Abateel by Mahnoor Aqeel Complete novel

Abateel by Mahnoor Aqeel Download pdf

(Current Chapter 3)

Abateel by Mahnoor Aqeel Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Abateel by Mahnoor Aqeel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

A Riveting Tale of Justice and Deceit

Urdu literature has always been a mirror to society, and Mahnoor Aqeel’s latest masterpiece, Abateel, is no exception. If you are a fan of suspense, emotional depth, and social thrillers, this novel is a must-read. In this blog post, we dive deep into the world of “Abateel,” exploring its themes, characters, and why it’s trending among Urdu novel readers.

The title “Abateel” is derived from Arabic, referring to falsehood, vanity, or things done for mere show. The novel brilliantly deconstructs the concept of “show-off” (Dikhawa) in our society—how people wear masks of piety while hiding dark secrets.

The story of Abateel Urdu Novel follows the life of Maria Shamir Ali, a young and ambitious lawyer whose world revolves around her father, Shamir Ali. Their bond is heartwarming, but fate has a cruel plan. After her father is brutally murdered, Maria finds herself in the middle of a dangerous conspiracy.

Before his death, her father leaves her a USB drive, calling it a “sacred trust.” This drive contains secrets that could topple the powerful figures of society. The plot thickens as Maria transitions from a protected daughter to a fierce seeker of justice.

  • Maria Shamir Ali: The protagonist who represents resilience. Her journey through grief and law is inspiring.
  • Ziyaad Marwan Pasha: A man of mystery and scars. His role is pivotal in helping Maria navigate the web of lies.
  • Mustafa Arsalan Agha: The antagonist-leaning character who embodies ego and power. His obsession with winning makes him a formidable presence.
  1. Strong Narrative: Mahnoor Aqeel’s writing style is polished and engaging, making it hard to put the novel down.
  2. Social Commentary: It tackles issues like sexual harassment, social hypocrisy, and the misuse of power.
  3. Suspense and Thrill: From the mysterious graveyard scene in the prologue to the investigation of Shamir Ali’s murder, the suspense is top-notch.

Abateel is more than just a romantic or social novel; it is a psychological journey. It teaches us that truth might be buried under layers of falsehood, but it eventually emerges. Whether you are reading it on a PDF or a website, “Abateel” will leave a lasting impact on your heart.

***************

Novel Summary in Urdu

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنکا آغاز تو نفرت سے ہوتا ہے ، مگر اُنکا انجام محبّت پر ختم ہوتا ہے ۔

یہ کہانی بھی ایسی ہی ہے جسکا آغاز تو وحشت سے بھر پور ہو گا مگر اختیام تسلی بخش ، کہانی اباطیل میری پہلی کہانی ہے جس کو لکھنے کا میرے دل نے کہا کچھ کہانیاں دل بناتا ہے اور دماغ اُسّے ترتیب دیتا ہے یہ کہانی بھی کچھ ایسے ہی تحریر کی شکل میں آئی ہے ، اباطیل جس کے معنی دکھاوے کے ہیں ، اور دکھاوا کیا ہے؟؟ دکھاوا وہ ہے جس کو ہم ظاہر کرتے ہیں جب کے وہ حقیقت نہیں ہوتا ،

کوئی ایسی چیز جسے صرف اس لیے کیا جائے کہ لوگ ہمیں اس پر شاباشی دیں ، چاہے اُس سے کسی کا جانی اور مالی نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے یا پھر وہ چیز ظاہر کرنا جو ہو بھی نہیں وہ دکھاوا کہلاتی ہے ضمیر جس کام پر راضی نہ ہو پھر بھی اُسّے صرف دکھانے کے لیے کرنا دکھاوا کہلاتا ہے ۔۔ یہ کہانی ہے کچھ بیمار دلوں کی جن میں سے خوف خُدا ختم ہو چکا تھا ،

کُچھ ایسے دلوں کی بھی جن میں اللہ کے خوف سے زیادہ اُسکی محبّت تھی ، یہ کہانی حق و باطل کی ہے جس میں ایک ماریہ شامیر علی ہے جو باطل کے بت کو دکھاوےکے شطرنج کو ختم کرنے آئی ہے ، ایک زیاد مروان پاشا ہے جو فریب کا ڈسا ہوا ہے ،

یہ کہانی مکڑی کے جال کی سی ہے جو سننے میں آسان اور دلچسپ ہے مگر  اُس جال پر غور کرنے پر  پتہ چلتا ہے کہ یہ کس قدر خوفناک و مکروں ہے اِس کہانی کا ایک ایک لفظ خون کی بوندوں سے لبریز ہے ،یہ کہانی ہے طاقت  کےغرور اور صبر کے آنسوں کی ، تکبر کے آگے تقویٰ کبھی نہیں ہارا اور یہ کہانی صبر و استقامت کی گواہی ہے ۔۔

