About The Novel Naik bakht by Falakshah
Naik bakht by Falakshah Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Naik bakht by Falakshah is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
Title: Naik Bakht by Falakshah – A Heart-Touching Tale of Modesty, Faith, and Fate
Introduction: In the vast landscape of contemporary Urdu fiction, “Naik Bakht” (The Blessed One) by Falakshah stands out as a lighthouse of moral and spiritual storytelling. This novel is not just a romantic saga; it is a profound narrative about a young girl, Noor, who remains steadfast in her character despite being surrounded by darkness. If you are a fan of novels that blend suspense, family secrets, and Islamic values, then Naik Bakht is the perfect addition to your reading list.
The Resilience of Noor (Kiran): A Ray of Hope The protagonist, Noor, is a character defined by “Sabr” (patience) and “Tawakkul” (trust in God). Orphaned and misplaced, she lives with the cruel Lashari family in a remote village near Sukkur. Facing constant verbal and physical abuse, Noor finds her strength on her prayer mat. Her character proves that “Naik Bakht” is not just a name; it’s a status earned through unwavering faith. The author beautifully uses Surah Al-Imran (Verse 139) to inspire Noor, teaching readers that believers are never truly defeated.
The Hero’s Quest: Arshman’s Fight for Justice Contrasting the rural suffering of Noor is the urban quest of Arshman Mukhtar. A man of integrity, Arshman is dedicated to restoring his paternal aunt Sanam’s honor. The mystery of a child named Kiran, who disappeared seventeen years ago, haunts the family. Arshman’s determination to find the truth and his journey toward reclaiming his cousin’s dignity add a layer of gripping suspense to the plot.
The Complexity of Modern Relationships: The novel also explores the delicate chemistry between Rehan and Zirish. Their story highlights the realistic struggles of modern couples caught between past regrets and future hopes. Rehan’s mock “court marriage” with Jazzy to awaken Zirish’s dormant love is a masterstroke in psychological storytelling, showing that sometimes jealousy is the mirror that reveals true feelings.
Major Themes in “Naik Bakht”:
- Divine Protection: The novel emphasizes that when a woman protects her “Haya” (modesty), Allah becomes her protector.
- The Concept of Makafat-e-Amal (Karma): The premonitions in Noor’s dreams and the ultimate downfall of the villainous Qadeer suggest that those who do evil will face consequences.
- Family Bonds: The relationship between Arshman, Rehan, and their sisters Mehermah and Noorey showcases a supportive family dynamic.
- Spiritual Growth: The final scene, where the groom gifts the bride a Holy Quran instead of jewelry, is a powerful statement on the priorities of a successful marriage.
Why You Should Read This Novel:
- Realistic Narrative: The contrast between village life and city life is portrayed with cultural accuracy.
- Empowering Female Leads: Noor is not a victim; she is a survivor who uses her faith as a shield.
- Spiritual Awakening: It connects the reader to Islamic teachings through character development.
Naik Bakht by Falakshah is a soul-stirring journey that promises to leave you emotional yet inspired. As Noor reclaims her identity as Kiran and Zirish finds peace in her marriage with Rehan, the readers are left with a lingering hope: that light always pierces through the darkness. It is a testament to the fact that truth always conquers falsehood.
