Hasil E Chand by Laiba Irshad Complete Novel

Hasil E Chand by Laiba Irshad Complete Novel

Hasil E Chand by Laiba Irshad — About the Novel

Hasil E Chand by Laiba Irshad is a heartwarming exploration of family bonds and the enduring nature of childhood promises within the Kazmi household. Set against the backdrop of a vibrant Karachi family, the story follows the lives of cousins whose destinies are intertwined through long-held secrets and unexpected reunions. As the characters navigate the complexities of their relationships, they discover that true happiness often lies in the connections they have cherished since childhood.

This novel captures the essence of love, tradition, and the joy of coming together.

Novel Summary in Urdu

حاصلِ چاند لائبہ ارشاد کا ایک خوبصورت ناول ہے جو کاظمی ہاؤس کے مکینوں کی زندگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کا مرکزی نقطہ یزدان اور آیت کا بچپن کا نکاح ہے، جسے خاندان کے بڑوں نے ایک راز بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کراچی کے پس منظر میں لکھی گئی یہ کہانی خاندانی رشتوں، محبت اور روایات کی عکاسی کرتی ہے۔

یزدان کا مصر سے واپسی پر ماہا گل کو ساتھ لانا کہانی میں ایک نیا موڑ لاتا ہے، جس سے گھر کے ماحول میں ہلچل مچ جاتی ہے۔

ناول میں عبدالرحمن کی شرارتیں، مٹھو طوطے کے دلچسپ مکالمے اور کزنز کے درمیان ہونے والی نوک جھونک قاری کو محظوظ کرتی ہے۔ ریحان اور نور کی بڑھتی ہوئی قربتیں اور خاندان کے دیگر افراد کے درمیان محبت کے رشتے کہانی کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، پرانے راز کھلتے ہیں اور خاندان کے بکھرے ہوئے افراد دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

حاصلِ چاند میں جذباتی گہرائی اور خاندانی اقدار کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ کہانی کا اختتام تینوں جوڑوں کی خوشگوار رخصتی اور ان کی نئی زندگیوں کے آغاز پر ہوتا ہے۔ یہ ناول محبت کے ان رشتوں کی کہانی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے گئے اور آخر کار اپنی منزل پا گئے۔

Novel Detailed Summary in English

Hasil E Chand centers on the Kazmi family, a close-knit household living in Karachi, where the lives of cousins Yazdan, Aayat, Abdul Rehman, and Noor unfold through daily interactions and shared traditions. The narrative begins with the return of Yazdan from Egypt, accompanied by his colleague Maha Gul, which sparks curiosity and subtle shifts in the family dynamic.

Unbeknownst to Aayat, she and Yazdan are bound by a childhood Nikah, a secret kept by the family elders, specifically Bee Jaan, to protect the sanctity of their bond until the right time.

As the story progresses, the family experiences various lighthearted moments, including playful banter, Suhoor gatherings, and humorous incidents involving Abdul Rehman and his pet parrot, Mithu. The cousins navigate their growing feelings and personal challenges, with Rehan and Noor’s relationship also blossoming alongside the central couple. The family’s unity is tested and strengthened through various events, such as birthday celebrations and the resolution of past misunderstandings that had previously caused distance between certain family members.

Throughout the novel, the characters grapple with their identities and the weight of their family history. Aayat’s observant nature and religious inclination contrast with the playful antics of her cousins, creating a balanced and engaging atmosphere. The plot moves toward a series of joyous conclusions where the hidden truths are embraced, and the couples—Yazdan and Aayat, Abdul Rehman and Maha, and Rehan and Noor—find their paths aligned.

The story culminates in a festive atmosphere, highlighting the beauty of commitment and the fulfillment of long-standing promises within the warmth of the Kazmi home.

