India se le kr pakistan tk ek dain ki kahani by Oyena Baqir

India se le kr pakistan tk ek dain ki kahani by Oyena Baqir

India se le kr pakistan tk ek dain ki kahani — About the Novel

India se le kr pakistan tk ek dain ki kahani by Oyena Baqir is a chilling narrative that explores the intersection of ancestral sins and supernatural haunting. The story follows the life of Rahil, who inherits a family haveli burdened by a dark history involving his great-grandfather and a tragic past event. As inexplicable and terrifying occurrences plague his home, Rahil is forced to confront the legacy of a vengeful entity.

This gripping tale bridges the gap between India and Pakistan, seeking spiritual resolution for a curse that spans generations.

Novel Summary in Urdu

یہ کہانی چندر لال نامی شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے دولت کے حصول کے لیے ایک یاکشنی سے معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی نسلیں ایک خوفناک لعنت کا شکار ہو گئیں۔ برسوں بعد، اس کا پوتا راحل کلکتہ میں واقع اپنی خاندانی حویلی میں پراسرار اور خوفناک واقعات کا سامنا کرتا ہے۔

حویلی میں ہونے والی اموات اور دیواروں سے خون ٹپکنے جیسے واقعات نے راحل کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جہاں اسے ایک بوڑھی ڈائن کا سایہ ہر وقت پیچھا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت کی تلاش میں راحل اپنے پڑوسی فیض کی مدد سے قاری رشید تک پہنچتا ہے، جو اسے اس لعنت کی جڑ تک لے جاتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ راحل کے پردادا نے ماضی کی جنگوں کے دوران ایک مسلم خاندان پر ظلم کیا تھا، جس کا خمیازہ آج کی نسل بھگت رہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے راحل پاکستان کا سفر کرتا ہے اور کراچی میں پیر حبیب الاسلام سے ملاقات کرتا ہے۔

پیر صاحب کی ہدایت پر جب حویلی کی زمین کھودی جاتی ہے تو وہاں سے ایک لڑکی کا ڈھانچہ برآمد ہوتا ہے، جو اس پرانی دشمنی اور ظلم کا ثبوت تھا۔ اس روحانی سفر اور حقائق کے انکشاف کے بعد، راحل اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسے قبول کر لیتا ہے، جس سے اس کی زندگی اور خاندانی تاریخ کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔

یہ ناول انڈیا سے لے کر پاکستان تک ایک ڈائن کی کہانی، اوینہ باقر کی ایک ایسی تحریر ہے جو خوف اور روحانیت کے امتزاج کو بخوبی پیش کرتی ہے۔

Novel Detailed Summary in English

The narrative begins with Chandar Lal, a man who enters into a dark, supernatural contract with a Yakshini to gain immense wealth, sacrificing his social connections and family life in the process. This pact leads to a cycle of misery and isolation that eventually consumes his descendants. Years later, the haunting legacy manifests in the life of Rahil, who inherits the family haveli in Kolkata.

Rahil finds himself surrounded by inexplicable deaths, including those of his uncle and aunt, and is terrorized by a spectral old woman who appears to be a manifestation of a long-standing curse.

As the supernatural activity intensifies, with blood appearing on the walls and the presence of a malevolent entity becoming undeniable, Rahil seeks help from various sources. His journey takes him from the confines of his ancestral home to the village headman, and eventually to a religious scholar named Qari Rashid. The investigation into the family's history reveals a dark secret involving his great-grandfather, who had imprisoned a Muslim family during the wars of the past.

This historical injustice serves as the root of the haunting that has plagued the lineage.

Seeking a permanent solution, Rahil travels to Karachi to meet Peer Habib-ul-Islam, a spiritual guide. Under the Peer's direction, the haveli is excavated, leading to the discovery of human remains buried beneath the veranda. This act of uncovering the truth and seeking spiritual intervention marks a turning point in Rahil's life.

The story culminates in a profound transformation for the protagonist, as he witnesses the power of faith and ultimately chooses to embrace Islam, finding a path to break the cycle of terror that had haunted his family for generations. The novel effectively blends elements of horror, mystery, and spiritual redemption, tracing the impact of past actions across borders.

