About The Novel Shikasta wajood ki baaziyaaft by Mahak Ali
(Current Episode 1)
Shikasta wajood ki baaziyaaft by Mahak Ali Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Shikasta wajood ki baaziyaaft by Mahak Ali is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
A Captivating Tale of Love, Family, and Resilience
The world of Urdu literature is continuously evolving, bringing forward masterpieces that touch the deepest corners of the human heart. Among the latest sensations, “Shikasta Wajood Ki Bazyaft” written by the talented Mehak Ali, stands out as a brilliant contemporary Urdu novel. Episode 1 of this novel has officially set the stage for an intense emotional rollercoaster, blending themes of nostalgia, deep-rooted family bonds, and a haunting past.
If you love Urdu novels filled with rich imagery, witty dialogue, and relatable characters, this detailed review and analysis of Episode 1 is exactly what you need.
The novel opens with a profound, poetic dedication that perfectly encapsulates the essence of the story:
“To those who withered in the merciless sun of life but refused to shatter. To this war of breaking and rebuilding oneself!”
Writer Mehak Ali beautifully establishes the core theme—resilience. She explains how human hearts are incredibly flexible. The real magic begins when, despite being broken into pieces, an individual decides to gather their shattered self and rebuild their existence. This philosophical touch immediately hooks the reader, promising a story that is much deeper than a casual romance.
The narrative transitions seamlessly into a cinematic description of May in Central London. The author paints a breathtaking picture of Mayfair and Hyde Park recovering from a night of soft grey drizzle. The vintage Stroud lights casting a yellow glow on wet pavements create an old-school oil painting vibe.
It is in this majestic setting that we enter Qasr-e-Miran (The Palace of Miran) and meet our protagonist, Miran Ahmed. A 28-year-old striking individual with a commanding personality, Miran is on the verge of completing his PhD in Organic Chemistry. The beautiful relationship between Miran and his mother, Safiya Begum, introduces us to his softer, playful side. Despite being a brilliant academic and a sharp businessman, he becomes a sweet two-year-old child in front of his mother.
***************
Novel Summary in Urdu
زندگی کبھی بھی سیدھی لکیر پر سفر نہیں کرتی۔ یہ تو دھوپ چھاؤں کا ایک ایسا تانا بانا ہے جہاں اکثر سب سے گہرا اندھیرا تب چھاتا ہے جب ہم روشنی کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔ ہم سب اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی موڑ پر ایک ایسے حادثے، ایک ایسے خسارے سے گزرتے ہیں جو ہماری روح کی بنیادوں تک کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ وہ نقصان ایسا ہوتا ہے کہ ایک پل کو لگتا ہے اب سانس تو چلے گی، مگر زندگی رک جائے گی۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دل دنیا کی سب سے لچکدار اور مضبوط ترین چیز ہے۔ جب تک ہم پر آزمائش نہیں آتی، ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے اندر برداشت کا کتنا بڑا سمندر موجزن ہے۔ شکست تو زندگی کا صرف ایک پڑاؤ ہے، یہ ہمارا انجام نہیں ہو سکتی۔ اصل جادو تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم اس بکھراؤ کے باوجود، اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے وجود کے ریزے چننے کا فیصلہ کرتے ہیں
کچھ لوگ ہماری زندگیوں میں کسی فرشتے کی طرح آتے ہیں۔ وہ ہمیں اس وقت جینا سکھاتے ہیں جب ہم جینے کی لغت ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔ وہ ہماری آنکھوں میں آگے بڑھنے کا وہ خواب سجا دیتے ہیں جو حالات کی تلخی بھی دھندلا نہیں پاتی۔ اور جب ایسے مخلص لوگ رخصت ہوتے ہیں، تو وہ اپنے پیچھے صرف غم نہیں چھوڑ کر جاتے، بلکہ وہ ہمارے اندر ایک ایسی ہمت، ایک ایسی روشنی چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ ہمارا احاطہ کیے رکھتی ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا موٹیویشن یہی ہے کہ ہم ان کی دی ہوئی روشنی کو بجھنے نہ دیں۔ جینا سکھانے والے بھلے ہی ابد کی نیند سو جائیں مگر ان کا سکھایا ہوا ہنر ہماری مسکراہٹوں میں، ہمارے فیصلوں میں اور ہماری کامیابیوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ خود کو دوبارہ کھڑا کرنا، اندھیروں کا مقابلہ کرنا اور ہر زخم کے باوجود مسکرا کر آگے بڑھ جانا ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔ کیونکہ گرنا حادثہ ہو سکتا ہے مگر گرے رہنا سراسر ہماری اپنی مرضی ہوتی ہے۔
کرداروں کا تعارف
ڈاکٹر میران احمد (مرکزی کردار): ۲۸ سالہ کسرتی بدن اور رعب دار شخصیت کا مالک نوجوان، جس نے لندن یونیورسٹی سے آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ دنیا کے لیے ایک سنجیدہ اور باوقار بزنس مین ہے، لیکن اپنی ماں اور کزنز کے سامنے ایک انتہائی ہنس مکھ، لاڈلا اور شرارتی انسان ہے۔
