Ek Mausam Hum Par Bhi Guzra Tha by Hafsa Dameer

Ek Mausam Hum Par Bhi Guzra Tha by Hafsa Dameer

Ek Mausam Hum Par Bhi Guzra Tha by Hafsa Dameer — About the Novel

Ek Mausam Hum Par Bhi Guzra Tha by Hafsa Dameer is a narrative centered on the lives of cousins and friends living in Lahore. The story follows the evolving dynamics between Zulekha, Yousuf, Ahmed, and their peers as they navigate personal aspirations, academic pressures, and shifting romantic interests. Set against the backdrop of the late 1990s, the novel captures the complexities of family life and the transition from adolescence to adulthood, highlighting how individual choices and hidden feelings shape the future of these interconnected characters.

Novel Summary in Urdu

میرے اس ناول کا نام “ایک موسم ہم پر بھی گزرا تھا” ہے۔ اِس ناول میں میں نے پُرانے زمانے کے مثبت پہلو کو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ جس کو پڑھ کرآپ سب کو نوسٹیلجیا محسوس ہوگا۔ اس میں کزنز اور دوستوں کے پرخلوص رشتوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ یہ ناول “ریپلائے 1988ء” سے متاثر ہے۔ مگر اِس کے کردار مختلف ہیں۔ ہو سکتا ہے اِس کا اختتام بھی اُس سے الگ ہو۔ میری کوشش یہ ہی رہی ہے کہ اِس ناول میں پاکستان کے اُس دور کے خوبصورت پہلو سب کے سامنے لا سکوں۔ اسی لیے بھی یہ اُس ڈرامے سے مختلف ہے، لیکن وہ ڈرامہ ہی اِس ناول کو لکھنے کی بُنیاد بنا۔ میں یہی چاہوں گی کہ دونوں کا موازنہ نہ کیا جائے۔ ایک اور بات اِس ناول کو میں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جلد ہی اِس کا دوسرا حصہ بھی آپ کے سامنے ہوگا۔ یہ ناول میں اُن سب یادوں کے نام کرتی ہوں جو ہم سب نے اپنے دل کے عزیز لوگوں کے ساتھ گزاریں ہیں۔ شکریہ۔۔۔! حفصہ دِمیر۔۔۔!

Novel Detailed Summary in English

The story begins in Faisal Town, Lahore, where cousins Zulekha and Yousuf celebrate their eighteenth birthday. As they grow older, their lives become intertwined with their friends, including Ahmed, Huma, Bilal, and the cricketer Asad Siddiqui. The narrative explores the internal conflicts of characters like Ahmed, a medical student who harbors a secret desire to be an artist, and Kiran, who finds herself caught in a web of emotions following Ahmed's confession of love.

As the characters progress through their studies and personal milestones, the atmosphere of the household is marked by both joyous celebrations and quiet, introspective moments.

Central to the plot is the evolving relationship between Zulekha and Yousuf. While Zulekha deals with the pressures of an unwanted engagement, Yousuf remains a constant, albeit quiet, presence in her life. Their bond is tested by the changing circumstances of their families and the arrival of new challenges. Simultaneously, the relationship between Huma and Noman develops through shared moments on the rooftop, leading to a deeper connection that does not go unnoticed by others, including Salman, who struggles with his own unrequited feelings.

As the wedding of Ahmed and Kiran approaches, the household becomes a hub of activity. The preparations for the dholki and the baraat bring the entire group together, forcing them to confront their true feelings. Asad, who has long been a study partner to Zulekha, eventually confesses his romantic interest in her, adding a layer of tension to the group dynamic. The story captures the essence of the late 90s, from the excitement of cricket series to the simple joys of family gatherings.

Through these events, the characters must navigate their personal desires against the expectations of their families, leading to moments of realization and growth that define their journey toward maturity.

