Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool Complete Novel

Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool Download pdf

About The Novel Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool

(Current Episode 16)

Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool is a crime based Complete Urdu novel. It is not just a story of one character—it is a saga of multiple intertwined lives, each struggling with their own battles. This novel explores deep-rooted societal issues, the complexities of relationships, and the sacrifices people make for their loved ones. It sheds light on how some bonds remain unbreakable, while others are shattered due to selfish desires. The novel masterfully highlights the emotional turmoil of a daughter longing for her mother’s love, the weight of family honor, and the devastating effects of rigid social norms.

If you are a fan of thought-provoking and emotionally intense Urdu novels, Ahang-e-Khwabeedah is a must-read. In this blog, we will explore the themes, characters, and the impact of this novel on readers.

The novel beautifully captures the essence of human relationships—some are filled with unconditional love, while others are tainted by betrayal and selfishness. It portrays how some individuals are willing to go to any extent to protect their loved ones, whereas others destroy relationships for their own interests.

The novel Ahang-e-Khwabeedah written by Areeza Batool sheds light on the dark side of so-called “honorable” societies. It exposes the double standards where men dictate norms, and women bear the consequences. It portrays how societal pressures force individuals into becoming either victims or rebels.

Another striking theme in Ahang-e-Khwabeedah is the portrayal of crime and its impact on innocent lives. The story uncovers the hidden atrocities that silently destroy our youth and our nation. However, the novel also brings hope by showcasing the brave individuals who fight for justice, proving that good still exists in the world.

The novel reinforces the concept of Makaafat-e-Amal—the idea that one eventually faces the consequences of their deeds. Whether good or bad, every action returns in some form. This theme adds a philosophical depth to the story, making it even more impactful.

Ahang-e-Khwabeedah grips you from the first page, making you feel the pain, struggles, and triumphs of the characters

Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool is more than just a novel—it is a mirror reflecting the harsh truths of our society. It forces readers to question social norms, appreciate their relationships, and understand the depth of human emotions. Whether you are a fan of intense emotional dramas or stories that highlight social issues, this novel is a must-read.

Areeza Batool is an emerging new writer and Ahang-e-Khwabeedah is her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.

Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

*************

Novel Summary in Urdu

آہنگِ خوابیدہ کسی ایک کردار کی کہانی نہیں ہے اس کا ہر کردار اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، ہر کردار کہیں مضبوط تو کہیں کمزور ہے،

کہانی ہے خون کے رشتوں کی جہاں کئی رشتے اپنے رشتوں کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں تو کئی رشتے اپنے مفاد اپنے سکون، اپنے خوابوں کے لیے کتنے ہی رشتوں کو مسمار کرتے ان کو زندہ لاش بنادیتے پیں۔

کہانی ہے ایک بیٹی کے اپنی ماں کے پیار کے لیے تڑپنے کی، بیٹی ہونے کی وجہ سے ماں کی محبت نہ ملنے کی، ہمارے عزّت دار معاشرے کے پست نظریات کے کسی کی زندگی کو زندہ درگور کرنے کی، ماضی کے حال کو برباد کردینے کی، اس کمزور معاشرے میں زندہ رہتی قدم سے قدم ملاتی  مضبوط اور قابل صنفِ نازک کی، ایسے عزت دار مردوں کی جو عورت عورت کا احترام کرنے کو اپنے وقار کی علامت سمجھتے ہیں، 

کہانی ہے مجھ اور آپ جیسے کئی عام لوگوں کی، ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی، رشتوں کی قدر نہ کرنے والوں کی، تو کہیں رشتوں کے لیے تڑپنے والوں کی،زندگی کے پیچیدہ رشتے، خوابوں کی قیمت، محبت و نفرت کی جنگ، اور معاشرے کے وہ سیاہ پہلو جو آنکھوں سے اوجھل مگر حقیقت میں تلخ ترین ہیں—

کچھ ایسے جرائم جو ہمارے ملک کو ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف یہاں کچھ ایسے جانباز سپاہی بھی ہیں جو اپنے ملک کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، یہ کہانی انہی الجھنوں کا ایک عکس ہے۔کہانی کچھ دوستوں کی جو اپنے اپنے درد جھیلتے ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔

 کہانی ہے معاشرے کے پست نظریات اور لوگوں کی وجہ سے کسی کے درندہ بننے کی، کہانی ہے اپنے اعمال اپنے آگے آتے دیکھنے کی، جو بویا ہو اسے ہی پالینے کی، کہانی ہے مکافاتِ عمل کی۔ یہ کہانی ایک خاندان کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی آئینہ دار ہے، جہاں نیکی اور بدی دونوں ہی پہلو نمایاں ہیں ۔