ایلاف / ایلا (مرکزی کردار): میران کی کزن اور ماضی کی بہترین دوست۔ وہ ایک ضدی، خوددار اور تیکھے مزاج کی مالک لڑکی ہے جسے میران ‘ہٹلر’ کہتا ہے۔ وہ اپنی پڑھائی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔
صفیہ بیگم: میران کی والدہ، ایک شفیق، پروقار اور تجربہ کار خاتون جو اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی ہیں اور اس کے دل کے ہر حال سے واقف ہیں۔
ڈاکٹر حاقان اور شائستہ چچی: میران کے چچا (لندن کے مایہ ناز کارڈیالوجسٹ) اور چچی، جو ایک مطمئن اور محبت کرنے والے خاندان کی عکاسی کرتے ہیں۔
ہادی اور مینو: ڈاکٹر حاقان کے بچے اور میران کے کزنز۔ مینو نٹ کھٹ اور شرارتی ہے جبکہ ہادی معصوم اور ہنس مکھ ہے۔ یہ دونوں گھر کی رونق ہیں۔
علی پھوپھا اور صبیحہ پھوپھو: پاکستان میں مقیم زندہ دل کردار۔ علی پھوپھا کا مزاحیہ انداز اور میران کے ساتھ ان کی دوستی کہانی میں رنگ بھرتی ہے۔
علیشہ: میران کی ایک اور کزن، جس کا اندازِ گفتگو اور لباس حد سے زیادہ بناوٹی اور فلرٹی ہے، جسے میران سخت ناپسند کرتا ہے۔
************
About The Writer, Mahak Ali
مہک علی اردو ادب کے افق پر ایک ابھرتی ہوئی اور انتہائی باصلاحیت لکھاری ہیں، جن کا اندازِ تحریر قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ الفاظ کو اس خوبصورتی اور نفاست سے پروتی ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ مہک علی نے انسانی جذبات، رشتوں کی نزاکت اور نفسیاتی الجھنوں کو بہت گہرائی سے سمجھا ہے، اور یہی پختگی ان کے ناول “شکستہ: وجود کی بازیافت” میں بھی نظر آتی ہے۔
منظر نگاری پر ان کو کمال حاصل ہے، چاہے وہ لندن کی سرمئی بوندا باندی ہو یا اسلام آباد کا املتاس کے پھولوں سے بھرا موسم، ان کا قلم ہر منظر کو جاندار بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے مکالموں میں سادگی، رعب اور مزاح کا ایسا توازن رکھتی ہیں جو قارئین کو کہانی کا گرویدہ بنا دیتا ہے۔
********
Short Scene From Novel
“سرمد، برگر ہم نہیں، برگر تو یہ زایان اور زاویان لگ رہے ہیں، ذرا ان کا ہیئر اسٹائل تو دیکھو!”انس نے ہمیشہ کی طرح اپنی شرارت شروع کر دی، جس پر زایان نے فوراً جواب دیا۔ “انس بھائی، آپ خود کو سنبھالیں، مئی کی گرمی میں یہ سارا رعب منٹوں میں پگھل جائے گا۔”
“السلام علیکم میران بھائی! السلام علیکم انس بھائی!” ایشال نے چہکتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام ایشال بی بی! سنا ہے تم اب بھی اتنی ہی باتیں کرتی ہو؟” میران نے عینک ناک پر ٹکاتے ہوئے شرارت سے پوچھا، تو سمیعہ نے فوراً کا ہاتھ ہلا کر کہا۔ “دیکھاایشال ! ہم تو سمجھے تھے میران بھائی پی ایچ ڈی کر کے بہت سنجیدہ ہو گئے ہوں گے، یہ تو اب بھی ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑنے والے ہیں۔”
پورے گھر میں ایک جادوئی ہلچل مچی ہوئی تھی۔
“السلام علیکم!” میران نے اپنے روایتی والہانہ اور پُر وقار انداز میں سب کو مخاطب کیا۔
“وعلیکم السلام! آ گیا میرا شیر!” علی پھوپھا جو صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میران کو دیکھتے ہی چہکے اور کھڑے ہو گئے۔ ان کے ساتھ ہی سائرہ پھوپھو اور ان کے شوہر شجاع پھوپھا بھی محبت سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھے۔
میران سب سے پہلے شجاع پھوپھا اور علی پھوپھا گلے ملا۔ شجاع پھوپھا نے میران کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا، “ماشاءاللہ میران بیٹا! پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا تم نے۔”
“سب آپ لوگوں کی دعائیں ہیں پھوپھا۔” میران نے عاجزی سے کہا۔
ابھی میران سائرہ پھوپھو سے پیار لے ہی رہا تھا کہ علی پھوپھا نے شرارت سے میران کا کندھا ہلایا اور صبیحہ پھوپھو کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں بولے، “خاقان بھائی! بھابھی! میں تو کہتا ہوں میران کو ‘ڈاکٹر’ کی ڈگری ملنے کی جتنی خوشی صبیحہ کو ہوئی ہے نا، اتنی تو شاید خود میران کو بھی نہیں ہوئی۔ گھر میں حسان اور زران کی وہ کلاس لگائی ہے کہ بس۔۔۔ کہتی ہیں ‘دیکھو میران کو! کچھ سیکھو اس سے!’ اب صبیحہ کو کون سمجھائے کہ میران میرا دوست ہے، یہ میرے نقشِ قدم پر چلتا ہے، اس لیے اتنا لائق ہے!”
“خدا کے لیے بچوں کے سامنے تو مجھے بخش دیا کریں!” صبیحہ پھوپھو نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی مصنوعی غصے سے علی پھوپھا کو گھورا، خود تو جوتوں کی فرمائش کر رہے تھے، اب یہاں آتے ہی اپنی دوستی کا راگ الاپنے لگ گئے۔
****************
Download (Latest Episode 1)
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
Download (Previous Episodes) Shikasta wajood ki baaziyaaft by Mahak Ali in pdf.
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں
Download Link (All Episodes)
| Download Link | Download Link |
Online Reading (All Episodes Links)
اگر آپ مہک علی کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Beti by Hibza Maqsood Complete
Mera harjaye by Sidra Sheikh Complete
************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 385 Views


