Genre

Family based novels

Key Themes

  • Coming of age
  • Family dynamics
  • Unrequited love
  • Academic pressure
  • Social expectations

Short Scene from the Novel

چار بجے کا وقت تھا۔ کمرے میں کھڑکی سے آتی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور ایک طرف رکھے کیسٹ پلیئر پر مائیکل جیکسن کا گانا "بیٹ اِٹ" بج رہا تھا۔ اسد بیڈ پر آرام سے بیٹھا کیم ریکارڈر ہاتھ میں لیے اس کی اسکرین پر کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس سے زرا فاصلے پر وہی سفید والی بلی پڑی تھی ، جو کبھی تکیے پر چڑھ رہی تھی تو کبھی اسد پر۔اسد کی نظریں اسکرین پر یوں جمی ہوئی تھیں جیسے اردگرد کی کسی چیز کا اسے احساس ہی نہ ہو۔ اچانک اس کے لبوں سے بے اختیار ہنسی نکلی اور وہ پھر سے اسکرین کو دیکھتے ہوئے مسکرانے لگا۔ وہ شاید خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کے چہرے سے یہ مسکراہٹ کیوں ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

ایک موسم ہم پر بھی گزرا تھا

ازقلم حفصہ دَمیر

ترجمہ:

"اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے"(سورۃ مریم: 64)

انتساب:

Dear Rebeلs…!

میرے قلم سے جاری ہونے والا یہ ناول میرے باقی ناولز کی طرح ہی لاہور میں وقوع پزیر ہوا ہے۔ اِس کے سارے کردار فرضی ہیں۔ اِس ناول میں میں نے پُرانے زمانے کے مثبت پہلو کو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ جس کو پڑھ کرآپ سب کو نوسٹیلجیا محسوس ہوگا۔ یہ ناول "ریپلائے 1988ء" سے متاثر ہے۔ مگر اِس کے کردار مختلف ہیں۔ ہو سکتا ہے اِس کا اختتام بھی اُس سے الگ ہو۔ میری کوشش یہ ہی رہی ہے کہ اِس ناول میں پاکستان کے اُس دور کے خوبصورت پہلو سب کے سامنے لا سکوں۔ اسی لیے بھی یہ اُس ڈرامے سے مختلف ہے، لیکن وہ ڈرامہ ہی اِس ناول کو لکھنے کی بُنیاد بنا۔ میں یہی چاہوں گی کہ دونوں کا موازنہ نہ کیا جائے۔

اب آپ لوگ سوچیں گے کہ میں نےآپ سب کو ریبلز کیوں کہاں؟ تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں کہ ریبل کا مطلب ہے "باغی"۔ میں جانتی ہوں کہ یہ آپ لوگوں کو معلوم ہو گا۔ مگر میں آپ کو ریبل کیوں بُلا رہی ہوں۔۔۔؟ آپ لوگ وہ ہیں جو حیقیقی دُنیا سے فرار ہوتے ہیں بلکل ایک کالم نگار کی طرح ۔ اس لئے آپ میرے لئے میرے ریبلز ہیں۔

ایک اور بات اِس ناول کو میں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جلد ہی اِس کا دوسرا حصہ بھی آپ کے سامنے ہوگا۔ یہ ناول میں اُن سب یادوں کے نام کرتی ہوں جو ہم سب نے اپنے دل کے عزیز لوگوں کے ساتھ گزاریں ہیں۔

شکریہ۔۔۔!

حفصہ دِمیر۔۔۔!

باب نمبر اوّل

"ہمارا لڑکپن"

2025ء

زلیخا: "کچھ موسم گزر تو جاتے ہیں مگر اُنکا اثر ہمیشہ کے لئے رہ جاتا ہے۔ ہم جتنا بھی چاہیں وہ موسم کبھی بھی لوٹ کر واپس نہیں آتے لیکن اُنکی خوشبو ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھورتی۔ آہہہ۔۔۔! مجھے ابھی بھی یاد ہے وہ 1998ء کا سن جب ہم سب کا لڑکپن عروج پر تھا اور جوانی کی دہلیز پر کھڑے ہو کر ہمیں لگتا تھا کہ ہم پوری دنیا بدل سکتے ہیں۔ ہم سب دوستوں کا ہر وقت کوئی نہ کوئی شرارت کرنا جیسے معمول سا تھا۔۔۔"

