About The Novel Fidakaari by Dawood Faiz
Fidakaari by Dawood Faiz Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Fidakaari by Dawood Faiz is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
A Tale of Broken Shoes and Golden Dreams by Dawood Faiz
In the world of contemporary Urdu literature, few writers can capture the raw essence of societal struggles like Dawood Faiz. After the success of his previous works, Junoon K Rang and Rishton Ki Khushboo, he returns with a gripping new masterpiece titled “Fidakaari”.
The novel introduces us to Atif, a 17-year-old boy living in a remote, harsh tribal area where books are viewed with suspicion and guns with pride. Atif is the son of Haji Farooq, a loyal servant to the local landlord, Sardar Khair Bakhsh. While the rest of the tribe spends their time in cattle herding and tribal feuds, Atif dreams of a life beyond the dust-filled streets of his village.
The central theme of Fidakaari is the struggle between the ruling elite and the oppressed class. Sardar Khair Bakhsh represents the feudal mindset that education is a privilege of the few. When Atif tries to pursue his studies, he isn’t just fighting poverty—he is fighting a system designed to keep him in the shadows. The scene where his science book is torn by the Sardar’s nephew is a heartbreaking metaphor for how the dreams of the underprivileged are often shredded by those in power.
Atif’s strength comes from his mother, Sakina Bibi. In a house where meat is a luxury and tea is often the only meal, she keeps Atif’s spirit alive. The imagery of a mother sewing together the torn pages of a textbook with a needle and thread is one of the most powerful symbols in the book. It highlights that while the world might tear a student’s dreams apart, the resilience of a family can piece them back together.
The plot thickens with the arrival of Mir Jalal Raisani, a sophisticated city man who sees the spark in Atif. His dialogue—“In the right hands, a book is more powerful than a gun”—sets the tone for the rest of the novel. It offers Atif a glimpse of hope, leading to a high-stakes scholarship exam that could change his life forever.
- Emotional Depth: Dawood Faiz has a unique ability to make the reader feel Atif’s exhaustion and his father’s silent fears.
- Social Commentary: The novel raises important questions about the accessibility of education in rural Pakistan.
- Compelling Characters: From the cold-blooded Sardar to the hopeful schoolteacher, every character is etched with realism.
- Suspenseful Narrative: The opening scene of the hospital ventilator leaves the reader questioning the fate of the protagonist until the very end.
Fidakaari is not just a story; it’s an emotion. It’s a tribute to every student who walks miles to reach a broken school building. Dawood Faiz has successfully crafted a narrative that is both a mirror to our society and a beacon of hope for dreamers.
***************
Novel Summary in Urdu
