Gawahi by Tanzeela Noori Complete Novel

Gawahi by Tanzeela Noori Complete Novel

Gawahi by Tanzeela Noori — About the Novel

Gawahi by Tanzeela Noori is a gripping narrative centered on Arsalan, an ordinary employee who finds himself entangled in a dangerous web of deceit. When Arsalan witnesses a hit-and-run accident involving the son of an influential businessman, he becomes the target of a calculated frame-up. As he fights to clear his name, he uncovers a deeper conspiracy involving financial fraud and corruption.

This Gawahi novel explores the heavy price of integrity when faced with powerful adversaries, forcing the protagonist to choose between his own safety and the pursuit of justice.

Novel Summary in Urdu

”گواہی“ ایک حقیقت سے جڑا، سبق آموز معاشرتی افسانہ ہے، جہاں سچ، خوف، غربت اور انصاف کی کشمکش انسان کے ضمیر کو آزماتی ہے۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ اپنی مجبوریوں کے باعث حق کو چھپانا کبھی کبھی کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن جاتا ہے۔ اللہ پر بھروسا، صبر اور سچائی کی طاقت انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی درست راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ افسانہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن خوف اور مجبوری کے سامنے خاموش ہو جانا کسی دوسرے کے لیے بڑی ناانصافی بن سکتا ہے۔ کیونکہ ظلم صرف کسی کا حق چھیننے سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی حق جانتے ہوئے خاموش رہنا بھی ظلم کا ساتھ بن جاتا ہے۔

Novel Detailed Summary in English

The story begins in a courtroom where Arsalan stands accused of a vehicle accident he did not commit. A mysterious witness falsely identifies him, leaving Arsalan to face the legal consequences while struggling to support his family, including his sick father and sister. The conflict intensifies when Arsalan realizes the accident involved the car of Haji Saleem, a wealthy and influential businessman.

Arsalan had previously been tasked with delivering files to Haji Saleem’s office, but he soon discovers that these documents contain evidence of massive financial embezzlement and fake accounts linked to the businessman’s son, Kamran.

Arsalan’s life becomes a series of threats and intimidation. His boss, pressured by Haji Saleem, warns him to stay silent, and he receives anonymous notes threatening his family and job. Despite the danger, Arsalan visits the victim, Hammad, in the hospital and begins to gather evidence. With the help of a warehouse watchman who provides crucial footage of the accident and testimony from a colleague named Fahad, Arsalan pieces together the truth.

He discovers that the accident was not merely a tragic event but a deliberate attempt to silence him after he inadvertently witnessed Kamran’s involvement.

As the investigation progresses, Arsalan takes his findings to the police, submitting the pen drive and financial records. The pressure mounts as Fahad is briefly abducted and threatened, but the truth eventually surfaces in court. During the trial, the evidence of the financial fraud and the eyewitness accounts from the watchman and Fahad dismantle the defense. Faced with the overwhelming proof, Kamran finally confesses to being the driver during the accident.

Arsalan is exonerated of all charges, and Hammad, having recovered from his injuries, receives justice. The novel concludes with Arsalan being offered his job back, having successfully navigated a treacherous path to prove his innocence and expose the corruption hidden behind a facade of wealth.

Genre

Realistic Fiction, Islamic Moral Story, Social Justice, Inspirational Fiction

Tropes:

Truth vs. Fear, Social Injustice, Poverty and Helplessness, Courage to Speak the Truth, Faith in Allah, Patience and Perseverance, Moral Responsibility, Justice for the Innocent

Key Themes

  • Justice and Integrity
  • Corporate Corruption
  • False Accusation
  • Social Inequality
  • Family Responsibility

Short Scene from the Novel

ماں نے اسے دیکھا اور پوچھا بیٹا کیا ہوا؟

اس نے کاغذ چھپا لیا ۔ کچھ نہیں ماں ۔۔

اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ ایک طرف سچ تھا۔ دوسری طرف اس کا گھراس نے اپنے بیمار والد کو دیکھا ۔ پھر حنا کی کتابیں دیکھیں اور پھر ماں کا سویا ہوا چہرہ تکتا رہا اس کے دل میں خیال آیا کیا حق کی گواہی دینے کے لیے اپنے گھر والوں کو خطرے میں ڈالنا بھی ضروری ہے؟ وہ جواب نہیں ڈھونڈ سکا۔

