About The Novel Invictus by Shamaim Malik
(Current Episode 1 to 8)
Invictus by Shamaim Malik Complete novel. The novel is based on romantic Urdu novels, enemies to lovers , slow burn , strangers to lovers , multiple couples , second marriage based novel. Story of the novel revolves around thriller, romance, crime, drama, nikkah based novels.
Invictus by Shamaim Malik is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
Table of Contents
Novel Detailed Summary in English
Invictus by Shumaim Malik – A Gripping Saga of Justice, Revenge, and Valor
Introduction: In the evolving world of Urdu literature, psychological thrillers and crime fiction are carving a niche of their own. “Invictus” by Shumaim Malik is a stellar addition to this genre. With a title that resonates with the theme of being “Unconquered,” the novel takes you through the dark alleys of Rawalpindi and the strategic landscape of Islamabad. If you are a fan of high-stakes action, mysterious anti-heroes, and a protagonist who defines law and order, this blog post explores why Invictus is a must-read for 2026.
The Narrative Arc: Two Worlds Colliding The story opens with a haunting scene of torture. Jamal, a man burdened by his past, is interrogated by a masked figure in an abandoned ruin. The psychological pressure applied through the fear of losing his family depicts the darker side of human obsession. Simultaneously, we are introduced to Almeer Khalil, an SHO whose brilliance saved hundreds of lives in a high-profile hotel rescue mission. These parallel narratives set the stage for a grand collision between law and lawlessness.
Character Deep-Dive: Almeer Khalil – The Guardian of Grey Eyes Almeer Khalil is not your average police officer. He possesses “Siren Eyes”—a shade of grey that mirrors a storm before its arrival. His strategic planning at the Serena Heights Hotel illustrates a high level of cognitive functioning. From a scientific perspective, Almeer’s ability to remain calm under pressure involves a highly developed Prefrontal Cortex, allowing him to make split-second decisions that determine life and death. His proficiency with a sniper rifle adds a cinematic layer to his character.
Themes of Mystery and Revenge:
- Vulnerability through Family: The scene with Jamal proves that even the strongest men break when their loved ones are threatened.
- Strategic Brilliance: Almeer Khalil’s approach to the bomb threat shows that modern Urdu fiction is embracing professional tactical elements.
- The Ghost of the Past: The masked man’s cryptic smile while looking at a photograph suggests that the hero’s past is coming back to haunt him.
Why Invictus Stands Out: Shumaim Malik’s writing style is evocative. The way she describes the khakhi-colored buildings of Islamabad and the humid, silent ruins of Pindi creates a vivid atmosphere. The dialogue is crisp, carrying the weight of the characters’ convictions. The novel successfully bridges the gap between traditional storytelling and modern investigative thrillers.
Invictus is just the tip of the iceberg. As Almeer Khalil stands tall on the roof of U-News, little does he know that a chess game has already begun with him as the primary target. This novel is a tribute to resilience and the unwavering spirit of those who fight for justice. Stay tuned as we unravel more layers of this “Unconquered” soul.
