Dua ki chaon by Raghiba Fatima Complete Novel

Dua ki chaon by Raghiba Fatima Complete Novel

Dua ki chaon by Raghiba Fatima — About the Novel

Dua ki chaon by Raghiba Fatima explores the complex intersection of past sins and the hope for redemption. The narrative follows the life of Dawood, a man who transitions from a life of crime to one of deep repentance, and his daughter, Chanda. As Chanda navigates her own life as a wife and mother, she must reconcile her father's dark history with the love and stability she finds in her marriage to Haider. This story examines how faith and forgiveness can reshape a family's legacy.

Novel Summary in Urdu

دعا کی چھاؤں، راغیبہ فاطمہ کا ایک جذباتی ناول ہے جو داؤد نامی شخص کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ داؤد، جو ماضی میں جرائم کی دنیا سے وابستہ تھا، سچی توبہ کر کے اپنی بیٹی چندہ کی پرورش حلال کمائی سے کرتا ہے۔ چندہ کی شادی حیدر نامی پولیس افسر سے ہوتی ہے، جو اسے ایک پرسکون اور خوشحال زندگی فراہم کرتا ہے۔ حیدر اور چندہ کے دو بچے، حنا اور باسم ہیں، جن کے ساتھ ان کی زندگی خوشیوں سے عبارت ہے۔

کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب داؤد کو اس کے ماضی کے جرائم کی پاداش میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اسے عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ جیل کی تنہائی میں داؤد اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہتا ہے اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔ باپ کی موت کی خبر چندہ کے لیے ایک بڑا صدمہ بن کر سامنے آتی ہے، جس سے اس کی صحت اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔

معاشرے کی طرف سے اسے ایک مجرم کی بیٹی ہونے کے طعنے بھی ملتے ہیں۔

اس کٹھن وقت میں حیدر ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ وہ چندہ کو یقین دلاتا ہے کہ اس کا ماضی اس کی پہچان نہیں ہے اور وہ اس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ناول کے آخری حصے میں حیدر اور چندہ کی گھریلو زندگی کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ کہانی اس بات پر زور دیتی ہے کہ توبہ اور محبت کے ذریعے انسان اپنے ماضی کے بوجھ سے نکل کر ایک نئی اور پرسکون زندگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Novel Detailed Summary in English

The story centers on Dawood, a man who once lived a life of crime but eventually sought redemption through sincere repentance and prayer. He raises his daughter, Chanda, with the fruits of his honest labor, shielding her from the shadows of his past. As Chanda grows, she marries Haider, an ASP who provides her with a loving home and a stable family life alongside their two children, Hina and Basim.

Despite the happiness of her current life, Chanda remains deeply connected to her father, viewing him as her hero.

The narrative takes a turn when Dawood is arrested for past crimes and sentenced to life imprisonment. During his time in a cold, narrow prison cell, Dawood finds solace in his faith, ultimately passing away while in a state of prostration. The news of his death deeply affects Chanda, causing her to suffer from profound grief and declining health. She struggles with the stigma of being a criminal's daughter, a burden that others occasionally use to judge her.

Throughout this difficult period, Haider stands by Chanda as a pillar of strength. He dismisses the societal judgment surrounding her father's past, affirming that she is his pride rather than a source of shame. The novel highlights the domestic life of Haider and Chanda, showing their interactions with their children, such as playing Ludo and planning family outings. These moments of warmth contrast with the weight of the past, illustrating the resilience of their bond.

The story concludes by focusing on the healing process, as Haider helps Chanda find peace, emphasizing that the sins of the father do not define the worth of the daughter. Through their shared life, they move forward, finding comfort in the shelter of their own family unit, away from the turmoil of previous years.