***************
Novel Summary in Urdu
یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو بھری دنیا میں اکیلی تھی اور اکیلی ہوتے ہوئے بھی اکیلی نہیں تھی کیوں کہ اس کے ساتھ اس کا رب تھا جو کہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ۔۔
ایک ایسی لڑکی کی جو کسی کے لئیے امید تو کسی کے لئیے صبر کی تلقین بن کر آئی جو اندھیرے میں روشنی کی کرن تھی جو نور کی شفاف کرن جیسی تھی معصوم اور پرہیزگار ۔۔۔کرن نورکی کرن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توچلیں چلتےہیں کہانی کی طرف ۔۔اس معصوم لڑکی کی زندگی میں اک نیا موڑ آنے والا ہے جب وہ گھر کے لٹیروں سے اپنی آبرو بچا کر اک
“نیک بخت” فلک شاہ کی ایک ایسی دلکش اور اصلاحی تحریر ہے جو انسانی روح کی پاکیزگی، حیا اور رب پر کامل بھروسے کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار نور (کرن) ایک ایسی لڑکی ہے جو اپنی آبرو اور ایمان کی حفاظت کے لیے وقت کے جابروں سے ٹکراتی ہے۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں قید ہے جہاں اسے ‘نورے’ کہہ کر تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر اس کا دل ‘نور کی کرن’ کی طرح روشن ہے۔ ناول کا آغاز سکھر کے دیہاتی پس منظر سے ہوتا ہے جہاں خاندانی سازشیں اور قدیر جیسے شرپسند کردار نور کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی کے باوقار گھرانے سے تعلق رکھنے والا عرشمان اور اس کا دوست یوسف اپنے ماضی کے گمشدہ مہروں کی تلاش میں ہیں، جو بالآخر انہیں نور کی منزل تک لے جائیں گے۔ یہ ناول محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ حق اور باطل کے معرکے میں ایک معصوم لڑکی کی جیت کی کہانی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا، اس کا اللہ ہوتا ہے۔ انجان اور با وقار شخص کی پناہ میں آئے گی۔۔
مرکزی کرداروں کا تجزیہ:
نور (کرن): کہانی کی ہیروئن، ایک 17 سالہ معصوم، پرہیزگار اور باحیا لڑکی۔ وہ ایک برستی بارش میں اپنوں سے بچھڑ گئی تھی اور اب ایک ظالم گھرانے میں ‘نیک بخت’ بن کر صبر کے امتحان سے گزر رہی ہے۔
عرشمان مختار: ایک وجیہہ، سنجیدہ اور غیرت مند نوجوان جو اپنی پھپھو (صنم) کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لینا چاہتا ہے اور اپنی گمشدہ کزن ‘کرن’ کو تلاش کر رہا ہے۔
ریحان میر: عرشمان کا بھائی، ایک کامیاب بزنس مین اور زرش کا شوہر۔ وہ اپنی بیوی کی بے رخی کے باوجود اس سے شدید محبت کرتا ہے۔
یوسف خان: عرشمان کا بہترین دوست اور ایک جدی پشتی رئیس جو پروفیسر کی جاب کرتا ہے۔ وہ مہرماہ (عرشمان کی بہن) کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے۔
زرش: ریحان کی بیوی، جو ماضی کی تلخیوں کی وجہ سے ریحان کو قبول کرنے سے کتراتی ہے مگر کہانی کے آخر میں اپنی محبت کو پہچان لیتی ہے۔
قدیر لشاری اور راشدہ بیگم: کہانی کے منفی کردار، جنہوں نے نور پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔
تفصیلی خلاصہ: کہانی کا آغاز سکھر کے ایک دیہاتی علاقے سے ہوتا ہے جہاں نور (نورے) ایک ایسے گھر میں رہ رہی ہے جہاں اسے نوکرانی سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ راشدہ بیگم اور ان کی بیٹی فرزانہ اسے ہر وقت طعن و تشنیع کا نشانہ بناتی ہیں۔ اسے قدیر لشاری سے منسوب کر دیا گیا ہے جو ایک اخلاق بافتہ شخص ہے۔ نور کا توکل اللہ پر اس قدر مضبوط ہے کہ وہ ہر ظلم پر قرآن کی آیات سے سکون پاتی ہے۔