***************
Novel Summary in Urdu
اکھڑے مزاج، اصول پسند اور خاموش طبع—المير خلیل، اور وہ لڑکی جو ہر وقت مسکراتی ہے، جس کی خوش باش طبیعت دوسروں کے صبر کا امتحان بن جاتی ہے—اشفا امین۔
جب یہ دونوں ایک اندھی گتھی کو سلجھانے نکلتے ہیں، تو صرف جرائم ہی نہیں، ان کے دل بھی سوالوں کی زد میں آجاتے ہیں۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے قتل کی، جو صرف ایک زندگی نہیں، کئی زندگیوں کا رخ بدل دے گا۔دو ایسے لوگوں کا ٹکراؤ ہوگا جو ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
یہ داستان ہے ضد اور جذبات کی، ہنسی اور مذاق کی، نفرت اور پیار کی، یہ سسپنس، کرائم اور نفرت کی دنیا میں شکوہ، روگ، پچھتاوا، پیار اور مودت کا قصہ ہے۔
“انوکٹس” شمائم ملک کے قلم سے نکلی ایک سنسنی خیز، پراسرار اور ایکشن سے بھرپور داستان ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ ناول کا آغاز ایک ہیبت ناک منظر سے ہوتا ہے جہاں “جمال” نامی شخص ایک نقاب پوش کے ہاتھوں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ یہ کہانی صرف جرم اور سزا کی نہیں، بلکہ انتقام، فرض شناسی اور خاندانی رشتوں کے گرد گھومتی ہے۔
مصنفہ نے نہایت مہارت سے دو متوازی مناظر کو جوڑا ہے؛ ایک طرف اندھیرے کھنڈرات میں جاری تشدد ہے اور دوسری طرف ایک فرض شناس پولیس آفیسر المیر خلیل کی ذہانت اور بہادری کی داستان۔ “انوکٹس” (جس کا مطلب ‘ناقابلِ تسخیر’ ہے) قاری کو پہلے ہی باب سے ایک ایسے سحر میں جکڑ لیتا ہے جہاں ہر لمحہ بوجھل ہے اور ہر کردار کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا ہے۔ یہ ناول اردو ادب میں کرائم تھرلر کے شوقین افراد کے لیے ایک بہترین اضافہ ثابت ہوگا۔
مرکزی کردار:
المیر خلیل: کہانی کا ہیرو، جو پیشے کے لحاظ سے ایس ایچ او (SHO) ہے مگر اس کی صلاحیتیں کسی ماہر سراغ رساں سے کم نہیں۔ اس کی “گہری سرمئی آنکھیں” اور “تیز دماغ” اسے ایک ناقابلِ شکست شخصیت بناتے ہیں۔ وہ ہتھیاروں کو کھلونوں کی طرح استعمال کرنے کا فن جانتا ہے۔
جمال: ایک ایسا کردار جو بظاہر کسی بڑے جرم یا راز کا حصہ ہے اور اپنی بیٹیوں کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
نقاب پوش (پراسرار شخصیت): ایک ہیبت ناک اور گرجدار آواز والا شخص، جو جمال سے کسی خاص راز کے بارے میں سچ اگلوانا چاہتا ہے اور انتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔
اسلم شاہد: ایک معروف بزنس مین، جسے ایک دہشت گرد ہوٹل میں نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
************
About The Writer, Shamaim Malik
شمائم ملک اردو ادب کے افق پر ایک ایسا ابھرتا ہوا نام ہیں جن کی تحریروں میں منظر نگاری اور جزئیات نگاری کمال کی ہوتی ہے۔ “انوکٹس” ان کی پہلی کتاب ہے، جس کا انتساب انہوں نے اپنی والدہ کے نام کیا ہے، جو ان کی زندگی میں راہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شمائم ملک کا اسلوبِ بیاں سادہ مگر نہایت اثر انگیز ہے؛ وہ الفاظ سے ایسی تصویر کشی کرتی ہیں کہ قاری خود کو جائے وقوعہ پر موجود محسوس کرتا ہے۔
ان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی انسانی نفسیات، خاص طور پر خوف، بے بسی اور جنون کی عکاسی کرنا ہے۔ وہ کہانی کو تجسس کے ساتھ آگے بڑھانے کا ہنر جانتی ہیں اور پیچیدہ کرائم کیسز کو ایک نئے اور جدید انداز میں پیش کرتی ہیں۔ شمائم ملک کا مقصد اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنا اور ایک مضبوط کردار سازی کا پیغام دینا ہے، جو انہیں عصرِ حاضر کے لکھاریوں میں ممتاز کرتا ہے۔
********
Short Scene From Novel
“کیوں میرا ضبط آزما رہے ہو، جمال؟ خود پر کچھ رحم کھاؤ اور میرا وقت مزید ضائع مت کرو۔” آواز اتنی گرجدار تھی جیسے زخمی جمال کا پورا جسم کسی نے زور سے جھنجھوڑ دیا ہو۔ وہ اپنے جسم کو پیچھے گھسیٹ رہا تھا اور اس کے ہونٹوں سے دبی دبی سسکیاں بلند ہونے لگیں۔
