About The Novel Baat hai aitmad ki by Muskan Noor
Baat hai aitmad ki by Muskan Noor Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Baat hai aitmad ki by Muskan Noor is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
A Story of Family Pride, Love, and Trust
In the realm of classic Urdu literature and emotional family dramas, stories that touch upon societal values, parental trust, and the struggles of young women stand out the most. “Baat hai aitmad ki” by Muskan Noor is a beautifully crafted complete Urdu novel that explores these very themes. It highlights the stark contrast between two sisters and how they handle love, choices, and their father’s immense trust.
For readers who enjoy clean, emotional, and thought-provoking family-based Urdu novels, Baat hai aitmad ki offers a perfect narrative. In this post, we will look into a detailed review, summary, and character analysis of this heartwarming story.
The story revolves around a retired clerk, Riaz Sahib, who has raised his four children with strict principles, love, and immense trust. Among his children, the two daughters, Jawairia and Areeba, are the pillars of the house.
- Jawairia: The eldest daughter, pursuing her Master’s degree. She is beautiful, confident, and independent. She represents the modern generation that believes she has the right to choose her life partner. She is in a mutual, respectful relationship with her class fellow, Zaviyar.
- Areeba: The younger sister, studying in her final year of graduation. Possessing long, beautiful hair and a gentle soul, Areeba is deeply traditional. For her, her father’s trust (Etemad) is the ultimate treasure, and she refuses to let any worldly desire tarnish it.
The plot thickens when Riaz Sahib’s sister, Smeera Phoopho, brings a marriage proposal for Jawairia for her handsome son, Afnan. Proud of his daughter’s upbringing and confident in her obedience, Riaz Sahib accepts the proposal without even asking Jawairia. When Areeba breaks this news to Jawairia, the elder sister is devastated.
Jawairia believes that since she is her father’s favorite, she can openly discuss her love for Zaviyar and convince him. Zaviyar, a wealthy yet incredibly respectful and pious young man, is ready to send his parents to Jawairia’s house. However, the strict rule of Riaz Sahib’s family stands in the way: daughters are never married outside the family circle.
While Jawairia fights for her love, Areeba faces a similar trial. A young, hardworking, and deeply respectful man named Hazim falls in love with Areeba’s modesty at first sight. He approaches her respectfully, requesting to send his mother, Samina Begum, to her house with a marriage proposal.
Despite recognizing Hazim’s sincerity and noble character, Areeba bluntly rejects him. She goes as far as telling a white lie that she is already engaged to her cousin. When her friend Nushaba questions her decision to reject such a perfect man, Areeba replies:
“My father trusts us blindly. He gave us freedom and education because he believes in us. I will never break his trust for a non-mahram. For me, my father’s respect is greater than any love.”
When Jawairia musters up the courage to tell Riaz Sahib about her refusal to marry Afnan and confesses her preference for Zaviyar, Riaz Sahib is shattered. His pride is wounded, and his ego as a father is bruised. In a fit of disappointment, he confines Jawairia to the house and bans her from attending university, insisting that the wedding with Afnan will proceed.
The happy atmosphere of the house turns into a gloomy silence. Jawairia cries in isolation, while Riaz Sahib grows silent with grief, feeling that his trust has been betrayed.
Seeing her family fall apart, Areeba plays the role of the peacemaker. She talks to Jawairia and makes her realize that a marriage built on the broken pieces of a father’s pride can never bring true happiness. She explains that their brothers’ future and the family’s honor depend on their decisions.
Jawairia looks at her father’s aging, sorrowful face and realizes that her choice, no matter how right or sincere, is costing her father’s smile. Understanding the true weight of Etemad, Jawairia goes to her father, kisses his hands, and surrenders her happiness for his honor. She agrees to marry Afnan.
Baat hai aitmad ki concludes on a highly emotional and moral note. Muskan Noor successfully delivers a profound message: love is beautiful, but the trust of parents is sacred. Jawairia’s sacrifice restores the joy of Effendi mansion, while Areeba’s steadfastness proves that a woman’s modesty is her biggest shield.
This novel is highly recommended for readers who value traditional storytelling, deep character development, and strong moral lessons in modern Urdu fiction.