Genre

Family based novels

Key Themes

  • Redemption and Repentance
  • Father-Daughter Bond
  • Societal Stigma
  • Spousal Support
  • Resilience in Grief

Short Scene from the Novel

بچی نے فخر سے  اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ " میں نے کہا کہ میرے بابا میرے ہیرو ہیں! میری جان ہیں، میرا سب کچھ ہیں۔ وہ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں اور وہ کبھی کوئی غلط کام کر ہی نہیں سکتے۔ اس لیے وہ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ "

بچی کے یہ معصوم الفاظ اس شخص کے دل پر بجلی کی طرح گرے۔

ایک طرف اس کی بیٹی کا اس پر اندھا اعتماد اور سچا پیار تھا اور دوسری طرف اس کی وہ تاریک دنیا جس میں وہ ڈکیتی اور جرم کرتا تھا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اس نے فوراً بچی کو اپنے سینے سے لگا لیا تاکہ وہ اس کے چہرے پر پھیلی ندامت اور آنسو نہ دیکھ سکے۔

"ہاں میری جان! آپ کے بابا کبھی کچھ غلط نہیں کریں گے۔" اس نے کانپتی آواز میں کہتے ہوئے گڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

دعا کی چھاؤں

ازقلم: رغبہ فاطمہ

انتساب

اللہ کے نام !

پیشِ لفظ

لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

(تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔)

(القرآن: سورة الأنبياء، آیت: 87)

یہ آیت تو آپ نے کئی دفعہ سنی ہے مگر کیا آپ اس کا پسِ منظر جانتے ہیں؟ یہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہے۔

انسان خطا کا پتلہ ہے۔ زندگی کے سفر میں انجانے میں یا نادانی میں اس سے کتنی ہی غلطیاں اور گناہ سرزد ہو جاتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ انسان سے کبھی بھول نہ ہو، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، تو وہ فوراً اپنے غرور کو توڑ کر اپنے رب کے حضور جھک جائے۔ ہمارا رب اتنا کریم اور رحیم ہے کہ وہ بندے کی ایک سچی توبہ اور ندامت پر اس کے برسوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب انہوں نے عجلت میں اپنے رب کے حکم کا انتظار کیے بغیر فیصلہ کیا، تو انہیں مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی گہرائیوں کے امتحان سے گزرنا پڑا۔ لیکن جونہی انہوں نے اندھیروں میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور عاجزی سے پکارا:

"لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"

تو ربِ کریم نے نہ صرف انہیں اس عذاب سے نکالا بلکہ ان کی زندگی کو رحمتوں سے بھر دیا۔

ہدایت اور توبہ کی توفیق انسان کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر، کسی بھی حادثے یا احساس کے ذریعے مل سکتی ہے، بشرطیکہ وہ دل کی آنکھیں کھول کر اسے سمجھے۔ جیسے داؤد نے اپنے ماضی کے تاریک راستوں کو چھوڑ کر، سچی توبہ کی اور اپنی بیٹی کے حق میں سجدے میں گر کر دعائیں مانگیں، تو اللہ نے ان کی توبہ کو قبول فرما لیا اور ان کے گناہوں کی سیاہی کو معافی کے نور سے دھودیا۔

دعا دراصل اللہ سے بات کرنے کا نام ہے؛ یہ کوئی رٹی رٹائی لمبی فہرست نہیں بلکہ اپنے دل کا حال، اپنی بے بسی اور اپنی امیدیں اپنے خالق کے سامنے کھول کر رکھ دینا ہے۔ دعا سے بڑھ کر اس کائنات میں کوئی سہارا نہیں۔ یہی وہ طاقت ہے جو انسان کے بگڑے ہوئے حالات کو سنوار دیتی ہے۔

یہ کہانی بھی ایسے ہی ایک سفر کی عکاس ہے جہاں انسان کی خطائیں اور توبہ، ایک باپ کی ندامت، اور اولاد کے لیے مانگی گئی دعائیں زندگی کے ہر اندھیرے کو اجالے میں بدل دیتی ہیں۔