Genre

Horror Novels

Key Themes

  • Supernatural Haunting
  • Ancestral Sin
  • Spiritual Redemption
  • Historical Injustice
  • Cross-border Spiritual Journey

Short Scene from the Novel

​سمے گزرتا گیا، ایک رات موہن لال کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ موہنی بستر پر نہیں تھی۔ یہ تیسری رات تھی جب موہن لال کی آنکھ کھلتی تو موہنی بستر پر نہ ہوتی۔ جب بعد میں موہن لال اس سے پوچھتا کہ تو رات کو کہاں چلی گئی تھی تو وہ کبھی پانی کا بہانہ بنا دیتی تو کبھی غسل خانے کا بہانہ بنا دیتی۔ موہن لال کو کچھ شک پڑ گیا تھا۔ رات کے جیسے ہی دو بج گئے تو موہنی آرام سے بیڈ سے اٹھ گئی اس نے موہن لال کی طرف دیکھا مگر وہ خراٹے لے رہا تھا۔ موہنی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور دبے پاؤں باہر نکل گئی۔ موہن لال جو سونے کی اداکاری کر رہا تھا وہ جھٹ سے سیدھا بیٹھ کے بیڈ سے کودا اور موہنی کا پیچھا کیا۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

انڈیا سے لے کر پاکستان تک ایک ڈائن کی کہانی

از قلم : عینہ باقر

مکمل

انڈیا سے لیکر پاکستان تک ایک ڈائن کی کہانی

​رات کا اندھیرا پورا پھیل چکا تھا۔ آسمان پر چندرما تھی۔ ہندوستان کا موسم کافی سرد تھا۔ آج اماوس کی رات تھی۔

​جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑے درخت کے نیچے لگ بھگ پینتالیس چالیس سال کا آدمی اپنی پوجا پاٹ میں مگن تھا۔ جس کا نام چندر لال تھا۔ اُس نے اپنے اردگرد سفید چونے سے گول دائرہ بنایا تھا۔ گول دائرے میں اُس کے ساتھ تنتر منتر کی چیزیں تھیں۔ اُس کے سامنے لیموں اور ناریل پڑا تھا۔ ساتھ میں چار کھوپڑیاں تھیں۔ بازو میں کالے رنگ کی تھیلی پڑی تھی جس میں کوئی چیز پھڑپھڑا رہی تھی۔

​چندر لال نے وہ تھیلی کھولی تو اُس میں ایک کالے رنگ کی مرغی تھی۔ اُس نے ہاتھ میں چھری لی اور مرغی کے گلے پر پھیر دی۔ اس کا سر دور جا گرا اور گلے سے خون کا ایک فوارہ پھوٹنے لگا۔ چندر لال نے مرغی کے خون کے کچھ قطرے ناریل اور لیموں پر ٹپکائے اور باقی خون سے کھوپڑیوں کو رنگا۔

​اُس نے آنکھیں بند کیں اور مراقبے کی شکل میں بیٹھ کے جاپ کرنے لگا۔ وہ منہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا اور ساتھ میں تنتر منتر کی چیزوں پر پھونک دیتا۔ اُس کے پھونکنے سے کھوپڑیوں میں کچھ ہلچل ہونے لگی اور ناریل سے کالا دھواں نکلنا شروع ہوا۔ اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو اُس کے سامنے ایک تیز روشنی پھوٹی جس میں اُسے ایک نسوانی وجود نظر آیا۔

​یہ دیکھتے ہی چندر لال کی باچھیں کُھل گئیں کیونکہ یاکشنی (Yaskini/Yakshini)، اُس کے سامنے حاضر تھی۔ یاکشنی کے بڑے بڑے بال ہوا میں لہرا رہے تھے اور اُس کا چہرہ چندرما سے بھی زیادہ جگمگا رہا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکان تھی۔

​چندر لال یاکشنی سے مخاطب ہوا، "تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔" چندر لال نے اُس پر رعب جماتے ہوئے کہا کیونکہ چندر لال اُس دائرے کے اندر محفوظ تھا اور یاکشنی اُس کا کچھ بُرا نہیں کر سکتی تھی۔ چندر لال نے اُسے بتایا کہ، "مجھے ڈھیر سارے پیسے چاہییں۔"

​یاکشنی نے اُس سے کہا، "تمہارا کام ہو جائے گا مگر میری بھی ایک شرط ہے۔"

چندر لال نے اُس سے پوچھا کہ کیا شرط ہے؟ تو یاکشنی نے اُس سے کہا کہ، "میری یہ شرط ہے کہ تم میرے علاوہ پھر کسی سے نہیں ملو گے، نہ اپنے ماں باپ سے اور نہ اپنے دوستوں سے۔ اگر تمہیں یہ شرط منظور ہے تو تمہیں ڈھیر سارے پیسے مل جائیں گے۔"