اگلی صبح ایک اور خبر سامنے آئی ۔ زخمی نوجوان کا نام حماد تھا۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی اسپتال کے باہر لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا۔ ارسلان وہاں پہنچا۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

گواہی

ازقلم: تنزیلہ نوری

انتساب

اُن لوگوں کے نام جو خوف اور مجبوری کے باوجود سچ کا دامن نہیں چھوڑتے، اور جو جانتے ہیں کہ رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے اور اُن لوگوں کے نام جو آزمائشوں میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے ، اللہ ہمیں حق کے لیے کھڑے ہونے اور ہر حال میں اپنے ضمیر کی آواز سننے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین !

پیشِ لفظ

یہ افسانہ سچ صبر اور اللہ پر توکل کی کہانی ہے۔ اس میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ خاموشی کبھی کبھی ظلم کا ساتھ بن جاتی ہے، اور حق کی گواہی دینا اگرچہ مشکل ہو، مگر ضروری ہے۔ کیونکہ انصاف صرف سچ بولنے سے نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینے سے قائم ہوتا ہے۔

گواہی

میں نے نہیں کیا !

ارسلان کی آواز عدالت کے کمرے میں گونجی۔

سامنے کھڑے آدمی نے فوراً اس کی طرف انگلی اٹھائی۔ اور زور دار آواز میں بولا ، جج صاحب میں نے اپنی آنکھوں سے اسے گاڑی چلاتے دیکھا تھا۔

عدالت کے کمرے میں بیٹھے لوگوں کے درمیان سرگوشیاں ہونے لگیں ۔ اور ادھر اُدھر دیکھنے لگے ۔

ارسلان نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا۔ وہ اسے پہچانتا تھا۔ یہی آدمی دو دن پہلے حادثے کی جگہ موجود تھا، مگر اس وقت اس نے ارسلان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ ارسلان کے دل میں کئی سوال اٹھنے لگے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص آج اس کے سامنے کیوں کھڑا ہے اور اس کے خلاف کیا گواہی دینے والا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی ۔

"یا اللہ! مجھے صبر دے، میرے دل کو مضبوط رکھ اور مجھے حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔"

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

اسے رسول اللہ ﷺ کی اس تعلیم کا مفہوم یاد آیا کہ صبر کرنے والے کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔ ارسلان نے گہری سانس لی اور خود کو سمجھایا کہ مشکل کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ اگر وہ بے قصور ہے تو اسے اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہوئے سچ کا ساتھ دینا ہوگا ۔

جج نے میز پر پڑی فائل کھولی۔

"ارسلان احمد، تمہارے خلاف دو عینی گواہ موجود ہیں۔ تمہارے خلاف درج رپورٹ میں بھی یہی بیان ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی تم چلا رہے تھے۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو؟"

ارسلان نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔

میں بے قصور ہوں، جناب۔ میں وہاں موجود ضرور تھا، لیکن گاڑی میں نہیں تھا ۔۔۔

تو پھر اصل ڈرائیور کون تھا؟

یہ سوال سنتے ہی ارسلان خاموش ہوگیا۔

اس کی نظریں جھک گئیں ، اصل ڈرائیور کا نام وہ جانتا تھا۔ مگر اس نام کے ساتھ بہت سے لوگ جڑے ہوئے تھے۔

اس کی اپنی نوکری، اس کے بیمار باپ، چھوٹی بہن کی فیس، گھر کا کرایہ اور اس کی ماں کی وہ نصیحت جس نے اسے ہمیشہ سچ بولنا سکھایا تھا۔

جج نے دوبارہ پوچھا۔

"تم نے جواب نہیں دیا۔"

ارسلان نے سر اٹھایا۔

"مجھے معلوم ہے اصل ڈرائیور کون ہے۔"