اللہ ہمیں گمراہیوں سے نکال کر ہدایت کے نور سے نواز دے اور ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے زندہ رکھ۔ بے شک تیری رحمت ہر خطا سے بڑی ہے، اور تیری دعا کی چھاؤں سے بڑھ کر اس کائنات میں کوئی پناہ گاہ نہیں۔ آمین

دعاگو

رغبہ فاطمہ

دعا کی چھاؤں

" آپ آج اتنی دیر سے گھر آئے ہیں؟ " اس نے اپنے خاوند کے ہاتھ سے اس کا کوٹ لیتے ہوئے کہا۔

" بس یار آج بہت کام تھا ورنہ میرا ارادہ تھا آج تمہیں اور بچوں کو باہر گھمانے لے جاؤں گا۔ " وہ کپڑے بدلنے ڈریسنگ روم کی طرف جاتے ہوئے بولا۔

" کوئی بات نہیں ۔ " وہ دھیرے سے بول کر کچن کی طرف چلی گئی۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ اس کا شوہر اس کا خیال کرتا تھا۔

" چندہ؟ " وہ کپڑے تبدیل کر کے اس کے پیچھے کچن میں آیا۔

" جی ! " وہ مڑے بغیر بولی۔

" بچے سو گئے کیا؟ "

" آپ کو تو پتا ہے حیدر اگر رات کو وقت پر نہ سوئے تو صبح اسکول کے لیے اٹھتے ہی نہیں ہیں۔۔۔ آپ کھانے کے بعد کافی لیں گے؟ " چندہ نے مڑ کر دروازے میں کھڑے حیدر کو دیکھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کہا ، " نہیں کھانے کے بعد باہر چلتے ہیں۔ تمہاری پسندیدہ آئس کریم کھائیں گے۔ " وہ کہہ کر چلا گیا۔ چندہ نے فوراً کھانا لگایا۔ پھر دونوں نے مل کر کھانا کھایا اور باہر چلے گئے۔

" تم آج اتنی چپ کیوں ہو؟ " حیدر نے واپسی پر اس سے پوچھا۔

" نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے۔ آپ کو ایسے ہی لگ رہا ہے۔ " وہ مسکرائی۔

اچھا تم کہتی ہو تو ٹھیک ہے۔ میرا وہم ہوگا۔ یہ بتاؤ دن کیسا گیا؟ کوئی نئی پینٹنگ بنائی؟ کوئی نئی کتاب یا ڈرامہ دیکھا؟ " حیدر کے پوچھنے پر اس نے اسے جو کچھ پورا دن کیا سب بتا دیا۔ حیدر سارا وقت اس کو توجہ سے سنتا رہا۔

×-×-×-×-×

سڑک کے کنارے، تیز بارش اور اندھیرے میں چند سال کی معصوم بچی لاوارث پڑی رو رہی تھی۔ وہاں سے گزرتے ایک لمبی چوڑی جسامت والے شخص نے اس بچی کو روتا دیکھا تو اس  کا دل اس ننھی سی جان کو دیکھ کر پگھل گیا۔ وہ اسے اپنے ساتھ اپنے ویران ڈیرے پر لے آیا۔

اس آدمی نے ایک جگہ ہاتھ سے صاف کر کے اپنی شال بچھائی اور بچی کو ادھر بٹھایا۔ وہ بچی اس کی بڑی داڑھی اور لمبے پونی میں جکڑے ہوئے بال دیکھ کر مزید بلند آواز میں رو رہی تھی۔

اس نے ایک پوٹلی کھولی جس میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس نے روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور اس بچی کے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ ٹکڑا کافی سخت تھا مگر اس بچی کو اتنی بھوک لگی تھی کہ وہ اس ٹکڑے کو چوسنے لگی۔ وہ شخص اس بچی کو ترس بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔ اس کے اپنے پیٹ میں بھی چوہے دور رہے تھے مگر اس کے پاس کھانے کے لیے کوئی اور شے نہ تھی۔ جب بچی نے اس ٹکڑے کو چھوڑ دیا تو اس نے وہی ٹکڑا اٹھا کر کھا لیا۔ روٹی بالکل پتھر جیسی تھی مگر وہ اس سب کا عادی تھا۔

