Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz Complete novel

Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz Download pdf

About The Novel Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz

Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.

Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.

Novel Detailed Summary in English

Deep Dive into Trauma, Boundaries, and Healing

In modern Urdu literature, psychological fiction that explores hidden personal trauma and strict social boundaries holds a special place. Deewarain Aur Dareeche (دیواریں اور دریچے), written by the remarkably insightful author Mehr Afroz, stands out as a powerful tale of vulnerability, silence, boundaries, and subtle romance.

This comprehensive book review and plot breakdown of Deewarain Aur Dareeche covers character motivations, emotional arcs, and the psychological impact of unaddressed past events.

The story introduces Mahzala Amir, a 24-year-old IT professional living a quiet, isolated life in a rented upper-portion of a house owned by her grandmother’s friend. A year prior, an undisclosed traumatic event severed her connection with her family. Once a cheerful girl who feared the dark, Mahzala is now a ghost of her former self, plagued by extreme anxiety, dark eye circles, and a cold demeanor.

Her solitary routine is interrupted when Aktham Hassan, a 27-year-old architect, returns from Germany after 1.5 years. Vibrant, attractive, and constantly smiling, Aktham moves into the lower portion of the house with his grandmother. His cheerful presence immediately clashes with Mahzala’s rigid emotional walls.

From their very first interaction, Mahzala treats Aktham with cold indifference. When Aktham teasingly confronts her for shutting the door abruptly in his face, Mahzala plainly replies, “This is called setting boundaries.”

Despite her constant rejections, Aktham remains respectful yet persistent in offering subtle warmth. Whether helping her organize grocery shopping or accompanying her to a bookstore, Aktham notices her preference for heavy psychological and historical literature. He gently advises her to give herself a break from carrying the weight of the world.

The narrative reaches its first major climax when Mahzala returns home from work to find her parents sitting in the courtyard. The mere sight of her family triggers a severe panic attack. Terrified and trembling, she pleads with Aktham not to let them near her.

Respecting her distress without asking intrusive questions, Aktham hides her in his room until her parents leave. Later, he reveals the purpose of their visit: her family believes she left over a “minor disagreement” a year ago and wants her home because her sister is getting married in two weeks. More shockingly, her cousin Haris has returned to Pakistan. The mention of Haris causes Mahzala to shatter her glass in horror and rush out in a breakdown.

Unable to process the return of her abuser, Mahzala locks herself in her room for three consecutive days without food or water. Recognizing the silence, Aktham and his grandmother use a spare key to break in, finding Mahzala unconscious with a high fever and severe physical exhaustion.

Aktham rushes her to the hospital. Following her discharge, his grandmother insists that Mahzala stay in their lower-portion room where she can be properly cared for.

While recovering, Mahzala receives a chilling phone call from Haris. In a sinister tone, he warns her: “Our sister’s wedding is in ten days. Come back home quietly, or the way I come to pick you up won’t be pleasant for you.”

Overwhelmed by fear, Mahzala ingests extra sleep medication to escape her reality. However, around 2:00 AM, she wakes up in a state of severe PTSD hallucination. Running barefoot into the hallway, she grabs Aktham, crying that someone entered her room and touched her.

Aktham thoroughly checks the premises to reassure her that she is safe. Realizing her horror stems from severe emotional trauma, he patiently offers her food and safety, establishing himself as a protective barrier between her and her past.

Mahzala Amir: A resilient yet deeply traumatized young woman fighting against past abuse, family gaslighting, and severe anxiety while striving for independence.

Aktham Hassan: An empathetic, charming architect whose emotional intelligence and calm demeanor help Mahzala feel safe without crossing her personal boundaries.

The Grandmother: A compassionate maternal figure who offers Mahzala shelter and unconditional love.

Haris: The antagonist whose manipulative and abusive behavior serves as the catalyst for Mahzala’s trauma.

***************

Novel Summary in Urdu

ان تمام لوگوں کے نام جو سچ بولنے کی قیمت جانتے ہیں اور پھر بھی خاموش نہیں رہتے۔

اُن  مضبوط قدموں کے نام جو اکیلے چلنے کے خوف سے پیچھے نہیں ہٹتے اُن آنکھوں کے نام جو اندھیری راتوں میں بھی سحر کا یقین نہیں کھوتیں!