Genre

Family based novels

Key Themes

  • Childhood Nikah
  • Family Unity
  • Hidden Secrets
  • Cousin Relationships
  • Tradition and Commitment

Short Scene from the Novel

‎”آیت میں تمھارا نامحرم نہیں بلکہ شوہر ہوں وہ شوہر جسکو تم دل ہی دل میں اپنا بہت کچھ بنا بیٹھی ہو جیسا سمندر تمھارے اندر ہے ویسا ہی سمندر میرے اندر ہے جو تمہیں دیکھے بنا ایک پل چین نہیں پاتا اس دل کو تمہارے دید کی عادت ہو گئ ہے۔۔۔ کب ۔۔۔ کب تم میری دسترس میں او گی کب میں تم سے اپنے دل کا حال بیان کرو گا۔۔۔ کاش تم جانتی ہوتی کہ میں تمھارا محرم ہو تو اج تم مجھ سے شاید یو نظریں پھیر کر نہیں جاتی۔۔۔ اگر تم جانتی ہوتی کہ یزدان کاظمی کے دل میں تمھارا مقام کیا ہے تو آج تم ہواوں میں اڑ رہی ہوتی آیت یزدان تم میری کل کائنات ہو تم وہ جس کی غیر موجودگی میں بھی یہ دل بغاوت کرنے کو تیار نہیں کیسی اور کو دیکھنے کا بھی روادار نہیں۔۔۔ یہ دل بس ایک نام لیتا ہے وہ نام تمھارا ہے آیت یزدان صرف اور صرف تمھارا۔۔۔“

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

حاصل چاند

مصنفہ // لائبہ ارشاد

مکمل ناول۔۔۔

" انتساب "

یہ کتاب اُن ہستیوں کے نام

جن کی بدولت آج میں لفظوں کو زندگی دے پائی ہوں۔

اپنے والدین کے نام،

جنہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، میرا حوصلہ بڑھایا، اور مجھے اپنے خوابوں کی سمت چلنے کی اجازت دی۔

اپنے اساتذۂ کرام کے نام،

جن کی رہنمائی، علم اور تربیت نے مجھے اظہارِ قلم کا ہنر سکھایا۔

اُس شخص کے نام،

جو ہر روز میرے آئینے کے عکس میں نظر آتا ہے یعنی میں خود۔

وہ جو خواب دیکھتی ہے، جدوجہد کرتی ہے، اور کبھی ہار نہیں مانتی۔

اور میری ناول پارٹنر کے نام،

میری ناول پارٹنر خدیجہ سرور کے نام،

جس کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور محنت کے بغیر یہ ناول مکمل نہ ہو پاتا۔

پیشِ لفظ۔۔۔۔۔!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

‎

‎میرا نام لائبہ ارشاد ہے۔

‎میں نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ مکمل کیا ہے، اور ان شاءاللہ آگے بھی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ میرے دل کا ایک خاص گوشہ ہمیشہ سے لکھنے سے وابستہ رہا ہے۔

‎یہ قلم میرے والدین کی دعاؤں، میری بہنوں کی حوصلہ افزائی، اور ربِ کریم کی توفیق سے ہی رواں ہوا ہے۔

‎

‎لکھنے کا شوق میرے لیے صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ احساسات کو لفظوں میں ڈھالنا میرا عشق ہے ۔

‎اور انہی جذبوں کی بنیاد پر میں آپ کے سامنے اپنی نئی کہانی "حاصلِ چاند" پیش کر رہی ہوں۔

‎

‎یہ کہانی رمضان اسپیشل، فنی اور ایموشنل رنگ لیے ہوئے ہے۔

‎اس کا ہر کردار اپنی ذات میں ایک مکمل داستان ہے کوئی ہنساتا ہے، کوئی رُلاتا ہے، کوئی دل کے اندر تک اتر جاتا ہے۔