(ماہ نور عقیل)

کرداروں کا تعارف:

ماریہ شامیر علی: کہانی کی مرکزی کردار، ایک باہمت اور ذہین لڑکی جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہے۔ وہ اپنے والد “شامیر علی” سے بے حد محبت کرتی ہے۔ ماریہ کا کردار صبر اور استقامت کی علامت ہے جو اپنے والد کے بے رحمانہ قتل کے بعد انصاف کے حصول کے لیے باطل قوتوں سے ٹکرا جاتی ہے۔

زیاد مروان پاشا: ایک ایسا پراسرار کردار جو فریب کا ڈسا ہوا ہے۔ اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور انتقام کی آگ چھپی ہے، جو کہانی کے تانے بانے کو ماریہ کے ساتھ جوڑتی ہے۔

شامیر علی: ماریہ کے شفیق والد، جن کا بے رحمانہ قتل کہانی میں ایک بڑا موڑ (Turning Point) لاتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو ایک ایسی “امانت” (USB) سونپتے ہیں جو بہت سے چھپے ہوئے رازوں کی کلید ہے۔

مصطفیٰ ارسلان آغا: ایک مغرور، بااثر اور ضدی نوجوان جو ہر قیمت پر جیتنا جانتا ہے۔ اسے شکست سے نفرت ہے اور وہ اپنی زندگی کے فیصلے اپنی انا کی بنیاد پر کرتا ہے۔

منتہیٰ کمال: ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی، جو مصطفیٰ ارسلان کی زندگی کا مرکز ہے اور کہانی میں جذباتی پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔

************

About The Writer, Mahnoor Aqeel

میرا نام ماہ نور عقیل ہے ، اور میں پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھتی ہوں ،میری عمر 20 سال ہے ، میری پیدائش اٹھ اگست 2005 لاہور شہر کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔۔۔
میں نے حال ہی میں انٹر کمپلیٹ کیا ہے اور اب اپنی گریجویشن کہ تعلیم کی طرف گامزن ہوں۔۔
میں 15 سال کی تھی جب سے میں نے کتابوں کو پڑھنے اور ان کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا

عموما میری عمر کے بچے اس عمر میں موبائل پر گیم کھیلنا اور موویز دیکھنا پسند کرتے ہیں مگر مجھے شروع سے ہی شاعری اور اردو ادب میں بہت دلچسپی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے 17 سال کی عمر میں پہلی کتاب پڑھی اور وہ کتاب کافی مشہور مصنفہ کی تھی پیر کامل میری پہلی کتاب جسے پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم اصل دنیا کے علاوہ بھی کتاب کی دکھائی جانے والی دنیا میں زندگی کو جی سکتے ہیں، اور پھر میرا یہ شوق کب میرے جنون میں بدل گیا پتہ ہی نہیں چلا

میں نے پیر کامل کے بعد بہت سے مصنفین کی کتابیں پڑھنا شروع کی عمیرہ احمد ، مہرالنساء شامیر ، ربیعہ خان ، نمرہ احمد ، بانو قدسیہ ، نور راجپوت اور ایسے ہی بہت سے مصنفہ اور مصنف جن کی کتابیں پڑھ کر مجھے لکھنے کی دلچسپی ہوئی

اور میں بچپن سے ہی ایک سٹوری رائٹر تھی میں اپنے دماغ میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو سوچ کر اس سے اپنی ڈائری پر کہانی کی صورت لکھتی اور اپنی طرف سے اسے ایک کہانی کا نام دے دیتی اور اب جب میں خود کو اس قابل سمجھنے لگی کہ میں کچھ لکھ سکتی ہوں تو میں نے لکھنے کا فیصلہ کیا،

کہانی اباطیل وہ کہانی جس کا خیال مجھے بیٹھے بیٹھے ہی نہیں آیا میرے آس پاس رہتے لوگوں کے رویوں اور منافقت سے آیا تھا، اور بس پھر میں نے قلم اور صفحے کو اٹھا کر اپنی کہانی کو اس پر درج کرنا شروع کر دیا اور میری انسپریشن میری وہ تمام رائٹرز ہیں جن کو میں عمر 15 سے لے کر اب تک پڑھتی آ رہی ہوں

********

Short Scene From Novel

“بابا “” ماریہ کے ہونٹ بے آواز ہلے تھے اس کے ہونٹوں اور گلے سے جیسے کسی نے سارے الفاظ کھینچ لیے تھے ۔۔۔ “بابا” ایک زوردار چیخ شاہ میر صاحب کے کمرے میں گونجی تھی ، ماریہ متوش سی ہوتی اپنے باپ کی طرف بھاگی تھی ۔۔