" گڑیا اب تم سو جاؤ۔ " وہ اس بچی کو گود میں لٹاتے ہوئے بولا اور پھر اس کا سر تھپکنے لگا۔ کچھ لمحے بعد گڑیا نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے یہی سوچتا رہا کہ کل اسے کیا کھلائے گا۔

×-×-×-×-×-×

حویلی کے روشن ڈرائنگ روم میں اس وقت عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر غبارے، رنگ برنگے رِبن اور 'ہیپی برتھ ڈے' کے بینرز بکھرے پڑے تھے۔ حیدر جلدی جلدی دیوار پر غبارے لگا رہا تھا جبکہ دونوں بچے اپنے ننھے ہاتھوں سے ٹیبل کو سجانے کی ناکام مگر مسحور کن کوششوں میں مصروف تھے۔

"پاپا! ماما سچ میں خوش ہوں گی نا؟" چھوٹی حنا نے ہاتھ میں پکڑا غبارہ حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے معصومیت سے پوچھا۔ " ہم یہ لائٹس بند کیوں کر رہے ہیں؟"

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

حیدر نے آخری غبارہ دیوار پر چسپاں کیا اور مسکرا کر نیچے اترا۔ اس نے حنا کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ "ماما بہت خوش ہوں گی، بیٹا اور لائٹس اس لیے بند کر رہے ہیں تاکہ جب وہ اندر آئیں تو اندھیرے کے بعد ایک دم سے اجالا ہو۔۔۔جیسے سرپرائز ہوتا ہے۔"

"پاپا! میں نے کیک کی موم بتیاں گن لی ہیں۔" بڑے بیٹے باسم نے فخریہ انداز میں کہا پھر کچھ پریشانی سے پوچھا۔"لیکن ماما پانچ سال کی تو نہیں۔ یہ تو صرف پانچ موم بتیاں ہی ہیں۔"

"بیٹے وہ پانچ سال کی نہیں ہیں مگر وہ جتنے سال کی ہیں اتنی موم بتیاں کیک پر لگی اچھی نہیں لگے گی "۔ حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا، گھڑی پر وقت دیکھا اور کہا۔"چلو جلدی سے تم دونوں دروازے کے پیچھے چھپ جاؤ۔ جیسے ہی میں اشارہ کروں، لائٹس آن کر کے ایک ساتھ 'سرپرائز' بولنا ہے۔"

ابھی بچے ہنستے ہوئے پردے کے پیچھے چھپے ہی تھے کہ باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی اور کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔

چندہ نے جیسے ہی دروازہ کھول کر قدم اندر رکھا، ڈرائنگ روم گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ملا۔اس نے الجھن میں سوئچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک چھت پر لگے فانوس اور زرد رنگ کی بتیاں ایک ساتھ روشن ہو گئیں۔ پردے کے پیچھے سے نکل کر دونوں بچے اور سامنے کھڑے حیدر نے ایک ساتھ زور سے کہا:

" Happy Birthday!”

چندہ حیرت سے وہیں جم گئی۔ سامنے ٹیبل پر اس کا پسندیدہ چاکلیٹ کیک رکھا تھا جس پر موم بتیاں جھلملا رہی تھیں۔

"یہ۔۔۔ یہ سب آپ لوگوں نے۔۔۔" چندہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔

حیدر نے مسکرا کر قدم آگے بڑھایا۔ چندہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے۔ حیدر فوراً آگے بڑھا اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔

"مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔" اس نے دھیمے سے حیدر کے سینے پر سر ٹکاتے ہوئے کہا۔

حیدر نے اس کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرا۔ "تمہاری مسکراہٹ سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں چندہ!"

