ہوں ۔ وہ میرے لئے بس ایک کرائے کا شوہر تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ خواہ مخواہ ایک دوسرے کی تعریف و توصیف میں پڑ جاتے تو مسائل سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جاتے جو میں بالکل بھی نہیں چاہتی تھی ۔ میرا مقصد دادا کی جائیداد حاصل کرنے کے بعد روحیل سے شادی کرنا تھا بس ۔۔۔ باقی دنیا جاتی بھاڑ میں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ مگر شاید یہ میرا خیال تھا اور خیال تو کسی بھی وقت باطل ثابت ہو سکتا ہے ۔ حالات آپ کو اس نہج پر لے آتے ہیں کہ آپ اپنی سوچ میں تبدیلی پیدا کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔۔۔ اپنے نظریات بدلنے پر راضی ہو جائے ۔
*****
" دادا جی! میں نے شادی کر لی ۔"
میں نے دادا جی کے کانوں کے قریب سرگوشی کی تو جیسے ان کے مردہ پپوٹوں میں ایک دم سے جان پڑ گئی ۔ انہوں نے ایک دم سے آنکھیں کھول دیں ۔ ان کی اس پھرتی پر تو میں بھی حیران رہ گئی ۔ کہاں وہ والے دادا جی جنہیں میں دوا کے لئے آوازیں دے دے کر تھک جاتی تھی اور وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے اور کہاں یہ جو میرے ایک ہی جملے پر یوں چونکے جیسے دنیا میں صرف یہی ایک خبر سننے کے لئے زندہ ہوں ۔
خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔
Prime Urdu Novels Publications
Whatsapp : 03335586927
Email: aatish2kx@gmail.com
" کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟"
انہوں نے لکنت زدہ آواز میں کہا ۔ ایک بستر مرگ پر پڑے بوڑھے سے آپ بارعب انداز کی توقع کر بھی نہیں سکتے ۔
" جی دادا جی! میں سچ کہہ رہی ہوں ۔"
میں نے جیسے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی ۔
" کہاں ہے تمہارا شوہر؟ مجھے ملواؤ اس سے ۔ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اسے دیکھنا چاہتا ہوں ۔"
دادا جی کے اس اشتیاق نے میرے اندر تک آگ لگا دی ۔ کاش یہی اشتیاق وہ روحیل کے لئے بھی دکھاتے تو مجھے یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ اور روحیل تو اجنبی بھی نہیں تھا ۔ ان کا اپنا خون تھا ۔ ان کے سگے بیٹے کا سگا بیٹا ۔ پھر کیا وجہ تھی کہ وہ ان کی ایک چھوٹی سی غلطی کو ساری عمر معاف نہ کر پائے ۔ اس حوالے سے میں جتنا سوچتی میرا دماغ اتنا زیادہ الجھتا ۔
شیراز دادا جی کے سامنے آیا تو ان کا چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے وہ لاغر اور بیمار کبھی رہے ہی نہ ہوں ۔
" تم ۔۔۔ تم میری عنایا کے شوہر ہو؟"
انہوں نے شیراز کا چہرہ جیسے یہ یقین دہانی چاہی ۔
" جی ۔۔۔"
شیراز نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ دادا جی کا کھلا چہرہ مزید گل و گلزار ہو گیا ۔
" اسے کبھی دکھ نہ دینا ۔ میں نے اسے بڑے نازوں سے پالا ہے ۔"
دادا جی کے لہجے سے
مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں
About the Writer

About the Writer
Bilal Aslam
Explore more Urdu novels by Bilal Aslam, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.
View All Novels by This Writer →مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔
Similar Novels
Frequently Asked Questions
What is the primary motivation behind Anaya's actions?
Anaya is primarily motivated by her desire to secure her grandfather's inheritance and her obsession with being with her cousin, Roheel.
Why does Anaya enter into a contract marriage with Shiraz?
Anaya marries Shiraz as part of a plan orchestrated by Roheel to manipulate her grandfather into transferring his property to her.
What leads to the murder of Anaya's grandfather?
Anaya murders her grandfather after he discovers the true nature of her relationship with Shiraz and their intentions regarding his property.
Who is Iman and why does she become a target?
Iman is Shiraz's fiancée who discovers the truth about the murder and begins blackmailing Anaya and Shiraz, leading Anaya to kill her to protect their secret.
How does Roheel manipulate Anaya?
Roheel manipulates Anaya by orchestrating the entire scheme and secretly recording her committing the murder, which he later uses to control her fate.
👁 2 Views


