***************
Novel Summary in Urdu
ناول “بات ہے اعتماد کی” مسکان نور کے قلم سے تخلیق شدہ ایک ایسی معاشرتی اور جذباتی کہانی ہے جو مشرقی خاندانی نظام، والدین کے مان، اور کچی عمر کے فیصلوں کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔ کہانی دو بہنوں، جویریہ اور اریبہ کے گرد گھومتی ہے، جو ایک ہی گھر میں پرورش پانے کے باوجود زندگی اور محبت کے بارے میں بالکل مختلف نقطہ نظر رکھتی ہیں۔
بڑی بہن جویریہ یونیورسٹی میں اپنی پسند کے لڑکے زاویار سے شادی کا خواب دیکھتی ہے اور اپنے حقوق کے لیے باپ کے سامنے کھڑی ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے، جبکہ چھوٹی بہن اریبہ اپنے باپ کے “اعتماد” کو دنیا کی ہر خوشی سے بڑھ کر سمجھتی ہے۔ وہ حازم جیسے مخلص اور شریف نوجوان کی محبت کو صرف اس لیے ٹھکرا دیتی ہے کیونکہ اس کا باپ خاندان سے باہر شادی کے سخت خلاف ہے۔
یہ ناول قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا والدین کا اندھا اعتماد اولاد کے لیے محبت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، یا اولاد کی قربانی رشتوں کو نئی زندگی بخشتی ہے۔ یہ سچی محبت، خاندانی غیرت اور بھروسے کی ایک لاجواب داستان ہے۔
کرداروں کا تعارف
جویریہ ریاض: ریاض صاحب کی بڑی اور لاڈلی بیٹی۔ خوبصورت، سرخ و سفید رنگت اور کالی آنکھوں والی جویریہ ایم اے کی طالبہ ہے۔ وہ اپنے اصولوں پر چلنے والی لڑکی ہے اور یونیورسٹی کے کلاس فیلو زاویار کو پسند کرتی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اسے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا پورا حق ہے۔
اریبہ ریاض: جویریہ کی چھوٹی بہن جو بی اے فائنل میں ہے۔ وہ جتنی خوبصورت ہے، اتنی ہی فرمانبردار اور سلجھی ہوئی ہے۔ اس کے لمبے گھنے بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کے اعتماد کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتی ہے۔
ریاض صاحب: جویریہ اور اریبہ کے والد۔ ایک ریٹائرڈ کلرک جن کا پورا خاندان ان کی عزت اور اصولوں پر چلتا ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں مگر خاندانی روایات کے مطابق غیروں میں شادی کے سخت خلاف ہیں۔
نگہت بیگم: بچوں کی شفیق ماں اور ریاض صاحب کی شریکِ حیات، جو کچن کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال میں مگن رہتی ہیں۔
حازم سکندر: کہانی کا ہیرو، جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد وہ انتہائی سنجیدہ، محنتی اور باحیا نوجوان بن چکا ہے۔ وہ اریبہ کو پہلی نظر میں پسند کر بیٹھتا ہے اور عزت کے ساتھ اس کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے۔
زاویار: جویریہ کا کلاس فیلو۔ ایک امیر بزنس مین کا بیٹا ہونے کے باوجود عاجز، شریف اور لڑکیوں کی عزت کرنے والا نوجوان جو جویریہ سے مخلصانہ شادی کا خواہش مند ہے۔
افنان ہمایوں: سمیرا پھپھو کا بیٹا، جس کا رشتہ ریاض صاحب اپنی لاڈلی بیٹی جویریہ کے لیے طے کر دیتے ہیں۔
شیراز اور صارم: اریبہ اور جویریہ کے چھوٹے بھائی۔ صارم سب کا لاڈلا اور شرارتی ہے، جو اریبہ کے ساتھ نوک جھونک کر کے گھر میں رونق برقرار رکھتا ہے۔
****************
About The Writer, Muskan Noor
مسکان نور اردو فکشن کی دنیا میں اپنے منفرد، سادہ اور دل کو چھو لینے والے اندازِ بیاں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمارے اردگرد کے دیسی ماحول، متوسط طبقے کے مسائل اور خاندانی جذباتی بندھنوں کو بہت خوبصورتی سے الفاظ کا روپ دیتی ہیں۔ مسکان نور نے اس کہانی میں بھائی بہن کے ہنسی مذاق، ماں کی مامتا بھری ڈانٹ، اور باپ کے مان کو جس جاندار طریقے سے پیش کیا ہے، وہ قاری کو کہانی کے کرداروں کے بے حد قریب لے آتا ہے۔