"ماما! " حنا نے چندہ کو پکارا۔ " جلدی کریں ہمیں کیک کھانا ہے۔ "

چندہ نم آنکھوں سے ہنس پڑی اور نیچے بیٹھ کر دونوں بچوں کو ایک ساتھ اپنے سینے سے لگا لیا۔  "میرے پیارے بچے! تم دونوں نے یہ سب سجايا ہے؟"

"جی ماما! پاپا کے ساتھ مل کر!" دونوں نے ایک ساتھ چہک کر کہا۔

"چلو اب جلدی سے کیک کاٹتے ہیں۔" حیدر نے چندہ کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے تھام کر وہ اٹھی۔ اس نے کیک کاٹا اور کئی یادگار لمحے اکٹھے کیے۔

اس کا خاندان، اس کا شوہر، ان کی محبت اس کا کل اثاثہ تھے جن کے بغیر وہ زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

×-×-×-×-×-×

رات کا سناٹا گہرا اور دم گھونٹنے والا تھا۔ اندھیرے کی تہوں کو چیرتا ہوا ایک وجود خاموشی سے اس حویلی نما گھر کی پچھلی کھڑکی سے اندر داخل ہوا۔ گھر کے تمام افراد گہری نیند سوئے ہوئے تھے اور فضا میں صرف ان کی سانسوں کی دھیمی آواز گونج رہی تھی۔

اس شخص نے دبے قدموں بیڈ روم کا رخ کیا۔ اس کی نگاہیں کونے میں رکھی لوہے کی بڑی الماری پر جا ٹکیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے الماری کا لاک توڑنے کی کوشش کی لیکن لوہے کی ہلکی سی کڑکڑاہٹ نے خاموشی کو توڑ دیا۔

یکدم بستر پر سویا ہوا مرد جاگ اٹھا۔اس سے پہلے کہ وہ شور مچاتا یا اٹھ کر کھڑا ہوتا۔اس شخص نے بجلی کی سی تیزی سے اپنی جیب سے پستول نکالی اور سیدھی اس کے سر پر تان دی۔

"ایک لفظ بھی باہر نکالا تو بھیجا اڑا دوں گا!" اس نے دبنگ اور بھاری آواز میں غرا کر کہا۔

خوف کے مارے اس مرد کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے بندوق کی نوک پر الماری کھلوا کر تمام نقد رقم اور سونے کے زیورات اپنے قبضے میں لیے اور رات کے اندھیرے میں ہی وہاں سے غائب ہو گیا۔

صبح ہوتے ہی اس نے سونا کسی آدمی کو بیچا جس سے اس کے ہاتھ اچھی خاصی رقم آ گئی۔ وہاں سے نکل کر اس نے سب سے پہلے کچھ راشن خریدا۔ پھر اس کے قدم ایک دکان کی طرف اٹھے جہاں سے اس نے اپنی گڑیا کے لیے چند خوبصورت فراکس، رنگ برنگی پونیاں، چاکلیٹس اور ڈھیروں ٹافیاں خریدیں۔

اس کے بعد وہ سیدھا نائی کی دکان پر پہنچا۔ کچھ ہی دیر میں جب قینچی چلی تو اس کا پرانا روپ غائب ہو چکا تھا۔ اپنی لمبی، الجھی ہوئی داڑھی اور بکھرے بالوں کے کٹنے کے بعد وہ خاصا خوبصورت، نکھرا ہوا اور باوقار مرد لگ رہا تھا۔ اس نے نئے، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کیے اور اپنے ہاتھ میں سامان کے تھیلے تھامے گھر کی طرف روانہ ہوا۔

گھر پہنچ کر اس نے دروازے پر دستک دی۔ جیسے ہی اس کی بیوی نے دروازہ کھولا ،وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ چند ثانیوں کے لیے تو وہ اسے پہچان ہی نہ سکی۔ اس کا بدلا ہوا روپ اور چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

"داؤد؟" بیوی کے منہ سے بمشکل نکلا۔

ابھی وہ حیران سی کھڑی تھی کہ اندر سے گڑیا کے چہکنے کی آواز آئی۔ "بابا!" وہ اپنے ننھے قدموں سے دوڑتی ہوئی آئی اور سیدھی آ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔

داؤد کے چہرے پر بے ساختہ گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔ باوجود اس کے کہ اس دنیا کے لیے وہ ایک سخت گیر مجرم تھا مگر اس معصوم بچی سے اسے انتہا کی محبت تھی۔ اس نے جھک کر تھیلے نیچے رکھے اور بچی کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی بیوی ان دونوں کو دیکھ کر خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت سے مسکرا دی۔

×-×-×-×-×-×

شام کا وقت تھا، پارک میں کافی چہل پہل تھی۔ وہ شخص جو دنیا کی نظروں میں ایک نڈر اور ظالم ڈاکو تھا ،اپنی گڑیا کا نرم و نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامے بڑی محبت سے اسے جھولے جھلا رہا تھا۔

ہر بار جب جھولا ہوا میں اوپر جاتا، بچی کی کھلکھلاہٹ  گونجتی تو اس کے اندر جیسے بہار اتر آتی۔ اس نے جھولا روک کر بچی کو گود میں اٹھایا۔اس کی پیشانی پر پیار سے بوسہ دیا اور پاس ہی موجود آئس کریم والے سے اس کی پسندیدہ آئس کریم خرید کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ بچی آئس کریم کا ایک چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بڑی معصومیت سے اپنے باپ کا چہرہ دیکھنے لگی۔

"بابا! ایک بات بتاؤں؟"

"ہمم۔۔۔ بتاؤ میری جان!" اس نے بچی کے الجھے ہوئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے نرمی سے کہا۔

"آج اسکول میں میری ٹیچر پوچھ رہی تھیں کہ آپ کے بابا آپ کو کیوں اچھے لگتے ہیں۔"

"اچھا؟ پھر۔۔۔ پھر تم نے کیا کہا؟"

بچی نے فخر سے  اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ " میں نے کہا کہ میرے بابا میرے ہیرو ہیں! میری جان ہیں، میرا سب کچھ ہیں۔ وہ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں اور وہ کبھی کوئی غلط کام کر ہی نہیں سکتے۔ اس لیے وہ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ "

بچی کے یہ معصوم الفاظ اس شخص کے دل پر بجلی کی طرح گرے۔

ایک طرف اس کی بیٹی کا اس پر اندھا اعتماد اور سچا پیار تھا اور دوسری طرف اس کی وہ تاریک دنیا جس میں وہ ڈکیتی اور جرم کرتا تھا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اس نے فوراً بچی کو اپنے سینے سے لگا لیا تاکہ وہ اس کے چہرے پر پھیلی ندامت اور آنسو نہ دیکھ سکے۔

"ہاں میری جان! آپ کے بابا کبھی کچھ غلط نہیں کریں گے۔" اس نے کانپتی آواز میں کہتے ہوئے گڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

×-×-×-×-×-×

گڑیا یونیورسٹی کی

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Raghiba Fatima

Explore more Urdu novels by Raghiba Fatima, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the central conflict in Dua ki chaon?

The central conflict involves Chanda struggling to cope with her father Dawood's criminal past and his subsequent imprisonment, while trying to maintain a happy life with her husband, Haider.

How does Dawood spend his final days?

Dawood spends his final days in a prison cell, where he repents for his past actions and eventually passes away while in a state of prostration (Sajdah).

What is Haider's profession and how does he support Chanda?

Haider is an Assistant Superintendent of Police (ASP). He supports Chanda by standing by her during her grief and rejecting the societal stigma attached to her father's criminal history.

Is Chanda the biological daughter of Dawood?

The manuscript notes that Guriya (Chanda) was aware that Dawood was not her biological father, yet he was the one who raised her and provided for her.

What happens to the family at the end of the story?

The family finds a sense of peace and normalcy, with Haider and Chanda focusing on raising their children, Hina and Basim, and moving past the trauma of the past.

👁 1 Views

Leave a Comment