“اگلے پانچ منٹ میں اگر مجھے مطلوبہ سوال کا جواب نہ ملا… تو خدا کی قسم تم اپنی دوسری ٹانگ سے بھی محروم ہو جاؤ گے۔” سر ایک طرف کرتے ہوئے وہ ایک ادا سے اُسے کہہ رہا تھا۔
جملہ مکمل کر کے اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اب وہ ایک سرخ مارکر نکال رہا تھا۔ روشنی کی مدھم سی جھلک مارکر کی چمکتی ہوئی دھات پر پڑی تو جمال کا دل ڈوبنے لگا۔
“فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے…” اس نے کرسی سے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے کہا۔ “یا تو میرے سوالوں کے جواب دے دو…” ایک لمحے کا توقف۰۰۰ اور پھر وہ کرسی زور سے ٹھوکر مارنے پر کچھ پیچھے کو ہوئی۔ “یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
“میں نے تمہیں مہلت دی تھی، جمال۔ چوبیس گھنٹے دیئے تھے۔ مگر تم مجھے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کر رہے ہو۔” کُن اکھیوں سے جمال کو دیکھتا ہوا وہ سیدھا ہوا۔ اتنے میں اُسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ایک آدمی چلتا ہوا اُس تک آ رہا تھا۔ اُس کا حلیہ بھی اسی کی طرح تھا۔ وہ اس کے پاس آ کر رکا اور اس کے کان میں کچھ کہا۔ پھر وہ آدمی وہاں سے چلا گیا۔
ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر واضع تھی۔ اُسے کوئی خبر ملی تھی۔ “تم صاحبِ اولاد ہو، جمال؟” آواز دھیمی اور پرسکون تھی۔
“نہیں!” جمال کی آواز دھاڑ میں بدل گئی۔ “میرے بچوں کو کچھ نہ کرنا! خدا کے لیے…” اس نے ہاتھ جوڑ دیے۔ گڑگڑانے لگا۔ آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے داڑھی میں جذب ہونے لگے۔ “میرا کل اثاثہ صرف میری بیٹیاں ہیں!”
وہ شخص اب آہستہ آہستہ کھڑا ہو چکا تھا۔ روشنی نے اس کی آنکھوں میں پھیلی پراسرار مسکراہٹ کو مزید نمایاں کر دیا۔
“اگر اگلے چند لمحوں تک جواب میرے کانوں تک نہ پہنچا تو…” اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
“میں نے اگر ان کا نام بتا دیا تو وہ مجھے مار دیں گے…” جمال کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں کی دہلیز پر لرز رہے تھے۔ “میرے بچوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے…” بےبسی اور خوف نے اس کی سانسوں کو بوجھل کر دیا تھا۔ وہ چہرہ جھکائے… اپنے آنسو اندر اتارنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
“اوہو، جمال …”وہ شخص تمسخر سے ہنسا۔ پھر آگے جھکا۔ “تمہیں کیا لگتا ہے… اگر تم نے میرے سوال کا جواب نہ دیا تو تم اور تمہاری اولاد میرے ہاتھوں سے زندہ بچ جاؤ گے؟” اس نے سر جھٹکا۔ جیسے جمال کی سوچ پر افسوس کر رہا ہو۔
“تمہارا مسئلہ بھی میں ہوں اور تمہارے مسئلے کا حل بھی۔” وہ آہستگی سے بولا۔ “مجھے تمہارے منہ سے صرف سچ سننا ہے۔” اس نے کن اکھیوں سے جمال کی طرف دیکھا جیسے اس کے چہرے سے سچ کھینچ لینا چاہتا ہو۔ لیکن جمال فرش پر نظریں جمائے مسلسل سر نفی میں ہلا رہا تھا۔
چند لمحوں کے سکوت کے بعد جمال نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔ مقابل کی نظریں اس کی ہر حرکت پر جمی ہوئی تھیں۔ “میں آپ کو سب بتا دوں گا۔ بس ایک وعدہ کیجیے مجھ سے…”
“کیسا وعدہ؟” آواز میں نرمی تھی لیکن لہجے میں کچھ ایسا تھا جو خوف کی ایک سرد لہر چھوڑ گیا۔
“میرے بعد میری اولاد کو آپ کچھ نہیں کریں گے۔”
جمال کی بات پر اس نے ایک ابرو اُچکائی۔پھر سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے۔ تمہاری اولاد کو کوئی کچھ نہیں کرے گا… یہ میرا تم سے وعدہ ہے اور میں…” وہ رکا، سرخ مارکر کا ڈھکن زمین پر پھینکا جو ایک خشک آواز کے ساتھ لڑھک گیا۔
“… وعدہ خلاف نہیں ہوں۔”
****************
Download (Latest Episode 1 to 8)
نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں اور انتظار کریں
Online Reading
Download (Previous Episodes) Invictus by Shamaim Malik in pdf.