کمرۂ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔

لیکن میں اسے صرف اپنے اندازے کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دے سکتا۔

جج نے اسے غور سے دیکھا۔

تو تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟

ارسلان نے کچھ کہنا چاہا ۔۔ مگر اسی لمحے اس کی نظر عدالت کے دروازے پر پڑی ، وہاں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اور اس کی آنکھوں میں خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ ارسلان اسے پہچان گیا۔ وہ چوکیدار تھا۔ وہ شخص جس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

دو دن پہلے ۔۔۔۔۔

ارسلان! یہ فائل ابھی حاجی صاحب کے دفتر میں پہنچا دو ۔ ارسلان نے اپنے باس کے ہاتھ سے فائل لی۔

"جی سر۔"

گھڑی میں ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ دفتر کے زیادہ تر ملازمین جا چکے تھے۔ ارسلان نے میز پر پڑی چند رسیدیں ایک طرف کیں اور فائل اپنے بیگ میں رکھ لی۔ اس کے ذہن میں گھر کے خرچوں کا حساب چل رہا تھا۔ والد کی دوائی ختم ہونے والی تھی ، چھوٹی بہن حنا کی کالج فیس جمع کرانی تھی۔ گھر کا کرایہ بھی دو دن سے باقی تھا۔ اس کی تنخواہ بری نہیں تھی، مگر ضروریات زیادہ تھیں۔ ارسلان نے دفتر سے نکلتے ہوئے اپنے باس کو سلام کیا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کی ۔ راستے میں اس کا فون بجا ، ماں کی کال تھی ۔

"بیٹا، کہاں پہنچے؟"

"بس امی، دفتر سے نکلا ہوں۔"

"دیر نہ کر نا بیٹا ابا کی طبیعت کچھ خراب ہے۔

ارسلان کے دل میں فکر پیدا ہوئی ۔

" دوائی دے دی تھی؟ "

"ہاں، مگر ختم ہونے والی ہے۔"

"میں آتے ہوئے لے آؤں گا۔"

"اور حنا کی فیس؟"

ارسلان چند لمحے خاموش رہا۔

"کل دے دوں گا۔"

ماں نے کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتی تھیں کہ بیٹا اپنی استطاعت سے زیادہ ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہے۔"اللہ آسانی کرے، بیٹا۔" آمین۔

اتنا کہہ کر کال ختم ہوگئی تھی ۔

ارسلان نے موٹر سائیکل آگے بڑھا دی اس کی رفتار ذیادہ تیز نہیں تھی لیکِن وقت پر گھر جانا ضروری تھا پر اسے کیا معلوم تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں اس کی زندگی بدلنے والی ہے۔

وہ مین روڈ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک ایک گاڑی بہت تیزی سے اس کے سامنے سے گزری ۔ پھر ایک زوردار آواز آئی۔

ارسلان نے فوراً بریک لگائی۔ ایک نوجوان سڑک پر گرا ہوا تھا۔

لوگ ادھر اُدھر سے دوڑ کر آنے لگے۔

"ارے بھائی! ایمبولینس کو فون کرو!"

"کوئی کہہ رہا پانی لاؤ!"

ارسلان موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے زخمی نوجوان کے پاس پہنچا۔ اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔

بھائی! سن رہے ہو؟ ارسلان نے اسے ہلایا ۔

نوجوان نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، مگر دوبارہ بند کر لیں۔

ارسلان نے فوراً ایمبولینس کو فون کیا۔ اس دوران اس کی نظر کچھ فاصلے پر جاتی ہوئی گاڑی پر پڑی۔ گاڑی چند لمحوں کے لیے رکی تھی۔ ارسلان کو اس کی نمبر پلیٹ نظر آ گئی۔ اس نے نمبر ذہن میں بٹھا لیا۔ پھر اچانک اسے گاڑی پہچان میں آ گئی۔

یہ حاجی سلیم کی گاڑی تھی۔ حاجی سلیم شہر کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے پاس پیسہ تھا، اثر و رسوخ تھا اور ہر بڑے آدمی سے تعلق تھا۔ ارسلان نے گاڑی کی طرف دیکھا۔