ان کے مکالمے مختصر مگر گہرے ہوتے ہیں، جو قاری کے دل پر سیدھا اثر کرتے ہیں۔ “بات ہے اعتماد کی” میں انہوں نے نئی نسل کی سوچ اور پرانی نسل کے اصولوں کے بیچ کا توازن بہت عمدگی سے برقرار رکھا ہے۔ وہ جذباتی منظر کشی کرنے میں مہارت رکھتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں قارئین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہتی ہیں۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
کیا کہا ابھی تم نے میرے لیے رشتہ آیا تھا ۔کون تھے وہ ۔
جویریہ ہوش میں آتی جلدی سے اس کی طرف بڑھی تھی ۔اور بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولی
تو اریبہ اس کی بوکھلاہٹ کا اور مطلب لیتے ہوئے ہنس پڑی تھی
ارے آپ اتنا بوکھلا کیوں رہی ہے آپی
اریبہ اس کی بوکھلاہٹ انجوائے کرتے ہوئے شرارت سے بولی
تو جویریہ نے اس کی بات کاٹ کر خھنجھلائیں لہجے میں بولی
میرے سوال کا ٹھیک طرح سے جواب دو اریبہ یہ گھما پھرا کر جواب مت دو
اچھا اچھا آپی بتاتی ہوں ناراض کیوں ہورہی ہے
اریبہ نے جلدی سے جواب دیا تھا ۔ کہیں بہن ناراض نا ہو جائیں
آج پھپھو آئی تھی وہ ہی رشتہ لائی تھی اور وہ بھی ہینڈسم سے افنان بھائی
کا ہے نا خوشی کی بات
اریبہ نے چہکتے لہجے میں کہتے ہوئے اسے جیسے اپنی طرف سے خوشخبری سنائی تھی
پر وہ جویریہ کے لیے کوئی خوشی کی خبر تو نا تھی
، وہ تو اس کی بات پر دنگ رہ گئی تھی
پھر کیا ہوا کیا بابا نے ہاں کردی سمیرا پھپھو کو
جویریہ کے منہ سے آہستہ آواز نکلی تھی جو اریبہ نے بمشکل سنی تھی
اس کے پوچھنے کی دیر تھی کہ اریبہ نے مسکراتے ہوئے جھٹ سے اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا ۔
جس پر جویریہ بیڈ پر گرنے والے انداز میں گری تھی اور سر اپنے ہاتھوں پر گرالیا تھا
اریبہ کو جیسے اب ہوش آیا تھا اور وہ بری طرح سے بوکھلاتی بہن کی طرف بڑی تھی
کیا ہوا جویریہ آپی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔آپ ایسے کیوں بیٹھی ہے
اریبہ جویریہ کے قریب بیٹھتی اس کے کندھے پر اپنا نرم ہاتھ رکھتی پریشان لہجے میں بولی تو جویریہ نے سر اٹھا کر کتنی دیر خالی خالی نظروں سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا تھا پھر اس کے گلے سے لگ کر روپڑی تھی
اریبہ اس کے اس طرح یوں اچانک گلے لگ کر رونے پر بری سے پریشان ہو اٹھی تھی
کیا ہوا جویریہ آپی آپ رو کیوں رہی ہے ۔پلیز مجھے بتائیں ۔
اسے چپ نا ہوتے دیکھ کر اریبہ فکرمندی سے اس کی پشت نرمی سے سہلاتے ہوئے پیار سے
بولی تو وہ اس سے الگ ہوئی ۔رونے کی وجہ سے اس کا خوبصورت چہرہ سرخ پڑچکا تھا
پھر بولی تو اس کا لہجہ بھاری تھا
میں یہ شادی نہیں کرسکتی اریبہ کیوں کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں
جویریہ کی بات سن کر اریبہ سہم سی گئی تھی ۔اور اس کا چہرہ سفید پڑتا چلا گیا تھا
اور وہ خوف بھری نظروں سے جویریہ کو تکے جارہی تھی ۔
****************
Download Baat hai aitmad ki by Muskan Noor in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ مسکان نور کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Mohabbat junoon hai by Hamda Rani Complete download pdf
Ladon mein pala by Misbah Complete free download pdf
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 339 Views















