Duniya ya phir dhoka by Areej Imran Complete Novel

Duniya ya phir dhoka by Areej Imran Complete Novel

Duniya ya phir dhoka by Areej Imran — About the Novel

Duniya ya phir dhoka by Areej Imran is a poignant exploration of human choices, societal pressures, and the heavy price of past mistakes. The narrative centers on Shayan, a man defined by his pride and isolation, and Zoya, whose life serves as a guide through the complexities of faith and unrequited love. As the characters navigate their personal tragedies and moral dilemmas, the story questions whether the world we perceive is reality or merely a deception.

This novel delves into the lives of individuals struggling with their inner demons and the consequences of their actions.

Novel Summary in Urdu

دنیا یا پھر دھوکہ ازقلم اریج عمران انسانی زندگی کے تلخ حقائق اور غلط فیصلوں کے گرد گھومتی ایک جذباتی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار شایان ہے جو اپنی انا اور غرور میں قید ہے، جبکہ زویا کا کردار صبر، محبت اور اپنے رب سے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ زویا کی شایان سے یکطرفہ محبت اور اس کے رد کیے جانے کا عمل کہانی میں گہرا دکھ پیدا کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایزل کی المناک موت اور اس سے جڑے خاندانوں کے دکھ اس ناول کے اہم پہلو ہیں۔ کہانی میں زرنش اور لبینہ جیسے کردار بھی شامل ہیں جو معاشرتی دباؤ اور اپنے کیے گئے گناہوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ زرنش کی شادی اور اس کے بعد شہریار کی جانب سے طلاق کا واقعہ معاشرے کے ظالمانہ رویوں کو اجاگر کرتا ہے۔ شایان اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنی انا کے بوجھ تلے دب کر پچھتاوے کا شکار ہوتا ہے۔

ناول میں وکیل، عدالت، اور خاندانی مسائل کے ذریعے زندگی کی حقیقتوں کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہماری زندگی کے فیصلے درست ہیں یا ہم کسی دھوکے کا شکار ہیں۔ اریج عمران نے کرداروں کی نفسیاتی کشمکش اور ان کے انجام کو بہت باریکی سے بیان کیا ہے، جس سے قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے جو انسان کو اس کی اصل منزل تک پہنچا دیتا ہے۔

Novel Detailed Summary in English

The story follows the lives of several interconnected characters, primarily focusing on the emotional turmoil of Zoya and the prideful existence of Shayan. Zoya, a woman who finds solace in her faith, harbors a deep, unrequited love for Shayan, who initially rejects her advances. Their lives are set against a backdrop of family struggles, including the illness of Shayan’s mother, Kulsoom Begum, and the tragic loss of a young girl named Ezel, whose death leaves a profound impact on those around her.

The narrative also tracks the lives of other characters like Zarnish, who grapples with the consequences of her past choices, and Lubina, a writer whose life is marked by controversy and harassment.

As the plot progresses, the characters face various trials, including legal battles involving Arsal Sheikh and the personal fallout from secret relationships. The manuscript highlights the stark reality of societal judgment, as seen in the experiences of Zarnish, whose marriage to Shahryar ends abruptly following accusations of misconduct. Shayan, meanwhile, struggles with his own internal conflicts and the weight of his past decisions, eventually confronting his feelings for Zoya only after it is too late.

The novel maintains a somber tone, emphasizing the themes of regret, the search for truth, and the inevitable consequences of one's path. Through the lens of Duniya ya phir dhoka, the author examines how pride and hidden sins can shape the trajectory of human lives, leading to outcomes that are often both tragic and transformative. The story concludes with the characters facing the aftermath of their choices, leaving them to reconcile with the reality of their situations.