دوسری طرف کراچی میں عرشمان کا خاندان ہے جو اپنی پھپھو صنم کی بربادی کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ صنم سترہ سال سے اپنے شوہر رضوان اور بیٹی کرن (نور) کی جدائی میں جی رہی ہیں۔ عرشمان کو یقین ہے کہ اس کی کزن ‘کرن’ کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔ تقدیر ان سب کو ایک مقام پر جمع کرتی ہے جہاں نور کی اصل شناخت سامنے آتی ہے۔
ناول کا آخری حصہ جذباتی موڑ سے بھرپور ہے۔ ریحان، زرش کو اپنی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے ایک ‘کورٹ میرج’ کا ڈرامہ رچاتا ہے، جس میں اس کی بزنس پارٹنر جیزی مدد کرتی ہے۔ زرش، جو ریحان سے دور بھاگتی تھی، اسے کسی اور کا ہوتے دیکھ کر تڑپ اٹھتی ہے اور کورٹ کے باہر سب کے سامنے ریحان پر اپنا حق جتاتی ہے۔ اس طرح ان کی ازدواجی زندگی میں سالوں سے موجود سردمہری ختم ہو جاتی ہے۔
پاکستان واپسی پر دونوں جوڑوں (نور و عرشمان، زرش و ریحان) کے لیے ایک شاندار پارٹی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ منفی کرداروں کا انجام بہت عبرتناک ہوتا ہے؛ قدیر پولیس مقابلے میں مارا جاتا ہے اور فرزانہ طلاق کے بعد در در کی ٹھوکریں کھا کر نور سے معافی مانگتی ہے۔ نور، جو واقعی ‘نیک بخت’ ہے، انہیں دل سے معاف کر دیتی ہے۔ کہانی کا اختتام نہایت روحانی ہے جہاں عرشمان نور کو ‘منہ دکھائی’ میں قرآن مجید کا تحفہ دیتا ہے اور دونوں سورۃ الرحمن کی تلاوت کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔
****************
About The Writer, Falakshah
فلک شاہ اردو ادب کے افق پر ایک ایسا ابھرتا ہوا نام ہیں جن کی تحریروں میں مقصدیت اور معاشرتی اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے لکھنے کا انداز نہایت سادہ، شستہ اور اثر انگیز ہے، جو قاری کو پہلے ہی باب سے کہانی کے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ فلک شاہ انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اسے الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کا ملکہ رکھتی ہیں۔
ان کی تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی کہانیوں میں قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے ذریعے کرداروں کی روحانی تربیت کرتی ہیں، جو موجودہ دور کے اردو فکشن میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ “نیک بخت” ان کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک لکھاری کا قلم معاشرے کے ناسوروں کے خلاف سب سے بڑی ڈھال بن سکتا ہے۔ ان کے کردار نہ صرف جاندار ہیں بلکہ قارئین کے لیے ہمت اور حوصلے کی ایک مثال بھی پیش کرتے ہیں۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
اما ارےاو اما کیا ہے۔۔چیخ چیخ کرگلا کیوں پھاڑ رہا ہے وہ غصے سے پاگل ہوتی بولی وہ عورت موٹی جسامت کی
مالک تھی بھدے سے نین نقوش کمان کی طرح پتلی بھنویں جو اس عورت کی چالاکی کی عکاسی کرتے تھے ناک کے نتھنے غصے سے پھولے ہوئے تھے یقیناً وہ بہت غصے میں تھی
۔۔۔عام سےنین نقوش والے مردکو بولی جو اس کا بیٹا قدیرلشاری تھا۔۔۔
۔امابھڑک کیوں رہی ہے لگتا ہےآ ج بھی کوئی منحوس خواب دیکھ لیا ہے نورے نے جو تو اتنا غصےمیں ہے وہ خباثت سے ہنس کر بولا
ہاں کم بخت ماری نے دیکھا ہے کہ تیری شادی ہو رہی ہے اور تو اسی دن لڑک گیا ہے وہ اتنے سکون سے بولی مانو اس کے بیٹے کی نہیں کسی اور کی بات کر رہی ہو
