About The Novel Difference between me or him by Syeda Noor-ul-ain
Difference between me or him by Syeda Noor-ul-ain Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels in which writer pointed out our social and family issues. Story of the novel revolves around occasion of the Life.
Table of Contents
Difference between me or him by Syeda Noor-ul-ain is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Novel Detailed Summary in English
Beauty Beyond Height: A Review of “Difference between me or him” by Syeda Noor-ul-Ain
In a world obsessed with filtered perfections and rigid beauty standards, Syeda Noor-ul-Ain delivers a powerful punch with her latest Urdu novelette, “Difference between me or him.” This literary piece is more than just a fictional tale; it is a mirror held up to a society that thrives on mocking those who don’t fit the “average” mold.
The Protagonist’s Struggle: Heightism in Society
The story revolves around Abeer, a young man blessed (or cursed, according to society) with an extraordinary height. From his home to his university, his stature is the talk of the town—not in admiration, but in ridicule. Syeda Noor-ul-Ain masterfully portrays the psychological toll of bullying. Through Abeer, the author highlights “Heightism,” a form of discrimination that is often ignored but deeply felt.
Chanda: The Voice of Reason and Bravery
Opposite Abeer is Chanda, a female lead who redefines what it means to be a partner. She doesn’t fall for Abeer because of societal expectations; she falls for his soul. Her character is a beacon for young women, teaching them to stand up against bullies like Faizan. Chanda’s decision to choose Abeer over the “conventionally attractive” but morally corrupt Faizan is a pivotal moment in the novelette.
The Villainous Obsession: Faizan’s Ego
Every great story needs a conflict, and Faizan provides it in spades. His character represents the toxic masculinity that sees women as trophies to be won. When Chanda rejects him and slaps him for his insolence, his ego shatters, leading to a dark path of revenge and kidnapping. This subplot adds a thrilling edge to the social drama, making it a “must-read” for fans of suspense.
- Anti-Bullying: The story is a loud call against mocking someone’s physical appearance.
- Women Empowerment: Chanda’s character proves that a woman can be both soft-hearted and a fierce protector.
- Parental Support: The wise words of Chanda’s grandfather emphasize the importance of mentors in navigating social pressures.
Why You Should Read This Novelette?
If you are looking for an Urdu story that combines romance, social justice, and high-octane suspense, “Difference between me or him” is for you. Syeda Noor-ul-Ain’s writing is simple yet evocative, making it accessible for readers of all ages. It challenges you to look past the surface and value humanity (Insaniyat) above all.
***************
Novel Summary in Urdu
“Difference between me or him”
سیدہ نورالعین کے قلم سے نکلی ایک ایسی کہانی ہے جو معاشرتی رویوں کے دوغلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ ناولٹ ان لوگوں کی آواز ہے جنہیں ان کے قد، رنگ، یا جسامت کی بنیاد پر معاشرے میں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کہانی کا مرکزی خیال “لمبو” (Abeer) اور “چندہ” کے گرد گھومتا ہے۔ جہاں ایک طرف عبیر اپنے دراز قد کی وجہ سے لوگوں کے طنز کا شکار ہے، وہیں چندہ ایک نڈر اور باوقار لڑکی کے روپ میں سامنے آتی ہے جو سماجی معیاروں کو چیلنج کرتی ہے۔
یہ محض ایک رومانوی داستان نہیں ہے، بلکہ ایک سبق آموز تحریر ہے جو قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم کسی انسان کو اس کی روح سے پہچانتے ہیں یا محض اس کے ظاہری ڈھانچے سے؟ اس ناولٹ میں جہالت کے خاتمے اور مثبت سوچ کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے، جو اسے موجودہ دور کی ایک اہم تحریر بناتا ہے۔
کرداروں کا تعارف:
عبیر (Abeer): کہانی کا ہیرو، جس کا قد غیر معمولی طور پر دراز ہے۔ وہ ایک حساس، نیک دل اور صابر نوجوان ہے جو یونیورسٹی میں “لمبو پہلوان” جیسے طنزیہ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
چندہ (Chanda): کہانی کی ہیروئن، جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد بہادر اور انصاف پسند ہے۔ وہ عبیر کی شخصیت کے اندر چھپے انسان سے محبت کرتی ہے اور اسے معاشرے کے سامنے ڈیفینڈ کرتی ہے۔