‎یہ صرف ایک ناول نہیں، بلکہ رشتوں، احساسات، محبت اور خلوص کا حسین امتزاج ہے۔

‎ایک ایسی فیملی بیس اور کزن بیس کہانی، جو آپ کو دل کے قریب ضرور محسوس ہوگی۔

‎

‎میں دعا گو ہوں کہ "حاصلِ چاند" آپ کے دلوں کو چھو جائے،

‎جیسے چاندنی راتیں دلوں کو سکون بخشتی ہیں۔۔۔

لائبہ ارشاد

یہ کہانی شروع ہوتی ہے پاکستان کے اس شہر سے جیسے لوگ

The City Of Ligts

کہتے ہیں…! جی بلکل اپ سہی سمجھے ہیں۔۔۔/

"کراچی"۔۔۔

جی بلکل میں کراچی ہی کی بات کررہی ہو۔۔۔

ہمارا پیارا کراچی ۔۔۔

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات:

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے!؟

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات!

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے:

تو مل جائیں تو تقدیر نگو ہو جائیں:

یوں نہ تھا ، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے؛

اور بھی دکھ ہے زمانے میں محبت کے سوا:

راحتیں اور بھی ہے وصل کی راحت کے سوا؛

★★★★★★★★★★

”آیت آیت جلدی سے سنو تمہیں بی جان بلا رہی ہیں۔۔۔“ نور کمرے میں اتی بولی تھی جہاں آیت اپنی بکس کھولے پڑھ رہی تھی۔۔۔۔

”کیوں کیا ہوا ہے کیوں بلایا ہے بی جان نے۔۔۔“ آیت نے اپنا چشمہ سائیڈ پر رکھتے کہا تھا۔۔۔

”پتا نہیں وہ تمہیں بلا رہی ہیں چلو نا جلدی سے “ نور نے آیت کا ہاتھ کھینچتے اپنے ساتھ لیجاتے کہا تھا کہ وہ بکس بند کرتی اسکے ساتھ چلی گئ تھی۔۔۔

★★★★★★★★★★

”ڈمبو۔۔۔ ڈمبو مجھے کھانا دو ڈمبو ، ڈمبو مجھے کھانا دو ۔۔۔“ طوطا اپنے مالک کے آس پاس گھومتے بول رہا تھا۔۔۔

”مٹھو کتنی بار کہا ہے مجھے ڈمبو نہیں کہا کرو مجھے مالک یا عبدل کہا کرو۔۔“ عبدالرحمن منہ بنا کر بولا۔۔۔

”ڈمبو مجھے اچھا لگتا ہے تمہیں کو ڈمبو بلانا ۔۔۔ “ مٹھو انکھ مارتے جواب دیا۔۔۔

"جاو پھر میں کھانا نہیں دوں گا ۔۔۔“ عبدالرحمن غصہ سے بولا۔۔۔

"تو پھر ڈمبو تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں سونے دوں گا میں شور مچاتا رہوں گا۔۔۔“مٹھو ٹر ٹر کرتے بولا۔۔۔

"مٹھو اچھا دے رہا ہوں کھانا شانتی رکھو۔۔۔“ عبدالرحمن اسکا کھانا لاتے اسے دیا تھا جیسے مٹھو نے شکریہ ادا کرتے کھانا شروع کیا تھا اور عبدالرحمن اپنے بیڈ پر جا کر الٹا ہو کر لیٹ چکا تھا۔۔۔ اسکی انکھیں ابھی بند ہوئ ہی تھی جب اسکے موبائیل پر بیل ہوئ اس نے فون اٹھاتے کان سے لگایا۔۔۔

”جی بھائ۔۔۔ اہہہ بھائ اپ سچ کہہ رہے ہیں واو بھائ سچی میں بس ابھی ارہا ہو بھائ“ وہ جلدی سے کھڑا ہوا مٹھو اپنے مالک کو اتنا خوش دیکھ سمجھ نہیں پایا کہ خوشی کی وجہ کیا ہے۔۔۔ وہ اٹھ کر کپڑے چینج کرتا گاڑی کی چابی اٹھاتے ائیر پورٹ چلا گیا ۔۔۔