═══════ ❖ ═══════

18 مئی 1998ء

یہ گلی نمبر 7 ، بلاک بی، فیصل ٹاؤن ، لاہور تھا۔ اِس گلی میں محض چھ گھر ہی واقع تھے اور اُن میں سے بھی ایک کافی عرصے سے خالی پڑا تھا۔گلی میں داخل ہوتودائیں طرف سب سے پہلے خان صاحب کا گھر موجود تھا۔ جس کے بغل میں کاشف صاحب رہتے تھے۔ اور اُن کے ساتھ وہ خالی والا گھر موجود تھا جس کے بارے میں گلی کے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کے پاس کوئی نہ کوئی کہانی ضرور تھی۔انسانوں کا کہنا تھا کہ وہاں بھوت پائے جاتے ہیں۔ مگر یہ تو انسانوں کا کہنا تھا نہ ۔۔۔بھوت اِس بارے میں کیا کہتے ہیں اِس کی ابھی کچھ خبر نہیں۔ اِس خالی گھر کے بالکل سامنے صدیقی صاحب کا عالی شان گھر اپنی پوری شان شوکت سے کھڑا تھا، ارے وہی اویس صدیقی صاحب جن کے بیٹے کا شمار ابھرتے ہوئے کرکٹرز میں ہوتا تھا۔اور صدیقی ہاؤس کے شانہ بشانہ ملک صاحب کے دو گھر موجود تھے۔

شام ڈھل رہی تھی اور دودھیاچاند آسمان پر اپنا چاند سا مُکھرا دِکھانے لگا تھا۔ وہ اِس وقت برآمدے میں بیٹھی تھی۔ ہلکے گلابی رنگ کی شلوار قمیض اور ہم رنگ دوپٹہ بے دھیانی سے گلے میں جھول رہا تھا۔سامنے موجود کیک پر دو موم بتیاں جل رہی تھیں۔کہنے کو آج اُس کی سالگیرہ تھی مگر اُسکا چہرہ دیکھ کر لگتا تھا کہ آج اُسکی برسی ہے۔ منہ بسائے وہ کیک کے بجائے سامنے دیکھ رہی تھی جہاں وہ بھی بیٹھا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اُسکے چہرے کے زاویے بھی زلیخا ملک سے کچھ مختلف نہ تھے۔کیا ہے نہ کہ آج زلیخا کے ساتھ ساتھ یوسف ملک کی بھی سالگیرہ تھی۔ جی ہاں اور اُن دونوں کی سالگیرہ اکٹھے ہی منائی جاتی تھی۔ وجہ ۔۔۔؟ خرچہ کم ہوتا تھا بھئی۔ یوسف ملک۔۔۔؟ زلیخا ملک کا چچا زاد ۔

"چلو بھئی موم بتی بجھاؤ۔۔۔!" یہ آصف صاحب تھے جو رشتے میں تو زلیخا کے والد لگتے تھے مگر اِس وقت زلیخا کو وہ اپنے دُشمن معلوم ہوئے تھے۔ سب جانتے تھے کہ اُن دونوں اپنی سالگیرہ ساتھ کرنا پسند نہیں تھا ۔ مگر ہمیشہ کی طرح، یہاں کسی کی مرضی کہاں چلنی تھی؟

آصف صاحب کی آمدن کا زیادہ تر حصہ اپنے دونوں بڑے بچوں کی پڑھائی پر لگ جاتا تھا۔ سب سے بڑا احمد ڈاکڑی کر رہا تھا اور اب تو اُسکا آخری سال بھی مکمل ہونے والا تھا۔ اُس سے چھوٹی ہُما بھی ڈاکڑی ہی کر رہی تھی جس کا ابھی دوسرا سال چل رہا تھا۔اور پھر آخر پر وہ تھی مگر ہائے یہ ظالم قسمت ؛ایک تو وہ سب سے چھوٹی اُوپر سے پڑھائی میں حد درجہ کی نکمی۔

ندیم صاحب اپنے بھائی کی صورت ِ حال جانتے تھے اسی لیے ہر سال اپنے بیٹے کی سالگرہ پر کیک لے کر سیدھا وہاں پہنچ جاتے۔ہر بار کی طرح یہ ہی ضد کرتےکہ دونوں بچوں کی سالگیرہ اکٹھے کی جائے۔ زلیخا نےنظر اُٹھا کر سب کو دیکھا۔ اِس وقت یہاں تقریباً بیس افراد موجود تھے۔