پچھلی اقساط پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ڈاؤنلوڈ کریں یا آن لائن پڑھیں
Download Link (All Episodes)
| Download Link | Download Link |
Online Reading (All Episodes Links)
اگر آپ شمیم ملک کے باقی ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیئے گئے لنک کو اوپن کریں
مزید اسی ٹائپ کے ناولز پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس سے ناولز ڈاؤنلوڈ کریں
Khoon baha by Zarish Noor Complete
Haveli ki beti by Warda Zohaib Complete
Main larki aam si by Syeda Fatima Naqvi Complete
************
About Prime Urdu Novels – A Hub for Urdu Literature Lovers
پرائم اردو ناولز میں خوش آمدید
ہمارا مقصد صرف ادب کی نہیں معیاری ادب کی تخلیق اورترویج ہے.اگر آپ کوپڑھنے لکھنے اور سوچنے کا ہنر آتا ہے ۔اردو ادب سے لگاؤ ہے اور سمجھتے ہیں کہ آپ اردو ادب کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ذریعے پاکستان ، اسلام کی مثبت اور تعمیری سوچ کو پھیلا سکتے ہیں. تو ہم آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
پرائم اردو ناولز میں بحیثیت لکھاری شمولیت اختیار کریں اور اپنی تحریروں، ناولز، افسانوں کا پی ڈی ایف لنک حاصل کریں۔ اور دنیا بھر میں ہماری ویب سائیٹ کے لاکھوں قارئین تک اپنی تحریر ایک کلک میں پہنچائیں۔
ہمیں فیس بک اور انسٹا گرام اور یو ٹیوب پر جوائن کرنے کے لئے نیچے دئے گئے لنکس کو اوپن کریں
- Prime Urdu Novels Facebook Group
- Prime Urdu Novels Instagram
- Likhari Online Magazine Youtube Channel
ہر لکھاری کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کتابی صورت میں بھی شائع ہو اور انکی کتاب بک شیلف کی زینت بنے۔ آپ بھی ایک لکھاری ہیں اور اپنی تحریر کو کتابی شکل میں لانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کی تحریر کو بہت کم ٹائم اور بہت مناسب قیمت میں آپ کی خواہش کے مطابق بہت عمدہ اور معیاری کوالٹی میں کتابی صورت میں شائع کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
اگر آپ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو خصوصی ڈسکاؤنٹ پر آپ کی مرضی کی تعداد میں دلکش اور دیدہ زیب کتابیں بنا کر دیں گے۔ تو دیر کس بات کی پھر، ابھی نیچے دیئے گئے نمبر پر ہم سے رابطہ کریں۔
Whatsapp : 03335586927
****************
How To Download
All novels on the website are available in PDF that can be downloaded in a few easy steps mentioned below.
- On every post, you will see a “Download” button. Click on it.
- Wait for 15 seconds.
- After the countdown, a “Click here to download” button will appear. Click on it.
- A MediaFire page will open. You will see the novel’s name and a download button.
- Click the download button, and the PDF file will start downloading.
- The file will be saved in the Downloads folder on your device.
- Open the file from your device and enjoy reading it offline.
If you want to read the novel online, click on the “Read Online” button. After the 15-second countdown, click on the “Click here to read online” button. A new page will open where you can read the novel directly in your browser.
If you still have any problem in downloading please let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
👁 965 Views