★★★★★★★★★★

"اہہ بھائ بہت مس کیا ہم سب نے اپ کو اپ میرے لیے گفٹ لاے ہیں نا “ عبدالرحمن ائیرپورٹ پہنچ چکا تھا سامنے ہی اپنے بھائی کو اتے دیکھ فوراََ سے اسکے پاس جاتا گلے ملتے خوشی سے بولا ۔۔۔

"میرا انتظار تھا یا گفٹ کا۔۔۔“ یزدان ائیبرو اچکاتےہوۓ بولا۔۔۔

"ہی ہی ہی چھوٹ نہیں بولوں گا بھائ سب سے زیادہ گفٹ کا انتظار تھا۔۔۔“ عبدالرحمن بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہنستا بولا تھا۔۔۔

"بدتمیز۔۔ تم نہیں سدھرو گے۔۔۔“ یزدان نے عبدالرحمن کے سر پر چپت رسید کی اور اسکے ہمراہ چلنا شروع ہوا اسکے ساتھ ایک لڑکی بھی چل رہی تھی جس پر عبدالرحمن نے اب غور کیا تھا۔۔۔

"بھائ اپ نے شادی کر لی ؟ ہو بھای یہ کیا کیا اپ نے ؟ اپ اپنا کیا وعدہ کیسے بھول سکتے ہیں بھائ؟ گھر میں سب اپ کی راہ دیکھ رہے ہیں اور اپ۔۔۔“ عبدالرحمن ڈرامہ کرنے والے انداز میں بولا ۔۔۔

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

"شٹ اپ عبدالرحمن۔۔۔ شی ایز مائیں فرینڈ اس نے کراچی دیکھنا تھا سو اس لیے میرے ساتھ اگئ اسکا کوئی نہیں ہے نا والدین نا کوئی بہن بھائ اکیلی رہتی ہے اس لیے میں بھی لے ایا۔۔۔“ یزدان نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھتے مسکرا کر کہا ۔۔۔

"اہہ اچھا بھائ۔۔۔“ وہ شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجاے بولا اسکے دماغ میں کچھ شیطانی ائیڈیا چل رہا تھا۔۔۔ عبدالرحمن کے دماغ میں کچھ شیطانی نہ چلے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔ وہ سب ایک گاڑی پر سوار ہوے اور پھر گاڑی اپنے منزل کی طرف رواں دعوا ہوئ تھی ۔۔۔

★★★★★★★★★★

شام کا وقت تھا گھڑی سات بجا رہی تھی جب آیت نور کو اٹھانے روم میں آئی نور کو سوتا دیکھ وہ فوراً اسکے پاس آئی اور اسے جھنجھوڑا ۔۔۔

"نور جلدی اٹھو مغرب ہو گئ ہے اج چاند نکلے گا رمضان کا اٹھو چھت پر چلیں۔۔۔“ آیت نور کو اٹھاتے بولی جو ایسے سو رہی تھی جیسے بے ہوش ہو گئ ہو انکا اج لاسٹ پیر تھا انٹر کا جسے دے کر یہ ای تھی اور ایسے بے ہوشوں کی طرح سو چکی تھی۔۔۔

"میں نہیں جا رہی تم اکیلی چلی جاو۔۔۔“ نور نے نیند سے بھری آواز میں جواب دیا ۔۔۔

”دفع ہو جاو کسی کام کی نہیں ہو تم۔۔۔“ آیت کہتے اپنا ڈوبٹہ اٹھاتی چھت کی طرف ڈوڑی تھی اج رمضان کا چاند نکلنا تھا جس کو دیکھنے کے لیے آیت ہر سال یونہی بے چین رہتی تھی اس کا کہنا تھا چاند کی پہلی تاریخ کو دیکھ کر جو دعا مانگی جائیں قبول ہوتی ہے ۔۔۔