"ابا ۔۔۔!" وہ اچانک بول پڑی، سب خاموش ہو گئے۔

"آپ اور امی کیا کچھ دن بعد مجھے پیدا نہیں کر سکتے تھے۔۔۔!"ایک لمحے کو فضا جیسے رک گئی۔ اُسکی اِس بات پر جہاں سب بڑےحیران ہوئے تھے وہیں سب بچوں کے چہروں پر دبی دبی مُسکراہٹ آئی تھی۔اور اگلےہی لمحے اُسکی ماں نے اُسکے سر پر تھپر رسید کر نا اپنا فرض سمجھا تھا۔وہ ایسی ہی تھی، جو سوچتی کم تھی اور بولتی پہلے تھی۔

"آآ۔۔۔!" اپنا سر سہلاتی ہوئی وہ چلائی تھی۔ اور اُسکے چلانے پر یوسف کے چہرے پرطنزیہ مُسکراہٹ آئی تھی، "امی کیا کر رہیں ہیں ۔ آج میری سالگیرہ ہے۔۔۔!"

"تمہارے دماغ کی کھڑکی کھول رہی ہیں۔۔۔!" یہ سلمان تھا وہی سامنے والے خان صاحب کا لڑکا، جو زلیخا کا ہم عمر تھا۔اُسکی بات پر بلال کی زبان پر خجلی سی ہوئی تھی، جو زلیخا کے سب سے چھوٹے چچا کا بیٹا تھا۔

"اِس کے پاس دماغ تھوری ہے سلمان۔۔۔!" وہ سلمان کے کان میں سرگوشی سے بولا تھا اور پھر دونوں دبی ہنسی ہنس دیے۔ مگر زلیخا کے کان بھی حد درجہ کے تیز تھے۔ اپنی شان میں گُستاخی سُنتے ہی وہ آگ بگولہ ہو چکی تھی۔

"اوےےے۔۔۔!" اُسکے کہنے کی دیر تھی اور وہ دونوں تیر کی طرح سیدھے ہو گئے تھے۔

"چلو نہ جلدی سے تم دونوں کیک کاٹو۔۔۔ مجھے پڑھنا بھی ہے۔۔۔!" ہُما بیزاریت کی انتہا کو پہنچتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ نجانے اُسے پڑھنے کا اتنا شوق کیوں تھا۔۔۔؟

"ہاں ہاں جلدی کرو بیٹا۔۔۔!" ندیم صاحب نے پیار سے اُن دونوں دیکھتے ہوئے کہا۔آج وہ دونوں آٹھارہ سال کے ہو گئے تھے۔مذید بحث کیے بغیر اب وہ دونوں موم بتی بجھانے کو آگے بڑھے۔موم بتیاں اب بھی جل رہی تھیں، اُن کی مدھم روشنی اُن دونوں کے چہروں پر لرز رہی تھی۔مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ دونوں نیچے جلتی ہوئی موم بتیوں کو نہیں،بلکہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

"ایک ۔۔۔!"

"دو۔۔۔!"

"تین۔۔۔!"

سب بیک وقت کہہ رہے تھے۔ اور تین سُنتے ہی وہ دونوں ایک ساتھ موم بتیاں بجھا چکے تھے۔ایک پل میں روشنی ختم ہو گئی۔اور اگلے ہی لمحے، شور اٹھا۔ تالیوں میں اضافہ ہو گیا۔ وہاں موجود ہر شخص خوشی سے اُنکو دیکھ رہا تھا۔سب ایک ساتھ اُن کو مبارک باد دے رہے تھے۔ہر طرف جیسےخوشی پھیل گئی۔

"سالگیرہ مبارک ہو۔۔۔!"