“دیواریں اور دریچے” مصنفہ مہر افروز کا تحریر کردہ ایک بیدار کن، نفسیاتی اور جذباتی اردو ناول ہے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی مہزلہ امیر کے گرد گھومتی ہے جس کا ماضی ایک ایسے تلخ حادثے سے جڑا ہے جس نے اس کی متحرک شخصیت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک سال پہلے پیش آنے والے واقعے نے اس کے گرد تحفظ کے نام پر ایک سنسان دیوار کھڑی کر دی تھی، جہاں وہ دنیا اور اپنے آپ سے بھی کٹ کر رہ گئی تھی۔

یہ ناول حقیقت پسندانہ انداز میں یہ دکھاتا ہے کہ جب گھر والے ہی کسی غلطی یا جرم پر پردہ ڈال کر کسی معصوم کو چپ رہنے پر مجبور کر دیں، تو انسان کے اندر کس طرح کا خوف جنم لیتا ہے۔ مگر جہاں تاریکی اور خوف کی “دیواریں” کھڑی ہوتی ہیں، وہیں امید، تفہیم اور ساتھ دینے والی روشنی کے “دریچے” بھی کھلتے ہیں۔ جرمنی سے واپس آنے والا اکثم حسن مہزلہ کی زندگی میں ایک ایسا ہی دریچہ بن کر آتا ہے، جو بغیر کسی فیصلے کے اس کے خوف کو سمجھتا ہے۔ یہ کہانی سچائی، حدود قائم کرنے اور خوف کے اندھیروں سے نکلنے کی داستان ہے۔

کرداروں کا تعارف

مہزلہ امیر (مرکزی کردار): ایک چوبیس سالہ آئی ٹی پروفیشنل لڑکی۔ ایک سال قبل اپنے ہی کزن حارث کے گھناؤنے رویے اور گھر والوں کی خاموشی کے صدمے سے گزرنے کے بعد وہ اپنے گھر سے فرار ہو کر الگ رہ رہی ہے۔ وہ شدید خوف، تنہائی اور “سوشل اینگزائٹی” کا شکار ہے اور ہر وقت اپنے گرد ایک دیوار قائم رکھتی ہے۔

اکثم حسن: ایک ستائیس سالہ پرکشش، شائستہ اور ذہین آرکیٹکٹ ਜੋ ڈیڑھ سال بعد جرمنی سے واپس آیا ہے۔ وہ دادی کے دوسرے پورشن میں رہتا ہے۔ اس کی شخصیت ہنس مکھ اور سنجیدہ ہے، اور وہ مہزلہ کے خاموش اور سنجیدہ رویے کے پیچھے چھپے درد کو سب سے پہلے محسوس کرتا ہے۔

دادی: ایک ساٹھ سالہ باوقار اور شفقت سے بھرپور خاتون۔ وہ مہزلہ کی دادی کی بچپن کی سہیلی ہیں اور انہوں نے اپنے پورشن میں مہزلہ کو جگہ دے رکھی ہے۔ وہ مہزلہ کے ماضی سے ناواقف مگر اس سے بے حد محبت کرتی ہیں۔

حارث (کزن / منفی کردار): مہزلہ کا کزن جو اس کے ماضی کی خوفناک یادوں اور صدمے کی بنیادی وجہ ہے۔ وہ ایک بار پھر پاکستان لوٹ کر مہزلہ کی بہن سے شادی کے بہانے اس پر نفسیاتی دباؤ ڈالتا ہے۔

نوری: دادی کی ملازمہ، جو گھر کا کھانا بنانے اور دیکھ بھال کا کام کرتی ہے۔

****************

About The Writer, Mehr Afroz

مہر افروز اردو ادب اور آن لائن ڈائجسٹ ناول نگاری کی دنیا میں اپنے مخصوص اور اثر انگیز اسلوبِ تحریر کے باعث ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کے قلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے اندرونی انتشار، خوف، نفسیاتی الجھنوں اور رشتوں کے درمیان بننے والی ان کہی دیواروں کو نہایت خوبصورتی اور باریک بینی سے پیش کرتی ہیں۔ مہر افروز کی تحریروں میں زندگی کی تلخ حقیقتوں، سچ بولنے کی قیمت اور خاموش صدمات کی عکاسی بہت گہرائی سے ملتی ہے۔