​چندر لال نے پہلے کچھ سوچا اور پھر یاکشنی سے کہا کہ، "ٹھیک ہے مجھے پیسے چاہییں۔"

یاکشنی نے اُس سے کہا کہ، "تم اب گھر چلو تمہارا کام ہو جائے گا۔" یہ کہتے ہی یاکشنی وہاں سے غائب ہوگئی۔

​چندر لال نے تنتر منتر کے سامان کو اس کالی تھیلی میں رکھا اور وہاں سے اُٹھ گیا۔ اتنے ٹھنڈے موسم میں بھی اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے۔ اُس کے سر پر لال رنگ کی پگڑی تھی اور ماتھے پر لال رنگ کا تلک تھا۔ قمیص کے نام پر اُس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اُس نے لنگوٹی باندھی تھی۔ وہ تیز تیز قدم لیتا ہوا جنگل سے نکل کے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ سڑک بالکل سنسان پڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ وہ سیدھا جا کے اماں کے ساتھ چارپائی پر سو گیا۔

​(حال)

​یہ ایک کمرے کا منظر تھا۔ بند کمرہ جس میں کھڑکی کا نام و نشان نہ تھا۔ صرف ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو اندر سے بند تھا۔ کمرے کی زمین کچی تھی۔ درمیان میں ایک چارپائی پڑی تھی، جس پر وہ سو رہا تھا۔ اُس کی آنکھ اچانک سے کھلی، اُس نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ سے ماس (گوشت) غائب ہے۔ اُس نے ہاتھ کو الٹ پلٹ کر دیکھا مگر ہتھیلی سے گوشت کا ٹکڑا غائب تھا اور وہاں صرف ہڈی نظر آ رہی تھی۔

​اُس نے چھت کی طرف دیکھا تو یاکشنی منہ میں گوشت کا ٹکڑا چبا رہی تھی اور بہت ڈراؤنے انداز میں ہنس رہی تھی۔ ہنسی اتنی تیز تھی کہ اُس کے کانوں میں سیٹی جیسی بجنے لگی اور وہ جھٹ سے سیدھا بیٹھ گیا۔

​روز کی طرح آج بھی اُس نے وہی خواب دیکھا تھا۔ اُس نے لمبی لمبی سانسیں لیں اور اردگرد کمرے کا جائزہ لینے لگا مگر وہاں کوئی نہیں تھا اور اُس کا ہاتھ بالکل ٹھیک تھا۔ اُس نے جلدی سے حلق میں پانی انڈیلا جو تپائی پر جگ میں پڑا تھا۔ ہر روز ایک ہی خواب دیکھنا، چندر لال کا اس خواب سے کچھ نہ کچھ سمبندھ (تعلق) تو تھا۔

​(ماضی)

​سورج کی پہلی کرن سے چندر لال کی آنکھ کھلی۔ آج اُسے بہت پیسہ ملنے والا تھا۔ جس کے لیے وہ اپنا گھر بار، دوست و احباب کو بھی چھوڑنے کے لیے تیار تھا۔ اُس نے ناشتہ کیا اور اپنے ساتھ بیلچہ اور ترشول لیا اور کھیتوں کی طرف بڑھا۔ کھیتوں میں اُس نے ہل چلایا، کھیتوں کو پانی دیا اور پھر ذرا سستانے کے لیے ایک طرف بیٹھ گیا۔

​وہ اپنے دماغ میں خیالی پلاؤ بناتا کہ میں امیر بنوں گا، ایک شاندار حویلی بناؤں گا۔ میری زندگی عیش و عشرت کی ہوگی۔ وہ آگے کچھ سوچتا مگر اُس کی نظر ایک جگہ پر ٹک گئی۔ اُس نے دیکھا ایک کوا کہیں سے اُڑتا ہوا آیا اور زمین پر بیٹھ کے کائیں کائیں کرنے لگا۔ وہ اپنی لمبی چونچ اور پنجوں سے مٹی کریدنے کی کوشش کرتا اور پھر چندر لال کی طرف دیکھ کے کائیں کائیں کرنے لگتا۔