═══════ ❖ ═══════

یہ صدیقی صاحب کے عالی شان گھر کاسادہ مگر خوبصورت سا کمرہ تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلی چیز جو محسوس ہوتی تھی، وہ ترتیب تھی۔ ہر چیز اپنی جگہ پر، جیسے کسی نے صرف رکھا نہیں بلکہ سوچ کر سجایا ہو۔ دائیں جانب لکڑی کی الماری کے ساتھ ایک لمبی شیلف تھی، جس پر قطار سے رکھی کتابیں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ مگر یہ عام کتابیں نہیں تھیں، زیادہ تر کرکٹ سے متعلق تھیں۔ تکنیک، اسٹرٹیجی، اور بڑے کھلاڑیوں کی کہانیاں۔ اُنہی کتابوں کے قریب ایک کرکٹ بیٹ رکھا تھا، صاف ستھرا، مگر استعمال شدہ۔لگتا تھا جس کا بھی تھا وہ اپنی اشیاء بہت سنبھال کر رکھتا تھا۔ بیڈ سادہ مگر نفیس تھا۔کمرے ک دروازے کے بالکل سامنے ٹیرس تھا۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا ٹی وی رکھا تھا، جس کے ساتھ جڑا ہوا وی سی آر اُس زمانے کی جدید سہولتوں میں شمار ہوتا تھا۔ اُس کے ساتھ ہی ایک اور وی سی آر بھی رکھا تھا، تھوڑا مختلف، تھوڑا نیا۔ وہ ہرگز پاکستانی وی سی آر تو نہ لگتا تھا ۔ایسا لگتا تھا کسی باہر کے ملک سے لیاگیا تھا۔ سامنے رکھی میز پر ایک کیسٹ پلیئر تھا، اور اُس کے پاس ترتیب سے رکھی چند کیسٹیں۔ جن میں انگریزی گانوں کی تعداد زیادہ تھی۔لگتا تھا یہاں کا مکین انگریزی گانوں کا شوکین تھا۔اِس کمرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اِس کا مالک شور میں بھی سکون ڈھونڈ لیتا تھا۔

لیکن اِس وقت یہ کمرہ اِس کمرے کے مالک سے زیادہ اُسکے دوستوں کی ملکیت لگتا تھا۔ سامنے زمین پر پڑا پیزے کا ڈبہ اِس وقت خالی ہو چکا تھا۔وہ اور زلیخا بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، جبکہ اُنکے سامنے وہ تین نمونے اپنی شکتیوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے پوپ ڈانس دِکھا رہے تھے۔ کیسٹ پر آواز بینڈ کا مشہور گانا "مسٹر فراڈئیے" بج رہا تھا۔ہری رنگ کی ٹی شرٹ پہنے بلال اُن دونوں کے درمیان میں کسی ماہر ڈانسر سے کم نہ لگتا تھا۔ اُس کے ایک طرف یوسف ہلکی نیلی ٹی شرٹ میں اپنے مخصوص انداز میں جھوم رہا تھا،جبکہ دوسری طرف سلمان سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ پہنے اپنا جلوہ دِکھا رہا تھا۔آنکھوں میں گالگز لگائے وہ خود کو بےحدکُول سمجھ رہے تھے۔

اوراُنکی لاجوب کارکردگی دیکھتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھے زلیخا اور اسد تالیاں بجانے کے ساتھ ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ کمرہ قہقہوں، موسیقی اور بےفکری سے بھر چکا تھا۔ اپنے رقص کا جلوہ دِکھا کر اب وہ بھی اُن دونوں کے ساتھ بیٹھ چکے تھے۔وہ سب ہنس رہے تھے، ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے ، تو کبھی زمین پر ہاتھ مارتے ہوئے۔

"واہ بلال تم نے تو کمال کر دیا۔۔۔!صحیح کہا نہ میں نے اسد۔۔۔!" زلیخا نے بلال کی تعریف کرتے ہوئے تصدیق کے لئے اسد کی جانب دیکھا ۔اسد نے فوراً سنجیدگی سے گردن ہلا دی، جیسے کسی بہت بڑے فنکار کی صلاحیت کا اعتراف کر رہا ہو۔بس اپنی تعریف سُننے کی دیر تھی بلال کا سینہ تو جیسے چوڑا ہو گیا۔

