December ki woh sard raat by Behzad Sheikh Complete novel

December ki woh sard raat by Behzad Sheikh Download pdf

About The Novel December ki woh sard raat by Behzad Sheikh

December ki woh sard raat by Behzad Sheikh Complete novel.

December Ki Woh Sard Raat – The Triumph of Faith Over Darkness

Introduction: Are you looking for a supernatural thriller that doesn’t just scare you but also offers a path to spiritual protection? “December Ki Woh Sard Raat” by Behzad Sheikh is a gripping conclusion to a story that began on a lonely, foggy road and ended at the doorstep of a spiritual guide. It is a profound exploration of the unseen world and the power of divine intervention. This novel has become a sensation in Urdu literature for its realistic portrayal of spiritual healing and the battle between good and evil.

Novel Detailed Summary in English

The Climax: A Battle in the Shadows: The story reaches its peak when the protagonist, Ayan, is confronted by a dark entity right inside his home. The terror is palpable—muddy footprints on the carpet and a chilling presence behind him in the kitchen. Behzad Sheikh uses these elements to show that evil doesn’t always stay in “deserted places”; it can follow you home if you are spiritually vulnerable. The suspense is masterfully crafted, leading to a point where Ayan’s physical and mental health completely deteriorates.

The Role of Spiritual Guidance: The turning point is the introduction of the Pir-o-Murshid (Spiritual Guide). In many modern thrillers, the hero wins through luck or physical strength, but here, the victory is purely spiritual. The guide explains that the entity Ayan encountered in the wilderness was powerful, but the power of Dua (Prayer) and Istighasa (calling for help through a spiritual medium) is far superior. This provides a deep cultural and religious context that resonates with millions of readers.

The Concept of ‘Hisaar’ (Spiritual Protection): The novel provides a practical and authentic method of protection based on the Mu’awwidhatayn (the last two chapters of the Quran). By teaching the character (and the reader) how to perform a “Hisaar,” the author transforms a fictional story into a source of real-world guidance. The message is clear: cleanliness (Wudu), prayer (Salah), and the remembrance of Allah are the ultimate shields against the trials of the unseen world.

Why “December Ki Woh Sard Raat” is Impactful:

  1. Relatable Fear: The fear of being followed or watched is a universal human experience.
  2. Psychological Realism: The way Ayan’s family reacts to his illness is depicted with great sensitivity.
  3. Spiritual Solution: It offers a hopeful resolution, proving that light always dispels darkness.
  4. Engaging Narrative: The pacing from the accident to the final recovery is flawless.

Conclusion: The ending of December Ki Woh Sard Raat is a heartwarming reminder of God’s mercy. Ayan’s journey from a skeptical university student to a firm believer is a path many readers find inspiring. Behzad Sheikh has successfully combined a horror thriller with a message of faith, making it a masterpiece of modern Urdu storytelling. As the novel concludes, Ayan is no longer the same person—he is now protected, enlightened, and spiritually awake.

***************

Novel Summary in Urdu

“دسمبر کی وہ سرد رات” بہزاد شیخ کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے جو سسپنس، ہارر اور روحانیت کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ یہ کہانی آیان نامی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے، جس کا سامنا ایک ویران سڑک پر کچھ ایسی نادیدہ اور پراسرار قوتوں سے ہوتا ہے جو اس کے سائے کی طرح اس کے گھر تک پہنچ جاتی ہیں۔

یہ ناول محض ڈرانے کے لیے نہیں لکھا گیا، بلکہ یہ قاری کو “حصار” کی اہمیت، “اذکار” کی برکت اور “پیر و مرشد” کی روحانی رہنمائی سے روشناس کرواتا ہے۔ بہزاد شیخ نے نہایت مہارت سے یہ پیغام دیا ہے کہ جہاں برائی کی طاقتیں موجود ہیں، وہیں اللہ کے ذکر اور کامل ایمان کا نور ہر اندھیرے کو مٹانے کی طاقت رکھتا ہے۔

کرداروں کا تعارف:

آیان عامر: کہانی کا مرکزی ہیرو، جس کا سامنا ایک بدروح (سائے) سے ہوتا ہے اور اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔

عامر صاحب اور صالحہ بیگم: آیان کے والدین، جو اپنے بیٹے کی پراسرار بیماری اور بدلتی حالت پر شدید پریشان ہیں۔

آمان: آیان کا بڑا بھائی، جو ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔

پیرو مرشد: وہ روحانی شخصیت جن کی دعا اور بتائے ہوئے وظائف سے آیان کو نجات ملتی ہے۔