ان کے ناولوں کے کردار روایتی اور خیالی ہونے کے بجائے عام انسانوں کی طرح گوشت پوست کے بنے ہوتے ہیں، جو زندگی کے حادثات سے ٹوٹتے بھی ہیں، ڈرتے بھی ہیں اور پھر حالات سے لڑ کر آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی تلاش کرتے ہیں۔ مہر افروز کا ماننا ہے کہ ہر انسانی رویے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوتی ہے اور وقت سے پہلے کسی انسان پر حکم لگانا ناانصافی ہے۔

ان کا ناول “دیواریں اور دریچے” ان کی اسی حساس اور فکر انگیز سوچ کا ترجمان ہے، جس میں انہوں نے ماضی کے خوف، خاندانی تحفظ کے نام پر ملنے والی اذیت، اور شفا کی طرف بڑھتے قدموں کو بڑے اثر انگیز انداز میں تحریر کیا ہے

****************

Sneaks Peeks From Novel

‘بھلا اس وقت کون ہو سکتا ہے؟’ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر سر جھٹک کر کچن کے کیبنٹس کھنگالنے لگی اس سے پہلے کہ ممانی جاگ جاتیں اور مفت خوری کے طعنے سننا پڑتے۔ اس نے چند اسنیکس نکال کر ایک پیالے میں سجائے کچن کی لائٹ بند کی اور باہر نکل آئی۔

وہ ابھی سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ اسکی  نظر کوریڈور کے آخر میں بنے حارث کے کمرے پر پڑی جہاں سے روشنی باہر آ رہی تھی۔ رات کے اس پہر وہ کیوں جاگ رہا تھا؟ یہ اسکا مسئلہ نہیں تھا مگر نجانے کیوں وہ ایک عجیب سے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے کمرے کے بند دروازے کی طرف چلی آئی۔

اس نے دروازے سے کان لگا کر اندر کی آہٹ لینے کی کوشش کی تو  اندر سے کسی کے ہچکیاں روکنے اور تڑپنے کی دھیمی اور گھٹی گھٹی آوازیں سنائی دیں۔ مہزلہ  وہیں ٹھٹھک گئی۔ اس نے گھبرا کر ہینڈل گھمانا چاہا مگر دروازہ اندر سے لاک تھا۔ وہ ابھی وہیں کھڑی سوچ ہی رہی تھی کہ اسکی نظر دروازے کے برابر میں بنی بڑی شیشے کی کھڑکی پر پڑی۔ وہ تیزی سے اس طرف آئی۔ یہ اسکی خوش قسمتی تھی یا بدقسمتی کہ کھڑکی تو بند تھی مگر اس کا بھاری پردہ ایک طرف سے تھوڑا سا ہٹا ہوا تھا جہاں سے اندر کا پورا منظر بالکل واضح تھا۔

اور جو کچھ اس نے اس رات اس چور دروازے سے دیکھا وہ اسکی روح کو پامال کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس نے صرف ایک لمحے کے لیے اندر دیکھا تھا اور پھر جیسے مہزلہ کے اندر کا سب کچھ یکدم تھم گیا شاید اس کے دل کی دھڑکن بھی۔

کمرے کے فرش پر معصوم گل بانو نیم برہنہ حالت میں پڑی سسک رہی تھی۔ اس کے معصوم چہرے پر وحشت اور خوف کا وہ رنگ تھا جو مہزلہ نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی کسی انسان کے چہرے پر نہیں دیکھا تھا۔ اس کی بے بسی اس کے پھٹے ہوئے کپڑے اور اس کی خاموش سسکیاں اس پر بیتے کسی بہت بڑے ہولناک ظلم کی گواہی دے رہے تھے۔ اور حارث سلطان وہ اس معصوم کلی کو مسل کر نہایت بے حسی سے پیٹھ موڑے کھڑا تھا۔

****************

Download Deewaren aur dareechy by Mehr Afroz in pdf.

نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں

Online Reading

Chaap talak by Laiba Ansari

Yaaron ki mehfil by Sameena Hussain Season 1 (Edited)

****************

About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers

پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔

ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں

ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔

Whatsapp : 03335586927

****************

How To Download

All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.

  1. On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
  2. Wait for 15 seconds.
  3. After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
  4. A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
  5. Click the download button, and the PDF file will start downloading.
  6. The file will be saved in the Downloads folder on your device.
  7. Open the file from your device and enjoy reading it offline.

If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.

If you still have any problem in downloading please let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

👁 34 Views

Leave a Comment