“فداکاری” داؤد فیض کے قلم سے نکلی ایک ایسی ولولہ انگیز داستان ہے جو طبقاتی نظام، قبائلی جبر اور خوابوں کی حرمت کے گرد گھومتی ہے۔ یہ کہانی عاطف نامی ایک ایسے نوجوان کی ہے جو ایک پسماندہ قبیلے کے نوکر کا بیٹا ہے، جہاں قلم کے بجائے بندوق کو عزت کا معیار مانا جاتا ہے۔ سردار خیر بخش کے حجرے سے شروع ہونے والی یہ کہانی اس وقت ایک دردناک موڑ لیتی ہے جب عاطف کے خوابوں کو قبیلے کی روایات کے پیروں تلے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
“فداکاری” محض ایک لڑکے کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس غریب طالب علم کی آواز ہے جو بھوک، پیاس اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود آسمان چھونے کی تمنا رکھتا ہے۔ یہ ناول ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی صرف منصب کی نہیں ہوتی، بلکہ اپنے خوابوں کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دینے کا نام “فداکاری” ہے۔
مرکزی کردار:
عاطف: کہانی کا ہیرو، ایک انتہائی ذہین اور صابر لڑکا جو غربت اور قبیلے کی سختیوں کے باوجود تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔
حاجی فاروق: عاطف کا باپ، جو سردار کا وفادار نوکر ہے مگر دل میں اپنے بیٹے کے لیے بڑے ارمان رکھتا ہے۔
سردار خیر بخش: قبیلے کا ظالم اور متکبر سربراہ جو تعلیم کو غریبوں کے لیے زہر سمجھتا ہے۔
سکینہ بی بی: عاطف کی ماں، جو خاموشی سے اپنے بیٹے کے خوابوں کی آبیاری کرتی ہے۔
میر جلال رئیسانی: ایک روشن خیال شہری افسر جو عاطف میں چھپی چنگاری کو پہچان لیتا ہے۔
****************
About The Writer, Dawood Faiz
داؤد فیض اردو ادب کے منظر نامے پر ایک ابھرتا ہوا اور معتبر نام ہیں۔ کراچی کی ادبی و ثقافتی زمین سے تعلق رکھنے والے داؤد فیض انسانی جذبات اور معاشرتی ناانصافیوں کو لفظوں میں پرونے کا خاص ہنر جانتے ہیں۔ ان کے پچھلے ناولز “جنون کے رنگ” اور “رشتوں کی خوشبو” قارئین میں بے حد مقبول ہو چکے ہیں، جن میں انہوں نے رشتوں کی نزاکت اور محبت کے مختلف رنگوں کو موضوع بنایا۔
داؤد فیض کا اسلوبِ بیان سادہ مگر پر اثر ہے، جو قاری کو کہانی کے اختتام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔ ان کا نیا ناول “فداکاری” ان کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں انہوں نے ایک پسماندہ معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اور خوابوں کی قیمت کو انتہائی مہارت سے اجاگر کیا ہے۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
> “بس بہت ہو گیا! ایک لڑکے کی کامیابی نے تم سب کو بدل دیا ہے؟ کل سے کوئی لڑکا تعلیم کے بہانے قبیلے سے باہر نہیں جائے گا!”
محفل خاموش ہو گئی۔ مگر اس بار لوگوں کی آنکھوں میں پہلے جیسا خوف نہیں تھا۔
ادھر عاطف گھر پہنچا تو اس کی ماں بار بار اسے دیکھ رہی تھی، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ اس کا بیٹا واقعی AMC جانے والا ہے۔ چھوٹی بہنیں خوشی سے اس کے گرد گھومتی رہیں۔ والد خاموش بیٹھے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں فخر صاف نظر آ رہا تھا۔
رات کو کھانے کے بعد والد نے آہستہ سے کہا:
> “بیٹا… ہم غریب ضرور ہیں، مگر آج تو نے ہمیں امیر کر دیا۔”
عاطف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی محنت صرف اس کا خواب نہیں رہی، پورے گھر کی عزت بن چکی ہے۔
چند دن بعد AMC روانگی کی تاریخ آ گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ عاطف کے پاس مناسب کپڑے بھی نہیں تھے۔ یونیفارم اور ضروری سامان کی لسٹ لمبی تھی، جبکہ گھر کی حالت کمزور۔ والد نے اپنی پرانی بچت نکالی، مگر وہ ناکافی تھی۔
اسی دوران کلیم دوبارہ قبیلے آیا۔ اس بار وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے عاطف کو ایک بیگ دیا۔