پھر زخمی نوجوان کی طرف اس کے اندر عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی ۔ کچھ ہی دیر میں ایمبولینس آ گئی ۔ زخمی شخص کو لے جایا گیا۔ لوگ منتشر ہونے لگے۔

ارسلان بھی اپنی موٹر سائیکل کی طرف بڑھا۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ ایک آدمی دور کھڑا اسے غور سے دیکھ رہا ہے۔ وہ حاجی سلیم کا آدمی تھا۔

رات کو گھر پہنچتے ہی ماں نے دروازہ کھولا۔

"اتنی دیر؟"

ارسلان نے جوتے اتارتے ہوئے کہا ۔ ماں "راستے میں حادثہ ہوگیا تھا۔"

ماں گھبرا گئی انہوں نے کہا بیٹا تم تو ٹھیک ہو نا ۔۔

ہاں میں ٹھیک ہوں لیکن نہ جانے کیوں دل گھبرا رہا ہے میرا ۔۔۔

اس کے والد دوسرے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے وہ کمرے سے باہر آئے اور کہا کسی کو کچھ ہوا؟

"ایک لڑکا زخمی ہوگیا ہے سڑک حادثے میں "

"اللہ شفا دے اسے اور بیٹا تم گھبراؤ نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔

ارسلان خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ ماں نے کھانا سامنے رکھا ۔

"تم پریشان مت ہو بیٹا ؟"

اس نے کُچھ کہنا چاہا "امی…" پھروہ کچھ دیر خاموش رہا ۔

"اگر کسی طاقتور آدمی سے متعلق کوئی سچ معلوم ہو اور اسے بتانے سے اپنے گھر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟"

ماں نے اسے غور سے دیکھا۔

"یہ کیسا سوال ہے؟"

"بس ایسے ہی۔"

ماں نے پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔۔

سچ کا فیصلہ فائدے اور نقصان سے نہیں کیا جاتا، بیٹا۔ لیکن اگر گھر والے مشکل میں آ جائیں؟ تو پھر اللہ سے مدد مانگی جاتی ہے۔

ارسلان نے نظریں جھکا لیں ۔۔ انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔

اور اگر انسان بہت ڈر جائے؟

ماں مسکرائیں۔

"ڈر لگنا گناہ نہیں ہوتا بیٹا لیکن ڈر کی وجہ سے حق اور سچ پر چلنا چھوڑ دینا انسان کی آزمائش میں ناکامی ہو سکتی ہے۔

ارسلان نے کچھ نہیں کہا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اگلے دن اسے اسی بات کا امتحان دینا پڑے گا ۔۔۔

صبح اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ ایک خبر ہر جگہ پھیل چکی تھی۔ کل رات ہونے والے حادثے میں زخمی نوجوان کی حالت تشویش ناک تھی ۔ اور پولیس نے حادثے کے ذمہ دار شخص کی تلاش شروع کر دی تھی۔ ارسلان نے خبر پڑھی تو دل بیٹھ سا گیا۔

اسی وقت دفتر سے کال آ گئی ۔ فوراً آؤ ارسلان ۔۔۔۔

وہ دفتر پہنچا تو باس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔

تم کل حادثے کی جگہ موجود تھے؟

جی سر ۔۔

تم نے کیا دیکھا ؟

ارسلان نے چند لمحے اسے دیکھا۔

ایک گاڑی نے لڑکے کو ٹکر ماری تھی ۔۔

گاڑی کون چلا رہا تھا ؟

میں نے ڈرائیور کو واضح نہیں دیکھا تھا ۔

یہ جھوٹ تھا۔ اس نے ڈرائیور کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، مگر گاڑی پہچان لی تھی ۔

باس نے فائل بند کر دی ۔ ارسلان، تم ایک سمجھدار لڑکے ہو۔

جی سر مگر؟

مگر کیا ارسلان حاجی صاحب ہمارے بہت بڑے کلائنٹ ہیں۔ کمپنی کے کئی بڑے معاملات ان کے ساتھ ہیں ۔۔