وہ چھت پر کھڑی سر پر ڈوبٹہ لیے ہاتھوں کو دعا کی صورت میں اٹھاے وہ چاند ڈونھڈ رہی تھی جب کچھ دیر بعد اسے ہلکا سا چاند نظر ایا اور پھر مدھم ہو گیا تھا یہ تو رمضان کے چاند کی پہلی تاریخ کی خوبصورتی ہوتی ہے کہ چاند کچھ سیکینڈ کے لیے نظر اتا ہے اور پھر ایسے چھپ جاتا ہے جیسے محبوب۔۔۔

آیت نے جلدی سے انکھیں بند کی اور دعا مانگنا شروع کی اسکے دل میں کتنا شور تھا وہ کیا کیا تمنا کر بیٹھی تھی اور تمنا بھی وہ جو پانچ سال سے نہ ایا تھا اب کے اجائیں اور شاید اسکی دعا قبول ہونے والی تھی اس نے اپنے اللہ سے ڈھیرو دعا مانگ کر امین کہہ کر منہ پر ہاتھ پھیرا تھا جب گاڑی کے ہارن کی اواز ائ تھی اس نے جلدی سے چھت سے نیچے جھنکا تھا گاڑی سے اترتے شخص کو دیکھ آیت حیران ہوئ تھی اسے اپنی انکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا یہ وہی تھا اسکی دعا اتنی جلدی قبول ہو جائیں گی اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانا نہین تھا اسکی انکھوں سے انسو بہنے لگے تھے جسے اس نے جلدی سے صاف کیے تھے کسے پتا تھا جو ابھی خوشی سے رو رہی تھی وہ کچھ دیر بعد تکلیف سے روے گی وہ فوراً سے سیڑھیاں اتر کر نیچے ائ تھی سب لاونچ میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے وہ بھی ان سب سے مل کر لاونج میں ہی بیٹھا تھا ۔۔۔ آیت کا دل اج الگ ہی رفتار سے ڈھڑک رہا تھا جو دعا وہ پانچ سالوں سے مانگتی ارہی تھی وہ اج قبول ہو گئ تھی اسکے چہرے کی مسکراہٹ یزدان کے ساتھ بیٹھی پینٹ شرٹ پہنی ڈوبٹہ سے بے نیاز کھلے بالوں والی لڑکی کو دیکھ غایب ہوئ تھی اسکے دل اور دماغ میں اچانک سے کتنے وسوسہ ائیں تھے اس نے اپنے ساتھ کھڑے عبدالرحمن سے کچھ پوچھنا چاہا ۔۔۔

"عبدالرحمن یہ کون ہے جو انکے ساتھ ائ ہے۔۔۔“ آیت نے دہیمہ لحجہ میں ساتھ کھڑے عبدالرحمن سے سوال کیا ۔۔۔

"وہ پینٹ شرٹ والی لڑکی ۔۔۔ ارے نہ پھوچھو بھائ نے سب کا نام بدنام کر دیا اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے اور بیاہ لے ائیں کسی گورن کو۔۔۔“ عبدالرحمن اداس لہجے میں بولا۔۔۔

"تم مزاق کر رہے ہو نا ۔۔۔“ آیت کی انکھوں میں انسو تیر رہے تھے اور چہرے پر مسکراہٹ وہ ایک بار واپس بولی۔۔۔

”کیا کہہ رہے ہو تم کہ کہہ دو یہ جھوٹ ہے۔۔۔“

”نہیں میں سچ کہہ رہا ہو ۔۔۔ تبھی تو سب سیریس ہیں یقین نہیں تو جاو پوچھ لو خود۔۔۔“ عبدالرحمن آیت کو اگے کرتا بولا۔۔۔

"ن۔۔ نہ۔۔ نہیں“ وہ پیچھے کو قدم لیتی اپنے کمرے میں دوڑ گئ تھی۔۔۔ اج عبدالرحمن کا بدلہ پورا ہوا تھا وہ ہنستا انکے پاس چلا گیا۔۔۔