​چندر لال سمجھ گیا کہ یہاں کچھ تو ہے۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ گیا اور ہاتھ میں بیلچہ لے کے اُس جگہ سے مٹی ہٹانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ تین بالشت زمین کھود چکا تھا۔ آخری بار جب اُس نے بیلچہ اُٹھایا اور مٹی ہٹانے کے لیے زمین میں دھنسا دیا تو بیلچہ کسی بھاری چیز کے ساتھ لگ گیا۔ چندر لال نے محسوس کیا کہ نیچے کچھ ہے، اُس نے وہاں سے مٹی ہٹائی۔ اُس نے دیکھا کہ وہ ایک صندوق ہے جو بہت پرانا ہے۔ صندوق صندل کی لکڑی سے بنا تھا جس پر عجیب بھاشا (زبان) میں کچھ لکھا تھا۔

​چندر لال کو وہ بھاشا سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ صندوق کو تالا لگا تھا جو بہت پرانا ہونے کے باعث ایک وار پر ٹوٹ گیا۔ اُس نے صندوق کھولا اور اندر جو دیکھا تو اُس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اندر سونا ہی سونا تھا۔ سونے کے سکے، قیمتی جواہرات، ہیرے اور مزے کی بات یہ تھی کہ صندوق بہت پرانا تھا اور اس میں رکھے سکے اسی زمانے کے تھے۔ یاکشنی اپنا وعدہ پورا کر چکی تھی۔ اب چندر لال کی باری تھی وعدہ پورا کرنے کی۔

​چندر لال نے صندوق سے پورا سونا نکال دیا اور اسے بوریوں میں بھر دیا جو کھیت میں پڑی تھیں۔ اُس نے سوچا اگر صندوق کو بھی ساتھ لے لوں تو کہیں راستے میں کسی کو شک نہ پڑ جائے۔ اُس نے صندوق کو دوبارہ وہیں دفن کیا۔

​دن گزرتے گئے چندر لال کی سوچ کے مطابق اس نے ایک حویلی بھی بنائی۔ جس میں آسائش کا ہر قسم کا سامان تھا۔ پہلے اُس کے بدن پر قمیص تک نہ ہوتی تھی اور اب طرح طرح کے کپڑے۔ بہرحال اُس کی زندگی خوب ٹھاٹھ باٹھ کی تھی۔ وہ حویلی میں اکیلا رہتا تھا۔ اُس نے ماتا پتا کے ساتھ پورے تعلقات ختم کیے تھے۔ وہ کسی سے نہیں ملتا تھا بلکہ یاکشنی اُسے جانے نہیں دیتی تھی۔ وہ ہر سمے (وقت) حویلی میں ہی رہتا تھا۔

​(حال)

​ایک دن چندر لال نے شادی بھی کر لی۔ یاکشنی ہر سمے اُس کے ساتھ رہتی۔ اُس نے جب دیکھا کہ چندر لال نے شادی کی ہے تو وہ اسے ہر وقت تنگ کرتی تھی۔ کبھی تو خوابوں میں آکے، کبھی تو اسے ایسا لگتا کہ کوئی اُس کا گلا دبا رہا ہے۔ چندر لال یاکشنی سے تنگ آچکا تھا کیونکہ اُسے یہ شرط بہت مہنگی پڑی تھی۔ شادی کے دو تین مہینے بعد چندرلال کو ایک عجیب بیماری لگ گئی تھی۔ اُس کے ہاتھوں سے پسینہ بہتا تھا۔ انگلیاں ہر وقت گیلی ہوتیں۔ وہ اُسے تولیے سے پونچھتا، اُن سے اتنا پسینہ بہتا کہ تولیہ گیلا ہو جاتا۔

​سمے گزرتا گیا اور ایک سال گزر گیا۔ چندر لال کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا تھا۔ مگر چندر لال نے اُسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ حویلی کے ایک کمرے میں قید ہو چکا تھا۔ یاکشنی اُسے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔ اُس کے ماتا پتا اُس سے ملنے کے لیے آتے مگر اُس کا حال دیکھ کے رو دھو کے وہاں سے چلے جاتے۔

​وہ بیڈ کے ساتھ ہی گھٹنوں پر سر رکھ کے بیٹھا تھا، بکھرے بال، بڑے بڑے ناخن جس میں میل جمی تھی۔ آنکھوں کے حلقے بڑھ چکے تھے۔ اُس کے ہونٹوں پر پپڑیاں جمی تھیں۔ اُس کی حالت بہت افسوسناک تھی۔