ارسلان خاموش رہا۔

اس لیے بہتر ہے ارسلان کہ تم اس معاملے سے دور رہو۔

لیکن پولیس پوچھے گی تو؟

جو یاد نہیں، وہ یاد نہیں ۔۔

ارسلان نے باس کی آنکھوں میں دیکھا۔

اور اگر مجھے سب یاد ہو؟

باس کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہوگئی۔

تو پھر بھی ہر بات کہنا ضروری نہیں ہوتا ارسلان اس دفعہ وہ گرائے تھے ۔

دوپہر کو پولیس کا فون آ گیا تھا ارسلان کو تھانےمیں بلایا گیا وہ وہاں پہنچا تو ایک افسر نے اس سے سوالات کیے ۔ پھر ایک تصویر اس کے سامنے رکھ دی ۔ تصویر میں ارسلان زخمی نوجوان کے پاس کھڑا تھا۔

یہ تم ہو؟

"جی۔"

تمہارے کپڑے بھی وہی ہیں جو حادثے کے وقت تھے؟

"جی۔"

افسر نے دوسری فائل کھولی۔ دو گواہوں نے بیان دیا ہے کہ حادثے کے بعد تم گاڑی سے نکلے تھے۔ ارسلان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

یہ جھوٹ ہے!

تمہیں کوئی دشمنی تھی ان لوگوں سے؟

"نہیں۔"

تو پھر وہ جھوٹ کیوں بولیں گے؟

ارسلان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

افسر نے کہا ۔ ہمیں گاڑی بھی نہیں ملی ۔

ارسلان نے فوراً کہا ۔ گاڑی کا نمبر میرے پاس ہے۔

افسر نے قلم اٹھایا۔

"بتاؤ۔"

ارسلان نے نمبر بتا دیا۔

افسر نے اسے لکھ لیا۔ پھر چند لمحوں بعد اس نے کہا یہ نمبر ایک گاڑی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ مگر گاڑی کل رات سے مالک کے گھر میں موجود تھی۔"

ارسلان چونک گیا۔

یہ ممکن نہیں ہو سکتا سر ۔۔۔۔

تم کہنا کیا چاہتے ہو؟

میں نے خود اسے سڑک پر دیکھا تھا۔

افسر نے اسے غور سے دیکھا اور کہا پھر تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس گاڑی کو کون چلا رہا تھا؟

ارسلان خاموش ہوگیا۔ اسے محسوس ہوا کہ معاملہ معمولی نہیں ہے

شام کو جب وہ گھر پہنچا تو دروازے کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا۔

آپ ارسلان ہیں؟

"جی۔"

یہ آپ کے لیے ہے۔۔۔

اس نے ایک لفافہ دیا اور چلا گیا۔ ارسلان نے لفافہ کھولا اندر ایک کاغذ تھا۔

صرف ایک جملہ لکھا تھا : اپنی نوکری، گھر اور خاندان کو بچانا ہے تو خاموش رہو۔" ارسلان کے ہاتھ کانپنے لگے وہ گھر کے اندر گیا۔

ماں نے اسے دیکھا اور پوچھا بیٹا کیا ہوا؟

اس نے کاغذ چھپا لیا ۔ کچھ نہیں ماں ۔۔

اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ ایک طرف سچ تھا۔ دوسری طرف اس کا گھراس نے اپنے بیمار والد کو دیکھا ۔ پھر حنا کی کتابیں دیکھیں اور پھر ماں کا سویا ہوا چہرہ تکتا رہا اس کے دل میں خیال آیا کیا حق کی گواہی دینے کے لیے اپنے گھر والوں کو خطرے میں ڈالنا بھی ضروری ہے؟ وہ جواب نہیں ڈھونڈ سکا۔

اگلی صبح ایک اور خبر سامنے آئی ۔ زخمی نوجوان کا نام حماد تھا۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی اسپتال کے باہر لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا۔ ارسلان وہاں پہنچا۔