فیضان (Faizan): کہانی کا ولن، ایک مغرور اور ضدی لڑکا جو چندہ کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور عبیر کو اپنی انا کی تسکین کے لیے نشانہ بناتا ہے۔
نور (Noor): چندہ کی بہترین دوست، جو شروع میں عبیر کے حوالے سے روایتی سوچ رکھتی ہے لیکن بعد میں چندہ کے جذبے کو سمجھ جاتی ہے۔
دادا جان: چندہ کے رہنما اور حوصلہ بڑھانے والے بزرگ۔ وہ کہانی کا وہ دانشور کردار ہیں جو چندہ کو معاشرتی پرواہ کیے بغیر اپنے دل کی سننے کا مشورہ دیتے ہیں۔
****************
About The Writer, Syeda Noor-ul-ain
سیدہ نور العین ایک باصلاحیت مصنفہ ہیں، وہ ہمیشہ ایسے موضوعات پر لکھتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے ضروری اور قابلِ غور ہوتے ہیں۔
ان کے ناولز اور مضامین میں نفسیات، خود کی بہتری، محبت، تعلقات کی اہمیت اور ان میں موجود احساسات کے بارے میں گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے مشاہدات، تجربات اور زندگی کے حقیقی واقعات کو کہانیوں کی صورت میں پیش کرتی ہیں تاکہ قارئین کو مثبت سوچ اور حوصلہ افزائی کا پیغام دیا جا سکے۔
“ انہیں امید ہے کہ قارئین کو یہ کہانی پسند آئے گی۔ مزید اقساط اور نئی تحریروں کے لیے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ضرور فالو کریں۔
****************
Sneaks Peeks From Novel
“اوئی سب چپ ہوجاؤ! شانتی شانتی لمبو پہلوان آ گیا ہے۔” وہ یہ کہہ کر زور زور سے ہنسنے لگا تھا اور اس کے دوست بھی ساتھ ساتھ ہنس کر اس کا ساتھ دے رہے تھے۔
سوائے ان دو لڑکیوں اور ایک لڑکے کے جو بلکل الگ بیٹھے تھے اور وہ تینوں آپس میں دوست تھے۔
“اففف فیضان کیا ہو گیا ہے؟ وہ مائنڈ کر لے گا۔” مائرہ ہنستے ہوئے یہ بولی۔
“مائرہ دعا کیا ہو گیا ہے؟ ایسے نہیں ہنستے کسی پر بلکہ ایسے ہنستے ہیں۔” علی سنجیدہ ہو کر بولا یک دم ہی ساتھ ساتھ اس نے دو چار کہکے لگا دئے۔
وہ لڑکا اپنا بیگ سنبھالے خاموشی سے آگے کی ایک چیئر پر آ کر بیٹھ گیا۔
اس لڑکی سے یہ سب برداشت نہیں ہوا اور وہ کھڑی ہوئی ہی تھی کہ فوراً ہی اس کی دوست نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔
“نور مجھے کیوں روک رہی ہو؟ ایسے لوگوں کو اگر سبق نہ سیکھایا جائے، تو یہ دوسروں کو ہمیشہ تنگ ہی کرتے رہتے ہیں۔” وہ غصیلے لہجے میں یہ بول رہی تھی۔
“چندہ میری جان! تم سہی کہہ ہو پر ایسے لوگوں کے منہ لگنا بے وقوفی ہے اور میں تمہے یہ بے وقوفی نہیں کرنے دوں گی۔” نور نے فوراً اسے سمجھایا۔
نور جو عادتاً بھولی بھالی سی ہی نظر آتی تھی اور ہمیشہ نظر والے عینک لگائے رکھتی تھی۔
نور بہت سادہ رہنا پسند کرتی تھی۔
پر اس کے بر عکس چندہ بے حد خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کافی شوخ و چنچل لڑکی اور سجی سنوری رہتی تھی۔
“پر یار…..” چندہ منہ بنائے بولی۔
“پر ور کچھ نہیں یہاں خاموش ہو کر بیٹھو، بلکہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔” نور بولی۔
اس نے فوراً اس کے سامنے بک رکھی اور اتنے میں پروفیسر بھی کلاس روم میں داخل ہوگئے۔
گڈ مارننگ اسٹوڈینٹز! ہاؤ آر یو آل” پروفیسر نے فوراً ہی یہ کہا۔
سب نے ایک ساتھ ہی ان کو جواب دیا۔
“فائن سر!”
“چلیں آج کا ٹوپک اسٹارٹ کرنے سے پہلے ذرا اٹینڈینس چیک کر لیتے ہیں۔” سر نے یہ کہتے ساتھ ہی وہ رجسٹر کھولا جو وہ اپنے ہاتھ میں پہلے سے پکڑے ہوئے تھے۔
وہ تینوں کلاس روم کے باہر ہی کھڑے آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔
“یار میں سر عرفان کے پاس جا رہا ہوں۔” فارس نے اپنے ہاتھ میں ایک فائل پکڑ رکھی تھی۔
“فارس انہوں نے تو منڈے کو آساینمینٹ سبمٹ کروانے کا کہا ہے نہ؟” نور حیرت سے بولی۔
“ہاں بولا تو ہے، پر میرا جلدی کمپلیٹ ہو گیا ہے۔” فارس مسکرا کر بولا۔
“اوہ اچھا!” نور بولی۔
وہ مسکرا کر چلا گیا۔
“اسے دیکھو ذرا ہر آسایمینٹ پہلے ہی بنا لیتا ہے۔” نور چندہ سے یہ کہہ رہی تھی۔
جو کہیں خیالوں میں کھوئی ہوئی سی تھی۔
“اور میڈم آپ کہاں گم ہوگئیں؟” نور نے چٹکی بجا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
میں کچھ سوچ رہی تھی۔” چندہ چونک کر بولی۔
“اور وہ کیا سوچ رہی؟” نور نے کہا۔
چندہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سامنے رکھی بینچ کی طرف لے جانے لگی۔
****************
Download Difference between me or him by Syeda Noor-ul-ain in pdf.
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
اگر آپ سیدہ نورالعین کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
Syeda Noor-ul-ain All Novels Link
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Tum lahasil thehry by Kashaf Ul Ruja
Mohabbat aur zimadari ka safar by Zahra Khan
****************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 687 Views


