> “یہ میری طرف سے نہیں… دوستی کی طرف سے ہے۔”
بیگ کھولا تو اندر نئے جوتے، چند کپڑے اور ضروری سامان تھا۔ عاطف کچھ لمحے خاموش رہا۔
> “کلیم… میں یہ واپس نہیں کر سکوں گا۔”
کلیم ہنس پڑا۔
> “پاگل! فوج میں جا کر واپس مت کرنا، بس کبھی بدلنا مت۔”
اسی رات علیزے کو بھی خبر ملی کہ عاطف چند دنوں میں راولپنڈی جا رہا ہے۔ وہ کافی دیر کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی۔ دل چاہ رہا تھا ایک بار عاطف سے بات کرے، مگر قبیلے کی دیواریں بہت اونچی تھیں۔
ادھر سردار خیر بخش کے اندر عجیب جنگ چل رہی تھی۔ وہ جتنا عاطف کو روکنے کی کوشش کرتا، عاطف اتنا ہی آگے نکل جاتا۔ پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ طاقت ہمیشہ بندوق یا خوف میں نہیں ہوتی… کبھی کبھی علم بھی انسان کو ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے۔
روانگی والے دن صبح فضا عجیب اداس تھی۔ عاطف نے چھوٹا سا بیگ اٹھایا، ماں کے ہاتھ چومے اور والد سے گلے ملا۔ ماں رو پڑی۔
> “اپنا خیال رکھنا بیٹا…”
عاطف نے مسکرا کر کہا:
> “امی، اب واپس تب آؤں گا جب آپ مجھے ڈاکٹر کے لباس میں دیکھیں گی۔”
بس چلنے لگی تو عاطف نے آخری بار اپنے قبیلے کو دیکھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اس کے خوابوں کا مذاق اڑایا گیا تھا… اور یہی جگہ اب اس کی کامیابی کی کہانی سنانے والی تھی۔
AMC
پہنچ کر عاطف کی اصل زندگی شروع ہوئی۔ خواب پورا ہونا ایک بات تھی، مگر اسے جینا بالکل الگ امتحان تھا۔
ابتدا میں سب کچھ اس کے لیے نیا تھا—سخت ڈسپلن، لمبے لیکچر، مسلسل ٹریننگ اور تھکن سے بھرا روٹین۔ صبح فجر سے پہلے اٹھنا، پریڈ، پھر کلاسز، پھر لیب، اور رات کو دیر تک اسٹڈی۔ اکثر وہ کتابوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے تھک جاتا، مگر پھر خود کو یاد دلاتا:
> “میں یہاں صرف اپنے لیے نہیں ہوں…”
اس کی ماہانہ stipend شروع ہو گئی تھی۔ رقم زیادہ نہیں تھی، مگر عاطف کے لیے وہ بہت بڑی نعمت تھی۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کرتا۔ تھوڑا سا اپنے لیے رکھتا—صرف ضروری چیزوں کے لیے—اور باقی تقریباً پورا گھر بھیج دیتا۔
ہر مہینے جب وہ پیسے گھر بھیجتا، اس کی ماں کے ہاتھ کانپ جاتے۔ وہ رقم گنتی نہیں تھی، بس سینے سے لگا لیتی۔
> “یا اللہ… میرا بیٹا اب ہمارے لیے سہارا بن گیا ہے…”
گاؤں میں جب پیسے پہنچتے، تو ماں کے چہرے پر وہ سکون آتا جو برسوں سے غائب تھا۔ چھوٹی بہنیں خوش ہو کر کہتیں:
> “بھائی نے پھر پیسے بھیجے ہیں!”
اور والد خاموشی سے بیٹھے بس یہ سوچتے رہتے کہ جس بیٹے کو لوگ ناکام سمجھتے تھے، وہ اب پورے گھر کی طاقت بن چکا ہے۔
ادھر AMC میں عاطف کی اصل struggle جاری تھی۔ کئی کیڈٹس آرام دہ زندگی سے آئے تھے، ان کے پاس سب کچھ تھا، مگر عاطف کے پاس صرف ایک چیز تھی—صبر۔
جب وہ رات کو دوسرے لڑکوں کو فون پر باتیں کرتے دیکھتا، ہنستا کھیلتا دیکھتا، تو وہ خاموشی سے کتاب کھول لیتا۔ اس کے پاس فون نہیں تھا، نہ وقت ضائع کرنے کی عادت۔
کبھی کبھار تھکن اتنی بڑھ جاتی کہ وہ میز پر سر رکھ کر کچھ لمحے آنکھیں بند کر لیتا، پھر فوراً اٹھ جاتا:
> “نہیں… رکنا نہیں ہے…”
****************
Download Fidakaari by Dawood Faiz in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ داؤد فیاض کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Ehad e yaran by Saher Abid Complete
Woh Shaksh Akhrish Mujhe Be-Jaan kar Gaya by TinkerBell Complete
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 417 Views

