سایہ (بدروح): وہ نادیدہ قوت جو آیان کے ساتھ اس کے گھر تک آ پہنچی تھی۔

ناول کا انجام آیان کے حادثے کے بعد کے ہولناک اور پھر سکون بخش واقعات پر مشتمل ہے۔ جب آیان کی گاڑی کا ایک بار پھر ایک تباہ حال درخت سے ٹکرانے کے بعد ایکسیڈنٹ ہوتا ہے اور وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، تو وہ سایہ اس کے بالکل قریب آ پہنچتا ہے۔ ایک مٹیالا اور خوفناک ہاتھ آیان کے چہرے کی طرف بڑھتا ہے، مگر عین اسی وقت اسے اپنی ماں کی نصیحت یاد آتی ہے کہ مشکل میں “مرشد کریم” کو پکارو۔ آیان جیسے ہی دل سے استغاثہ پیش کرتا ہے، ایک روحانی نور نمودار ہوتا ہے جو اس سائے کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔

آیان کو اس کے گھر والے ڈھونڈ لیتے ہیں، وہ گھر تو آ جاتا ہے مگر وہ سایہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ گھر کے قالین پر گیلے اور مٹیالے نشانات، الماری کا خود بخود کھلنا اور آیان کا شدید بخار میں مبتلا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ چیز اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ صالحہ بیگم کو بھی کچن میں آیان کے پیچھے ایک پراسرار ہیولا نظر آتا ہے۔ جب ہر طرح کا علاج ناکام ہو جاتا ہے، تو آمان کے دوست کے مشورے پر اسے ان کے “پیرو مرشد” کے پاس لے جایا جاتا ہے۔

مرشد کریم آیان کو دیکھتے ہی سارا معاملہ سمجھ جاتے ہیں۔ وہ اسے بتاتے ہیں کہ وہ ایک بہت برا سایہ ہے جو اسے جان سے مارنا چاہتا تھا، مگر اس کی پکار نے اسے بچا لیا۔ مرشد اسے “حفاظتی حصار” بتاتے ہیں جس میں سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس کو درود پاک کے ساتھ پڑھ کر دم کرنا شامل ہے۔ وہ آیان کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیشہ باوضو رہے، نماز کی پابندی کرے اور اللہ کے ذکر کو اپنی ڈھال بنائے۔

مرشد کے بتائے ہوئے وظائف اور حصار پر عمل کرتے ہی آیان کی حالت بدلنے لگتی ہے۔ گھر سے وہ پراسرار سائے اور منحوس اثرات غائب ہو جاتے ہیں اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جاتی ہے۔ ناول کا اختتام ایک بہت ہی خوبصورت سبق پر ہوتا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے اور اس کے حکم کے بغیر کوئی ذرہ بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ آیان جو پہلے ان باتوں کو عام سمجھتا تھا، اب ایک پختہ ایمان اور روحانیت سے بھرپور انسان بن چکا تھا۔

****************

About The Writer, Behzad Sheikh

بہزاد شیخ اردو ادب کے ان ابھرتے ہوئے لکھاریوں میں شامل ہیں جو پراسرار موضوعات کو اصلاحی رنگ دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیاں سادہ مگر نہایت پُر اثر ہے، جو قاری کو کہانی کے ہر منظر میں جذباتی طور پر شامل رکھتا ہے۔ بہزاد شیخ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف خوفناک مناظر نہیں دکھاتے بلکہ ان کا حل بھی قرآن و سنت اور روحانی تعلیمات کی روشنی میں پیش کرتے ہیں۔

“دسمبر کی وہ سرد رات” میں انہوں نے انسانی نفسیات اور ماورائی مخلوق کے ٹکراؤ کو جس طرح قلمبند کیا ہے، وہ ان کی فکری پختگی اور سماجی ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی تحریریں نوجوان نسل کے لیے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔

****************

Sneaks Peeks From Novel

“آیان…”

اُس کے قدم ساکت ہو گئے۔ وہ حیران تھا کہ اس ویرانے میں کون اسکا نام پکار رہا ہے۔

“کون ہے؟” اُس نے ہمت کرتے  بلند آواز میں کہا، مگر جواب میں صرف ہوا کی خاموشی ملی۔

وہ آگے بڑھا، درختوں کے بیچ، سرد زمین پر قدم رکھتا ہوا، جیسے کوئی انجانی کشش اسے اندر کھینچ رہی ہو۔ اور وہاں، ایک پرانا سا بینچ… اور اس کے پیچھے کھڑا ایک دھندلا سایہ۔

اچانک آیان پر ایک عجیب سا خوف اور وحشت سی طاری ہو گئی۔۔اور وہ واپسی پلٹ گیا ۔اور گاڑی اسٹارڈ کی اور تیزی سے وہاں سے نکالی اور ایک ہاتھ سےاسٹیرنگ پکڑے دوسرے ہاتھ سے عامر صاحب کو فون ملانے کی کوشش کی لیکن سگنل تھے کہ آ نہیں رہے تھے خوف سے اسکی پیشانی پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں اچانک اسے محسوس ہوا کوئ سایہ اسکی گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