یہ ایک ایسی داستان ہے جو نہ صرف دلوں کو چھو لے گی بلکہ زندگی کے ان پہلوؤں کو بے نقاب کرے گی جن پر اکثر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

************

About The Writer, Areeza Batool

عریضہ بتول کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ ایک عام مگر ادب اور کہانیوں کی شوقین شخصیت ہیں، جنہیں بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا جنون رہا ہے۔ اسی شوق نے انہیں آج اس مقام تک پہنچایا کہ انہوں نے ناول لکھنے کی کوشش کی۔ ان کا ناول “آہنگِ خوابیدہ” کسی خیالی دنیا کی کہانی نہیں، بلکہ عام زندگی کے اتار چڑھاؤ اور انہی چیلنجز کے ساتھ کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنے والوں کی ایک سادہ مگر حقیقت پر مبنی داستان ہے۔

Sneaks Peeks From Novel

” یہاں کیا کر رہی ہو؟ “ وہ بھی اسے دیکھتی کھڑی ہوچکی تھی۔

”  آپ ہی سے بات کرنے آئی ہوں پر شاید آپ آج بھی کافی بزی تھے۔۔“ عناب کے عام سے لہجے میں کہے جانے والے لفظوں” آج بھی” پر اس کی آنکھیں گہری ہوئیں۔

” کب آئیں؟ “ اس کے انداز اور لفظوں کے اتار چڑھاؤ پر گہری سانس لیتا گہری بھوری آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

” مدعے پر آتے ہیں۔“ مقابل اس کی بات کو اگنور کرتی اپنی بات پر آئی۔

اسی کے انداز میں اسے نظر انداز کرتا ریسیپشنسٹ کی طرف گھوما۔

” کب سے آئی ہوئی ہیں یہ محترمہ۔“ عناب نے بھی چند قدم آگے بڑھاتے سننا چاہا کہ کیا کہہ رہا ہے۔

” سر! وہ میم آدھے گھنٹے پہلے آئی تھیں، آپ میٹنگ میں تھے تو اس لیے بھیجا نہیں۔ “ ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کو شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔

” آئندہ اگر یہ ویٹنگ ایریا میں نظر آئیں تو آپ یہاں نظر نہیں آئیں گی۔۔مائنڈ اٹ، یہ جب آئیں، آپ انہیں سیدھا میرے آفس میں بھیجے گی۔۔چاہے میں کتنی ہی ضروری میٹنگ میں کیوں نہ ہوں۔۔??understand “

اپنی گہری ہوتی بھوری آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کا حلق خشک کرتا، اب عناب کی سمت مڑا۔

” اور آپ؟ آئندہ اس طرح کی حرکت کرکے اپنی کم عقلی کا ثبوت نہیں دیجیے گا۔ چلیں اب۔۔!! “ اسے بھی ایک تیز گھوری سے نوازتا آگے بڑھ گیا۔

” نہیں یہیں بات کرنی ہے مجھے۔“ اس کی نظروں میں عدم یقین کی جھلکیاں دیکھتے وہ اپنے لب بھینچ گیا۔

” محترمہ!! “ اپنے آپ کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔

” یہاں کیسے بات ہوسکتی ہے؟ کیوں تماشہ چاہتی ہو تم۔۔!!“ لمحے میں آپ سے تم پر آتے آس پاس نظریں دوڑاتے اسے سمجھانا چاہا۔

” ٹھیک ہے، پھر کیفے ٹیریا چلیں بٹ آپ کے آفس میں نہیں جاؤں گی میں یوں اکیل۔۔۔“ کہتے کہتے ایکدم اپنے الفاظ پر غور کرتی احتیاط برت گئی۔

” کیا؟ کیا مطلب؟؟ بات مکمل کرو اپنی۔۔“ اس کے قریب قدم بڑھاتا، زرا فاصلے پر رکتے، آئی برو سمیٹیں اور اسے دیکھا۔ چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا تھا۔ مقابل کے آخری نا مکمل لفظ پر۔ اس قدر عدم اعتماد۔ ایک بات تو وہ مان گیا تھا کہ یہ لڑکی اتنی طاقت رکھتی تھی کہ لمحے میں اسے جلتے انگاروں پر لوٹا دیتی اور لمحے میں اس پر ٹھنڈی پھوار برساتی اسے پرسکون کرسکتی تھی۔

” کچھ نہیں۔۔“ اِدھر اُدھر دیکھتی، اپنی انگلیاں مڑوڑنے لگی۔

” عناب حیدر!! تم میرے ضبط کا پہلے ہی بہت امتحان لے چکی ہو، اپنے لیے اور مشکلات کھڑی نہیں کرو، اپنی بے وجہ کی نفرت میں ہم دونوں کے لیے زندگی مشکل بنارہی ہو۔۔“ بھاری آواز میں کہتے وہ اسے قدم پیچھے لے جانے مجبور کرگیا۔