حماد کی ماں ایک بینچ پر بیٹھی رو رہی تھی ۔ میرا بیٹا گھر کا سہارا تھا۔ ارسلان خاموش کھڑا رہا ۔ وہ چاہتا تھا کہ آگے بڑھ کر کہے مجھے معلوم ہے کس کی گاڑی تھی۔ مگر الفاظ اس کے گلے میں پھنس گئے۔

حماد کے بھائی نے اسے دیکھ کر پوچھا

آپ بھی حادثے کے وقت وہاں تھے؟

ارسلان نے سر ہلا دیا ۔

تو آپ نے گاڑی دیکھی تھی؟

اس نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا جی دیکھی تھی مگر ۔۔۔

مگر کیا حماد کے بھائی نے پوچھا کون تھا؟

ارسلان کی نظریں جھک گئیں مجھےیقین سے نہیں معلوم

حماد کے بھائی کی آنکھوں میں مایوسی اتر آئی۔

ارسلان وہاں سے نکل آیا۔

مگر اس بار اس کے قدم بہت بھاری تھےاسی رات اس نے اپنی ماں سے سب کچھ بتا دیا دھمکی بھی , الزام بھی اور یہ بھی کہ وہ اصل گاڑی پہچانتا تھا۔

ماں کافی دیر خاموش رہیں ۔ پھر بولیں تمہیں کیا لگتا ہےاگر تم خاموش رہو گے تو خطرہ ختم ہو جائے گا؟

ماں کم از کم ہمارے گھر کو خطرہ نہیں ہوگا۔

بیٹا کبھی کبھی خطرہ خاموش رہنے سے بھی بڑھتا ہے۔"

تو میں کیا کروں؟

دیکھو بیٹا وہ کرو جس کا جواب تم کل اللہ کے سامنے دے سکو۔

یہ سن کر ارسلان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اگلے دن دفتر میں ایک نیا واقعہ ہوااکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ایک فائل غائب تھی۔وہی فائل جس میں کمپنی کے کچھ مشکوک لین دین درج تھے۔ باس نے سب ملازمین کو بلایا ۔ جس کے پاس فائل تھی وہ سامنے آئے۔

ارسلان کا دل دھڑک اٹھا ۔ وہ فائل دراصل حادثے والی رات اس کے بیگ میں تھی۔ اس نے اسے حاجی سلیم کے دفتر میں پہنچانے کے بجائے گھر لے آیا تھا، کیونکہ راستے میں حادثہ ہوگیا تھا۔

اس نے فائل نکالی ۔ کاغذات دیکھے۔ کئی لاکھ روپے مختلف جعلی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے تھے۔ اور ہر جگہ دستخط حاجی سلیم کی کمپنی کے تھے۔ لیکن ایک نام بار بار سامنے آ رہا تھا۔ حاجی سلیم کے بیٹے کا۔ ارسلان نے فوراً سمجھ لیا کہ حادثہ اور یہ مالی معاملہ شاید الگ نہیں تھے ۔ شاید اسے صرف اس لیے نہیں پھنسایا جا رہا تھا کہ وہ حادثے کا گواہ

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Tanzeela Noori

Explore more Urdu novels by Tanzeela Noori, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Similar Novels

Frequently Asked Questions

Why was Arsalan accused of the accident?

Arsalan was framed for the accident to silence him because he had witnessed Kamran, the son of a wealthy businessman, driving the car and had also discovered evidence of financial fraud in the company's files.

What evidence helped Arsalan prove his innocence?

Arsalan gathered a pen drive containing footage of the accident from a warehouse watchman, along with financial records proving the company's embezzlement, and secured testimony from his colleague, Fahad.

Who was the actual driver of the car involved in the accident?

Kamran, the son of the influential businessman Haji Saleem, was the person driving the car during the accident.

What happened to the victim of the accident?

The victim, Hammad, recovered from his injuries and eventually received justice when the truth was revealed in court.

Does Arsalan return to his job at the end?

Yes, after being exonerated of all charges, Arsalan receives a letter offering him his job back.

👁 40 Views

Leave a Comment