آیان نے گاڑی کی رفتار اور تیز کر دی۔ ہیڈلائٹس کی روشنی درختوں کے بیچ سڑک پر دھند کی لکیر بناتی جا رہی تھی، اور سائے کا وجود برابر ساتھ ساتھ — جیسے سائے کی رفتار انسانوں جیسی نہ ہو۔۔۔

دل کی دھڑکن سینے سے باہر آنے کو تیار تھی۔ آیان نے ایک بار پھر فون چیک کیا… *”نو سگنل!”*

آیان کی گاڑی تیز رفتاری سے سڑک پر دوڑ رہی تھی، اچانک سامنے سے ایک سایہ نما جسم اچانک سڑک پر نمودار ہوا۔ آیان نے فوراً بریک دبائی، مگر رفتار زیادہ تھی اور وہ کار مکمل روک نہ سکا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی کو ایک زوردار جھٹکا لگا، اور زور دار دھکا لگنے سے کار بے قابو ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کار گھومتی ہوئی سڑک کے کنارے ایک بڑے درخت سے جا ٹکرائی۔ گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، اور کچھ شیشے آیان کی پیشانی پر لگے جس سے خون کی نکلنے لگا۔ وہ زخموں کے باوجود ہوش میں تھا مگر شدید درد اور خوف میں مبتلا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی بند ہو چکی تھی۔ آیان نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ سڑک سنسان… اور وہ سایہ؟ غائب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

اور پوری سڑک ایسے تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔

لیکن پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سانس کی آواز… بلکل پاس سے۔ جیسے کوئی گردن کے قریب کھڑا ہو۔

وہ پلٹا۔

اور وہاں… کوئی تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی رات ہو گئی یہ آیان کہاں رہ گیا ہے کال کر کے معلوم تو کیجے صالحہ بیگم نے پریشانی سے شوہر کو کہا۔۔روانہ ہو رہا تھا تو بات ہوئی تھی میری اسکے بعد اسکی کوئی کال نہیں آئی میں کب سے کال ملا ملا کر تھک گیا ہوں نمبر سویچڈ آف آ رہا ہے عامر صاحب نے چکر لگاتے ہوئے کہا ۔باقی سب کو تو متمعین کر دیا اب کیا کریں ابو میں بائیک پر دیکھ آوں کچھ راستے کہیں آیان کسی مشکل میں نہ ہو آمان نے کہا نہیں بیٹا آجاے گا تم فکر مت کرو اور تم کہیں نہیں جاؤ گے سمجھے صالحہ بیگم نے فکر مندی سے کہا۔۔۔۔۔آنے دو اس لڑکے کو پوچھتا ہوں اسکو عامر صاحب نے غصے اور پریشانی کی ملی جلی کنڈیش میں کہا۔۔آپ بھی نہ جب دیکھو اس پر غصہ ہی کرتے رہنا کوئی اور بات بھی تو ہو سکتی ہے صالحہ بیگم نے بیٹے کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔

…آیان کی سانس جیسے تھم سی گئی ہو۔ گردن کے پاس جیسے ابھی بھی کوئی کھڑا ہو۔۔۔،آیان کو اس کا وجود محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہلکی ہلکی سانس کی گرمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیان کی ہمت جواب دے رہی تھی،۔۔۔۔۔

“کون ؟” اُس نے پوری جان لگا کر پوچھا — اس بار آیان کی آواز میں ہلکی ہلکی لرزش تھی اور ٹانگیں جیسے جسم کا ساتھ چھوڑنے لگی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر کار وہ پلٹا اور گاڑی کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔۔گاڑی میں پہنچتے ہی گاڑی کے سارے دروازے بند کر دیے

۔۔۔۔۔۔”ادھر آیان اسی کشمکش میں تھا کہ اب کیا کرے ۔۔۔۔۔کہ اچانک گاڑی کے اندر ٹھنڈ بڑھ گئی۔ جیسے گاڑی کے سارے ایئرکنڈیشنر خود بخود چل پڑے ہو، مگر وہ تو بند تھے ۔ پھر ایک لمحے کو آئینے میں اُسے وہ سایہ گاڑی کے پیچھے سیٹ پر بیٹھا دکھائی دیا!۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا جسم جیسے ساکن ہو گیا ہو ۔ ایک چیخ اندر ہی اندر گھٹ گئی۔

، مگر پیچھے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔

 اسکی سانس جیسے رُکنے لگی۔ وہ صرف ایک لفظ ہی نکال پایا: *”کون…؟”*

خاموشی… اور پھر گاڑی کے اندر کسی اور سانس لینے کی آواز۔۔۔۔۔۔۔

****************

Download December ki woh sard raat by Behzad Sheikh in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Us paar ka jahan by Zoya Qureshi Complete

Teri Khaatir by Aleena Farid Complete

Jang e baqa by Sawera Ahmad Complete

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 516 Views

Leave a Comment