Genre

Tragedy Based Novels

Key Themes

  • Unrequited Love
  • Consequences of Pride
  • Societal Judgment
  • Faith and Spiritual Guidance
  • Regret and Redemption

Short Scene from the Novel

کاشان نے آگے بڑھ کر احمد کو سہلرا دیا تو باقی سبھی لوگوں نے کلمہ شہادت کہتے ہوئے جنازہ اٹھایا ۔ گھر میں چیخ و پکار اٹھی ایلین بھاگ بھاگ کر جنازے کے پیچھے جارہی تھی اس کی والدہ نے اسے تھام رکھا تھا امی میری بچی میری بچی کو نہ لے کر جاؤ میری ایزل کو یہ اکیلی نہیں رہ سکتی اسے اس کی پھوپھو کے پاس چھوڑ دو یہ اس کے ساتھ سوتی ہے میری بیٹی اکیلی ڈر جائے گی وہاں ایلین کو صبر آنا مشکل تھا وہ ماں تھی اسے کیسے صبر آسکتا تھا جبکہ زویا نے تکلیف سے اپنی آنکھیں میچ میں تھیں اور گھٹنوں پر سر رکھے بچوں کی طرح رو دی تھی جیسے آج آخری بار رو رہی ہے اس کے بعد کبھی نہیں روئے گی ۔

Download Novel

نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Editor note: Download URL missing — replace ADD_DOWNLOAD_URL_HERE before publishing.

Online reading

ناول کے ابتدائی صفحات

دنیا یا پھر دھوکہ

ازقلم: اریج عمران

(مکمل ناول) 

پیش لفظ

"سرابِ وفا" یہ صرف الفاظ نہیں ہیں آج یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے ۔ اس کے بارے میں ہر انسان جانتا ہے مگر بات کرنے سے ڈرتا ہے ۔ سراب وفا آج ہر گھر کا قصہ بن گیا ہے۔ آج تقریباً تمام پاکستانی اسے جھیل رہے ہیں۔ آج ہر چوتھا انسان اس میں مبتلا ہے۔ اس کے بارے میں جانتے تو سب ہیں لیکن بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔

یہ کہانی میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے ۔

یہ وہ کہانی ہے جس کا کوئی ہیرو نہیں ہے ۔ جس میں ہر انسان ویلن ہے اور اپنا دشمن خود ہے۔ اس کہانی کے بارے میں میں کیا ہی کہوں میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہنے کے لیے ۔

اس کہانی میں زویا کو کردار کافی حد تک میں نے خود نبھایا ہے۔ اسے کہانی کا ایک ایک لفظ کو میں نے بہت سوچ سمجھ کر لکھا ہے کہ کہیں مجھ سے کوئی لفظ غلط نہ لکھا جائے یا پھر مجھ سے کچھ ایسا نہ لکھا جائے جس سے کوئی گمراہ ہو میں گناہ کو گناہ دیکھنے کے چکر میں کہیں گناہ کو مزہ نہ لکھ دوں۔

اس میں ہمارے معاشرے کی بہت تلخ حقیقتیں ہیں ایسی حقیقتیں جوکہ زمین ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بہت دیکھتے ہیں جو کہ خدا کی غضب کو پکارتی ہیں۔ اور ہم پر خدا کا عذاب آ بھی رہا ہے مگر ہم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہے۔

اس کہانی کی اکثر لائنیں لکھتے ہوئے میں رو پڑتی اور پھر اکثر لائنیں لکھتے ہوئے سوچ میں پڑ جاتی اس کہانی نے میری روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔

میں لائن لکھتی پھر مٹاتی پھر لکھتی ور پھر مٹا دیتی۔ اکثر مجھے لکھتے ہوئے ڈر لگتا کہ کہیں میں کچھ غلط نہ لکھ دوں ۔ اپنے لفظوں کو بار بار جانتی کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسی بات تو نہیں لکھی جس سے کوئی گمراہ ہو جس سے کسی کے ذہن میں کوئی غلط خیال آئے جو کسی کے گناہ کی وجہ بنے۔

ہمیشہ اس بات کا خیال کرتی کہ گناہ کو گناہ لکھنے کے چکر میں کہیں میں گناہ کو کو خوبصورت بنا کر تو نہیں پیش کر رہی ۔

اس کہانی میں ہمارے معاشرے کی بہت سی اخلاقی برائیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ سو فیصد سچی اور سبق آموز ہیں۔ ان کہانیوں کا لکھنے کا مقصد صرف اور صرف اپ کو صحیح اور غلط کی پہچان کروانا ہے ۔