اس سے کہتے، وہاں بیٹھے ان دو نفوس کو سرد نظروں سے گھورا تھا اور ایک سیکنڈ لگا تھا انہیں یہاں سے غائب ہونے میں۔

” ہم؟؟ واقعی؟ آپ اور میں؟؟ ہم کب سے ہوگئے مسٹر۔۔! میرے یہاں آنے کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں آپ؟ آپ جیسوں۔۔“ اس کا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ مقابل کی سرسراتی آواز اسے سہما کر رکھ گئی۔

” آئیے بیٹھیے یہاں۔۔“ اسے صوفے کی طرف اشارہ کرتے بیٹھنے کی پیشکش کی۔

” کیا ہم، آاااا نچچچ نچھیییی!!! کیا ہم بات کرسکتے ہیں؟؟ “ دانت بھینچتے اپنے آپ کو نارمل رکھنا چاہا۔ اسے شدید غصّہ آرہا تھا اپنی چھینکوں پر جو پھر سے اپنا دورہ شروع کر چکی تھیں۔ یہ سب رات میں ٹھنڈی گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کا انجام تھا۔

” ہم؟؟؟ واقعی؟ “ کچھ دیر پہلے اس کے “ہم ” بولنے پر اس کا اعتراض یاد دلاتا وہ قاتل مسکراہٹ چہرے پر سجاتا، اے سی بند کر چکا تھا۔

” دیکھیے مسٹر! میں۔۔“ آنکھیں بند کرتے وہ اس کے الفاظ اور انداز دونوں کو نظر انداز کرتی اپنی یہاں آنے کی اصل وجہ پر آئی۔ وہ اس کا اے سی بند کرنا نوٹ کرگئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ مقابل کھڑا مرد سردی میں اے سی چلانے کا عادی تھا پر اس کے لیے نا صرف کم بلکہ بند ہی کرچکا تھا۔

” غزوان!! “ تنبیہ کی گئی۔ بہت وقت ہوچکا تھا وہ اس کا انداز اور طرزِ تخاطب دونوں کافی نظر انداز کر چکا تھا پر اب نہیں۔ بس بہت ہوا تھا یہ اجنبیت کا دکھاوا۔

” جو بھی ہو۔۔مجھے بات کرنی ہے۔۔“ ناک سے مکھی کی طرح اڑایا اس کی بات کو۔

” دو کافی بھیجو اور نزلے کی میڈیسن بھی۔۔ فوراً!! “ انٹرکام پر ہدایت دیتا اس کی طرف گھوما۔

” جی تو کیا کہہ رہی تھیں۔۔“

” دیکھیں مسٹر غزوان عالم! مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تو پلیز میں امید کرتی ہوں کہ آپ میری بات غور سے سنیں گے۔ “ آنکھیں بند کرتے اپنے اندر امڈتے اشتعال کو دبانا چاہا۔

”ویسے حیرت ہے مجھ جیسے شخص سے آپ امیدیں بھی وابستہ رکھتی ہیں، خیر! میری پوری کوشش ہوگی کہ آپ کی امید پر پورا اتر سکوں۔ کہیے میں سن رہا ہوں۔۔“ وہ بھی ویسے ہی کھڑا رہا تھا، کیونکہ وہ لڑکی بھی بیٹھنے پر راضی نظر نہیں آرہی تھی اور مقابل کھڑی عورت کے کھڑے رہنے پر وہ کیسے بیٹھ سکتا تھا۔

” کیا حیدر کنسٹرکشن کے ساتھ آپ کی ڈیل کینسل کرنے کی وجہ جان سکتی ہوں میں؟ “ آنکھیں چھوٹی کیے بولی۔

” آپ کچھ بھی جان سکتی ہیں، پر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو کیسے پتہ اور آپ اس بارے میں کیوں جاننا چاہتی ہیں۔۔“ اس نے سامنے کھڑی اس عورت سے اس قسم کے سوال کی امید ہرگز نہیں کی تھی۔

******************

If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں

Download Link (All Episodes)

Download LinkDownload Link
Episode 1Episode 2
Episode 3Episode 4
Episode 5Episode 6
Episode 7Episode 8
Episode 9Episode 10
Episode 11Episode 12
Episode 13Episode 14
Episode 15

Online Reading (All Episodes Links)

Episode 1Episode 2Episode 3
Episode 4Episode 5Episode 6
Episode 7Episode 8Episode 9
Episode 10Episode 11Episode 12
Episode 13Episode 14Episode 15

Areeza Batool All Novels Link

********

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

👁 2.7K Views

3 thoughts on “Ahang-e-Khwabeedah by Areeza Batool Download pdf”

Leave a Comment