شاہ میر صاحب کا وجود خون میں نہایا ہوا تھا ان کے جسم پر جگہ جگہ کاٹنے کے نشان تھے جیسے انہیں جان پوچھ کر کٹ لگائے گئے تھے ان کے وجود کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ تھا جہاں سے خون نہ رس رہا ہو

 گردن ایک طرف ڈھلکی پڑی تھی اور ان کی گردن پر بھی ویسے ہی بار بار کاٹنے کے نشان واضح تھے ان کی گردن سے خون ابل ابل کر باہر گر رہا تھا بالکل ویسے ہی جیسے چولہے پر پڑی چائے زیادہ دیر پکنے پر پتیلی سے باہر کو ابل پڑتی ہے ،

ماریہ کے لیے اس سب کو خواب سمجھنا بھی ناممکنات میں سے ایک تھا کیوں کہ وہ خواب میں بھی اپنے باپ کو اس قدر تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔

“یہ۔۔یہ کس نے کیا بابا “” ماریہ نے  شاہ میر صاحب کی ایک طرف ڈھلکی ہوئی گردن کو اٹھا کر سیدھا کیا اور ان سے سوال کیا تھا جو کہ شاید اب جواب دینے کے اہل نہ رہے تھے ، پر جیسے ہی ماریہ نے ان کا چہرہ خود کی جانب موڑا ایک اور ہولناک چیخ کمرے میں گونجی تھی ماریہ خوف سے پیچھے کی طرف جا گری ، شاہ میر صاحب کا چہرہ مسخ کر دیا گیا تھا ،جیسے ان کے چہرے پر بار بار کسی بھاری چیز سے ضرب لگائی گئی ہو

 ماریہ کے لیے اپنے باپ کا چہرہ پہچاننا بہت مشکل تھا اگر شاہمیر صاحب اپنے دوپہر والے حلیے میں نہ ہوتے تو ماریہ کبھی اس بے جان پڑے وجود کو اپنا باپ نہ مانتی مگر یہ اسی کے بابا تھے ،پر یہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ،کس نے اس کے باپ کہ یہ حالت کی تھی ماریہ کے لیے سب کچھ یکدم قبول کرنا بہت مشکل تھا ،

 ماریہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی تھی اس نے اپنے فون کے لیے پورے کمرے میں نظر دہرائی تھی سائیڈ ٹیبل کے پاس اس کو اپنا فون پڑا ہوا نظر آیا تھا ماریہ نے اپنے فون کو پکڑ بے دریغ پولیس کو فون کر دیا تھا۔۔

“تمہیں لگتا ہے آج تم مجھ سے جیت جاؤ گے؟ خواب دیکھنا اچھی بات ہے،  مگر اپنی پنکھ  دیکھ کر اُڑان بھرنی چاہیے زیادہ اوپر اُڑنے والے ہمیشہ منہ کے بل گرتے ہیں ، سمجھے ؟؟مصطفٰی ارسلان نے مغروریت کی انتہا کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

خزیما نے سخت نظر سے اسے دیکھا اور جواب دیا

“غرور ہمیشہ گرتا ہے،  مصطفٰی ارسلان… آج تمہاری یہ خود پسندی بھی تمہیں نیچے لے آئے گی۔” دونوں کے درمیان فضا میں تناؤ بڑھ گیا۔ ان کے دوست خاموش کھڑے تھے، جیسے اگلے لمحے ہونے والے مقابلے کا اندازہ لگا رہے ہوں۔۔۔۔

مصطفیٰ ارسلان نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے جواب دیا تھا

“یہ ریس صرف رفتار کی نہیں، حوصلے کی ہے… اور حوصلہ میرے پاس سب سے زیادہ ہے۔”

خزیما نے بھی اپنی گاڑی کی طرف رخ کیا اور کہا “پھر دیکھتے ہیں، آج غرور جیتتا ہے یا حقیقت۔” ایک دوست نے ہاتھ اٹھا کر گنتی شروع کی…خاموشی مزید گہری ہو گئی… انجنوں کی آواز بلند ہونے لگی…اور پھر ایک لمحہ آیا—جب رات کی خاموشی چیخ کر ٹوٹ گئی، اور دونوں گاڑیاں اندھیرے میں دو مختلف راستوں پر بجلی کی طرح نکل گئیں… یہ وہ رات تھی جس کا نتیجہ صرف رفتار نہیں، بلکہ انا اور ضد طے کرنے والی تھی…

****************

Download (Latest Chapter 3)

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Download (Previous Episodes) Abateel by Mahnoor Aqeel in pdf.

پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں

Download Link (All Episodes)

Download LinkDownload Link
Chapter 1Chapter 2

Online Reading (All Episodes Links)

Chapter 1Chapter 2

Mahnoor Aqeel All Novels Link

Yariyan by Sidra Sheikh Complete

Zindagi by Amrah Sheikh Complete

************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 656 Views

Leave a Comment