ہم انسان زندگی میں بہت سی غلطیاں کرتے ہیں مگر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور پھر وہ غلطیاں نہیں دہراتے لوگ اگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غلطی کرتے ہیں اور پھر اس پر ڈٹے رہتے ہیں اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتے اور تب تک وہ غلطی دہراتے ہیں جب تک اللہ تعالی ان کی رسی کو کس نہیں لیتے۔

انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے ہر انسان گناہ کرتا ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے لے کر آج تک ہر انسان نے غلطی کی ہے ہر انسان سے کوئی نہ کوئی خطا سرزد ہوئی ہے۔ مگر جب ہم یہ دیکھیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اج تک جس جس نے بھی غلطی کی ہے ان میں سے جو اس غلطی پر ڈٹا رہا اس نے نقصان اٹھایا اور جس نے اپنی خطا کو خطا مان کر اللہ تعالی سے توبہ کی اور اپنی غلطی کو سدھارا تو اس سے اس کی غلطی دور کر دی گئی اللہ تعالی نے اسے معاف بھی کیا۔

تو اگر اج ہم بھی اپنی غلطیوں پر ڈٹے رہیں گے تو یوں ہی نقصان اٹھائیں گے۔

اور اگر ہم اپنی غلطی کو تسلیم کر کے ائندہ وہ غلطی نہیں کریں گے تو بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔

✧・゚: *❧┈┈┈┈┈❧┈┈┈┈┈❧*:・゚✧

ناول کے محرکین

کہانی کچھ لوگوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ آئیے ملتے ہیں اس قصے کے ان لوگوں سے، جن کے بغیر یہ داستان ادھوری رہتی۔"_

زویا

ایک ایسا کردار جو کہ صرف اس لیے لکھا گیا تاکہ آپ کو راہ دکھائی جائے ۔ غلطیوں کی تلافی اور رہنمائی سیکھنے کا ذریعہ ۔

شایان

ایک خیالی کردار جو کہ غرور کا مجسمہ ہے مگر ہے تو انسان ہی نہ۔

لبینہ

ایسا کردار جس کی زندگی فحش پر مبنی ہے۔

عالیہ

وہ کردار جس کا رستہ غلط اور انجام بھیانک ہے۔

لائبہ

ایک ایسا کردار جو کہ گناہوں کے گرد گھومتا ہے ۔

زرنش

جسے غلط را دکھائی جاتی ہے جس سے غلط راستے پر چلایا جاتا ہے۔

ایلین

معاشرے کا ایک اہم کردار معاشرے پھیلتا ہوا زہر۔

ایزل

غلطیوں کی بھینٹ چڑھنے والی لڑکی ۔

ضرار

معاشرے کا سچ جو کہ پایا تو جاتا ہے جسے سب دیکھتے ہیں مگر مانتے نہیں ہیں۔

انتساب:

معاشرے کی ایسی حقیقت کے نام جو بہت کڑوی ہے ۔ ایک گھناؤنے جرم کے نام ۔ 

اے خدا کے بندے تجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔

تو اس دھوکے میں کہاں کھو گیا ہے؟

یہ دنیا نہ تجھ کو کبھی نفع دے گی ۔۔۔۔

تو پھر بھی اس کو جیتنے میں لگا ہوا ہے۔۔۔۔

دنیاوی چیزیں تجھے لبھانے لگی ہیں۔۔۔۔

ان سونے ، روپیوں کا تجھے لالچ پڑا ہے۔۔۔۔

تجھے دنیا کے کام عزیز تر ہیں۔۔۔۔

کہ تو اپنے پروردگار کو بھول گیا ہے۔۔۔۔

تجھے اپنی آخرت کی فکر نہیں ہے ۔۔۔۔

تو دنیا کے سمندر میں اس قدر ڈوب گیا ہے۔۔۔۔

تجھے خدا کے نام سے محبت نہیں رہی ۔۔۔۔

کیوں تو اتنا باغی ہو گیا ہے؟

مصیبتوں میں تو لوگوں کے پاس جاتا ہے۔۔۔۔

تو کیوں خدا سے مایوس ہو گیا ہے؟

یوں تو تو خدا کی پکڑ میں ا جائے گا۔۔۔۔

کیوں تو خدا کے غضب کو بھول گیا ہے؟

تجھے یقین ہے کہ تیرے گناہ ناقابل معافی ہیں۔۔۔۔

لیکن تو رحمت الٰہی کو بھول گیا ہے۔

چل چھوڑ سب کچھ تو توبہ کر لے ۔۔۔۔

تو کیوں اخرت کو بھول گیا ہے؟

تعارف:

سورۃ آل عمران (آیت 185)"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ"ترجمہ: "اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔"

سورۃ الحديد (آیت 20)"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ"ترجمہ: "اور دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ دھوکے کا سامان ہے۔"

جب اللّٰہ تعالیٰ قرآن پاک میں خود فرما رہے ہیں کہ یہ دنیا صرف ایک دھوکا ہے تو پھر ہم کس گمان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ دنیا ایسے ہی رہنی ہے جیسے اب نظر آرہی ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں جو نظر آرہا ہوتا ہے وہ بھی حقیقی نہیں ہوتا۔

یہ دونوں ایک ہی رہوں گی میں جو ہمیں نظر آرہی ہوتی ہیں یہ سب پانی ہے یہ خوبصورت لباس یہ اونچے محل یہ بڑی گاڑیاں یہ خوبصورت چہرے ان سب نے ایک روز خاک ہو جانا ہے ۔ اگر رہ جانا ہے تو صرف ہمارے اعمال میں جو ہم نے اس دنیا پہ کیے ہوں گے۔

یہ دنیا وہ جگہ ہے جہاں وفاداری سب سے بڑا دھوکا ہے ۔ یہاں کوئی کسی کے ساتھ وفادار نہیں ہوتا ۔ یہاں رشتہ محبت اور الفت کا نہیں بلکہ ضرورت اور نام کا ہوتا ہے۔

یہ دنیا ایک چھلاوا ہے ۔ جیسے مسافر کو رات کے اندھیروں میں چھلاوے رستہ بھلا دیتے ہیں اسی طرح یہ دنیا بھی انسانوں کو اپنی رنگینیوں میں مگن کر کے راہ راست سے ہٹا دیتی ہے انسان کو یہ برا دیتی ہے کہ وہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے انسان اپنی پیدائش کا مقصد بھول جاتا ہے اور اس دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا انسان کو اتنا خوبصورت بند کر دکھاتی ہے کہ انسان اس کو پانے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔

دنیا سب سے بڑا دھوکا مال ہے ۔ یہ دنیا انسان کو سب سے زیادہ مال سے محبت سکھا کر گمراہ کرتی ہے ۔ جب انسان کو مال سے محبت ہو جاتی ہے تب انسان کے دل میں اللہ تعالی کی محبت ختم ہو جاتی ہے۔

اس کے علاؤہ بچے اگر ہم دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں آج کل جو کچھ اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ حقیقتا بالکل بھی ویسا نہیں ہے۔ ہمیں دکھایا جاتا ہے کہ فلاں جگہ پر فلاں غلطی ہو رہا ہے فلاں جرم ہو رہا ہے مگر حقیقتا ایسا نہیں ہوتا ہمیں چھوٹے چھوٹے جرائم کو دکھا کر بڑے جرائم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔

ہم جو جرائم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ان کی حقیقت بہت گہری اور بھیانک ہوتی ہے۔ اس کہانی میں بھی کچھ ایسے ہی جرائم بیان کیے گئے ہیں جو کہ حقیقت میں اسلامی معاشرے کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ۔

باب اول:

بینائی

کہتے ہیں کہ محبوب کی جدائی آنکھوں کا نور چھین لیتی ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کے غم میں اتنا روئے کہ ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔

مگر پھر جب حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض کو اپنے چہرے پر پھیرا تو آپ علیہ السلام کی بینائی واپس آگئی ۔

وہ روکنگ چیئر پر بیٹھا سامنے دیوار کو تک رہا تھا جہاں ایک لڑکی کی تصویر لگی تھی ۔