​یاکشنی ہوا میں معلق اُسے طنزیہ نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ چندر لال نے سر اُٹھایا اور اُس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ وہ یاکشنی کے سامنے منت سماجت کر رہا تھا۔ "چندر لال کو کچھ نہیں چاہیے۔ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ مجھے مال و دولت نہیں چاہیے۔ مجھے میرے اپنے چاہییں۔ مجھے یہاں سے نکال دو۔" اُس نے ایک ہی سانس میں بولا اور یاکشنی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔

​یاکشنی ہونٹوں پر مکروہ مسکان سجا کے اُس کے قریب آئی اور اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کے اُسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ یاکشنی گھٹنوں پہ دونوں ہاتھ رکھ کے اُس کے سامنے بیٹھ گئی اور اُس سے کہنے لگی، "تمہیں پیسہ نہیں چاہیے؟ ڈھیر سارا پیسہ، کار، کوٹھی سب کچھ؟"

چندر لال: "نہیں، مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ مجھے جانے دو اور تم یہاں سے چلی جاؤ۔"

​چندر لال کی باتیں اُس کی بیوی سُن رہی تھی جو دروازے سے کان لگا کے کھڑی تھی اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ سب کو لگا تھا کہ چندر لال پاگل ہو چکا ہے اور وہ اپنے آپ ہی بڑبڑاتا ہے مگر ترپاٹھی جی (ترے پاڑی جی) کچھ صدمے میں گئے تھے۔ اُسے لگ رہا تھا کہ چندر لال پاگل نہیں ہے بلکہ کچھ نہ کچھ اپشگون ہو گیا ہے کیونکہ چندر لال کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے تھے۔

​چندر لال کو اس کٹھن حالت میں ایک سال گزر چکا تھا۔ آج اماوس کی رات تھی۔ ترپاٹھی جی نے ایک تانترک کو بلایا تھا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ تانترک نے حویلی کے صحن میں سفید چونے سے ایک گول دائرہ بنایا۔ گول دائرے میں لیموں، ناریل اور سرخ مرچ رکھی۔ تانترک نے آنکھیں بند کیں اور اپنے ہاتھ پر چھری سے کٹ لگایا۔ جس کی وجہ سے ہاتھ سے خون کے قطرے ٹپکنے لگے۔ اُس نے خون کے قطرے ناریل اور لیموں پر ٹپکا دیے اور ساتھ میں جاپ کرنے لگا۔ تانترک جاپ کرتا رہا اور اُس کے ہاؤ بھاؤ بدلنے لگے، اُس کے ماتھے سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔

​تانترک منہ میں کچھ بڑبڑاتا اور لیموں اور ناریل پر پھونک دیتا۔ اچانک سے چرچر کرتی ہوئی دروازہ ایک دھڑام سے کھل گیا۔ ترپاٹھی جی نے سامنے دیکھا تو چندر لال کمرے سے نکل کے تانترک کے سامنے کھڑا اسے غصے سے گھور رہا تھا۔

​تانترک نے آنکھیں کھولیں تو چندر لال اُس کے سامنے کسی بت کی طرح کھڑا تھا۔ تانترک نے اُسے بیٹھنے کو کہا تو وہ جھٹ سے بیٹھ گیا۔ چندر لال کے بیٹھنے سے لیموں اور ناریل سے کالا دھواں نکلنا شروع ہوا۔ جس سے تانترک کو اندازہ ہوا کہ یہ شکتی بہت طاقتور ہے۔ تانترک نے چندر لال سے کہا کہ، "تم کون ہو اور اس آدمی سے کیا چاہتی ہو؟"

تو چندر لال نے اُس سے کہا کہ، "میں یاکشنی ہوں۔"

تانترک نے آواز میں رعب لاتے ہوئے کہا کہ، "اس آدمی سے کیا چاہتی ہو؟"

اس بار یاکشنی نے ہنستے ہوئے کہا اور اپنی ہی طرف مطلب چندر لال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، "یہ اس کی اچھا (خواہش) تھی اور میں نے اس کی اچھا پوری کی اور اسے مال و دولت میں خوش رہنا چاہیے۔"

تانترک نے اُس سے کہا، "اس آدمی کو تم سے کچھ نہیں چاہیے، تم اس کا شریر (جسم) چھوڑ دو۔"

یہ سنتے ہی یاکشنی نے چیختے ہوئے تانترک سے کہا، "تم بیچ میں مت آؤ، میں نے اس کی اچھا پوری کی ہے، اب یہ میری اچھا پوری کرے گا۔"