"بس اب کیا بتاؤں میں بچپن سے ہی بڑا ٹیلنٹڈ تھا۔۔۔!" اپنے کندھے پر نہ نظر آنے والی گرد جھاڑتا ہوا بلال کہہ رہا تھا جبکہ اُسے دیکھ کر سلمان نے اپنی آنکھیں گھُمائیں تھیں، جیسے کہنا چاہ رہا ہو پھر سے شروع ہو گیا۔

"کیوں اب نہیں ہو۔۔۔؟" زلیخا نے فوراً لقمہ دیا اور اپنی ہی بات پر خود ہنس پڑی،جیسے اُسنے دُنیاکا سب بڑالطیفہ سُنایا ہو۔ ہنستے ہوئے جو اُسنے ایک ایک کر اُن چاروں کو دیکھا تو ہنسی کو بریک سا لگ گیا۔وہ سب اُسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ واقعی کوئی عجوبہ ہو۔

"کیا یہ اچھا نہیں تھا۔۔۔؟" اُسنے آہستہ سی آواز میں اسد سے پوچھا، جس نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر نہایت سنجیدگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔

"تبھی تمہارے اچھے مارکس نہیں آتے۔۔۔!" یوسف کا تیر نشانے پر لگا تھا۔کیونکہ زلیخا فوراً آگ بگولہ ہو چکی تھی اور جلے پر نمک چھرکنے کا کام وہاں بیٹھے باقی تینوں کی ہنسی نے کر دیا تھا۔ سلمان ، بلال اور اسد کے ہنسنے پر یوسف بھی ہنس دیا جبکہ وہ لال چہرہ لئے غصے سے اُن سب کو دیکھ رہی تھی۔

"میں جا رہی ہوں۔۔۔!" وہ غصے سے کہتی ہوئی اٹھنے لگی ہی تھی کہ اسد نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے روک لیا۔ پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں یوسف کو کچھ اشارہ کیا۔

"مزاق کر رہا تھا میں ۔۔۔بیٹھ جاؤ زلیخا۔۔۔!" یوسف نے فوراً معذرت نما لہجے میں کہا تو وہ منہ بناتی ہوئی بیٹھ گئی ، جبکہ اُن سب کے چہروں پر اب بھی دبی دبی ہنسی تھی۔

"لو بھئی اب ہم سب آٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں۔۔۔!" سلمان نے یوسف اور زلیخا کی طرف باری باری دیکھتے ہوئے کہا، "اب صرف اسد تم رہ گئے ہو۔۔۔ !" سلمان اب اسد کو دیکھ کر کہہ رہا تھا۔

"جلدی سے تم بھی ہماری طرح بڑے ہو جاؤ۔۔۔!" زلیخا نے شرارت سے اُس کے سلیقے سے بنائے ہوئے بال بگاڑ دیے۔ اسد بس مسکرا کر اپنے بال دوبارہ درست کرنے لگا، "اور ہاں جب کیک کٹ رہا تھا تو تم کہاں تھے۔۔۔؟"

"پریکٹس کے لئے گیا ہوا تھا۔۔۔!" آہستہ مگر بھاری آواز میں بولتا ہوا وہ اپنے بالوں کو اچھے سےترتیب دے رہا تھا۔سلمان نے پانی کی بوتل منہ سے لگائی تھی جس پر زلیخا نے اُسے غصے سے دیکھا تھا۔

"سلمان یہاں پہ گلاس موجود ہے۔۔۔!" وہ اپنا غصہ پیتی ہوئی بولی ، جانتی تھی اثر تو اُسے پھر نہیں ہوگامگر کہنا اپنا فرض سمجھا۔

"ہاں وہ تو مجھے بھی نظر آ رہا ہے۔۔۔!" بےنیازی سے کہتا وہ پھر سے بوتل کو منہ لگا گیا تھا۔زلیخا نے آنکھیں گھُماتے ہوئے سلمان کو دیکھا جو گوری رنگت رکھتا تھا۔ سیاہ ٹی شرٹ میں اُسکی رنگت آج کچھ زیادہ ہی دمک رہی تھی۔

"گدھا کہیں کا۔۔۔!" زلیخا نے آج اُسے ایک اور نام سے نوازا تھا۔

"یار اسد مزے تو تمہارے ہیں۔۔۔ کتنی ٹھنڈی ہوا دیتا ہے یہ اے سی۔۔۔!" یہ بلال تھاجو کہ دیوار پر لگے اے سی کے سامنے سے ہٹ ہی نہیں رہا تھا۔

"کہاں مزے ہیں اُسکے جب سے نیشنل ٹیم کے لئے منتخب ہوا ہے ۔۔۔وہ گھر کہاں ہوتا ہے۔۔۔!" زلیخا نے بلال کی جانب دیکھتے ہوئے کہا، "آج بھی اتنی دیر بعد ملے ہیں اِس سے۔۔۔!"