یزدان کی منتظر نظرین پورے گھر میں کیسی کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ اسے کہیں نا ملی تھی۔۔۔

★★★★★★★★★★

رات کا وقت تھا سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔

"اج پہلی تراویح ہے کون کون جاے گا میرے ساتھ میں کھانے کے بعد تراویح پڑھنے جاو گا۔۔۔“ عثمان صاحب بولے۔۔۔

"بھائ جان مین ساتھ چلوں گا۔۔“ زیران صاحب نے کہا۔۔۔

"بابا میں بھی۔۔۔“ یزدان مسکرا کربولا۔۔۔

"اور تم عبدالرحمن۔۔۔“ عثمان صاحب نے سوال کیا۔۔۔

"نہیں بابا اپ پڑھ ایے گا میں بعد میں پڑھ لوں گا۔۔۔“ عبدالرحمن نے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا۔۔۔

"اس کا مطلب تم نے گول کرنی ہے تراویح عزت سے ساتھ چلنا۔۔۔“ عثمان صاحب بولے تھے جب سب سر جھکا کر مسکرا دیے تھے۔۔۔۔

”بابا۔۔۔“ عبدالرحمن نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔

”کوئ بابا نہیں سب چلے گے تم بھی چلنا بھائ تھکا ہوا ہے لیکن پھر بھی وہ جا رہا ہے تم تو گھر بیٹھ کر بس بیڈ توڑتے ہو عزت سے چلنا کہتے ہین جو تین جمعہ نہین پڑھتا وہ کافر میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔“ عثمان صاحب سمجھانے والے انداز میں بولے۔۔۔

"لیکن بابا میں سارے جمعہ کی نمازیں پڑھتا ہو۔۔۔“ عبدالرحمن نے وضاحت دی تھی۔۔۔

”تو ہاں باقی کی چھ دن کی نمازین تمھارا باپ پڑے گا۔۔“ عثمان صاحب غصہ سے بولے۔۔۔

"بابا اپ پڑھتے تو ہیں۔۔۔“ عبدالرحمن سر جھکا کر دھیمے لہجے میں بولا۔۔۔

"عبدالرحمن بیہوہ بابا ہے وہ۔۔۔۔بابا اپ بے فکر رہے یہ چلے گا ہمارے ساتھ ۔۔۔“ یزدان پہلے عبدالرحمن کو ڈانٹتے ہوۓ اور پھر عثمان صاحب کو دیکھ مسکرا کر بولا تھا۔۔۔

"یزدان تم اگئیں ہو نا اسکو عقل دو تھوڑی کوئ کہنا نہیں مانتا عورتوں کی طرح گھر میں پڑا رہتا ہے بس۔۔۔“ بی جان غصہ سے بولی۔۔۔

"جی بی جان …“ یزدان مسکرا کر بولا۔۔۔

آیت کی مسلسل نظر اس لڑکی پر تھی جو یزدان کے ساتھ ائ تھی یہ صرف آیت جانتی تھی کہ آیت اپنے حلق سے نوالہ کتنی مشکل سے نیچے اتار رہی تھی وہ وہ کتنی تکلیف میں تھی یہ صرف وہ جانتی تھی یا اسکا رب جانتا تھا ۔۔۔۔

”چلو میں چلتا ہو نماز پڑھنے“ عثمان صاحب کھڑے ہوئیں تھے جب ان کے ساتھ سب مرد حضرات کھڑے ہو چکے تھے اور مسجد کا رخ کیا تھا اور تبھی نور بی جان کو کمرے میں لے گئ تھی عورتیں اپنے کاموں، میں مصروف ہو گئیں تھیں اور ایت اپنے کمرے میں چلی گئ تھی وہ لڑکی جو یزدان کے ساتھ ائ تھی اس کو کچھ سمجھ نہیں ایا تھا اس لیے وہ نور کے ساتھ بی جان کے کمرے مین چلی گئ تھی۔۔۔۔