​یہ کہتے ہی چندر لال اُس مرغی پر جھپٹ پڑا جو پنجرے میں پھڑپھڑا رہی تھی۔ اُس نے مرغی کو پکڑ کے اُس کا سر منہ میں دے کے زور سے کھینچ لیا اور اُس سے خون کا ایک فوارہ پھوٹنے لگا۔ مرغی کا سر چندر لال کے منہ میں ہی رہ گیا وہ اُسے کسی چیونگم کی طرح چبا رہا تھا۔ مرغی کا دھڑ نیچے خون میں لت پت پڑا تھا۔ چندر لال کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ بہت ہی بھیانک لگ رہا تھا۔ تانترک نے تیز تیز ہنومان چالیسہ پڑھنا شروع کیا۔ چندر لال کے ہاؤ بھاؤ بدلنے لگے تھے۔

​تانترک کا ایک ایک شبد (لفظ) چندر لال پر تیزاب کی طرح پڑتا تھا۔ اُس کا شریر پورا سیاہ پڑ چکا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے سفیدی غائب ہو چکی تھی۔ پچکی ناک، موٹے موٹے بھدے ہونٹ، اُس کا پورا شریر بدل چکا تھا۔ وہ بہت ہی خطرناک آواز میں چیخ رہا تھا، اُس کے چیخنے سے اُس کے مُنہ سے بہت ہی بدبو نکلتی تھی۔ یہ یاکشنی کا اصلی روپ تھا۔ یاکشنی کے خوبصورت چہرے کے پیچھے بہت ہی مکروہ چہرہ تھا۔

​بیس سال بعد

​روز کی طرح پھر سے اُس کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ اُس نے دیکھا کہ وہ غسل خانے میں ہے۔ اُس کے پورے شریر پر پھر سے کچھ رینگ رہا تھا۔ اُس نے جیسے ہی پیروں کی طرف دیکھا تو پھر سے اُس کے منہ سے دل دہلا دینے والی چیخیں نکل گئیں۔ اُس کے پورے شریر پر چھپکلیاں، بچھو اور کیڑے مکوڑے رینگ رہے تھے۔ وہ اپنے ناخنوں سے پورے شریر کو کھرونچ رہا تھا۔ بار بار کھرونچنے سے اُس کے پورے شریر سے خون بہنے لگا۔ بچھو کے بار بار ڈنک سے وہ پھر اُس جگہ کو کھرونچتا۔ اس کا پورا شریر زخمی تھا، بہت ہی دہشت زدہ منظر تھا۔

​(ماضی)

​جنگل کے بیچوں بیچ ایک شمشان گھاٹ تھا۔ بابا اپنی پوجا پاٹ میں مگن تھے۔ سامنے لیموں، ناریل اور چار کھوپڑیاں پڑی تھیں۔ بابا آنکھیں موندے ہوئے مُنہ میں کچھ بڑبڑا رہے تھے۔ رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل چکا تھا۔ شمشان گھاٹ کے اردگرد صرف سبز جھاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ جہاں سے گھسیٹا لال بابا پر نظر رکھ رہا تھا۔ وہ بابا کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک آیا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔ جس سے وہ سب کچھ ریکارڈ کر رہا تھا۔

​بابا نے کچھ پڑھتے ہوئے کھوپڑیوں پر پھونک دیا اور اس کے ساتھ ہی ایک تیز طوفان آیا۔ بابا نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو اُس کی آنکھوں میں لال انگارے دہک رہے تھے۔ اُس کے سامنے ڈاکنی (Dakini) ہوا میں معلق تھی۔ اُس کے بال ہوا میں اُڑ رہے تھے۔ اُس کے بڑے

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Oyena Baqir

Explore more Urdu novels by Oyena Baqir, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the origin of the curse in the haveli?

The curse stems from an act of injustice committed by Rahil's great-grandfather, who imprisoned a Muslim family during the wars of the past.

Why did Chandar Lal make a deal with the Yakshini?

Chandar Lal entered into a supernatural contract with the Yakshini to acquire immense wealth, which required him to live in total isolation.

What did Rahil discover under the veranda of his haveli?

Following the advice of Peer Habib-ul-Islam, Rahil excavated the veranda and discovered the skeletal remains of a girl.

How does the story conclude for the protagonist?

After witnessing the spiritual intervention and uncovering his family's dark history, Rahil chooses to convert to Islam.

👁 1 Views

Leave a Comment