خوشخبری) رائٹرز متوجہ ہوں(

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور ان کی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ اگر آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے ایڈریس پر ابھی رابطہ کریں۔

Prime Urdu Novels Publications

Whatsapp : 03335586927

Email: aatish2kx@gmail.com

کیا دیکھ رہے ہو اس نے اس کے قریب آکر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔

دیکھ رہا ہوں کہ محبوب نظر نہ آئے تو پھر بھی کتنا حسین لگتا ہے نہ ۔ کہنے کے ساتھ ہی اس کے گلے میں ایک گرہ بندھی تھی۔

کیا تمھیں بہت یاد آتی ہے اس کی اس نے ہمدردانہ طور پر پوچھا ۔

مگر اس کی اس ہمدردی نے اس کے گلے میں ایک اور گرہ لگائی تھی کہ اسے اب بولنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ مجھے کبھی بھولتی ہی نہیں۔ وہ مجھے بھولے گی تو میں اسے یاد کروں گا مگر وہ ہے کہ بھولتی ہی نہیں اور بھولتے بھی تو وہ لوگ ہیں جو کہیں ہوں ہی نہ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے کو تیار تھے مگر وہ انہیں روکے ہوئے تھا۔

وہ تو میرے ساتھ رہتی ہر وقت

جاگوں تو خیال بن کر۔۔۔۔

سوؤں تو خواب بن کر ۔۔۔۔

جیوں تو روح بن کر ۔۔۔۔

چلوں تو سایه بن کر ۔۔۔۔

سنوں تو آواز بن کر

دیکھوں تو نظاره بن کر ۔۔۔۔

بولوں تو دل بن کر۔۔۔۔

ساتھ،جیتی ہے زندگی بن کر ۔۔۔۔۔۔

وہ ہر پل میرے ساتھ رہتی ہے۔

میری رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے وہ میرے ذرے ذرے میں اتر چکی ہے میں کبھی اس خود سے جھٹکنے کی کوشش کروں تو وہ میرے دل میں مزید گہرائی میں چلی جاتی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آئی کیسے کسی کو اتنا چاہ سکتا ہے۔

شاید اسے بھی مجھ سے اتنی ہی محبت تھی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ محبوب کی جدائی اتنا درد دیتی ہے تو میں اسے کبھی نہ دھتکارتا۔

وہ ابھی اپنے غم میں مگن تھا کہ زوئی ا کر اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اہستہ اہستہ اس کو بال سہلانا شروع کیے وہ پیار سے اس کے سر میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔

میں تمہارے لیے کھانا لے کے آئی تھی شایان پیچھے بیٹھی لبینہ نے کہا۔

جی آپ جائیں میں کھا لوں گا اس نے یہ کہہ کر بات ختم کی تھی اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ یہاں سے جا سکتے ہیں۔

کچھ وقت وہ یوں ہی بیٹھا زوئی کی ساتھ کھیلتا رہا اور پھر جب اس کا دل ہلکا ہو گیا تو اٹھ کر بیڈ پر آ کر بیٹھا اور کھانا کھانے لگا۔

اس کی زندگی اب بس تین چیزوں پر محیط تھی ایک اس کا کمرہ مطلب اس کی یاد دوسرا اس کی زوئی تیسرا اس کا قرآن۔

لبینہ اس کھانا دے کر باہر آگئی اس کی انکھیں بھی متورم تھی۔ دل تھا کہ اچھل کر باہر آنے کو تیار تھا حلق میں کئی گرہیں بندھیں تھیں اسے اس کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوتا تھا کہیں نہ کہیں وہ بھی اس کی اس حالت کی قصور وار تھی۔

ماضی میں ہونے والے حادثات نے اس سے بہت بدل کے رکھ دیا تھا اب سے غلطیوں پر پچھتاوے ہوتے تھے اب اسے گناہ گناہ لگتا تھا اب وہ غلط کو غلط کہتی تھی اسے اس کی زندگی کے حادثوں نے بدل کر رکھ دیا تھا۔