★★★★★★★★★★

یہ کاظمی ہاوس تھا جہاں دو فیملیز خوشحال زندگی گزار رہیں تھیں پہلی اس گھر کی بزرگ بی جان جن کے دو صاحبزادے تھے پہلے عثمان کاظمی اور دوسرے زیران کاظمی ۔۔۔ عثمان صاحب اور انکی زوجہ صائمہ جن کی تین اولادیں تھی پہلی یزدان کاظمی چھ فٹ سے نکلتا قد ہیزل انکھیں پیشانی پر اتے سلکی بال ہلکی ہلکی بیڑھ مردانہ وجاہت سے بھرپور ہر کیسی کے دل پر راج کرتا تھا اسکی یہ شخصیت ہی اسے پرکشش بناتی تھی اس نے اکاونٹینگ میں گریجویشن اور بہت سے کورسیز کیے تھے وہ ابھی مصر سے واپس ایا تھا اپنا بزنس کسی بھروسے والے ادمی کو دے کر۔۔۔دوسرا کسی کی بات نا سننے والا عبدالرحمن کاظمی جس نے حال ہی میں اپنی گریجویشن کمپلیٹ کی تھی نالاق کوئ کام نا کرنے والا بس اپنے کمرے میں بیٹھ کر وڈیو گیم یا کوئ کام اگر عثمان صاحب نے افس کا کہہ دیا تو وہ کرنا۔۔۔وہ بظاہر مسکراتے رہنے والا اور دوسروں کو ہسانے والا اندر سے کتنا خالی اور تکلیف مین تھا وجہ کیا تھی یہ سب اگے پتا چلے گا تیسری اور سب سے چھوٹی نور کاظمی معصوم سی جس کے ابھی انٹر کے ایگزیم ختم ہوئے تھے۔۔۔۔

اس گھر کے چھوٹے بیٹے زیران کاظمی اور انکی بیگم زونیرا کاظمی۔۔۔ انکی ایک ہی صاحبزادی تھی نور کی ہم عمر آیت کاظمی چلبلی شرارتی عبدالرحمن سے ہر وقت پنگے لیتی رہنے والی گھر کی لاڈلی وہ بہت معصوم تھی اور یہ معصومیت اسکی شکل سے عیاں ہوتی تھی جس کا نکاح بچپن مین ہی ہو چکا تھا جس سے وہ بے خبر تھی اس نے ابھی انٹر کے ایگزیم دیے تھے پانچ وقت کی نمازی تحجد گزار جس کے سر پر ہمیشہ ایک اسکارف رہتا تھا ۔۔۔ وہ کسی کو دل ہی دل میں بہت چاہتی تھی لیکن وہ محبت بس دل تک محدود تھی وہ کسی کو بتانے کی ہمت بلکل نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ لیکن یہ دل کا راز عبدالرحمن جان چکا تھا جسے وہ بہت ہی مہارت سے ہر بار ٹال دیتی تھی۔۔۔

اپ سب پوچھیں گے کہ ہم نے اس کا تو بتایا ہی نہین جو یزدان کاظمی کے ساتھ ائ

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Laiba Irshad

Explore more Urdu novels by Laiba Irshad, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the central secret in Hasil E Chand?

The central secret is the childhood Nikah between Yazdan and Aayat, which the family elders kept hidden from Aayat.

Who are the main couples in the novel?

The main couples are Yazdan and Aayat, Abdul Rehman and Maha, and Rehan and Noor.

Where is the story set?

The story is primarily set in the Kazmi House located in Karachi.

What role does Bee Jaan play in the family?

Bee Jaan is the matriarch of the Kazmi house and holds the knowledge of the family's secrets, including the childhood Nikah.

Is the novel a tragedy?

No, the novel concludes on a positive note with the wedding ceremonies of the main characters.

👁 0 Views

Leave a Comment