Qayas e zindagi by Hadia Yousaf — About the Novel
Qayas e zindagi by Hadia Yousaf explores the heavy burden of unfulfilled desires and the lingering shadows of grief. Through the lives of characters navigating personal loss and spiritual reflection, the narrative examines the difficulty of trusting others and the weight of unspoken emotions. As the story unfolds, the discovery of a private diary reveals hidden perspectives on life, love, and the painful reality of regret.
This manuscript offers a poignant look at how individuals process internal struggles and the search for meaning amidst the silence of those who are no longer present.
Novel Summary in Urdu
قیاسِ زندگی ہادیہ یوسف کا ایک ایسا ناول ہے جو انسانی جذبات، مایوسی اور لاحاصل خواہشات کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کا آغاز ایک ایسی مرکزی کردار سے ہوتا ہے جو اپنی زندگی کی تنہائی اور روحانی کشمکش کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے بعد ارضا اور گل بہار کی دوستی کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انسان اپنی ادھوری دعاؤں اور خواہشات کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔
گل بہار کا کردار ایک ایسی شخصیت کا ہے جو عقلی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود جذباتی اعتبار کرنے سے کتراتی ہے۔
کہانی میں موڑ تب آتا ہے جب گل بہار کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے، جو زرنش کے لیے ایک گہرا صدمہ ثابت ہوتی ہے۔ زرنش کو اپنی کزن کی موت کے بعد اس کی ایک ڈائری ملتی ہے، جس میں چھپے ہوئے جذبات اور خیالات درج ہیں۔ دوسری طرف، شہرام خالد کا کردار سامنے آتا ہے جو اپنی زندگی میں کامیابی کے باوجود ایک ایسے پچھتاوے کا شکار ہے جس کا اظہار وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی نہیں کر سکا۔
یہ ناول ان جذباتی الجھنوں اور خاموش محبتوں کی عکاسی کرتا ہے جو انسان کے اندر ہی دفن رہ جاتی ہیں۔ ڈائری کے صفحات اور قبرستان کے مناظر کے ذریعے مصنفہ نے زندگی کی بے ثباتی اور ان الفاظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جو کبھی کہے نہیں جا سکے۔
Novel Detailed Summary in English
The narrative of Qayas e zindagi centers on the internal struggles of its characters as they grapple with existential despair and the complexities of human connection. Initially, the protagonist finds herself reflecting on her life from a rooftop, feeling a profound sense of emptiness that leads her to seek solace in faith and personal writing.
This theme of introspection continues as Arza and her long-time friend, Gul Bahar, discuss the frustration of unanswered prayers and the difficulty of accepting divine will during a meeting at a cafe in Androon-e-Lahore.
As the story progresses, the focus shifts to the fragile nature of trust. Gul Bahar, who prides herself on being rational, admits to her cousin Zarnish that trusting others is the most challenging task she faces. Their conversation on a balcony highlights a shared curiosity about love, though Gul Bahar remains guarded. The atmosphere of the novel shifts dramatically following the sudden death of Gul Bahar due to a nervous breakdown.
This tragic event leaves Zarnish to navigate her grief, eventually leading her to discover a diary that belonged to her late cousin.
In the final stages of the manuscript, the narrative introduces Shahram Khalid, a successful man haunted by the regret of never expressing his love to someone who has since passed away. His internal turmoil, characterized by his inability to move past his silence, mirrors the themes of loss found throughout the story. Zarnish, now reading the contents of the diary, begins to understand the depth of the emotions that were hidden during Gul Bahar's lifetime.
The story concludes with reflections on graveside visits and the lingering impact of words left unsaid, leaving the reader to contemplate the fragility of life and the weight of the choices made by those who remain.