وہ اپنی ساس کو کھانا دینے کے لیے ان کے پاس گئی اس کے ساتھ اگرچہ بوڑھی ہو چکی تھی اور پھر شیان کے غم نے تو انہیں اندر ہی اندر سے مار ڈالا تھا۔

جوان بیٹے کا غم آخر کس ماں سے برداشت ہوتا ہے۔ انہیں ٹی بی ہو گیا تھا اور وہ بھی آخری مرحلے پر پہنچ گیا تھا ۔ ٹی بی کے باعث انہیں اور بھی بہت سی بیماریوں نے آن پکڑا تھا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی اب قاصر ہو چکی تھیں ۔

ایک حادثے کے باعث ان کا گھر ٹوٹ کر لے جا ریزہ ہو گیا تھا۔

لبینہ بیٹا شایان کو بلا دو کلثوم بیگم نے نے اپنی کمزور آواز میں کہا ۔

جی امی میں بلاتی ہوں وہ انہیں کھانا کھلا چکی تھی لبینہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر ہو گئی۔

لبینہ نے شایان کے دروازے پر دستک دی ۔

جی آجائیں شایان بڑی بے زاری سے اندر آنے کی اجازت دی۔

شایان تمھیں امی بلا رہی ہیں ۔ لبینہ نے ساتھ اسے اس کی ماں کا پیغام دیا۔

کیوں خیر ہے شایان کا بالکل بھی دل نہیں تھا کسی سے بھی ملنے کو اور اپنی ماں سے ملنے کا تو دل بالکل بھی نہیں کر رہا تھا۔

آجاؤ ہمیں تو میں بلا رہی ہیں اب بس بھی کر دو۔ لبینہ نے اسے ڈانٹتا تھا۔

طبیعت کیسی ہے ان کی شایان نے پھر سوال کیا لیکن جانے کے لیے آمادہ نہیں ہوں۔

ٹھیک نہیں ہے ان کی طبیعت کیا قصور ہے آخر ان کا جو تم ان کو یوں سزا دیتے ہو۔

شایان نے کوئی جواب نہیں دیا آپ جائیں میں آتا ہوں یہ کہہ کر اسے بھی جانے کے لیے بول دیا۔

کچھ وقت بعد وہ اور زوئی کلثوم بیگم کے کمرے میں موجود تھے ۔

کلثوم بیگم اپنے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی تھیں جبکہ شایان ان کے قریب صوفے پر بیٹھا تھا اس نے ان کے پاس بیٹھنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔

اس کے زوئی تھی اور وہ اسے کھیل رہا تھا جیسے وہ یہاں اسی سے ملنے آیا ہو۔

شایان بیٹا کیا تمھیں تمھاری ماں اتنی بری لگتی ہے جو تم میرے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

شایان جواب میں کچھ

مکمل ناول آن لائن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں

Editor note: Online reading URL missing — replace ADD_READER_URL_HERE before publishing.

About the Writer

Writer illustration

About the Writer

Areej Imran

Explore more Urdu novels by Areej Imran, including stories for readers who enjoy Urdu fiction.

View All Novels by This Writer →

مصنفہ کے مزید ناولز پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔

Other Novels Of The Writer

Similar Novels

Frequently Asked Questions

What is the central conflict between Zoya and Shayan?

Zoya loves Shayan deeply and expresses her feelings through messages, but Shayan rejects her love, leading to significant emotional distress for Zoya.

What happens to Ezel in the story?

Ezel is a young girl who suffers a tragic fate; she is found injured, taken to the hospital, and eventually passes away, which deeply affects her family and those around her.

Why does Shahryar divorce Zarnish?

Shahryar divorces Zarnish the morning after their marriage, labeling her as 'bad-character' due to her past actions.

What is the significance of Shayan's art gallery?

Shayan's art gallery is a private space where he keeps his memories and art, and he is extremely protective of it, rarely allowing anyone inside.

What is the role of Zoya's faith in the novel?

Zoya considers God her closest friend and finds comfort in prayer and talking to Him, especially during times of emotional pain and unrequited love.

👁 1 Views

Leave a Comment