"اب تو او ڈی آئی شروع ہو رہا ہے نہ۔۔۔؟" یوسف نے اسد کو دیکھتے ہوئے کہا، جو کہ گلاس میں پانی ڈال رہا تھا۔ یوسف کی بات پر اُسنے نظر اُٹھا کر اُسے دیکھا اور ہاں میں گردن ہلائی۔

"تم جا رہے ہو۔۔۔؟" بلال جو کہ اے سی کے آگے کھڑ ا تھا اب نیچے زمین پر اُسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔ بلال کے پوچھنے پر وہ چُپ ہو گیا۔

سب جانتے تھے کہ اسد کو کرکٹ سے کتنی محبت ہے۔ بچپن ہی سے وہ بہترین اکیڈمیوں میں تربیت لیتا آیا تھا۔ اور اُس کی غیرمعمولی ذہانت نے اُسے ہمیشہ دوسروں سے ممتاز رکھا تھا۔ اُسکی خاموشی پر چاروں اب اُسے گھورنے لگے۔وہ خاموش سا بیٹھا تھا پھر اچانک مُسکرانے لگا اور ہاں میں گردن ہلائی۔ اُسکے ہاں کرنے کی دیر تھی وہ سب تو جیسے اُچھل پڑے۔ سلمان نے تو باقاعدہ اُسے گلے لگا لیا تھا۔یہ اسد کے لئے بہت اچھا موقع تھا خود کو ثابت کرنے کا۔

1997ء کے آخر میں ہی تو وہ نیشنل ٹیم کے منتخب ہوا تھا مگر اُسے ابھی تک کوئی اچھا موقع نہ مل پایا تھا۔ صرف ٹیسٹ میچس ہی وہ کھیل پایا تھا اور اُن سب میں اُسکی کارکردگی قابلِ دید تھی ۔جس کی بنا پر اب وہ اپنا پہلا او ڈی آئی کھیلنے جا رہا تھا، وہ بھی برطانیہ کے خلاف۔ وہ ابھی سترہ

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

ایک زندگی میں بہت سی زندگیوں کا محسوس کرنا ہم میں سے بہت سو کی خواہش ہوتی ہے، اس لئے میں نے بھی اپنا دوست اپنے قلم کو بنایا ہے۔ ہر کردار کو ایسے سینچنا جیسے وہ آپ کے اندر سانس لے رہا ہو، یہ یقینا آسان کام نہیں اور پھر اسے پر کر تصوراتی دنیا میں قدم رکھنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے آپ میرے ریبلز ہیں، جو میرے لئے بہت اہم ہیں۔
میرے تقریبا تمام ناولز لاہور میں وقوع پذیر ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا تعلق بھی لاہور سے ہے۔ میں آپ سب ریبلز کو اپنی دنیا میں خوشآمدید کہتی ہوں۔
شکریہ

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the setting of Ek Mausam Hum Par Bhi Guzra Tha?

The novel is primarily set in Lahore, specifically in Faisal Town, during the late 1990s.

What is Ahmed's profession in the story?

Ahmed is a medical student who eventually becomes a doctor, though he secretly harbored a desire to be an artist.

Who is Asad Siddiqui?

Asad Siddiqui is the son of Owais Siddiqui and an emerging cricketer who is part of the group of friends and cousins.

What significant event happens between Huma and Noman?

Huma and Noman develop a romantic interest in each other, often sharing moments on the roof of the house.

Does Asad express his feelings for Zulekha?

Yes, Asad confesses that he likes Zulekha not just as a friend, but as a man.

👁 50 Views

Leave a Comment