Genre
Sad Stories Based Novels
Key Themes
- Grief and Loss
- Unfulfilled Desires
- The Difficulty of Trust
- Regret and Unspoken Love
- Spiritual Reflection
Short Scene from the Novel
بھوری آنکھوں میں یکدم ماضی کا کوئی منظر اُبھر تھا جب وہ بھی ارضا کی طرح یونہی مایوس ہوگئی تھی اور اُس ایک شے کے پیچھے کتنا بھاگی تھی مگر وہی قسمت کی ستم ضریفی۔۔آہ۔۔اُسے تو کوئی ایسا بھی میسر نہیں تھا جو اُسے سمجھاتا جیسے وہ آج ارضا کو سمجھا رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اُسے اپنے دکھوں کی تشہیر پسند نہیں تھی، وہ بھروسہ نہیں کر سکتی تھی کسی کا بھی اُسے لگتا تھا کہ وہ اگر کسی کے سامنے کھلی کتاب بنی تو دوسرے اُس کی کمزوری جانیں گے یا اُس پر ترس کھائیں گے جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔اس لیے وہ ہمیشہ اپنی مدد خود کرنے کی کوشش کرتی تھی وہ اپنی ذات کا بھرم رکھتی تھی،چاہے کتنی ہی غمگین کیوں نا ہو وہ مسکراتی نظر آتی تھی۔۔اس معاملے میں گل بہار ایک اچھی اداکار تھی ۔۔
Download Novel
نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online reading
ناول کے ابتدائی صفحات
تحریر کا عنوان:
قیاس زندگی
مصنفہ :ہادیہ یوسف
باب نمبر 1
مایوسی
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد وہ چائے کا کپ تھامے چھت پر کھڑی سورج کے غروب ہونے کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا کہ سورج کے ساتھ اس کا دل بھی ڈوبنا شروع ہو گیا ہے۔اندھیرا نہ صرف منظر میں چھا رہا تھا بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا وجود بھی تاریکی کی زد میں آگیا ہے ۔چائے کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے بجھے دل کے ساتھ سیڑھیوں پر قدم دھرے اور نیچے چلی گئی۔ یہ اب روز کا معمول بن گیا تھا شام ڈھلتے ہی اس کا دل بھی ڈھلنے لگتا تھا جانے کیوں روز رات ہوتے ہی مایوسی اسے آن گھیرتی تھی کیسی مشینی زندگی تھی۔ سارا دن دنیاوی کاموں میں مصروف ہونے کے بعد رات ہوتے ہی اس کی بے چینی اضطراب مایوسی اور اداسی بھرنے لگتی تھی ۔ بظاہر سب نارمل تھا وہ مسکراتی تھی ،سب کے ساتھ باتیں کرتی تھی لیکن اسے اپنی ذات میں ایک خالی پن محسوس ہوتا تھا۔
مایوسی، مایوسی فقط ایک لفظ نہیں یہ اس کیفیت کا نام ہے جب آپ خود سے نا امید ہو جائیں جب آپ کو لگے کہ بس اب سب ختم ،کوئی اُمید کی کرن نظر نہ آئے اور دل مختلف وسوسوں میں آ جائے، جیسا کہ کیوں میرے ساتھ ہی کیوں، آخر میں کیوں، کیوں میرا رب میری نہیں سنتا ،آخر مجھ میں کیا کمی ہے ،میں کیوں کسی کا پسندیدہ نہیں، کیوں میں ہی ہمیشہ ہرٹ ہوں ،کیوں آخر کیوں مجھے کوئی سمجھتا نہیں، یہ سب معمولی چیزیں نہیں ہیں یہ آپ کی روح کو کھوکھلا کر رہی ہیں ۔۔
کیا آپ بھی کسی ایسی کیفیت کا شکار ہیں ؟اگر ہاں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔
اس کا ذہن مختلف سوچوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس کے آگے ماضی کی تمام یادیں کسی فلم کی طرح چلنے لگی تھیں۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب اس کا دل ہر بات پر بھر آتا تھا، وہ راتیں جن میں اس کے گرم سیال اس کے چہرے کو بھگو دیتے تھے اور وہ اپنی کیفیت کسی کو سمجھا نہیں سکتی تھی۔ وہ دن جو بہت مشکل تھے، جب اسے لگ رہا تھا کہ بس اب سب ختم، لیکن وہ ان سب سے بچ نکلی۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب وہ بہت حساس تھی، معمولی باتیں دل پر لے لیتی تھی، مگر اب وہ پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ یہ نہیں کہ وہ مضبوط ہو گئی تھی مگر ہاں اب وہ مطمئن تھی۔ اس نے اپنی مدد خود کی تھی۔وہ خود کو بہتر بنانا چاہتی تھی، وہ مضبوط بننا چاہتی تھی، اور شاید آج وہ کسی حد تک مضبوط بھی تھی۔ آخر اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی تھی؟