ہائے اماں تونے تو کہا تھا اس سے میری شادی کروائے گی اب مینے شادی ہی نہیں کرنی وہ حلق تر کر کے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے تجھے مجھے پتا ہے ناس پیٹی نے جھوٹ بولا ہے تاکہ اس کی جان چھوٹ جائے تجھ سے بڑی بد بخت ہے
اماں ایسے تو نا بول وہ جب سے ہمارے گھر آئی ہے تب سے ہمارے تو بخت کھل گئے ہیں
بس بس زیادہ شوخا نا بن تو اس نے منہ بنا لیا ۔۔۔ میں بڑی تنگ ہوں اس سے فرزانا کے لئے جو لوگ آتے ہیں اس کو دیکھ کر لٹو ہو جاتے ہیں اور اسے پسند کر جاتے ہیں وہ نخوت سے بولی ابھی تو سترا سال کی ہے وہ آگے پتا نہیں کون سی قیامت لائے گی۔ منحوس بس تیری وجہ سے اسے رکھا ہوا ہے چھتیس سال کا ہو گیا ہے تو تجھ جیسے ناکارہ کو کوئی بیٹی نہیں دے گا ۔۔۔
چھوٹے سے ڈربے نما کمرے میں کاٹھ کباڑ کا سامان رکھا تھا وہاں وہ مصلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی باہر سے آنے والی آوازوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کا چہرہ پر سکون تھا اس نے ہاتھ منہ پر پھیرے اور باہر نکلی اسے پتا تھا اس کی شامت آنے والی ہے روز کا معمول بن گیا تھا یہ تو اب اسے عادت سی ہو گئی تھی
تیری عبادت کم بخت سارا دن بس مصلے پر بیٹھی نا جانے کون سے وذیفے کرتی رہتی ہے ۔۔۔پتا ہے نا قدیر کو بھوک لگتی ہے بہت اس ٹائم وہ آتا ہے ۔
۔وہ اما مینے کھانا تو بنا لیا تھا میں بس ابھی گرم کر کے دیتی ہوں بھائی کو کھانا۔
کرم جلی مجھے اما نا بولا کر اماں نہیں ہوں تیری تجھے تو آدھی رات کو کوئی برستی بارش میں چھوڑ کر گیا تھا پتا نہیں جتنی معصوم اور پرہیزگار تو بنتی ہے اتنی شفاف ہے بھی کہ نہیں اور ایک اور بات قدیر تیرا بھائی وائی نہیں ہے تیرا منگ ہے سمجھیں ۔
۔وہ خاموشی سے آنسو پیتی کھانا گرم کرنے لگی ۔۔۔
نورے ارے او نورے فرزانا دندناتی ہوئی اس کے سر پر پہنچی تم نے میرا جوڑا کیو استری نہیں کیا۔۔۔ ہاں مہرانی اب پھوٹو بھی منہ سے ۔
۔وہ آپی میں بس ابھی کر دیتی ہوں آپ لائیں مجھے دیں بس کھانا گرم کر کے پھر کرتی ہوں۔۔
۔ہنہ جلدی کرنا مجھے پارٹی میں جانا ہے دوست کے گھر ۔۔۔ وہ کہتی وہاں سے چلی گئی تو وہ قدیر کو کھانا دینے اس کے کمرے میں گئی ۔
۔ارے آؤ چڑیا کیسی ہو وہ خباثت سے ہنستے ہوئے بولا اور اس کی کلائی پکڑ لی کہاں چلی تھوڑی دیر تو بیٹھ جا میرے پاس ۔۔۔
قدیر بھائی چھ چھوڑیں میرا ہاتھ وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
ارے ارے رو تو مت جانے من آنا تو ویسے بھی تجھے میرے پاس ہی ہے ۔۔وہ کہتا اس کی کلائی چھوڑ گیا تو وہ جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی ۔۔اپنے کمرے میں آکر دروازا بند کیا اور روتی ہوئی بیٹھ گئی ۔
میرے اللہ جی مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں بس میرے سوہنے رب میری عزت کی حفاظت کرنا باقی سب پر میں صبر کر لوں گی میرے مالک میں اماں کو کیسے سمجھاؤں میں سچ بول رہی ہوں اگرمیری شادی ان سے ہوئی تو وہ مر جائیں گے پر انہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں پر اللہ جی آپ تو سب جانتے ہیں نا ۔۔۔وہ سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
****************
Download Naik bakht by Falakshah in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ فلک شاہ کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Sarror e ishq by Noor Arshad Complete novel
Shareek e hayat by Bint e Aslam Complete novel
Woh mera humsafar novel by Mona Rizwan Complete link
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 847 Views