ایک دن وہ یوں ہی اپنی سوچوں میں گم تھی کہ یکدم اسے خیال آیا کہ وہ ایسی کیوں ہو گئی تھی؟ اتنی مایوسی کہاں سے آگئی تھی؟وہ پہلے تو ایسی نہیں تھی۔ اس نے اپنی اس کیفیت کو جانچا تو اسے علم ہوا کہ وہ مایوسی کا شکار تھی۔ اس کے ذہن میں دو جملے ابھرے:
’’مایوسی گناہ ہے، مایوسی کفر ہے۔‘‘
اور خدایا! وہ مسلمان تھی، وہ کفر کیسے کر سکتی تھی؟ کیا مایوسی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اسے سیدھا کفر کہا گیا؟ اور وہ اس مایوسی کا شکار کتنے عرصے سے تھی؟ اب اسے نئی فکر لاحق ہو گئی تھی کہ وہ اس مایوسی سے کیسے نکلے۔ اسے خود کی مدد کرنی تھی۔ اس گناہ کو چھوڑنے کے لیے، وہ کفر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ مسلمان تھی۔ اس کا دھیان اب اپنی ایمانی حالت کی طرف گیا۔ وہ مسلمان تو تھی، مگر کیا وہ اچھی مسلمان تھی؟ وہ نمازوں میں کوتاہی کر جاتی تھی، کئی کئی دن تک قرآن نہ کھولتی تھی، دانستہ اور غیر دانستہ طور پر گناہ کرتی تھی۔ شاید اچھی مسلمان وہ نہیں تھی، لیکن اس بات کا فتویٰ لگانے والی وہ کون ہوتی تھی؟ ہم انسان ہیں، ہم بھٹک جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن ہمارے رب کی طرف رجوع کرنے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، کم از کم تب تک جب تک آپ کی سانسیں چل رہی ہوں۔ اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھنے کے لیے بیٹھ گئی۔ یہ اس کا خود کو ہمت دلوانے کا واحد ذریعہ تھا۔ وہ خود کو اس مایوسی سے نکالنا چاہتی تھی، اپنی مدد آپ کے تحت۔
جب کبھی مایوس ہو جاؤ، یا کچھ ہار جاؤ!
تو اُس کی آرزو کی جستجو کرنا!
خود کو اُس کے رنگ میں رنگ دینا!
چاہے اُس سے کتنا بھی دور ہو جاؤ،
لیکن جب بھی پکارو گے، اپنے ساتھ پاؤ گے!
اُس کا ذکر کر لینا کہ اُس کے ذکر میں تمہارے لیے مرہم ہے!
اُس کے کلام میں تمہارے لیے شفا رکھی ہے!
وہ تمہارے زخموں کو بھر دے گا!
اور تم خود کو اُس کے قریب پاؤ گے!
یہ قربت تمہارے لیے راحتِ دل ہو گی!
اور پھر تم کسی شے کی چاہ نہ کرو گے!
ایک طویل سانس کھینچتے ہوئے اس نے ڈائری بند کی اور سونے کی غرض سے بیڈ پر لیٹ گئی۔ اب وہ پہلے سے زیادہ پُرسکون تھی۔
جب تک آپ مرض کی تشخیص نہیں کر لیتے، تب تک آپ کوئی دوائی نہیں لے سکتے، لیکن جب آپ کو پتہ چل جائے کہ آپ کو کیا بیماری ہے تو آپ فوراً اس کے علاج کی طرف بھاگیں گے، کیا ایسا نہیں ہے؟ ایک لمحے کے لیے رکیں اور اپنے مرض کی تشخیص کریں، پھر سوچیں کہ اس مرض کا علاج کیا ہے۔ کیا آپ اپنے مرض کو لاعلاج چھوڑ دیں گے؟ نہیں، اسے آپ نے خود ٹھیک کرنا ہے۔ ایک علاج میں آپ کو تجویز کرنا چاہوں گی، وہ ہے قرآن۔ کیا قرآن سے بڑھ کر کوئی مرہم ہو سکتا ہے؟ کیا آپ کے رب سے بڑھ کر کوئی شافی ہے؟ نہیں نا! تو دیر کس چیز کی کر رہے ہیں؟ ہماری روح کو خوراک کی ضرورت ہے جو اللہ نے اپنے ذکر اور کلام میں رکھی ہے۔ بے شک چند آیات پڑھیں، لیکن باقاعدگی سے اور ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔ قرآن کے لیے وقت نکال لیں، اپنے مصحف کو کھولیں۔ مایوسی کفر ہے، اس بات کو اگر سمجھ لیا جائے تو ہمارے آدھے سے زیادہ مسئلے حل ہو جائیں۔ کفر کا مطلب انکار کرنا ہے۔ کیا آپ کفر کرنا چاہیں گے؟ نہیں نا! آپ کو اپنی مدد خود کرنی ہے۔ کوئی دوسرا آ کر آپ کے مسئلے حل نہیں کرے گا۔ لوگوں سے امیدیں لگانا اور ان کے پیچھے بھاگنا بھی چھوڑ دیں۔ اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ زندگی کا بھروسا کسے ہے؟ کیا آپ کفر کی حالت میں مرنا پسند کریں گے؟ زندگی بہت مختصر ہے۔ کوشش کریں، اس میں اپنے رب کو راضی کر لیں۔
_______________________
باب نمبر 2
ادھوری خواہشات
خواہشات ادھوری کیوں رہ جاتی ہیں؟میں نے دل سے خواہش کی تھی،اللہ سے دعا بھی کی تھی مگر پھر بھی میری خواہش پوری کیوں نہیں ہوئی؟ کیوں آخر کیوں مجھے وہ نہیں ملا جو میں نے چاہا تھا۔۔۔
آج وہ اپنی برسوں پرانی دوست کے ساتھ اندرونِ لاہور کے
کیفے صَاُدقٓین (CAFÉ SADEQUAIM) میں بیٹھی تھی،ایک طویل عرصے کے بعد آج اُن کی ملاقات ہوئی تھی۔ایک وہ دور تھا جب وہ روز ملتی تھیں مگر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا،وقت بڑی ظالم شے ہے۔
کالج ختم ہونے کے بعد دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف چل دی مگر اُن کی دوستی آج بھی پہلے کی طرح قائم تھی۔
آج اُسے اپنی دوست کچھ ڈسٹرب لگ رہی تھی،کچھ وقت سے فون پر بات کرتے ہوئے بھی اُسے لگتا تھا کہ اُس کی دوست کسی پریشانی سے گزر رہی تھی ایسی باتیں وہ بہت جلدی بھانپ لیتی تھی اُس نے سوچا اب مل کر ہی پوچھوں گی۔
ارضا سب ٹھیک ہے ناں؟ کچھ ہوا ہے؟ ارضا جو کہ کسی غیر مرئی نکتے کو دیکھ رہی تھی یک دم چونکی اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر سوال کیا۔۔
گل بہار خواہشات ادھوری کیوں رہ جاتی ہیں؟
ارضا شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی،اُس کی آنکھوں میں گلہ تھا آخر کیوں ہر چیز جو اُسے پسند ہوتی تھی دور چلی جاتی تھی؟کیوں ہر وہ چیز جس کی وہ چاہ کرتی تھی وہ نہیں ملتی تھی؟وہ خود کو سیاہ بخت کہتی تھی۔
آہ یہ خواہشات ادھوری کیوں رہ جاتی ہیں۔۔۔
اتنی دیر میں اُن کا کافی کا آرڈر آگیا ۔
گل بہار نے نرمی سے ارضا کی جانب دیکھا،چند الفاظ اپنے ذہن میں سوچے اور پھر بولنا شروع کیا۔۔
اگر کوئی چیز ہمارے لیے ہمارے رب نے لکھی ہی نہیں تو وہ کیسے مل سکتی ہے؟
مگر گل بہار میں نے تو اللہ سے اتنی دعا بھی کی تھی،میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے۔
ارضا کیا کبھی تم نے اُن نعمتوں پر غور کیا ہے جو تمہارے پاس ہیں؟ ایک تندرست جسم،اچھا لائف سٹائل،بہترین رزق اور بھی نا جانے کیا کیا ۔۔تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ تمہارے ساتھ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے؟
ہماری کوئی خواہش پوری نہ ہو تو ہم باقی نعمتوں کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
ٹھیک ہے بعض چیزیں نہیں ملتی،کچھ خواہشات رہ جاتی ہیں ادھوری اس کا کوئی علاج نہیں ہم چاہ کر بھی بعض خواہشات کو پورا نہیں کر سکتے۔
سب کی زندگی میں کوئی ناں کوئی ایسی خواہش ہوتی ہے جو ادھوری رہ جاتی ہے۔ مگر ارضا پتہ ہے خواہشات کے روگ میں خود کو ہلکان نہیں کرتے۔
زندگی پہلے ہی بہت کٹھن ہے اور اگر ساتھ میں کسی ادھوری خواہش کی کسک ہو تو زندگی گزارنا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔
جب معلوم پڑ جائے کوئی چیز آپ کے لیے لکھی نہیں گئی تو وقت سے فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے کیونکہ جو لکھا ہی نہیں وہ کیسے مل سکتا ہے؟
ہم اللہ سے کتنی دفع گلہ کرتے ہیں کہ فلاں چیز ہمیں نہیں ملی ، ہم نے تو دعا بھی کی تھی،تہجد میں بھی اللہ سے مانگا تھا مگر پھر بھی مجھے کیوں نہیں ملی؟
یہ ایک وہ شکوہ ہے جو ہم سب کو کبھی ناں کبھی ہوتا ہے۔مگر کیا پتہ اس میں ہماری ہی بھلائی ہو؟ ارضا اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاؤ تمہاری مشکلات حل ہو جائیں گی۔یہ اتنا آسان کام نہیں ہے لیکن کوشش تو ہم کر ہی سکتے ہیں ناں؟
ارضا بس سر ہلا کر رہ گئی صرف گل بہار ہی تھی جس کی باتیں اُس کے لیے مرہم کا کام کرتی تھیں اور وہ پُر سکون ہو جاتی تھی۔
گل بہار کیا تمہاری کبھی کوئی ادھوری خواہشات رہی ہیں؟
بھوری آنکھوں میں یکدم ماضی کا کوئی منظر اُبھر تھا جب وہ بھی ارضا کی طرح یونہی مایوس ہوگئی تھی اور اُس ایک شے کے پیچھے کتنا بھاگی تھی مگر وہی قسمت کی ستم ضریفی۔۔آہ۔۔اُسے تو کوئی ایسا بھی میسر نہیں تھا جو اُسے سمجھاتا جیسے وہ آج ارضا کو سمجھا رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اُسے اپنے دکھوں کی تشہیر پسند نہیں تھی، وہ بھروسہ نہیں کر سکتی تھی کسی کا بھی اُسے لگتا تھا کہ وہ اگر کسی کے سامنے کھلی کتاب بنی تو دوسرے اُس کی کمزوری جانیں گے یا اُس پر ترس کھائیں گے جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔اس لیے وہ ہمیشہ اپنی مدد خود کرنے کی کوشش کرتی تھی وہ اپنی ذات کا بھرم رکھتی تھی،چاہے کتنی ہی غمگین کیوں نا ہو وہ مسکراتی نظر آتی تھی۔۔اس معاملے میں گل بہار ایک اچھی اداکار تھی ۔۔
ارضا ہم سب زندگی میں کسی نا کسی خواہش کا بوجھ اُٹھاتے ہیں شاید میری بھی نا جانے کتنی ادھوری خواہشات ہوں کیا معلوم ۔۔ یہ کہہ کر ایک تلخ ہنسی اُس کے ہونٹوں کو چھو کر گزری اتنے سنجیدہ موضوع پر بھی وہ ہنس پڑی تھی مگر اُس کی بھوری آنکھیں ہنستے ہوئے اُس کا ساتھ نہیں دیتی تھیں شاید کوئی درد چھپا تھا اُن میں۔۔
خیر چھوڑو یہ بتاؤ اور کیا مصروفیات چل رہی ہیں آج کل ارضا میڈم کی؟
آہ وہ ایک دفع پھر موضوع بدل گئی تھی چونکہ بات اب اُس کے جذبات پر آگئی تھی۔
یوں دونوں کی باتوں کا سلسلہ کافی دیر چلتا رہا اور پھر دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف رواں ہو گئیں۔۔
دل میں دکھ اوڑھے رکھنا مگر بظاہر خوش نظر آنے سے بڑا کوئی فریب نہیں ہوتا ہے۔آپ سب کے ساتھ ہنس،بول رہے ہوتے لیکن کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ آپ کا دل کس قدر زخمی ہے ،کیا چیز آپ کو تکلیف دے رہی ہے،کس چیز سے آپ کو دکھ پہنچ رہا ہے۔۔کتنی اذیت ناک بات ہیں ناں کہ کوئی آپ کو سمجھتا ہی نہیں ۔۔بے شک سب کچھ ٹھیک بھی ہو جائے لیکن پھر بھی ایک خلا رہ جاتا ہے جسے کوئی بھی پُر نہیں کرسکتا ۔۔
کیا آپ کا بھی کوئی ایسا شکوہ ہے اپنے رب سے کہ آپ کی فلاں خواہش پوری نہیں ہوئی؟
تو ایک لمحے کے لیے سوچیں جس چیز کو آپ نے اتنے دل سے مانگا خلوصِ نیت کے ساتھ اور وہ پھر بھی نہیں آپ کو ملی تو ذرا سوچیں کہ ایسی چیز کیا آپ کے حق میں بہتر ہوگی؟ کیا پتہ اُس میں آپ کے لیے خیر نا ہو۔۔ہمیں غیب کا علم تو نہیں ہے ناں اور جسے ہے اُس ذات نے اگر ہم سے وہ شے دور کی ہے تو کیا معلوم اُس میں ہماری بھلائی ہی ہو؟
خیر اور بھلائی کی دعا کیا کریں کہ جو چیز آپ کے حق میں بہتر ہے وہ ہوجاۓ۔۔
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
اس دعا کو اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں شامل کر لیں،تاکہ خیر کے دروازے آپ پر سدا کھلے رہیں۔۔
____________________________________________________
باب نمبر 3
دل کی حدود
رات کی تاریکی چاروں جانب پھیل چکی تھی۔ ایسے میں اگر غور کیا جائے تو دو وجود بالکنی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ آسمان پر چاند اور چند ستارے تھے۔ اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو دو کرسیاں، ایک گول میز پڑا تھا اور بالکنی پر چند پودے تھے۔ ایک بوگن ویلیا نے بالکنی کی ریلنگ کو ڈھانپا ہوا تھا۔ یہ سادہ سا منظر بہت مکمل اور پُرسکون تھا۔
آج گل بہار کے بے حد اصرار پر اس کی بچپن کی دوست اور کزن، زرنیش،
ان کے گھر آئی ہوئی تھی۔ دونوں میں خاصی بے تکلفی تھی۔ دونوں کو اب
فرصت ملی تھی تو وہ چائے لے کر بالکنی پر آ گئی تھیں۔ وہ نہ جانے کتنی دیر
سے بیٹھی باتیں کر رہی تھیں کہ اچانک زرنیش نے سوال کیا۔
"گل بہار، تمہارے لیے سب سے زیادہ مشکل کام کیا ہے؟"
"اعتبار کرنا۔"
مجھے معلوم تھا کہ تمہارا جواب کچھ ایسا ہی ہوگا۔ اس کی
وجہ کیا ہے؟ تمہیں اعتبار کرنا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟
مجھے اعتبار کے ٹوٹنے سے خوف آتا ہے۔ مجھے لوگ قابلِ بھروسا
نہیں لگتے، مجھے ہر کوئی کسی چال کا حصہ لگتا ہے۔
یہ تو اچھی بات نہیں۔ تمہیں مشکلات آ سکتی ہیں۔
آ سکتی ہیں؟ گل بہار نے سوالیہ انداز میں کہا۔ میں مشکلات
میں گھری ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کب یہ عادت
اپنا لی اور اس سے چھٹکارا اب ناممکن سا لگتا ہے۔ لیکن پتہ
ہے، کہیں نہ کہیں مجھے اس بات کا فائدہ بھی ہے۔
اگر میرا اعتبار کرنا کسی پر اتنا آسان کام ہوتا تو شاید آج میں
اتنی مضبوط نہ ہوتی۔
زرنیش نے کچھ دیر اسے دیکھا،
مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں
About the Writer

About the Writer
Hadia Yousaf
Explore more Urdu novels by Hadia Yousaf, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.
View All Novels by This Writer →مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔
Similar Novels
Frequently Asked Questions
What is the central conflict for the character Arza?
Arza struggles with the frustration of having unfulfilled desires and questions why her prayers remain unanswered.
Why does Gul Bahar find it difficult to trust others?
Gul Bahar claims that she relies more on her mind than her heart, making the act of trusting others a significant challenge for her.
What leads to the discovery of the diary in the story?
After the death of Gul Bahar, Zarnish discovers the diary hidden among books while grieving her cousin's passing.
Who is Shahram Khalid and what is his role?
Shahram Khalid is a successful man who suffers from deep regret because he never expressed his love to someone who has since passed away.
What is the significance of the diary in the narrative?
The diary serves as a medium through which Zarnish understands the hidden thoughts and emotional state of the deceased Gul Bahar.
👁 24 Views












